Hadith no 602 Of Sahih Bukhari Chapter Oqat E Namaz Ke Bayan May (The Times Of As-salat (the Prayers) And Its Superiority.)

Read Sahih Bukhari Hadith No 602 - Hadith No 602 is from The Times Of As-salat The Prayers And Its Superiority , Oqat E Namaz Ke Bayan May Chapter in the Sahih Bukhari Hadees Book, which is written by Imam Bukhari. Hadith # 602 of Imam Bukhari covers the topic of The Times Of As-salat The Prayers And Its Superiority briefly in Sahih Bukhari. You can read Hadith No 602 from The Times Of As-salat The Prayers And Its Superiority in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح بخاری - حدیث نمبر 602

Hadith No 602
Book Name Sahih Bukhari
Book Writer Imam Bukhari
Writer Death 256 ھ
Chapter Name The Times Of As-salat (the Prayers) And Its Superiority.
Roman Name Oqat E Namaz Ke Bayan May
Arabic Name مواقيت الصلاة
Urdu Name اوقات نماز کے بیان میں

Urdu Translation

´ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ سلیمان بن طرخان نے، کہا کہ ہم سے ابوعثمان نہدی نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی کہ` اصحاب صفہ نادار مسکین لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے (اصحاب صفہ میں سے کسی) کو اپنے ساتھ لیتا جائے۔ اور جس کے ہاں چار آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو سائبان والوں میں سے اپنے ساتھ لے جائے۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمی اپنے ساتھ لائے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھر کے افراد میں اس وقت باپ، ماں اور میں تھا۔ ابوعثمان راوی کا بیان ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے یہ کہا یا نہیں کہ میری بیوی اور ایک خادم جو میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھر کے لیے تھا یہ بھی تھے۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ٹھہر گئے۔ (اور غالباً کھانا بھی وہیں کھایا۔ صورت یہ ہوئی کہ) نماز عشاء تک وہیں رہے۔ پھر (مسجد سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک میں آئے اور وہیں ٹھہرے رہے تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھانا کھا لیا۔ اور رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی (ام رومان) نے کہا کہ کیا بات پیش آئی کہ مہمانوں کی خبر بھی آپ نے نہ لی، یا یہ کہ مہمان کی خبر نہ لی۔ آپ نے پوچھا، کیا تم نے ابھی انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا۔ ام رومان نے کہا کہ میں کیا کروں آپ کے آنے تک انہوں نے کھانے سے انکار کیا۔ کھانے کے لیے ان سے کہا گیا تھا لیکن وہ نہ مانے۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ڈر کر چھپ گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پکارا اے غنثر! (یعنی او پاجی) آپ نے برا بھلا کہا اور کوسنے دئیے۔ فرمایا کہ کھاؤ تمہیں مبارک نہ ہو! اللہ کی قسم! میں اس کھانے کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ (آخر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا) (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا) اللہ گواہ ہے کہ ہم ادھر ایک لقمہ لیتے تھے اور نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ کھانا ہو جاتا تھا۔ بیان کیا کہ سب لوگ شکم سیر ہو گئے۔ اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو کھانا پہلے ہی اتنا یا اس سے بھی زیادہ تھا۔ اپنی بیوی سے بولے۔ بنوفراس کی بہن! یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے تین گنا ہے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہ کھانا کھایا اور کہا کہ میرا قسم کھانا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بقیہ کھانا لے گئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ صبح تک آپ کے پاس رکھا رہا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ ہم مسلمانوں کا ایک دوسرے قبیلے کے لوگوں سے معاہدہ تھا۔ اور معاہدہ کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ (اس قبیلہ کا وفد معاہدہ سے متعلق بات چیت کرنے مدینہ میں آیا ہوا تھا) ہم نے ان میں سے بارہ آدمی جدا کئے اور ہر ایک کے ساتھ کتنے آدمی تھے اللہ کو ہی معلوم ہے ان سب نے ان میں سے کھایا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کچھ ایسا ہی کہا۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ ، وَإِنْ أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ ، قَالَ : فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي ، فَلَا أَدْرِي ، قَالَ : وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَيْثُ صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : وَمَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ ، قَالَ : أَوَمَا عَشَّيْتِيهِمْ ، قَالَتْ : أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ ، قَدْ عُرِضُوا فَأَبَوْا ، قَالَ : فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ ، فَقَالَ : يَا غُنْثَرُ ، فَجَدَّعَ وَسَبَّ ، وَقَالَ كُلُوا لَا هَنِيئًا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا وَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا ، قَالَ : يَعْنِي حَتَّى شَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ مِنْهَا ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ ، مَا هَذَا ؟ قَالَتْ : لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي ، لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مَرَّاتٍ ، فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ : إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ ، ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً ، ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ ، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضَى الْأَجَلُ فَفَرَّقَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ ، فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ كَمَا قَالَ " .

