Hadith no 1812 Of Sahih Muslim Chapter Musafron Ki Namaz Aur Qasr Ke Ehkaam (Commands Related to Short Prayers for Travellers)
Read Sahih Muslim Hadith No 1812 - Hadith No 1812 is from Commands Related To Short Prayers For Travellers , Musafron Ki Namaz Aur Qasr Ke Ehkaam Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 1812 of Imam Muslim covers the topic of Commands Related To Short Prayers For Travellers briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 1812 from Commands Related To Short Prayers For Travellers in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 1812
| Hadith No | 1812 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Commands Related To Short Prayers For Travellers |
| Roman Name | Musafron Ki Namaz Aur Qasr Ke Ehkaam |
| Arabic Name | صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا |
| Urdu Name | مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام |
Urdu Translation
سیدنا علی مرتضیٰ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں کھڑے ہوتے تو پڑھتے «وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلاَتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ. أَنْتَ رَبِّى وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِى وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِى فَاغْفِرْ لِى ذُنُوبِى جَمِيعًا إِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاهْدِنِى لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ لاَ يَهْدِى لأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّى سَيِّئَهَا لاَ يَصْرِفُ عَنِّى سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِى يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» یعنی ”میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنایا ایک طرف کا ہو کر اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں اور مسلمانوں میں سے ہوں۔ یااللہ! تو بادشاہ ہے کوئی معبود نہیں مگر تو، تو میرا پالنے والا ہے اور میں تیرا غلام ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اپنے گناہوں کا اقرار کیا، سو میرے سب گناہوں کو بخش دے اس لیے کہ گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا مگر تو اور سکھا دے مجھ کو اچھی عادتیں کہ نہیں سکھاتا ان کو مگر تو اور دور رکھ مجھ سے بری عادتیں نہیں دور رکھ سکتا ان کو مگر تو، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اور تیرا فرمانبردار ہوں اور ساری خوبی تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر سے تیری طرف نزدیکی حاصل نہیں ہو سکتی (یا شر اکیلا تیری طرف منسوب نہیں ہوتا مثلاً «خالق القردة و الخنازير» نہیں کہا جاتا، یا «يا رب الشر» نہیں کہا جاتا یا شر تیری طرف نہیں چڑھتا جیسے کلمہ طیب اور عمل صالح چڑھتے ہیں یا کوئی مخلوق تیرے واسطے شر نہیں اگرچہ ہمارے لیے شر ہو کیوں کہ ہم بشر ہیں اس لیے کہ ہر چیز کو تو نے حکمت کے ساتھ بنایا ہے) میری توفیق تیری طرف سے ہے اور میری التجا تیری طرف ہے تو بڑی برکت والا ہے اور بلند ذات والا ہے۔ میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور تیری طرف جھکتا ہوں اور جب رکوع کرتے تو پڑھتے «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِى وَبَصَرِى وَمُخِّى وَعَظْمِى وَعَصَبِى» یعنی ”یا اللہ! میں تیرے لیے جھکتا ہوں اور تجھ پر یقین رکھتا ہوں اور تیرا فرمانبردار ہوں۔ جھک گئے تیرے لیے میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میرے پٹھے۔“ اور جب سر اٹھاتے تو پڑھتے «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ» یعنی ”یااللہ! اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے ہی لیے ہے آسمانوں بھر اور زمین بھر اور ان کے درمیان بھر اور اس کے بعد جتنا تو چاہے اس بھر اور جب سجدہ کرتے تو كہتے «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِى لِلَّذِى خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» یعنی ”اے اللہ!! میں نے تیرے لیے ہی سجدہ کیا ور تجھ پر یقین لایا اور میں تیرا فرمانبردار ہوں۔ میرے منہ نے اس کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے بنایا ہے اور تصویر کھینچی ہے اور اس کے کان اور آنکھوں کو چیرا، بڑی برکت والا ہے سب بنانے والوں سے اچھا۔“ پھر آخر میں تشہد اور سلام کے بیچ میں کہتے «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّى أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ» یعنی ”یا اللہ! بخش مجھ کو جو میں نے آگے کیا اور جو میں نے پیچھے کیا اور جو چھپایا اور جو ظاہر کیا اور جو حد سے زیادہ کیا جو تو جانتا ہے مجھ سے بڑھ کر، تو سب سے پہلے تھا اور سب کے بعد رہے گا تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلَاتِي ، وَنُسُكِي ، وَمَحْيَايَ ، وَمَمَاتِي ، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلَاقِ ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا ، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ ، أَنَا بِكَ ، وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، وَإِذَا رَكَعَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي ، وَبَصَرِي ، وَمُخِّي ، وَعَظْمِي ، وَعَصَبِي ، وَإِذَا رَفَعَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الأَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " ،
