Hadith no 3911 Of Sahih Bukhari Chapter Ansar Ke Munaqib (The Merits Of Al-ansar.)
Read Sahih Bukhari Hadith No 3911 - Hadith No 3911 is from The Merits Of Al-ansar , Ansar Ke Munaqib Chapter in the Sahih Bukhari Hadees Book, which is written by Imam Bukhari. Hadith # 3911 of Imam Bukhari covers the topic of The Merits Of Al-ansar briefly in Sahih Bukhari. You can read Hadith No 3911 from The Merits Of Al-ansar in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح بخاری - حدیث نمبر 3911
| Hadith No | 3911 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Bukhari |
| Book Writer | Imam Bukhari |
| Writer Death | 256 ھ |
| Chapter Name | The Merits Of Al-ansar. |
| Roman Name | Ansar Ke Munaqib |
| Arabic Name | مناقب الأنصار |
| Urdu Name | انصار کے مناقب |
Urdu Translation
´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بوڑھے ہو گئے تھے اور ان کو لوگ پہچانتے بھی تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی جوان معلوم ہوتے تھے اور آپ کو لوگ عام طور سے پہچانتے بھی نہ تھے۔ بیان کیا کہ اگر راستہ میں کوئی ملتا اور پوچھتا کہ اے ابوبکر! یہ تمہارے ساتھ کون صاحب ہیں؟ تو آپ جواب دیتے کہ یہ میرے ہادی ہیں، مجھے راستہ بتاتے ہیں پوچھنے والا یہ سمجھتا کہ مدینہ کا راستہ بتلانے والا ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مطلب اس کلام سے یہ تھا کہ آپ دین و ایمان کا راستہ بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے مڑے تو ایک سوار نظر آیا جو ان کے قریب آ چکا تھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ سوار آ گیا اور اب ہمارے قریب ہی پہنچنے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے مڑ کر دیکھا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے گرا دے چنانچہ گھوڑی نے اسے گرا دیا۔ پھر جب وہ ہنہناتی ہوئی اٹھی تو سوار (سراقہ) نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ کھڑا رہ اور دیکھ کسی کو ہماری طرف نہ آنے دینا۔ راوی نے بیان کیا کہ وہی شخص جو صبح آپ کے خلاف تھا شام جب ہوئی تو آپ کا وہ ہتھیار تھا دشمن کو آپ سے روکنے لگا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ پہنچ کر) حرہ کے قریب اترے اور انصار کو بلا بھیجا۔ اکابر انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں کو سلام کیا اور عرض کیا آپ سوار ہو جائیں آپ کی حفاظت اور فرمانبرداری کی جائے گی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے اور ہتھیار بند انصار نے آپ دونوں کو حلقہ میں لے لیا۔ اتنے میں مدینہ میں بھی سب کو معلوم ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں سب لوگ آپ کو دیکھنے کے لیے بلندی پر چڑھ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ کے نبی آ گئے۔ اللہ کے نبی آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف چلتے رہے اور (مدینہ پہنچ کر) ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سواری سے اتر گئے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ (ایک یہودی عالم نے) اپنے گھر والوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنا، وہ اس وقت اپنے ایک کھجور کے باغ میں تھے اور کھجور جمع کر رہے تھے انہوں نے (سنتے ہی) بڑی جلدی کے ساتھ جو کچھ کھجور جمع کر چکے تھے اسے رکھ دینا چاہا جب آپ کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جمع شدہ کھجوریں ان کے ساتھ ہی تھیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اپنے گھر واپس چلے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے (نانہالی) اقارب میں کس کا گھر یہاں سے زیادہ قریب ہے؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرا اے اللہ کے نبی! یہ میرا گھر ہے اور یہ اس کا دروازہ ہے فرمایا (اچھا تو جاؤ) دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ ہمارے لیے درست کرو ہم دوپہر کو وہیں آرام کریں گے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پھر آپ دونوں تشریف لے چلیں، اللہ مبارک کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے کہ عبداللہ بن سلام بھی آ گئے اور کہا کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں، اور یہودی میرے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور ان کے سردار کا بیٹا ہوں اور ان میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں، اس لیے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام لانے کا خیال انہیں معلوم ہو، بلایئے اور ان سے میرے بارے میں دریافت فرمایئے، کیونکہ انہیں اگر معلوم ہو گیا کہ میں اسلام لا چکا ہوں تو میرے متعلق غلط باتیں کہنی شروع کر دیں گے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور جب وہ آپ کی خدمت حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے یہودیو! افسوس تم پر، اللہ سے ڈرو، اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول برحق ہوں اور یہ بھی کہ میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، پھر اب اسلام میں داخل ہو جاؤ، انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح تین مرتبہ کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اچھا عبداللہ بن سلام تم میں کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے، ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے اور ہمارے سب سے بڑے عالم کے بیٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں۔ پھر تمہارا کیا خیال ہو گا۔ کہنے لگے اللہ ان کی حفاظت کرے، وہ اسلام کیوں لانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن سلام! اب ان کے سامنے آ جاؤ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آ گئے اور کہا: اے یہود! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہیں خوب معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے کہا تم جھوٹے ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باہر چلے جانے کے لیے فرمایا۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ , وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ ، قَالَ : فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ : يَا أَبَا بَكْرٍ , مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ ؟ فَيَقُولُ : هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيلَ ، قَالَ : فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي الطَّرِيقَ , وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ , فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا , فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ " , فَصَرَعَهُ الْفَرَسُ , ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ ، قَالَ : فَقِفْ مَكَانَكَ لَا تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا ، قَالَ : فَكَانَ أَوَّلَ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ , ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ , فَجَاءُوا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا ، وَقَالُوا : ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ , فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَحَفُّوا دُونَهُمَا بِالسِّلَاحِ ، فَقِيلَ فِي الْمَدِينَةِ : جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ , جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَشْرَفُوا يَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ : جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ , جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ , فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى نَزَلَ جَانِبَ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهُ إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ , فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ لَهُمْ فِيهَا , فَجَاءَ وَهِيَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ ؟ " فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذِهِ دَارِي وَهَذَا بَابِي ، قَالَ : فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا ، قَالَ : قُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ , فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ , وَقَدْ عَلِمَتْ يَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ , وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ , فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ , فَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ ، قَالُوا فِيَّ مَا لَيْسَ فِيَّ , فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَقْبَلُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ , وَيْلَكُمْ اتَّقُوا اللَّهَ , فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا , وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ فَأَسْلِمُوا " ، قَالُوا : مَا نَعْلَمُهُ ، قَالُوا : لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَهَا : ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ : " فَأَيُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ؟ قَالُوا : ذَاكَ سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا , وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا ، قَالَ : " أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ؟ " قَالُوا : حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ ، قَالَ : " أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ؟ " قَالُوا : حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ ، قَالَ : " أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ؟ " قَالُوا : حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ ، قَالَ : " يَا ابْنَ سَلَامٍ , اخْرُجْ عَلَيْهِمْ " , فَخَرَجَ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ , اتَّقُوا اللَّهَ , فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ جَاءَ بِحَقٍّ ، فَقَالُوا : كَذَبْتَ , فَأَخْرَجَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
English Translation
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle arrived at Medina with Abu Bakr, riding behind him on the same camel. Abu Bakr was an elderly man known to the people, while Allah's Apostle was a youth that was unknown. Thus, if a man met Abu Bakr, he would day, "O Abu Bakr! Who is this man in front of you?" Abu Bakr would say, "This man shows me the Way," One would think that Abu Bakr meant the road, while in fact, Abu Bakr meant the way of virtue and good. Then Abu Bakr looked behind and saw a horse-rider persuing them. He said, "O Allah's Apostle! This is a horse-rider persuing us." The Prophet looked behind and said, "O Allah! Cause him to fall down." So the horse threw him down and got up neighing. After that the rider, Suraqa said, "O Allah's Prophet! Order me whatever you want." The Prophet said, "Stay where you are and do not allow anybody to reach us." So, in the first part of the day Suraqa was an enemy of Allah's Prophet and in the last part of it, he was a protector. Then Allah's Apostle alighted by the side of the Al-Harra and sent a message to the Ansar, and they came to Allah's Prophet and Abu Bakr, and having greeted them, they said, "Ride (your she-camels) safe and obeyed." Allah's Apostle and Abu Bakr rode and the Ansar, carrying their arms, surrounded them. The news that Allah's Prophet had come circulated in Medina. The people came out and were eagerly looking and saying "Allah's Prophet has come! Allah's Prophet has come! So the Prophet went on till he alighted near the house of Abu Aiyub. While the Prophet was speaking with the family members of Abu Aiyub, `Abdullah bin Salam heard the news of his arrival while he himself was picking the dates for his family from his family garden. He hurried to the Prophet carrying the dates which he had collected for his family from the garden. He listened to Allah's Prophet and then went home. Then Allah's Prophet said, "Which is the nearest of the houses of our Kith and kin?" Abu Aiyub replied, "Mine, O Allah's Prophet! This is my house and this is my gate." The Prophet said, "Go and prepare a place for our midday rest." Abu Aiyub said, "Get up (both of you) with Allah's Blessings." So when Allah's Prophet went into the house, `Abdullah bin Salaim came and said "I testify that you (i.e. Muhammad) are Apostle of Allah and that you have come with the Truth. The Jews know well that I am their chief and the son of their chief and the most learned amongst them and the son of the most learned amongst them. So send for them (i.e. Jews) and ask them about me before they know that I have embraced Islam, for if they know that they will say about me things which are not correct." So Allah's Apostle sent for them, and they came and entered. Allah's Apostle said to them, "O (the group of) Jews! Woe to you: be afraid of Allah. By Allah except Whom