Hadith no 3887 Of Sahih Bukhari Chapter Ansar Ke Munaqib (The Merits Of Al-ansar.)

Read Sahih Bukhari Hadith No 3887 - Hadith No 3887 is from The Merits Of Al-ansar , Ansar Ke Munaqib Chapter in the Sahih Bukhari Hadees Book, which is written by Imam Bukhari. Hadith # 3887 of Imam Bukhari covers the topic of The Merits Of Al-ansar briefly in Sahih Bukhari. You can read Hadith No 3887 from The Merits Of Al-ansar in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح بخاری - حدیث نمبر 3887

Hadith No 3887
Book Name Sahih Bukhari
Book Writer Imam Bukhari
Writer Death 256 ھ
Chapter Name The Merits Of Al-ansar.
Roman Name Ansar Ke Munaqib
Arabic Name مناقب الأنصار
Urdu Name انصار کے مناقب

Urdu Translation

´ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شب معراج کا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا۔ بعض دفعہ قتادہ نے حطیم کے بجائے حجر بیان کیا کہ میرے پاس ایک صاحب (جبرائیل علیہ السلام) آئے اور میرا سینہ چاک کیا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک۔ میں نے جارود سے سنا جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے۔ پوچھا کہ انس رضی اللہ عنہ کی اس لفظ سے کیا مراد تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ حلق سے ناف تک چاک کیا (قتادہ نے بیان کیا کہ) میں نے انس سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے اوپر سے ناف تک چاک کیا، پھر میرا دل نکالا اور ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا، اس سے میرا دل دھویا گیا اور پہلے کی طرح رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد ایک جانور لایا گیا جو گھوڑے سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا اور سفید! جارود نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابوحمزہ! کیا وہ براق تھا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کا ہر قدم اس کے منتہائے نظر پر پڑتا تھا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) مجھے اس پر سوار کیا گیا اور جبرائیل مجھے لے کر چلے آسمان دنیا پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا کون صاحب ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ آپ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ پوچھا گیا، کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر آواز آئی (انہیں) خوش آمدید! کیا ہی مبارک آنے والے ہیں وہ، اور دروازہ کھول دیا۔ جب میں اندر گیا تو میں نے وہاں آدم علیہ السلام کو دیکھا، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ آپ کے جد امجد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے۔ میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید نیک بیٹے اور نیک نبی! جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر آئے وہاں بھی دروازہ کھلوایا آواز آئی کون صاحب آئے ہیں؟ بتایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور کوئی صاحب بھی ہیں؟ کہا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ پوچھا گیا کیا آپ کو انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر آواز آئی انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر دروازہ کھلا اور میں اندر گیا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام موجود تھے۔ یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا اور ان حضرات نے میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! یہاں سے جبرائیل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے کر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ پوچھا گیا کیا انہیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر آواز آئی انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، دروازہ کھلا اور جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں یوسف علیہ السلام موجود تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ یوسف ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر اوپر چڑھے اور چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ جبرائیل! پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں کہا کہ انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ! اب دروازہ کھلا جب میں وہاں ادریس علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ ادریس علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید پاک بھائی اور نیک نبی۔ پھر مجھے لے کر پانچویں آسمان پر آئے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ پوچھا گیا کہ انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں اب آواز آئی خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، یہاں جب میں ہارون علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! یہاں سے لے کر مجھے آگے بڑھے اور چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں؟ بتایا کہ جبرائیل، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کوئی دوسرے صاحب بھی آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ پھر کہا انہیں خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ میں جب وہاں موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے، میں نے سلام کیا اور انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا آپ رو کیوں رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا میں اس پر رو رہا ہوں کہ یہ لڑکا میرے بعد نبی بنا کر بھیجا گیا لیکن جنت میں اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ ہوں گے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر ساتویں آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ کہا کہ انہیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ، میں جب اندر گیا تو ابراہیم علیہ السلام تشریف رکھتے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ آپ کے جد امجد ہیں، انہیں سلام کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے! پھر سدرۃ المنتہیٰ کو میرے سامنے کر دیا گیا میں نے دیکھا کہ اس کے پھل مقام حجر کے مٹکوں کی طرح (بڑے بڑے) تھے اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کان کی طرح تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں دو باطنی اور دو ظاہری۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل! یہ کیا ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ جنت سے تعلق رکھتی ہیں اور دو ظاہری نہریں، نیل اور فرات ہیں۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو لایا گیا، وہاں میرے سامنے ایک گلاس میں شراب ایک میں دودھ اور ایک میں شہد لایا گیا۔ میں نے دودھ کا گلاس لے لیا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہی فطرت ہے اور آپ اس پر قائم ہیں اور آپ کی امت بھی! پھر مجھ پر روزانہ پچاس نمازیں فرض کی گئیں میں واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کس چیز کا آپ کو حکم ہوا؟ میں نے کہا کہ روزانہ پچاس وقت کی نمازوں کا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لیکن آپ کی امت میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ اس سے پہلے میرا واسطہ لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے۔ اس لیے آپ اپنے رب کے حضور میں دوبارہ جائیے اور اپنی امت پر تخفیف کے لیے عرض کیجئے۔ چنانچہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں دوبارہ حاضر ہوا اور تخفیف کے لیے عرض کی تو دس وقت کی نمازیں کم کر دی گئیں۔ پھر میں جب واپسی میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پھر وہی سوال کیا میں دوبارہ بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہوا اور اس مرتبہ بھی دس وقت کی نمازیں کم ہوئیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور تو انہوں نے وہی مطالبہ کیا میں نے اس مرتبہ بھی بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہو کر دس وقت کی نمازیں کم کرائیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے پھر گزرا انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا پھر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوا تو مجھے دس وقت کی نمازوں کا حکم ہوا میں واپس ہونے لگا تو آپ نے پھر وہی کہا اب بارگاہ الٰہی میں حاضرہوا تو روزانہ صرف پانچ وقت کی نمازوں کا حکم باقی رہا۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو آپ نے دریافت فرمایا اب کیا حکم ہوا؟ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کا حکم ہوا ہے۔ فرمایا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی میرا واسطہ آپ سے پہلے لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے۔ اپنے رب کے دربار میں پھر حاضر ہو کر تخفیف کے لیے عرض کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رب تعالیٰ سے میں بہت سوال کر چکا اور اب مجھے شرم آتی ہے۔ اب میں بس اسی پر راضی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جب میں وہاں سے گزرنے لگا تو ندا آئی میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا اور اپنے بندوں پر تخفیف کر چکا۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ قال : " بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ , وَرُبَّمَا قال : فِي الْحِجْرِ , مُضْطَجِعًا إِذْ أَتَانِي آتٍ فَقَدَّ ، قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ ، فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِي : مَا يَعْنِي بِهِ ، قَالَ : مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ , وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : مِنْ قَصِّهِ إِلَى شِعْرَتِهِ فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي , ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءَةٍ إِيمَانًا فَغُسِلَ قَلْبِي , ثُمَّ حُشِيَ , ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ ، فَقَالَ لَهُ الْجَارُودُ : هُوَ الْبُرَاقُ يَا أَبَا حَمْزَةَ ، قَالَ أَنَسٌ : نَعَمْ يَضَعُ خَطْوَهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ , فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ ، فَقِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ , قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفَتَحَ , فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا فِيهَا آدَمُ ، فَقَالَ : هَذَا أَبُوكَ آدَمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ، ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ , وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ , ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ , قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ , قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ , جَاءَ فَفَتَحَ , فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يَحْيَى , وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا الْخَالَةِ ، قَالَ : هَذَا يَحْيَى , وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا , فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا ، ثُمَّ قَالَا : مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ , ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ , قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ , فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يُوسُفُ ، قَالَ : هَذَا يُوسُفُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ، ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ , ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ , فَلَمَّا خَلَصْتُ إِلَى إِدْرِيسَ ، قَالَ : هَذَا إِدْرِيسُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ، ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ , ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ , فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا هَارُونُ ، قَالَ : هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ، ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ , ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ , فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا مُوسَى ، قَالَ : هَذَا مُوسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ، ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ , فَلَمَّا تَجَاوَزْتُ بَكَى ، قِيلَ : لَهُ مَا يُبْكِيكَ ، قَالَ : أَبْكِي لِأَنَّ غُلَامًا بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي , ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ , فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِبْرَاهِيمُ ، قَالَ : هَذَا أَبُوكَ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ , ثُمَّ رُفِعَتْ إِلَيَّ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى , فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ ، قَالَ : هَذِهِ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى وَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ : نَهْرَانِ بَاطِنَانِ , وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَانِ يَا جِبْرِيلُ ، قَالَ : أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ , وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ , وَالْفُرَاتُ , ثُمَّ رُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ , ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ , وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ , وَإِنَاءٍ مِنْ عَسَلٍ , فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ ، فَقَالَ : هِيَ الْفِطْرَةُ الَّتِي أَنْتَ عَلَيْهَا وَأُمَّتُكَ , ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ الصَّلَوَاتُ خَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ , فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى ، فَقَالَ : بِمَا أُمِرْتَ ، قَالَ : أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ خَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ , وَإِنِّي وَاللَّهِ قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ , فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ , فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ , فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ , فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : مِثْلَهُ , فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ , فَرَجَعْتُ فَقَالَ مِثْلَهُ , فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ , فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : بِمَ أُمِرْتَ ، قُلْتُ : أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ , فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ وَلَكِنِّي أَرْضَى وَأُسَلِّمُ ، قَالَ : فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادَى مُنَادٍ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي ".

