Surah Maryam With Urdu Translation and MP3

سورة مريم

Read Surah Maryam with Urdu Translation - Surah Maryam is Meccan Surah and also called Makki Surah of Quran e Pak. You can read Surah Maryam with Urdu Translation and download mp3 Surah Maryam in your mobile and WhatsApp with voice of Surah Maryam Recited by Sheikh Abdur Rahman Al-Sudais & Sheikh Su'ud As-Shuraim. Read and Download Maryam Ayat by Ayat in Urdu Translation and Tafseer.
Para / Chapter 16
Surah Name Maryam
Classification Meccan - Makki Surah
Surah No. 19
Reciter Surah Maryam Recited By Sheikh Abdur Rahman Al-Sudais & Sheikh Su'ud As-Shuraim
Download Click here to Download Surah Maryam Audio MP3

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

﴿۱﴾ کہیٰعص

﴿۲﴾ (یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان (ہے جو اس نے) اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)

﴿۳﴾ جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا

﴿۴﴾ (اور) کہا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر (ہے کہ) بڑھاپے (کی وجہ سے) شعلہ مارنے لگا ہے اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا

﴿۵﴾ اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما

﴿۶﴾ جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو۔ اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو

﴿۷﴾ اے زکریا ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا

﴿۸﴾ انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا ہوگا۔ جس حال میں میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں

﴿۹﴾ حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے

﴿۱۰﴾ کہا کہ پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے

﴿۱۱﴾ پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام (خدا کو) یاد کرتے رہو

﴿۱۲﴾ اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی

﴿۱۳﴾ اور اپنے پاس شفقت اور پاکیزگی دی تھی۔ اور پرہیزگار تھے

﴿۱۴﴾ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے

﴿۱۵﴾ اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ ان پر سلام اور رحمت (ہے)

﴿۱۶﴾ اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں

﴿۱۷﴾ تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا۔ (اس وقت) ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ تو ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا

﴿۱۸﴾ مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں

﴿۱۹﴾ انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں

﴿۲۰﴾ مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں

﴿۲۱﴾ (فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہٴ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے

﴿۲۲﴾ تو وہ اس (بچّے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں

﴿۲۳﴾ پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی

﴿۲۴﴾ اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے

﴿۲۵﴾ اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی

﴿۲۶﴾ تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہیں کروں گی

﴿۲۷﴾ پھر وہ اس (بچّے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تُونے برا کام کیا

﴿۲۸﴾ اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

﴿۲۹﴾ تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں

﴿۳۰﴾ بچے نے کہا کہ میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے

﴿۳۱﴾ اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰة کا ارشاد فرمایا ہے

﴿۳۲﴾ اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا

﴿۳۳﴾ اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے

﴿۳۴﴾ یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں (اور یہ) سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں

﴿۳۵﴾ خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

﴿۳۶﴾ اور بےشک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

﴿۳۷﴾ پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے

﴿۳۸﴾ وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے۔ کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں

﴿۳۹﴾ اور ان کو حسرت (وافسوس) کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی۔ اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے

﴿۴۰﴾ ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں ان کے وارث ہیں۔ اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا

﴿۴۱﴾ اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو۔ بےشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے

﴿۴۲﴾ جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں

﴿۴۳﴾ ابّا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا ہے تو میرے ساتھ ہوجیئے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا

﴿۴۴﴾ ابّا شیطان کی پرستش نہ کیجیئے۔ بےشک شیطان خدا کا نافرمان ہے

﴿۴۵﴾ ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

﴿۴۶﴾ اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا

﴿۴۷﴾ ابراہیم نے سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

﴿۴۸﴾ اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا

﴿۴۹﴾ اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے اُن سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق کو) یعقوب بخشے۔ اور سب کو پیغمبر بنایا

﴿۵۰﴾ اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں۔ اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا

﴿۵۱﴾ اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو۔ بےشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مُرسل تھے

