Islami Nizam E Maeeshat Ke Samraat Ka Hasool Kaise Mumkin By Sahibzada Mian Muhammad Ashraf Asmi

Islami Nizam E Maeeshat Ke Samraat Ka Hasool Kaise Mumkin

اسلامی نظام معیشت کے ثمرات کا حصول کیسے ممکن

اللہ پاک نے نبی پاک ﷺ کے توسط سے انسانیت کو ایسا نظام زندگی دیا جس کو دُنیا کے کسی بھی گوشے میں نافذ کرکے بہترین نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ دین اسلام زندگی کو گزارنے کاا سلوب بھی بتاتا ہے اور اِس اسلوب کے لیے جو اسباب کی ضرورت ہوتی ہے اُن کی فراہمی کے لیے بھی معاشرے کو معیشت کی فراہمی کرتا ہے۔ چونکہ اسلام دینِ فطرت ہے اِس لیے انسانی زندگی کے تمام تر پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے اور کسی بھی معاملے کو سلجھانے کے لیے نیکی کا دامن ہر گز ہرگز ہاتھ سے نہیں چھوڑتا ۔ گویا اسلام سیاسی سماجی، عمرانی ،نفسیاتی اور معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر ہر طور ہر ہر انداز میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلامی نظام معیشت کی کامیابی کا ثبوت ہمیں نبی پاکﷺ کے عہدِ مبارک، خلفائے راشدین اور اُن کے بعد کے اکثر مسلم حکمرانوں کے ادوار کی روشن تاریخ سے ملتا ہے۔ اقوامِ عالم کی خوشحالی اور بدحالی کا تعلق معاشیات کے ساتھ ہے۔ اِس دور میں معاشی طور پر مضبوط ممالک ہی طاقتور بلکہ سپر پاور ہیں اور معاشی طور پر کمزور ممالک ویسے بھی کمزور ہیں۔ گویا معاشی طاقت ہی معاشروں کو طاقتور بناتی ہے اور اِسے معاشروں میں دولت کے منصفانہ تقسیم کو بھرپور خیال رکھا جاتا ہے۔ معاشی طور پر بدحال ممالک میں مسلمان ممالک کی بہتات ہے ایشاء اور افریقہ کے اکثر ممالک غربت افلاس افراتفری کا شکار ہیں اور ایسامعاشی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے ہے۔ معاشیات عربی زبان کو لفظ ہے اِس کا مادہ عاش ہے جس کے معنی زندہ رہنے کے ہیں۔صاحب القاموس کے مطابق معیشت سے مراد کھانے پینے کے وہ ذرائع ہیں جس پر زندگی کا دارو مدار ہے ۔ اور جن سے زندگی بسر کیجاتی ہے۔ معاشیات ، اقتصادیا ت اور اکنامکس ہم معنی الفاظ ہیں۔ لفظ معاشیات کے لغوی معنی زندگی اور سامانِ زیست کے ہیں۔ معاشیات کوانگریزی زبان میں اکنامکس کہتے ہیں۔ اصطلاحی معنوں میں معاشیات سے مراد یہ ہے کہ لامحدود خواہشات کو محدود ذرائع سے پورا کرنے کا نام علم معاشیات ہے۔
عصر حاضر کو ترقی کا دور کہا جاتا ہے اور کچھ غلط بھی نہیں ہے سائنسی ایجادات کا دورہے ۔ وسائل سفر سے لے کر ذرائع ابلاغ تک میں انقلاب آچکا ہے۔زمین اپنے خزانے اگل رہی ہے یا اس سے اگلوائے جارہے ہیں۔ اناج،سبزیاں پھل اور میوے اسقدر بہتات سے ہیں کہ اُن کو ذخیرہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن ہر چیز کی فراوانی کے پہلو بہ پہلو انسانی محرومی کی بھی کوئی حد نہیں۔ آدمیت سسک رہی ہے جذبات سلگ رہے ہیں۔غریب غربت کے بوجھ تلے دب رہا ہے اور سرمایہ دار بے مقصدیت کے عذاب و اذیت سے گذر رہا ہے۔ یہ نہیں کہ حالت میں تبدیلی کی کوشش نہیں ہوئی تاریخ شاہد ہے کہ احساسات اور جذبات نے کئی مرتبہ طوفان کی شکل اختیار کی لیکن صورت حال کچھ یوں ہی رہی۔
؂ رومن ایمپائر، دور غلامی، جاگیرداری اور پھر آخر میں نظام سرمایہ داری کا تماشہ اور پھر اشتراکیت کے پروکاروں کی من مانیاں،تمام کی تمام شکست کے عنوانات سے عبارت ہیں ان تمام کوششوں کے باوجود یہی نہیں کہ حالت نہیں بدلی بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔حقیقت یہ ہے کہ تمام نظامہائے معیشت نام کی حد تک تو الگ الگ ہیں لیکن نتائج کے حساب سے سارے ایک ہیں۔ ایک ہی تصویر کے دو مختلف رخ ہیں۔ انسان نے معیشت کو اس کے اصل مقام و مرتبہ سے بڑھا کر ایسابنا دیا ہے کہ اپنا مرتبہ اور مقصد فراموش کر بیٹھا۔ نتیجہ وہی ہوا جو ذریعہ کو مقصد بنانے کا ہوتا ہے۔