English Translation

Narrated `Abbas bin Malik: Malik bin Sasaa said that Allah's Apostle described to them his Night Journey saying, "While I was lying in Al-Hatim or Al-Hijr, suddenly someone came to me and cut my body open from here to here." I asked Al-Jarud who was by my side, "What does he mean?" He said, "It means from his throat to his pubic area," or said, "From the top of the chest." The Prophet further said, "He then took out my heart. Then a gold tray of Belief was brought to me and my heart was washed and was filled (with Belief) and then returned to its original place. Then a white animal which was smaller than a mule and bigger than a donkey was brought to me." (On this Al-Jarud asked, "Was it the Buraq, O Abu Hamza?" I (i.e. Anas) replied in the affirmative). The Prophet said, "The animal's step (was so wide that it) reached the farthest point within the reach of the animal's sight. I was carried on it, and Gabriel set out with me till we reached the nearest heaven. When he asked for the gate to be opened, it was asked, 'Who is it?' Gabriel answered, 'Gabriel.' It was asked, 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has Muhammad been called?' Gabriel replied in the affirmative. Then it was said, 'He is welcomed. What an excellent visit his is!' The gate was opened, and when I went over the first heaven, I saw Adam there. Gabriel said (to me). 'This is your father, Adam; pay him your greetings.' So I greeted him and he returned the greeting to me and said, 'You are welcomed, O pious son and pious Prophet.' Then Gabriel ascended with me till we reached the second heaven. Gabriel asked for the gate to be opened. It was asked, 'Who is it?' Gabriel answered, 'Gabriel.' It was asked, 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel answered in the affirmative. Then it was said, 'He is welcomed. What an excellent visit his is!' The gate was opened. When I went over the second heaven, there I saw Yahya (i.e. John) and `Isa (i.e. Jesus) who were cousins of each other. Gabriel said (to me), 'These are John and Jesus; pay them your greetings.' So I greeted them and both of them returned my greetings to me and said, 'You are welcomed, O pious brother and pious Prophet.' Then Gabriel ascended with me to the third heaven and asked for its gate to be opened. It was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'Gabriel.' It was asked, 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel replied in the affirmative. Then it was said, 'He is welcomed, what an excellent visit his is!' The gate was opened, and when I went over the third heaven there I saw Joseph. Gabriel said (to me), 'This is Joseph; pay him your greetings.' So I greeted him and he returned the greeting to me and said, 'You are welcomed, O pious brother and pious Prophet.' Then Gabriel ascended with me to the fourth heaven and asked for its gate to be opened. It was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'Gabriel' It was asked, 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel replied in the affirmative. Then it was said, 'He is welcomed, what an excel lent visit his is!' The gate was opened, and when I went over the fourth heaven, there I saw Idris. Gabriel said (to me), 'This is Idris; pay him your greetings.' So I greeted him and he returned the greeting to me and said, 'You are welcomed, O pious brother and pious Prophet.' Then Gabriel ascended with me to the fifth heaven and asked for its gate to be opened. It was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'Gabriel.' It was asked. 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel replied in the affirmative. Then it was said He is welcomed, what an excellent visit his is! So when I went over the fifth heaven, there I saw Harun (i.e. Aaron), Gabriel said, (to me). This is Aaron; pay him your greetings.' I greeted him and he returned the greeting to me and said, 'You are welcomed, O pious brother and pious Prophet.' Then Gabriel ascended with me to the sixth heaven and asked for its gate to be opened. It was asked. 