- Previous Hadith
- Hadith No. 1812 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام سے مزید احادیث
حدیث نمبر 1628
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر ملا کر پڑھی اور مغرب اور عشاء ملا کر پڑھی بغیر خوف اور بغیر سفر کے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1572
اس کا ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ زہری نے کہا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں پوری نماز کیوں پڑھتی تھیں؟ (یعنی ان کے نزدیک تو دو ہی رکعت فرض تھی) تب انہوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہی تاویل کی جو تاویل کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1763
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے پھر جب تجھے معلوم ہو کہ صبح آ پہنچی تو ایک رکعت وتر پڑھ لے۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ دو دو رکعت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1823
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں اللہ کی یاد ہوتی ہے اور جس گھر میں نہیں ہوتی وہ مثل زندہ اور مردہ کے ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1650
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صبح کی نماز کی تکبیر ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز پڑھتا ہے، اور مؤذن تکبیر کہہ رہا ہے تو فرمایا: ”تم صبح کی چار رکعت پڑھتے ہو؟“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1591
زہری رحمہ اللہ سے یہی حدیث روایت ہے۔ انہوں نے «بِمِنًى» کا لفظ بولا ہے مگر «وغيره» نہیں بولا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1760
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں اپنی رات کی نماز کو کیونکر طاق کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1611
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے جدھر وہ منہ کرے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1809
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی جو روایت ابن جریج نے بیان کی۔ اس کے الفاظ مالک کی حدیث کے ساتھ متفق ہیں اور کوئی اختلاف نہیں سوائے دو حرفوں کے ابن جریج نے «قَيَّامُ» کی جگہ «قَيِّمُ» ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1776
سعد بن سعید اسی سند سے بیان کرتے ہیں وہی حدیث مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور کہتا ہے: ”کون مجھے قرض دے جو کبھی مفلس نہ ہو گا اور نہ کبھی کس پر ظلم کرے گا۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1666
قتادہ سے ایسی ہی روایت منقول ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1683
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے اذان اور صبح کی تکبیر کے درمیان۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1698
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے پڑھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں اور ظہر کے بعد دو رکعتیں اور مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد دو رکعتیں اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں مگر مغرب اور عشاء اور جمعہ کی دو رکعتیں نبی مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1815
ابووائل نے کہا کہ عبداللہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت یہاں تک لمبی کی کہ میں نے ایک بری بات کا ارادہ کیا کسی نے پوچھا کہ تم نے کیا ارادہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ میں نے چاہا بیٹھ رہوں اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1807
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی رات کی نماز پڑھنے کھڑا ہو تو اپنی نماز دو ہلکی رکعتوں سے شروع کرے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1729
ابو اسحٰق، اسود سے راوی ہیں۔ وہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز پڑھتے یہاں تک کہ آخر میں وتر ہوتا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1816
اس سند سے بھی گزشتہ روایت آئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1764
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر صبح سے پہلے پڑھو۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1792
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر رہا اور میں نے ان سے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھیں تو مجھے جگا دینا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور میں آپ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1570
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: فرض ہوئی نماز دو دو رکعت حضر میں بھی اور سفر میں بھی، پھر سفر کی نماز ویسی ہی رہی اور حضر کی بڑھا دی گئی۔مکمل حدیث پڑھیئے