none has the right to be worshipped, you people know for certain, that I am Apostle of Allah and that I have come to you with the Truth, so embrace Islam." The Jews replied, "We do not know this." So they said this to the Prophet and he repeated it thrice. Then he said, "What sort of a man is `Abdullah bin Salam amongst you?" They said, "He is our chief and the son of our chief and the most learned man, and the son of the most learned amongst us." He said, "What would you think if he should embrace Islam?" They said, "Allah forbid! He can not embrace Islam." He said, " What would you think if he should embrace Islam?" They said, "Allah forbid! He can not embrace Islam." He said, "What would you think if he should embrace Islam?" They said, "Allah forbid! He can not embrace Islam." He said, "O Ibn Salaim! Come out to them." He came out and said, "O (the group of) Jews! Be afraid of Allah except Whom none has the right to be worshipped. You know for certain that he is Apostle of Allah and that he has brought a True Religion!' They said, "You tell a lie." On that Allah's Apostle turned them out.
- Previous Hadith
- Hadith No. 3911 of 7558
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
انصار کے مناقب سے مزید احادیث
حدیث نمبر 3927
´مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی نے خبر دی کہ` میں عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا (دوسری سند) اور بشر بن شعیب نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3894
´مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ (ہجرت کر کے) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3788
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے عمرو بن مرہ نے کہ میں نے انصار کے ایک آدمی ابوحمزہ سے سنا کہ` انصار نے عرض کیا ہر قوم کے تابعدار (ہالی موالی) ہوتے ہیں، ہم تو آپ کے تابعدار بنے۔ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3909
´مجھ سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ` عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کے پیٹ میں تھے، انہیں دنوں جب حمل کی مدت بھی پوری ہو چکی تھی، میں مدینہ کے لیے روانہ ہوئی یہاں پہنچ کر میں نے قباء میں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3833
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا کہ عمرو بن دینار بیان کیا کرتے تھے کہ ہم سے سعید بن مسیب نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے سعید کے دادا حزن سے بیان کیا کہ` زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ سیلاب آیا کہ (مکہ کی) دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی ہی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3921
´ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنوکلب کی ایک عورت ام بکر نامی سے شادی کر لی تھی۔ پھر جب انہوں نے ہجرت کی تو اسے طلاق دے آئے۔ اس عورت سے پھر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3804
´ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک قوم (یہود بنی قریظہ) نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو انہیں بلانے کے لیے آدمی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3831
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` عاشورا کا روزہ قریش کے لوگ زمانہ جاہلیت میں رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے باقی رکھا تھا۔ جب آپ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3819
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا کہ` میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بشارت دی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دی تھی، جہاں نہ کوئی شور و غل ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3793
´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو فوقیت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3799
´مجھ سے ابوعلی محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدان کے بھائی شاذان نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ہمیں شعبہ بن حجاج نے خبر دی، ان سے ہشام بن زید نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ` ابوبکر اور عباس رضی اللہ عنہما انصار کی ایک مجلس سے گزرے، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3855
´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، کہا مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا یا (منصور نے) اس طرح بیان کیا کہ مجھ سے حکم نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3924
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابواسحاق نے خبر دی، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے یوں بیان کیا کہ` سب سے پہلے (ہجرت کر کے) ہمارے یہاں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے پھر عمار بن یاسر رضی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3922
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے جو سر اٹھایا تو قوم کے چند لوگوں کے قدم (باہر) نظر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3856
´ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ` مجھے مشرکیں کے سب سے سخت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3905
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے ماں باپ کو دین اسلام ہی پر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3862
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے بیان کیا کہ` میں نے کوفہ کی مسجد میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ایک وقت تھا جب عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے مجھے اس وجہ سے باندھ رکھا تھا کہ میں نے اسلام ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3896
´مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا کہ` خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کو ہجرت سے تین سال پہلے ہو گئی تھی۔ نبی کریم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3881
´اور صالح سے روایت ہے کہ ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز جنازہ کے لیے) عیدگاہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو صف بستہ کھڑا کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی آپ مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3887
´ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شب معراج کا واقعہ بیان کیا۔ آپ ..مکمل حدیث پڑھیئے