Jadeed Taleem Ki Aar Mein By Muqadas Farooq Awan

Jadeed Taleem Ki Aar Mein

جدید تعلیم کی آڑ میں
تحریر : مقدس فاروق اعوان
ہم اپنے بڑوں سے سنتے آئے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب صرف ایک ہی ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا ۔جس میں کوئی بھی بے حیائی کا عنصر نہیں پایا جاتا تھا ۔اور پورا خاندان مل کے ٹی و دیکھا کرتے تھا۔ہمارے رسم و رواج ،کلچر اور روایات سب بہت سادہ ہو اکرتی تھیں۔کیونکہ ہمارا ٹی وی چینل ہمارے کلچر اور رسم و رواج کی عکاسی کرتا تھا۔اور پھر ایک ایسا وقت آیا کہ ہم اپنی ٹی وی سکرین پہ پاکستانی چینل لگانے کی بجائے انڈین چینل لگانے کو تر جیح دینے لگے۔اور پھر ہمارا پورا معاشرہ ہی بدل کے رہ گیا۔ہمارے رسم و رواج کہیں کھو گئے اور ہمارا کلچر دب کے رہ گیا اور انڈین کلچر میں اتنے محو ہو گئے کہ ہم اپنے کلچر،رسم و رواج اور روایات سے بیزار ہو گئے۔ایک وقت تھا جب بہنیں بھائیوں کے سامنے بولنے سے پہلے بھی سوچا کرتی تھیں۔اور اب ایسا وقت آ گیا ہے کہ بہن بھائیوں کے رشتے کے درمیان کوئی احترام ہی نہیں رہا۔یہ ہماری روایات ہرگز نہیں ہیں۔ایک وقت تھا جب بہت ہی احترام کے ساتھ بہنوں کو رخصت کیا جاتا تھا مگر اب تو بھائی بہن کے ساتھ رقص کرتے ہوئے آتے ہیں۔یہ ہمارے رسم و رواج ہرگز نہیں۔بلکل اسی طرح ہم اپنے تہوارمنانے کے بجائے ہولی مناتے ہیں،ہالووین مناتے ہیں جو ہمارے کلچر کا حصہ بلکل بھی نہیں۔ہمارا معاشرہ اب بلکل بدل کے رہ گیا ہے۔یہ ساری باتیں کرنے کامقصد صرف یہ ہے کہ کس طرح طریقے سے ہمارے معاشرے کو تباہ کیا گیا۔رشتوں کا احترام بھول جانا بھی ہمارامذہب ہرگز نہیں سکھاتا ۔اس لیے ہمیں کسی بھی رشتے کے تقدس کو پامال کئے جانے والے عنا صر کے سخت خلاف ہونا چائیے۔
پچھلے کچھ روز سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا ایک پیپر سوشل میڈیا پہ بہت گردش کر رہا ہے۔ہمارے معاشرے میں منفی پہلوؤں کو اجاگر کرنے والے عناصر سوشل میڈیا کا موضوع بحث بننے میں بہت آسانی سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔جب کہ اس کے بر عکس مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔شاہد یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ رحجان پیدا ہو گیا ہے کہ جس نے بھی شہرت حاصل کرنی ہو وہ کوئی غلط کام کرے یوں وہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔یہ بات بے حد قابل افسوس ہیں لیکن یہ حقیقت بھی ہے۔اور ہمیں ماضی میں اس کی بہت ساری مثالیں بھی ملتی ہیں۔مگر جب بات بچوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ہو تویہا ں بات زرا سیریس ہو جاتی ہے کیونکہ ہمیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ بچوں میں شعور پیدا کرنے کا طریقہ درست بھی ہے یا نہیں۔قارئین کرام اگر یہ بات کی جائے کہ گھر میں بچوں کو تو صرف پالا جاتا ہے جب کہ تعلیمی اداروں میں ان کو شعور پیدا کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔تو یہ بات درست ہے کہ بچہ وہی سیکھتا ہے جو اسے سکول میں سکھایا جاتا ہے۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں موسم بہار میں لیے جانے والا فنکشنل انگلش ٹو کے پیپر میں میڑک کے سٹوڈنٹس سے کچھ اس طرح سے سوال کیا گیا کہ اپنی بڑی بہن کی شخصیت کی وضاحت کیجیے۔سوال یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ کہا گیا کہ اپنی بڑی بہن کی عمر،فزیک،ایٹیٹوڈ،ہائیٹ اور لکس کے بارے میں لکھیں۔اس پہ لوگوں کی مختلف رائے دیکھنے میں آئی۔کچھ لوگوں کے خیال میں اس سوال میں کوئی برائی نہیں ہے۔جب کہ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر یہاں بہن کی بجائے بھائی کی بات ہو رہی ہوتی تو اس پہ کوئی سوال نہ اٹھتا،میرے نزدیک یہ جہالت کا بد ترین مقام ہے ۔مغربی خیالات کے مالک لوگ شاہد یہ بھول رہے ہیں کہ وہ ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں۔جہاں پہ عورت کا گھر سے باہر نکلنا بھی برا تصور جاتا ہے۔یہ مغربی خیالات رکھنے والے لوگ غیرت کے نام پہ عورت کے قتل پہ تو کوئی سوالات نہیں اٹھاتے۔ان کی زبانوں کو اس وقت بھی تالے لگے ہوتے ہیں جب اس معاشرے میں ایک تین سال کی بچی کا ریپ ہوتا ہے۔ہماری سوچوں اور ہمارے ذہنوں پہ مغرب نے ایسے پکے تالے لگا دیے ہیں جن کو چاہتے ہوئے بھی ہم کھول نہیں پاتے۔ہمارے ذہن مغربی دنیا سے متاثر ہو کے زنگ آلود ہو چکے ہیں۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ریجنل ڈائیرکیٹر اوپن یونیورسٹی کی طرف سے اس سوال کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی مختلف تعلیمی اداروں پر مختلف اعتراضات کی بنا پہ بحث ہو تی رہی۔یہ بات پریشان کن بھی ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں کیا سبق دیا جا رہا ہے۔تعلیمی اداروں کو کھلی چھوٹ دینا قوم کے مستقبل کے ساتھ زیادتی ہے۔بری چیز کو ختم کرنے کے لیے انتظار نہیں کرنا چائیے۔نہ ہی اس پہ پردہ ڈالنے کے لیے اس کا دفاع کرنا چاہئے،شاہد مغرب پہ بہن کی شخصیت کو ڈسکس کرنا اتنا برا نہ جانا جاتا ہو۔مگر ہمارے ہاں یہ رشتوں کے تقدس کا پامال کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ہم اتنے بھی اوپن نہیں کہ بہن بھائی کے رشتے کا احترام بھول جائیں۔جدید تعلیم کی آڑ میں رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے کیاجازت کسی بھی تعلیمی ادارے کو نہیں ہے،نہ ہی ہوگی۔