English Translation

Narrated Abu `Uthman: `Abdur Rahman bin Abi Bakr said, "The Suffa Companions were poor people and the Prophet said, 'Whoever has food for two persons should take a third one from them (Suffa companions). And whosoever has food for four persons he should take one or two from them' Abu Bakr took three men and the Prophet took ten of them." `Abdur Rahman added, my father my mother and I were there (in the house). (The sub-narrator is in doubt whether `Abdur Rahman also said, 'My wife and our servant who was common for both my house and Abu Bakr's house). Abu Bakr took his supper with the Prophet and remained there till the `Isha' prayer was offered. Abu Bakr went back and stayed with the Prophet till the Prophet took his meal and then Abu Bakr returned to his house after a long portion of the night had passed. Abu Bakr's wife said, 'What detained you from your guests (or guest)?' He said, 'Have you not served them yet?' She said, 'They refused to eat until you come. The food was served for them but they refused." `Abdur Rahman added, "I went away and hid myself (being afraid of Abu Bakr) and in the meantime he (Abu Bakr) called me, 'O Ghunthar (a harsh word)!' and also called me bad names and abused me and then said (to his family), 'Eat. No welcome for you.' Then (the supper was served). Abu Bakr took an oath that he would not eat that food. The narrator added: By Allah, whenever any one of us (myself and the guests of Suffa companions) took anything from the food, it increased from underneath. We all ate to our fill and the food was more than it was before its serving. Abu Bakr looked at it (the food) and found it as it was before serving or even more than that. He addressed his wife (saying) 'O the sister of Bani Firas! What is this?' She said, 'O the pleasure of my eyes! The food is now three times more than it was before.' Abu Bakr ate from it, and said, 'That (oath) was from Satan' meaning his oath (not to eat). Then he again took a morsel (mouthful) from it and then took the rest of it to the Prophet. So that meal was with the Prophet. There was a treaty between us and some people, and when the period of that treaty had elapsed the Prophet divided us into twelve (groups) (the Prophet's companions) each being headed by a man. Allah knows how many men were under the command of each (leader). So all of them (12 groups of men) ate of that meal."

Your Comments/Thoughts ?

اوقات نماز کے بیان میں سے مزید احادیث

حدیث نمبر 569

´ہم سے ایوب بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر نے سلیمان سے، ان سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ مجھے ابن شہاب نے عروہ سے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عشاء کی نماز میں دیر فرمائی۔ یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پکارا، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 594

´ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، وہ قلابہ سے نقل کرتے ہیں کہ ابوالملیح عامر بن اسامہ ہذلی نے ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ` ہم ابر کے دن ایک مرتبہ بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ صحابی کے ساتھ تھے، انہوں نے فرمایا کہ نماز سویرے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 587

´ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ابوالتیاح یزید بن حمید سے، کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا، وہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ` انھوں نے فرمایا کہ تم لوگ تو ایک ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 568

´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ابوالمنہال سے، انہوں نے ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 540

´ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے زہری کی روایت سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` جب سورج ڈھلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ سے باہر تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر منبر پر تشریف لائے۔ اور قیامت کا ذکر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 521

´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ علیہ کو پڑھ کر سنایا ابن شہاب کی روایت سے کہ` عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے ایک دن (عصر کی) نماز میں دیر کی، پس عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے، اور انہوں نے بتایا کہ (اسی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 535

´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے مہاجر ابوالحسن کی روایت سے بیان کیا، انہوں نے زید بن وہب ہمدانی سے سنا۔ انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے` کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن (بلال) نے ظہر کی اذان ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 592

´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ` آپ نے فرمایا کہ دو رکعتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 588

´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ سے خبر دی، انہوں نے خبیب سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 522

‏‏‏‏ عروہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے جب ابھی دھوپ ان کے حجرہ میں موجود ہوتی تھی اس سے بھی پہلے کہ وہ دیوار پر چڑھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 598

´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے حدیث بیان کی، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے جو ابی کثیر کے بیٹے ہیں حدیث بیان کی ابوسلمہ سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے فرمایا کہ` عمر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک دن) کفار کو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 547

´ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عوف نے خبر دی سیار بن سلامہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ` میں اور میرے باپ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان سے میرے والد نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 533

´ہم سے ایوب بن سلیمان مدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر عبدالحمید بن ابی اویس نے سلیمان بن بلال کے واسطہ سے کہ صالح بن کیسان نے کہا کہ ہم سے اعرج عبدالرحمٰن وغیرہ نے حدیث بیان کی۔ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے مولیٰ نافع عبداللہ بن عمر رضی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 560

´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی سے، انہوں نے کہا کہ` حجاج کا زمانہ آیا (اور وہ نماز دیر کر کے پڑھایا کرتا تھا اس لیے) ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 562

´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا میں نے جابر بن زید سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات رکعات (مغرب اور عشاء کی) ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 545

´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی تو دھوپ ان کے حجرہ ہی میں تھی۔ سایہ وہاں نہیں پھیلا تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 563

´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، جو عبداللہ بن عمرو ہیں، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے حسین بن ذکوان سے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے، کہا مجھ سے عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایسا نہ ہو کہ مغرب مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 537

‏‏‏‏ دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے میرے رب! (آگ کی شدت کی وجہ سے) میرے بعض حصہ نے بعض حصہ کو کھا لیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں۔ اب انتہائی سخت گرمی اور سخت سردی جو تم لوگ محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 585

´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہ کہا ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی تم میں سے انتظار میں نہ بیٹھا رہے کہ سورج طلوع ہوتے ہی نماز کے لیے کھڑا ہو جائے، اسی طرح سورج کے ڈوبنے کے انتظار ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 551

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے ابن شہاب زہری کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے فرمایا` ہم عصر کی نماز پڑھتے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ) اس کے بعد کوئی شخص قباء جاتا اور جب وہاں ..مکمل حدیث پڑھیئے