﴿۵۲﴾ اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

﴿۵۳﴾ اور اپنی مہربانی سے اُن کو اُن کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا

﴿۵۴﴾ اور کتاب میں اسمٰعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے

﴿۵۵﴾ اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

﴿۵۶﴾ اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو۔ وہ بھی نہایت سچے نبی تھے

﴿۵۷﴾ اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اُٹھا لیا تھا

﴿۵۸﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے اپنے پیغمبروں میں سے فضل کیا۔ (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا۔ جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گر پڑتے اور روتے رہتے تھے

﴿۵۹﴾ پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا۔ اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی

﴿۶۰﴾ ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا

﴿۶۱﴾ (یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو ان کی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے)۔ بےشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے

﴿۶۲﴾ وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے، اور ان کے لئے صبح وشام کا کھانا تیار ہوگا

﴿۶۳﴾ یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا

﴿۶۴﴾ اور (فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ) ہم تمہارے پروردگار کے حکم سوا اُتر نہیں سکتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں

﴿۶۵﴾ (یعنی) آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو۔ بھلا تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو

﴿۶۶﴾ اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤ گا تو کیا زندہ کرکے نکالا جاؤں گا؟

﴿۶۷﴾ کیا (ایسا) انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا

﴿۶۸﴾ تمہارے پروردگار کی قسم! ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی۔ پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھٹنوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)

﴿۶۹﴾ پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے

﴿۷۰﴾ اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ان میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں

﴿۷۱﴾ اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے

﴿۷۲﴾ پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

﴿۷۳﴾ اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں

﴿۷۴﴾ اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتیں ہلاک کردیں۔ وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے

﴿۷۵﴾ کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت۔ تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے

﴿۷۶﴾ اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں

﴿۷۷﴾ بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسرنو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے (وہاں) ملے گا

﴿۷۸﴾ کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟

﴿۷۹﴾ ہرگز نہیں۔ یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھتے جاتے اور اس کے لئے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

﴿۸۰﴾ اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

﴿۸۱﴾ اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنالئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجب عزت و) مدد ہوں

﴿۸۲﴾ ہرگز نہیں وہ (معبودان باطل) ان کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (ومخالف) ہوں گے

﴿۸۳﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں

﴿۸۴﴾ تو تم ان پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ کرو۔ اور ہم تو ان کے لئے (دن) شمار کر رہے ہیں

﴿۸۵﴾ جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے

﴿۸۶﴾ اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے

﴿۸۷﴾ (تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو

﴿۸۸﴾ اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے

﴿۸۹﴾ (ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لائے ہو

﴿۹۰﴾ قریب ہے کہ اس (افتراء) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں

﴿۹۱﴾ کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا تجویز کیا

﴿۹۲﴾ اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے

﴿۹۳﴾ تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے

﴿۹۴﴾ اُس نے ان (سب) کو (اپنے علم سے) گھیر رکھا اور (ایک ایک کو) شمار کر رکھا ہے

﴿۹۵﴾ اور سب قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلے اکیلے حاضر ہوں گے

﴿۹۶﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے خدا ان کی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کردے گا

﴿۹۷﴾ (اے پیغمبر) ہم نے یہ (قرآن) تمہاری زبان میں آسان (نازل) کیا ہے تاکہ تم اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچا دو اور جھگڑالوؤں کو ڈر سنا دو

﴿۹۸﴾ اور ہم نے اس سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے۔ بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو

﴿۱﴾ کہیٰعص

﴿۲﴾ (یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان (ہے جو اس نے) اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)

﴿۳﴾ جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا

﴿۴﴾ (اور) کہا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر (ہے کہ) بڑھاپے (کی وجہ سے) شعلہ مارنے لگا ہے اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا

﴿۵﴾ اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما

﴿۶﴾ جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو۔ اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو

﴿۷﴾ اے زکریا ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا

﴿۸﴾ انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا ہوگا۔ جس حال میں میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں

﴿۹﴾ حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے

﴿۱۰﴾ کہا کہ پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے

﴿۱۱﴾ پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام (خدا کو) یاد کرتے رہو

﴿۱۲﴾ اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی

﴿۱۳﴾ اور اپنے پاس شفقت اور پاکیزگی دی تھی۔ اور پرہیزگار تھے

﴿۱۴﴾ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے

﴿۱۵﴾ اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ ان پر سلام اور رحمت (ہے)

﴿۱۶﴾ اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں

﴿۱۷﴾ تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا۔ (اس وقت) ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ تو ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا

﴿۱۸﴾ مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں

﴿۱۹﴾ انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں

﴿۲۰﴾ مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں

﴿۲۱﴾ (فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہٴ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے

﴿۲۲﴾ تو وہ اس (بچّے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں

﴿۲۳﴾ پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی

﴿۲۴﴾ اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے

﴿۲۵﴾ اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی

﴿۲۶﴾ تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہیں کروں گی

﴿۲۷﴾ پھر وہ اس (بچّے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تُونے برا کام کیا

﴿۲۸﴾ اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

﴿۲۹﴾ تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں

﴿۳۰﴾ بچے نے کہا کہ میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے

﴿۳۱﴾ اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰة کا ارشاد فرمایا ہے

﴿۳۲﴾ اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا

﴿۳۳﴾ اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے

﴿۳۴﴾ یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں (اور یہ) سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں

﴿۳۵﴾ خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

﴿۳۶﴾ اور بےشک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

﴿۳۷﴾ پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے

﴿۳۸﴾ وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے۔ کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں

﴿۳۹﴾ اور ان کو حسرت (وافسوس) کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی۔ اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے

﴿۴۰﴾ ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں ان کے وارث ہیں۔ اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا

﴿۴۱﴾ اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو۔ بےشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے

﴿۴۲﴾ جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں

﴿۴۳﴾ ابّا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا ہے تو میرے ساتھ ہوجیئے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا

﴿۴۴﴾ ابّا شیطان کی پرستش نہ کیجیئے۔ بےشک شیطان خدا کا نافرمان ہے

﴿۴۵﴾ ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

﴿۴۶﴾ اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا

﴿۴۷﴾ ابراہیم نے سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

﴿۴۸﴾ اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا

﴿۴۹﴾ اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے اُن سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق کو) یعقوب بخشے۔ اور سب کو پیغمبر بنایا

﴿۵۰﴾ اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں۔ اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا

﴿۵۱﴾ اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو۔ بےشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مُرسل تھے

﴿۵۲﴾ اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

﴿۵۳﴾ اور اپنی مہربانی سے اُن کو اُن کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا

﴿۵۴﴾ اور کتاب میں اسمٰعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے

﴿۵۵﴾ اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

﴿۵۶﴾ اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو۔ وہ بھی نہایت سچے نبی تھے

﴿۵۷﴾ اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اُٹھا لیا تھا

﴿۵۸﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے اپنے پیغمبروں میں سے فضل کیا۔ (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا۔ جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گر پڑتے اور روتے رہتے تھے

﴿۵۹﴾ پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا۔ اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی

﴿۶۰﴾ ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا

﴿۶۱﴾ (یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو ان کی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے)۔ بےشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے

﴿۶۲﴾ وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے، اور ان کے لئے صبح وشام کا کھانا تیار ہوگا

﴿۶۳﴾ یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا

﴿۶۴﴾ اور (فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ) ہم تمہارے پروردگار کے حکم سوا اُتر نہیں سکتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں

﴿۶۵﴾ (یعنی) آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو۔ بھلا تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو

﴿۶۶﴾ اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤ گا تو کیا زندہ کرکے نکالا جاؤں گا؟

﴿۶۷﴾ کیا (ایسا) انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا

﴿۶۸﴾ تمہارے پروردگار کی قسم! ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی۔ پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھٹنوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)