Column Name Jadeed Taleem Ki Aar Mein
Writer Name Muqadas Farooq Awan
Column Type Urdu Column
Published Date 31 March 2018

Jadeed Taleem Ki Aar Mein is an Urdu column title. Jadeed Taleem Ki Aar Mein Urdu column is written by Urdu columnist Muqadas Farooq Awan. Jadeed Taleem Ki Aar Mein Urdu column was published on 31 March 2018 at Darsaal.

Read More Urdu Columns

Solicite By Javed Chaudhry Solicite

Javed Chaudhry 27 July 2021

Shehr e Quaid Ya Shehar Napursan By Shakeel Farooqi Shehr e Quaid Ya Shehar Napursan

Shakeel Farooqi 27 July 2021

Afghanistan Ki Soorat e Haal, Pakistan Par Asraat By Zubair Rehman Afghanistan Ki Soorat e Haal, Pakistan Par Asraat

Zubair Rehman 27 July 2021

Kharja Umoor Halwai Ki Dukan Nahi By Wusatullah khan Kharja Umoor Halwai Ki Dukan Nahi

Wusatullah khan 27 July 2021

Phalon Ka Badshah. Aam By Zahoor Ahmed Dhareeja Phalon Ka Badshah. Aam

Zahoor Ahmed Dhareeja 27 July 2021

Misali Insaf Ki Mutadid Sooratein By Muhammad Izhar ul Haq Misali Insaf Ki Mutadid Sooratein

Muhammad Izhar ul Haq 27 July 2021

Pehlay Tolo, Phir Bolo By Khalid Masood Khan Pehlay Tolo, Phir Bolo

Khalid Masood Khan 27 July 2021

Qisas Mein Zindagi Hai By Khursheed Nadeem Qisas Mein Zindagi Hai

Khursheed Nadeem 27 July 2021

Jamaat e Islami Ka Yak Tarfa Faisla By Dr Hussain Ahmed Paracha Jamaat e Islami Ka Yak Tarfa Faisla

Dr Hussain Ahmed Paracha 27 July 2021

Waqt Nahi Bachta By Ammar Chaudhry Waqt Nahi Bachta

Ammar Chaudhry 27 July 2021

Surkhan, Matan Aur Sitam Nami By Zafar Iqbal Surkhan, Matan Aur Sitam Nami

Zafar Iqbal 27 July 2021

Deen e Haq Ke Deewane By Hafiz Muhammad Idress Deen e Haq Ke Deewane

Hafiz Muhammad Idress 27 July 2021

Keh To Diya Hai, Magar By M Ibrahim Khan Keh To Diya Hai, Magar

M Ibrahim Khan 27 July 2021

Rab Dangan Nai Mat Marda By Irshad Ahmed Arif Rab Dangan Nai Mat Marda

Irshad Ahmed Arif 27 July 2021

Sone Ka Anda Dene Wale Overseas Pakistani Kya Chahte Hain ? By Javed Sajjad Ahmad Sone Ka Anda Dene Wale Overseas Pakistani Kya Chahte Hain ?

Javed Sajjad Ahmad 26 July 2021

Surkhiyan, Matan Aur Iqtidar Javed By Zafar Iqbal Surkhiyan, Matan Aur Iqtidar Javed

Zafar Iqbal 26 July 2021

Eid Ke Baad By Ibtisam Elahi Zaheer Eid Ke Baad

Ibtisam Elahi Zaheer 26 July 2021

Hum Kis Qataar, Shumaar Mein Hain? By M Ibrahim Khan Hum Kis Qataar, Shumaar Mein Hain?

M Ibrahim Khan 26 July 2021

Qaumon Ki Aik Ghalati Bhi Qabil Mafi Nahi Hoti By Rao Manzar Hayat Qaumon Ki Aik Ghalati Bhi Qabil Mafi Nahi Hoti

Rao Manzar Hayat 26 July 2021

Pakistan Se Ilhaq Ya Azadi By Zahoor Ahmed Dhareeja Pakistan Se Ilhaq Ya Azadi

Zahoor Ahmed Dhareeja 26 July 2021

Your Comments/Thoughts ?