انسان صرف پیٹ کا نام نہیں بلکہ اس میں دل و دماغ بھی ہے اور اس کے دیگر اعضاء بھی ہیں،اگر کوئی شخص دل و دماغ کے بجائے پیٹ سے سوچنا شروع کردے تو اس کی جو کیفیت ہوسکتی ہے وہ نظامِ معیشت کو مرکز و محور بنانے سے پوری انسانیت کی ہوچکی ہے۔ ایک بھوکے کو اجرام فلکی بھی روٹیاں نظر آسکتی ہیں لیکن اس سے نظام شمسی میں خلل آسکتا ہے اور نہ علم فلکیات کی اہمیت کم ہوسکتی ہے۔ انسان تنگ نظر اور جذباتی مخلوق ہے اس لئے اسکی سب سے بڑی غلطی ہے کہ مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنے اور اس کائنات کے خالق سے رجوع کرنے کے بجائے خود ہی ان کا حل کرنے بیٹھ جائے۔عام زندگی میں خطرناک ہے تو اجتماعی زندگی میں اس کے اثرات کتنے مہلک ہوسکتے ہیں دنیا کی موجودہ صورت حال اس کا ثبوت ہے ۔انسانیت پر اس سے بڑا احسان نہیں ہوسکتا کہ انسانی معاشرے کو اجتماعی طور پر اپنے اور اس سارے جہان کے خالق و مالک کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کی جائے۔ انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام اسی لئے انسانیت کے محسن ہیں ۔:’’لوگوں تم کدھر جارہے ہو؟یہ (قرآن) جہان بھر کے لوگوں کے لئے نصیحت ہی تو ہے‘‘۔قرآن حکیم نے نہ صرف مرض کی تشخیص فرمائی بلکہ اس کے علاج کے لئے نسخہ ء کیمیا بھی عطا
ظالم تھے۔ پس اللہ نے تم کو جو حلال طیب رزق دیا ہے،اسے کھاو اور اللہ کی نعمتوں کا شکر بجا لاواگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘
اللہ کی ناشکری کا مظہر یہ ہے کہ اس کی طرف سے بھیجے گئے رسول پر ایمان لانے ان کی تکریم کرنے اور اطاعت کا دم بھرنے کی بجائے انکار کا راستہ اختیار کیا۔اس عذاب سے نجات کاایک ہی راستہ ہے کہ اللہ کا حلال کیا ہوا رزق کھاو اور اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاو اور صرف اسی کی عبادت کرو، کہ مالک الملک اور عزیز مقتدر ہے اس کی اطاعت کروگے تو آسمان وزمین کی برکتوں کے دروازے تم پر کھول دے گا۔ ترجمہ:’’اور اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور ہماری نافرمانی سے بچتے تو ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی سو ان کے اعمال کی پاداش میں ہم نے ان کو پکڑ لیا‘‘۔اور جب کسی بستی سے نعمتیں چھین لینا چاہے تو بظاہر ان کی معیشت کتنی ہی مضبوط ہو سزا کا قانون الہٰی ان پر نافذ ہوکر ہی رہتا ہے۔
ترجمہ:’’اور ہم نے بہت سی بستیوں کو تباہ کر ڈالا جو اپنی معیشت(کی فراخی) پر اترارہے تھے پھر یہ ان کے محلات ہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد ہوئے اور ان کے پیچھے ہم ہی ان کے وارث ہوئے‘‘۔اسی لئے انسانیت کی فلاح دین حنیف دین اسلام کے دامن میں پناہ لینے میں ہے۔جب وہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوں گے کہ اس کے نظام اقتصاد یات کی برکات سے بھی بہرہ مند اور مستفید ہوں گے اس لئے کہ اسلام کا نظام معیشت اسلام سے الگ کوئی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ اسی شجرہ طیبہ کی ایک سرسبز و ثمر بار شاخ ہے۔ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ:کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی مثال کیسی بیان فرمائی ہے وہ ایسے ہے کہ جیسے ایک پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط یعنی زمین کو پکڑے ہوئے ہے اور شاخیں آسمان میں ہیں۔ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا ہے۔اور یہ اسلام کے تعلیم کردہ راسخ عقائد،قرآن حکیم اور جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ اور
تعلیم فرمودہ حکیمانہ عبادات اور عظیم ترین اور کامل ترین نظام اخلاق کی سرزمین میں اگلنے والا شجر طیبہ ہے۔ اور خون میں پیوست شاخ ہے۔ جو ہر طرف سے اور ہر طرح سے محفوظ ہے۔ موسموں کے تغیرات اور افراد کی تلون مزاجی اس پر نظر انداز نہیں ہوتی۔