﴿۶۹﴾ پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے

﴿۷۰﴾ اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ان میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں

﴿۷۱﴾ اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے

﴿۷۲﴾ پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے

﴿۷۳﴾ اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں

﴿۷۴﴾ اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتیں ہلاک کردیں۔ وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے

﴿۷۵﴾ کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت۔ تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے

﴿۷۶﴾ اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں

﴿۷۷﴾ بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسرنو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے (وہاں) ملے گا

﴿۷۸﴾ کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟

﴿۷۹﴾ ہرگز نہیں۔ یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھتے جاتے اور اس کے لئے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

﴿۸۰﴾ اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا

﴿۸۱﴾ اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنالئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجب عزت و) مدد ہوں

﴿۸۲﴾ ہرگز نہیں وہ (معبودان باطل) ان کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (ومخالف) ہوں گے

﴿۸۳﴾ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں

﴿۸۴﴾ تو تم ان پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ کرو۔ اور ہم تو ان کے لئے (دن) شمار کر رہے ہیں

﴿۸۵﴾ جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے

﴿۸۶﴾ اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے

﴿۸۷﴾ (تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو

﴿۸۸﴾ اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے

﴿۸۹﴾ (ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لائے ہو

﴿۹۰﴾ قریب ہے کہ اس (افتراء) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں

﴿۹۱﴾ کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا تجویز کیا

﴿۹۲﴾ اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے

﴿۹۳﴾ تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے

﴿۹۴﴾ اُس نے ان (سب) کو (اپنے علم سے) گھیر رکھا اور (ایک ایک کو) شمار کر رکھا ہے

﴿۹۵﴾ اور سب قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلے اکیلے حاضر ہوں گے

﴿۹۶﴾ اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے خدا ان کی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کردے گا

﴿۹۷﴾ (اے پیغمبر) ہم نے یہ (قرآن) تمہاری زبان میں آسان (نازل) کیا ہے تاکہ تم اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچا دو اور جھگڑالوؤں کو ڈر سنا دو

﴿۹۸﴾ اور ہم نے اس سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے۔ بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو

