Hadith no 1643 Of Sahih Bukhari Chapter Hajj Ke Masail Ka Bayan (Hajj.)
Read Sahih Bukhari Hadith No 1643 - Hadith No 1643 is from Hajj , Hajj Ke Masail Ka Bayan Chapter in the Sahih Bukhari Hadees Book, which is written by Imam Bukhari. Hadith # 1643 of Imam Bukhari covers the topic of Hajj briefly in Sahih Bukhari. You can read Hadith No 1643 from Hajj in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح بخاری - حدیث نمبر 1643
| Hadith No | 1643 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Bukhari |
| Book Writer | Imam Bukhari |
| Writer Death | 256 ھ |
| Chapter Name | Hajj. |
| Roman Name | Hajj Ke Masail Ka Bayan |
| Arabic Name | الحج |
| Urdu Name | حج کے مسائل کا بیان |
Urdu Translation
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی کہ عروہ نے بیان کیا کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے (جو سورۃ البقرہ میں ہے کہ) ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اس لے جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں“۔ قسم اللہ کی پھر تو کوئی حرج نہ ہونا چاہئیے اگر کوئی صفا اور مروہ کی سعی نہ کرنی چاہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھتیجے! تم نے یہ بری بات کہی۔ اللہ کا مطلب یہ ہوتا تو قرآن میں یوں اترتا“ ان کے طواف نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں“ بات یہ ہے کہ یہ آیت تو انصار کے لیے اتری تھی جو اسلام سے پہلے منات بت کے نام پر جو مشلل میں رکھا ہوا تھا اور جس کی یہ پوجا کیا کرتے تھے۔، احرام باندھتے تھے۔ یہ لوگ جب (زمانہ جاہلیت میں) احرام باندھتے تو صفا مروہ کی سعی کو اچھا نہیں خیال کرتے تھے۔ اب جب اسلام لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا اور کہا کہ یا رسول اللہ! ہم صفا اور مروہ کی سعی اچھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں آخر آیت تک۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو پہاڑوں کے درمیان سعی کی سنت جاری کی ہے۔ اس لیے کسی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اسے ترک کر دے۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں نے اس کا ذکر ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو یہ علمی بات اب تک نہیں سنی تھی، بلکہ میں نے بہت سے اصحاب علم سے تو یہ سنا ہے کہ وہ یوں کہتے تھے کہ عرب کے لوگ ان لوگوں کے سوا جن کا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا جو مناۃ کے لیے احرام باندھتے تھے سب صفا مروہ کا پھیرا کیا کرتے تھے۔ اور جب اللہ نے قرآن شریف میں بیت اللہ کے طواف کا ذکر فرمایا اور صفا مروہ کا ذکر نہیں کیا تو وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہم تو جاہلیت کے زمانہ میں صفا اور مروہ کا پھیرا کیا کرتے تھے اور اب اللہ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر تو فرمایا لیکن صفا مروہ کا ذکر نہیں کیا تو کیا صفا مروہ کی سعی کرنے میں ہم پر کچھ گناہ ہو گا؟ تب اللہ نے یہ آیت اتاری۔ ”صفا مروہ اللہ کی نشانیاں ہیں آخر آیت تک۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں سنتا ہوں کہ یہ آیت دونوں فرقوں کے باب میں اتری ہے یعنی اس فرقے کے باب میں جو جاہلیت کے زمانے میں صفا مروہ کا طواف برا جانتا تھا اور اس کے باب میں جو جاہلیت کے زمانے میں صفا مروہ کا طواف کیا کرتے تھے۔ پھر مسلمان ہونے کے بعد اس کا کرنا اس وجہ سے کہ اللہ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا و مروہ کا نہیں کیا، برا سمجھے۔ یہاں تک کہ اللہ نے بیت اللہ کے طواف کے بعد ان کے طواف کا بھی ذکر فرما دیا۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قال عُرْوَةُ : " سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ لَهَا : أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، قَالَتْ : بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي ، إِنَّ هَذِهِ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَتَطَوَّفَ بِهِمَا ، وَلَكِنَّهَا أُنْزِلَتْ فِي الْأَنْصَارِ ، كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَهَا عِنْدَ الْمُشَلَّلِ ، فَكَانَ مَنْ أَهَلَّ يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا أَسْلَمُوا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَقَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا ، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ أَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا لَعِلْمٌ مَا كُنْتُ سَمِعْتُهُ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَذْكُرُونَ أَنَّ النَّاسَ إِلَّا مَنْ ذَكَرَتْ عَائِشَةُ مِمَّنْ كَانَ يُهِلُّ بِمَنَاةَ كَانُوا يَطُوفُونَ كُلُّهُمْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَذْكُرْ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ فِي الْقُرْآنِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنَّا نَطُوفُ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ ، فَلَمْ يَذْكُرْ الصَّفَا ، فَهَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ أَنْ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَأَسْمَعُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا فِي الَّذِينَ كَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْجَاهِلِيَّةِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالَّذِينَ يَطُوفُونَ ، ثُمَّ تَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بِهِمَا فِي الْإِسْلَامِ مِنْ أَجْلِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَذْكُرْ الصَّفَا ، حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا ذَكَرَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ " .
English Translation
Narrated `Urwa: I asked `Aisha : "How do you interpret the statement of Allah,. : Verily! (the mountains) As-Safa and Al-Marwa are among the symbols of Allah, and whoever performs the Hajj to the Ka`ba or performs `Umra, it is not harmful for him to perform Tawaf between them (Safa and Marwa.) (2.158). By Allah! (it is evident from this revelation) there is no harm if one does not perform Tawaf between Safa and Marwa." `Aisha said, "O, my nephew! Your interpretation is not true. Had this interpretation of yours been correct, the statement of Allah should have been, 'It is not harmful for him if he does not perform Tawaf between them.' But in fact, this divine inspiration was revealed concerning the Ansar who used to assume lhram for worship ping an idol called "Manat" which they used to worship at a place called Al-Mushallal before they embraced Islam, and whoever assumed Ihram (for the idol), would consider it not right to perform Tawaf between Safa and Marwa. When they embraced Islam, they asked Allah's Apostle (p.b.u.h) regarding it, saying, "O Allah's Apostle! We used to refrain from Tawaf between Safa and Marwa." So Allah revealed: 'Verily; (the mountains) As-Safa and Al-Marwa are among the symbols of Allah.' " Aisha added, "Surely, Allah's Apostle set the tradition of Tawaf between Safa and Marwa, so nobody is allowed to omit the Tawaf between them." Later on I (`Urwa) told Abu Bakr bin `Abdur-Rahman (of `Aisha's narration) and he said, 'I have not heard of such information, but I heard learned men saying that all the people, except those whom `Aisha mentioned and who used to assume lhram for the sake of Manat, used to perform Tawaf between Safa and Marwa. When Allah referred to the Tawaf of the Ka`ba and did not mention Safa and Marwa in the Qur'an, the people asked, 'O Allah's Apostle! We used to perform Tawaf between Safa and Marwa and Allah has revealed (the verses concerning) Tawaf of the Ka`ba and has not mentioned Safa and Marwa. Is there any harm if we perform Tawaf between Safa and Marwa?' So Allah revealed: "Verily As-Safa and Al- Marwa are among the symbols of Allah." Abu Bakr said, "It seems that this verse was revealed concerning the two groups, those who used to refrain from Tawaf between Safa and Marwa in the Pre- Islamic Period of ignorance and those who used to perform the Tawaf then, and after embracing Islam they refrained from the Tawaf between them as Allah had enjoined Tawaf of the Ka`ba and did not mention Tawaf (of Safa and Marwa) till later after mentioning the Tawaf of the Ka`ba.'
- Previous Hadith
- Hadith No. 1643 of 7558
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
حج کے مسائل کا بیان سے مزید احادیث
حدیث نمبر 1614
´ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ` میں نے عروہ سے (حج کا مسئلہ) پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1671
´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سوید نے بیان کیا، کہا مجھ سے مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، انہیں والیہ کوفی کے غلام سعید بن جبیر نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنما نے بیان کیا کہ` عرفہ کے دن (میدان عرفات سے) وہ نبی کریم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1756
´ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہیں عمرو بن حارث نے، انہیں قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء پڑھی، پھر تھوڑی دیر محصب میں سو رہے، اس کے بعد سوار ہو کر بیت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1746
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے وبرہ نے کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں کنکریاں کس وقت ماروں؟ تو آپ نے فرمایا کہ` جب تمہارا امام مارے تو تم بھی مارو، لیکن دوبارہ میں نے ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم انتظار کرتے رہتے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1575
´ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بلند گھاٹی (یعنی جنت المعلیٰ) کی طرف سے داخل ہوتے اور نکلتے مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1660
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور ان سے سالم نے بیان کیا کہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو لکھا کہ` حج کے احکام میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف نہ کرے۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن سورج ڈھلتے ہی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1732
´اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صرف ایک طواف الزیارۃ کیا پھر سویرے سے منیٰ کو آئے، ان کی مراد دسویں تاریخ سے تھی، عبدالرزاق نے اس حدیث کا رفع (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1536
´ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم، ضحاک بن مخلد نبیل نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں صفوان بن یعلیٰ نے، کہا کہ ان کے باپ یعلیٰ بن امیہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ` کبھی آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1598
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسامہ بن زید اور بلال و عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہم چاروں خانہ کعبہ کے اندر گئے اور اندر سے دروازہ بند ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1514
´ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں بن شہاب نے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحلیفہ میں دیکھا کہ اپنی سواری پر چڑھ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1541
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1581
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ہشام نے اپنے باپ سے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر کداء سے داخل ہوئے تھے۔ عروہ خود اگرچہ دونوں طرف سے (کداء اور کدیٰ) داخل ہوتے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1593
´ہم سے احمد بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے حجاج بن حجاج اسلمی نے، ان سے قتادہ نے، ان سے عبداللہ بن ابی عتبہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا` بیت اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1669
´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن حرملہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ` میں عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1770
´ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ذوالمجاز اور عکاظ عہد جاہلیت کے بازار تھے جب اسلام آیا تو گویا لوگوں نے (جاہلیت کے ان بازاروں میں) خرید و فروخت کو ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1533
´ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ کے راستے سے گزرتے ہوئے ”معرسمکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1736
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عیسیٰ بن طلحہ نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر (اپنی سواری) پر بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ آپ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1728
´ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! سر منڈوانے والوں کی مغفرت فرما! صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1560
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے مہینوں میں حج کی راتوں میں اور حج کے دنوں میں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1574
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طویٰ میں رات گزاری۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ مکمل حدیث پڑھیئے