Column Name Islami Nizam E Maeeshat Ke Samraat Ka Hasool Kaise Mumkin
Writer Name Sahibzada Mian Muhammad Ashraf Asmi
Column Type Urdu Column
Published Date 14 March 2019

Islami Nizam E Maeeshat Ke Samraat Ka Hasool Kaise Mumkin is an Urdu column title. Islami Nizam E Maeeshat Ke Samraat Ka Hasool Kaise Mumkin Urdu column is written by Urdu columnist Sahibzada Mian Muhammad Ashraf Asmi. Islami Nizam E Maeeshat Ke Samraat Ka Hasool Kaise Mumkin Urdu column was published on 14 March 2019 at Darsaal.

Read More Urdu Columns

yome pakistan...pakistanio ka jazba e shahadat aur modi sarkar ka jangi junoon By Sahibzada Mian Muhammad Ashraf Asmi yome pakistan...pakistanio ka jazba e shahadat aur modi sarkar ka jangi junoon

Sahibzada Mian Muhammad Ashraf Asmi 19 March 2019

Musalmano Ke Khilaf Shiddat Pasandi Ki Lehar Aur Nazrein Aur IC Ijlas Par Laf Gai By Zia Shahid Musalmano Ke Khilaf Shiddat Pasandi Ki Lehar Aur Nazrein Aur IC Ijlas Par Laf Gai

Zia Shahid 19 March 2019

Koi Tu Jawab De By Muhmmad Anwar Graywal Koi Tu Jawab De

Muhmmad Anwar Graywal 19 March 2019

Khutba Allahabad Se Qarardad e Pakistan Tak By Sajid Hussain Malik Khutba Allahabad Se Qarardad e Pakistan Tak

Sajid Hussain Malik 19 March 2019

Musalmano Ke Sabar Ka Imtehan By Wakeel Anjum Musalmano Ke Sabar Ka Imtehan

Wakeel Anjum 19 March 2019

Nawaz League Aur People By Sohail Sangi Nawaz League Aur People

Sohail Sangi 19 March 2019

Kya Maghrib Ne New Zealand Saniha Se Sabak Seekha Hai? By Naseem Shahid Kya Maghrib Ne New Zealand Saniha Se Sabak Seekha Hai?

Naseem Shahid 19 March 2019

Nuqsan Deh Faisla Sabit Hoga? By Ali Hassan Nuqsan Deh Faisla Sabit Hoga?

Ali Hassan 19 March 2019

Budget Ka Gorakh Dhanda By Tariq Ismail Sagar Budget Ka Gorakh Dhanda

Tariq Ismail Sagar 19 March 2019

Kehti Hai Tujhko Halq e Khuda Ghaibana Kya? By Lt Col Retd Ghulam Jilani Khan Kehti Hai Tujhko Halq e Khuda Ghaibana Kya?

Lt Col Retd Ghulam Jilani Khan 19 March 2019

Saniha New Zealand Masajid By Tayyaba Zia Cheema Saniha New Zealand Masajid

Tayyaba Zia Cheema 19 March 2019

"Waseem Akram" Plus Ki Qurbani?

Nusrat Javed 19 March 2019

Banda Parwar!! Dimagh Ki Band Khirkiyan Kholiye By Arifa Subah Khan Banda Parwar!! Dimagh Ki Band Khirkiyan Kholiye

Arifa Subah Khan 19 March 2019

Mann Apna Purana Papi By Matloob Warraich Mann Apna Purana Papi

Matloob Warraich 19 March 2019

Bismillah By Asad ullah Ghalib Bismillah

Asad ullah Ghalib 19 March 2019

New Zealand: Masajid Mein Gora Bartari Ke Naam Par Dehshat Gardi By Dr Hussain Ahmed Paracha New Zealand: Masajid Mein Gora Bartari Ke Naam Par Dehshat Gardi

Dr Hussain Ahmed Paracha 19 March 2019

Shala Pardesiyan Ni Khair Hove By Muhammad Izhar ul Haq Shala Pardesiyan Ni Khair Hove

Muhammad Izhar ul Haq 19 March 2019

Khwab Saraye By Mohammad Aamir Khawani Khwab Saraye

Mohammad Aamir Khawani 19 March 2019

Khud Ko Tabah Kar Liya Aur Malal Bhi Nahi By Irshad Ahmed Arif Khud Ko Tabah Kar Liya Aur Malal Bhi Nahi

Irshad Ahmed Arif 19 March 2019

Thekedari Nizam By Zaheer Akhtat Bedri Thekedari Nizam

Zaheer Akhtat Bedri 19 March 2019

Your Comments/Thoughts ?