Surah Maryam Tafseer in Urdu Audio MP3

Browse Surah Maryam Ayat by Ayat - سورة مريم کی مزید آیات

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 1

سورة مريم آیت نمبر 1

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 2

سورة مريم آیت نمبر 2

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 3

سورة مريم آیت نمبر 3

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 4

سورة مريم آیت نمبر 4

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 5

سورة مريم آیت نمبر 5

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 6

سورة مريم آیت نمبر 6

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 7

سورة مريم آیت نمبر 7

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 8

سورة مريم آیت نمبر 8

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 9

سورة مريم آیت نمبر 9

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 10

سورة مريم آیت نمبر 10

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 11

سورة مريم آیت نمبر 11

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 12

سورة مريم آیت نمبر 12

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 13

سورة مريم آیت نمبر 13

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 14

سورة مريم آیت نمبر 14

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 15

سورة مريم آیت نمبر 15

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 16

سورة مريم آیت نمبر 16

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 17

سورة مريم آیت نمبر 17

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 18

سورة مريم آیت نمبر 18

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 19

سورة مريم آیت نمبر 19

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 20

سورة مريم آیت نمبر 20

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 21

سورة مريم آیت نمبر 21

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 22

سورة مريم آیت نمبر 22

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 23

سورة مريم آیت نمبر 23

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 24

سورة مريم آیت نمبر 24

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 25

سورة مريم آیت نمبر 25

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 26

سورة مريم آیت نمبر 26

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 27

سورة مريم آیت نمبر 27

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 28

سورة مريم آیت نمبر 28

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 29

سورة مريم آیت نمبر 29

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 30

سورة مريم آیت نمبر 30

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 31

سورة مريم آیت نمبر 31

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 32

سورة مريم آیت نمبر 32

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 33

سورة مريم آیت نمبر 33

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 34

سورة مريم آیت نمبر 34

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 35

سورة مريم آیت نمبر 35

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 36

سورة مريم آیت نمبر 36

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 37

سورة مريم آیت نمبر 37

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 38

سورة مريم آیت نمبر 38

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 39

سورة مريم آیت نمبر 39

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 40

سورة مريم آیت نمبر 40

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 41

سورة مريم آیت نمبر 41

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 42

سورة مريم آیت نمبر 42

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 43

سورة مريم آیت نمبر 43

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 44

سورة مريم آیت نمبر 44

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 45

سورة مريم آیت نمبر 45

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 46

سورة مريم آیت نمبر 46

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 47

سورة مريم آیت نمبر 47

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 48

سورة مريم آیت نمبر 48

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 49

سورة مريم آیت نمبر 49

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 50

سورة مريم آیت نمبر 50

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 51

سورة مريم آیت نمبر 51

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 52

سورة مريم آیت نمبر 52

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 53

سورة مريم آیت نمبر 53

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 54

سورة مريم آیت نمبر 54

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 55

سورة مريم آیت نمبر 55

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 56

سورة مريم آیت نمبر 56

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 57

سورة مريم آیت نمبر 57

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 58

سورة مريم آیت نمبر 58

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 59

سورة مريم آیت نمبر 59

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 60

سورة مريم آیت نمبر 60

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 61

سورة مريم آیت نمبر 61

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 62

سورة مريم آیت نمبر 62

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 63

سورة مريم آیت نمبر 63

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 64

سورة مريم آیت نمبر 64

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 65

سورة مريم آیت نمبر 65

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 66

سورة مريم آیت نمبر 66

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 67

سورة مريم آیت نمبر 67

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 68

سورة مريم آیت نمبر 68

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 69

سورة مريم آیت نمبر 69

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 70

سورة مريم آیت نمبر 70

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 71

سورة مريم آیت نمبر 71

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 72

سورة مريم آیت نمبر 72

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 73

سورة مريم آیت نمبر 73

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 74

سورة مريم آیت نمبر 74

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 75

سورة مريم آیت نمبر 75

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 76

سورة مريم آیت نمبر 76

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 77

سورة مريم آیت نمبر 77

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 78

سورة مريم آیت نمبر 78

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 79

سورة مريم آیت نمبر 79

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 80

سورة مريم آیت نمبر 80

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 81

سورة مريم آیت نمبر 81

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 82

سورة مريم آیت نمبر 82

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 83

سورة مريم آیت نمبر 83

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 84

سورة مريم آیت نمبر 84

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 85

سورة مريم آیت نمبر 85

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 86

سورة مريم آیت نمبر 86

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 87

سورة مريم آیت نمبر 87

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 88

سورة مريم آیت نمبر 88

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 89

سورة مريم آیت نمبر 89

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 90

سورة مريم آیت نمبر 90

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 91

سورة مريم آیت نمبر 91

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 92

سورة مريم آیت نمبر 92

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 93

سورة مريم آیت نمبر 93

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 94

سورة مريم آیت نمبر 94

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 95

سورة مريم آیت نمبر 95

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 96

سورة مريم آیت نمبر 96

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 97

سورة مريم آیت نمبر 97

سورة مريم Surah Maryam Ayat No 98

سورة مريم آیت نمبر 98

Your Comments/Thoughts ?

Read & Listen Surah Maryam with Urdu Translation سورة مريم - Download Surah Maryam MP3 Audio Quran Online Free. Maryam Urdu translation by Moulana Fateh Muhammad Jalandari. Read Surah Maryam with Urdu translation, tilawat by Shaikh Abd-ur Rahman As-Sudais & Shaikh Su'ood As-Shuraim with Urdu translation text.

  • Surah No: 19
  • Maryam
  • Arabic: سورة مريم
  • (سورة مريم) Maryam Meaning in English: Mary
  • سورة مريم اردو میں
  • سورة مريم mp3
  • سورة مريم pdf

Read Quran Urdu Tarjuma with free download Holy Quran Urdu PDF. Moreover, you can also read and listen Quran Urdu tafseer by great Scholars at Darsaal. Quran Tilawat videos are also available here.