'Who is it?' Gabriel replied, 'Gabriel.' It was asked, 'Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel replied in the affirmative. It was said, 'He is welcomed. What an excellent visit his is!' When I went (over the sixth heaven), there I saw Moses. Gabriel said (to me),' This is Moses; pay him your greeting. So I greeted him and he returned the greetings to me and said, 'You are welcomed, O pious brother and pious Prophet.' When I left him (i.e. Moses) he wept. Someone asked him, 'What makes you weep?' Moses said, 'I weep because after me there has been sent (as Prophet) a young man whose followers will enter Paradise in greater numbers than my followers.' Then Gabriel ascended with me to the seventh heaven and asked for its gate to be opened. It was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'Gabriel.' It was asked,' Who is accompanying you?' Gabriel replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' Gabriel replied in the affirmative. Then it was said, 'He is welcomed. What an excellent visit his is!' So when I went (over the seventh heaven), there I saw Abraham. Gabriel said (to me), 'This is your father; pay your greetings to him.' So I greeted him and he returned the greetings to me and said, 'You are welcomed, O pious son and pious Prophet.' Then I was made to ascend to Sidrat-ul-Muntaha (i.e. the Lote Tree of the utmost boundary) Behold! Its fruits were like the jars of Hajr (i.e. a place near Medina) and its leaves were as big as the ears of elephants. Gabriel said, 'This is the Lote Tree of the utmost boundary) . Behold ! There ran four rivers, two were hidden and two were visible, I asked, 'What are these two kinds of rivers, O Gabriel?' He replied,' As for the hidden rivers, they are two rivers in Paradise and the visible rivers are the Nile and the Euphrates.' Then Al-Bait-ul-Ma'mur (i.e. the Sacred House) was shown to me and a container full of wine and another full of milk and a third full of honey were brought to me. I took the milk. Gabriel remarked, 'This is the Islamic religion which you and your followers are following.' Then the prayers were enjoined on me: They were fifty prayers a day. When I returned, I passed by Moses who asked (me), 'What have you been ordered to do?' I replied, 'I have been ordered to offer fifty prayers a day.' Moses said, 'Your followers cannot bear fifty prayers a day, and by Allah, I have tested people before you, and I have tried my level best with Bani Israel (in vain). Go back to your Lord and ask for reduction to lessen your followers' burden.' So I went back, and Allah reduced ten prayers for me. Then again I came to Moses, but he repeated the same as he had said before. Then again I went back to Allah and He reduced ten more prayers. When I came back to Moses he said the same, I went back to Allah and He ordered me to observe ten prayers a day. When I came back to Moses, he repeated the same advice, so I went back to Allah and was ordered to observe five prayers a day. When I came back to Moses, he said, 'What have you been ordered?' I replied, 'I have been ordered to observe five prayers a day.' He said, 'Your followers cannot bear five prayers a day, and no doubt, I have got an experience of the people before you, and I have tried my level best with Bani Israel, so go back to your Lord and ask for reduction to lessen your follower's burden.' I said, 'I have requested so much of my Lord that I feel ashamed, but I am satisfied now and surrender to Allah's Order.' When I left, I heard a voice saying, 'I have passed My Order and have lessened the burden of My Worshipers."

Your Comments/Thoughts ?

انصار کے مناقب سے مزید احادیث

حدیث نمبر 3823

´اور قیس سے روایت ہے کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا` زمانہ جاہلیت میں ذوالخلصہ نامی ایک بت کدہ تھا اسے «الكعبة اليمانية» یا «الكعبة الشأمية» بھی کہتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3864

´ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے دادا زید بن عبداللہ بن عمرو نے خبر دی، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` عمر رضی اللہ عنہ (اسلام لانے کے بعد قریش سے) ڈرے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3891

´مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے عطاء نے بیان کیا کہ` جابر رضی اللہ عنہ نے کہا میں میرے والد اور میرے دو ماموں تینوں بیعت عقبہ کرنے والوں میں شریک تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3835

´مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` ایک کالی عورت جو کسی عرب کی باندی تھی اسلام لائی اور مسجد میں اس کے رہنے کے لیے ایک کوٹھری تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا وہ ہمارے یہاں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3782

´ہم سے ابوہمام صلت بن محمد نے بیان کیا کہا میں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` انصار نے کہا: یا رسول اللہ! کھجور کے باغات ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3919

´ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن ابی عبلہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن وساج نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3845

´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے قطن ابوالہیثم نے کہا، ہم سے ابویزید مدنی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا` جاہلیت میں سب سے پہلا قسامہ ہمارے ہی قبیلہ بنو ہاشم میں ہوا تھا، بنو ہاشم کے ایک شخص عمرو بن علقمہ کو قریش کے کسی دوسرے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3875

´ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ` (ابتداء اسلام میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3892

´مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ` ہمیں ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3778

´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ` فتح مکہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو (غزوہ حنین کی) غنیمت کا سارا مال دے دیا تو بعض نوجوان انصار یوں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3798

´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن داود نے بیان کیا، ان سے فضیل بن غزوان نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک صاحب (خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھوکے حاضر ہوئے، آپ نے انہیں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3796

´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا` آپ نے فرمایا کہ انصار غزوہ خندق کے موقعہ پر (خندق کھودتے ہوئے) یہ شعر پڑھتے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا» مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3902

´ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا گیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3812

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، وہ عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3872

´ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی، انہیں مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا کہ` ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3837

´مجھ سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا کہ` ان کے والد قاسم بن محمد جنازہ کے آگے آگے چلا کرتے تھے اور جنازہ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے وہ بیان کرتے تھے کہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3856

´ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ` مجھے مشرکیں کے سب سے سخت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3776

´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا ہم سے غیلان بن جریر نے بیان کیا` میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا بتلائیے (انصار) اپنا نام آپ لوگوں نے خود رکھ لیا تھا یا آپ لوگوں کا یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہمارا یہ نام اللہ تعالیٰ نے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3840

´عکرمہ نے بیان کیا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں (یہ لفظ استعمال کرتے تھے) «اسقنا كأسا دهاقا‏.» یعنی ہم کو بھرپور جام شراب پلاتے رہو۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3822

´ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا کہا، ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے بیان نے کہ میں نے قیس سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ` جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں اسلام میں داخل ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (گھر کے اندر آنے سے) نہیں روکا مکمل حدیث پڑھیئے