Hadith no 1933 Of Sahih Muslim Chapter Quran Ke Fazail Aur Mutalqa Amoor (Virtues of Quran and related matters)

Read Sahih Muslim Hadith No 1933 - Hadith No 1933 is from Virtues Of Quran And Related Matters , Quran Ke Fazail Aur Mutalqa Amoor Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 1933 of Imam Muslim covers the topic of Virtues Of Quran And Related Matters briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 1933 from Virtues Of Quran And Related Matters in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 1933

Hadith No 1933
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Virtues Of Quran And Related Matters
Roman Name Quran Ke Fazail Aur Mutalqa Amoor
Arabic Name کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ.
Urdu Name قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور

Urdu Translation

‏‏‏‏ کریب جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کرہ غلام ہیں وہ راوی ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور عبدالرحمٰن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم ان سب نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہماری طرف سے ان کی خدمت میں سلام عرض کرو اور ان دو رکعتوں کا حال پوچھو جو بعد عصر کے پڑھی جاتی ہیں اور یہ عرض کرو کہ ہم کو خبر پہنچی ہے کہ آپ پڑھتی ہیں اور یہ بھی خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوگوں کو اس کے پڑھنے سے باز رکھتا تھا (اس سے معلوم ہوا کہ حاکم کو ضروری ہے کہ رعیت کو خلاف شرع باتوں اور بدعتوں سے روکے اور باز رکھے) کریب نے کہا کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور وہ بات پوچھی۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو (اس سے معلوم ہوا کہ مفتی کو اگر معلوم ہو کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو سائل کو اس کے پاس بھیج دے اور اس ہے حسد نہ کرے) پھر میں ان لوگوں کے پاس آیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب کی ان کو خبر دی۔ (اس سے پیغام لے جانے والے کا ادب معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنی رائے سے تصرف نہیں کیا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں بلکہ جنہوں نے بھیجا تھا ان کو اطلاع دے دی) پھر ان لوگوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس روانہ کیا وہی پیغام دے کر جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گیا تھا۔ تب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سنا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھ چکے تھے اور میرے گھر میں آئے اور میرے پاس قبیلہ بنی حرام انصار کی چند عورتیں بیٹھی تھیں تو میں نے ایک لڑکی کو بھیجا اور اس سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کھڑی رہنا اور ان سے عرض کرنا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا گزارش کرتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! میں سنتی تھی کہ آپ ان رکعتوں سے منع فرماتے تھے اور پھر آپ کو پڑھتے دیکھتی ہوں (اس سے معلوم ہوا کہ جب اپنے پیشوا سے کوئی خلاف دیکھے تو سوال کرے ادب سے۔ اگر وہ بھول گیا ہو گا تو اس سے باز آئے گا ورنہ اس کی حکمت بیان کرے گا) پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرف اشارہ کریں ہاتھ سے تو پیچھے کھڑی رہنا (معلوم ہوا کہ اشارہ کرنے سے نماز نہیں جاتی) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر اس لڑکی نے ایسا ہی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ پیچھے ہٹ گئی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بیٹی ابو امیہ کی! تم نے ان رکعتوں کا حکم پوچھا جو عصر کے بعد میں نے پڑھیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ میرے پاس قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ اسلام لائے تھے اور اپنی قوم کا پیغام تو میں ان میں مشغول رہا اور ظہر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکا وہ یہی تھیں۔“

Hadith in Arabic

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ ، والْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا ، وَسَلْهَا ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا ، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكُنْتُ أَصْرِفُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَنْهَا ، قَالَ كُرَيْبٌ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ ، فَقَالَتْ : سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا ، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا ، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ ، فَقُلْتُ : قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ : تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَنْهَى ، عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا ، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ ، قَالَ : فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ ، فَشَغَلُونِي ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ " .

Your Comments/Thoughts ?

قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور سے مزید احادیث

حدیث نمبر 1948

‏‏‏‏ سیدنا صالح بن خوات رضی اللہ عنہ نے ایسے کسی شخص سے روایت کی جس نے نماز خوف پڑھی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع کے دن (ایک غزوہ کا نام ہے اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے پیروں کو چتھڑے باندھے تھے) ایک گروہ نے صف باندھی اور نبی مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1939

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مدینہ میں ہم لوگوں کی عادت تھی کہ جب مؤذن مغرب کی اذان دیتا تھا سب لوگ ستونوں کی آڑ میں دوڑ کر دو رکعت پڑھتے تھے یہاں تک کی نیا آدمی اگر مسجد میں آتا تھا جانتا تھا کہ نماز ہو چکی (غرض اس کثرت سے لوگ ان رکعتوں کو پڑھتے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1926

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نکل آئے کنارہ سورج کا تو نماز میں تاخیر کرو یہاں تک کی خوب صاف ہو جائے اور جب غائب ہو جائے کنارہ آفتاب کا نماز میں دیر کرو یہاں تک کہ پورا آفتاب غائب ہو جائے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1924

‏‏‏‏ نافع نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا نہ کرے کہ اور وقت چھوڑ کر طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھے اور نہ غروب کے وقت۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1841

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت برا ہے ان میں سے وہ جو یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بھلا دیا گیا اور قرآن کا خیال اور یاداشت رکھو کہ وہ لوگوں کے سینوں سے ان چارپایوں سے زیادہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1904

‏‏‏‏ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں مسجد میں تھا اور ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا اور ایک قرأت ایسی پڑھی کہ میں اسے نہ جانتا تھا۔ پھر دوسرا آیا اور اس نے اور ایک قرأت پڑھی اس کے سوا۔ پھر جب ہم لوگ نماز پڑھ چکے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1928

‏‏‏‏ سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور بیان کی روایت مثل روایت بالا کے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1885

‏‏‏‏ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوالمنذر! اللہ کی کتاب میں سے تمہارے پاس کون سی آیت سب سے بڑی ہے؟۔“ انہوں نے عرض کیا: میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1898

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مزکورہ بالا حدیث اسی طرح مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1864

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (یہ سب قاریوں کے سردار ہیں) سے فرمایا: کہ ”اللہ عزت والے، بزرگی والے نے مجھے حکم کیا کہ میں تمہارے آگے قرآن پڑھوں۔“ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1884

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث آئی ہے۔ شعبہ نے کہا کہ سورۂ کہف کی آخری آیات اور ہمام نے شروع کی آیات کہی ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1891

‏‏‏‏ عامر کے بیٹے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نہیں دیکھتے کہ آج کی رات ایسی آیتییں اتری ہیں کہ ان کے مثل کبھی نہیں دیکھیں اور وہ «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» اور «قُلْ أَعُوذُ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1886

‏‏‏‏ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تھک جاتا ہے کوئی تم میں کا اس سے کہ ہر رات تہائی قرآن پڑھے لے؟۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ تہائی قرآن کیوں کر پڑھے؟ آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1903

‏‏‏‏ مسلم رحمہ اللہ نے کہا: اور یہی روایت بیان کی ہم سے عبد بن حمید نے، ان سے عبدالرزاق نے، ان سے زہری نے اسی اسناد سے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1892

‏‏‏‏ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھ پر ایسی آیات اتاری گئی ہیں ان جیسی کبھی نہیں دیکھی گئیں وہ معوذتین ہیں۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1847

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ اس طرح کسی چیز کو نہیں سنتا جس طرح کہ اس نبی سے خوش آواز سنتا ہے جو قرآن پڑھے اونچی آواز میں۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1874

‏‏‏‏ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”قرآن پڑھو اس لئے کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی ہو کر آئے گا۔ اور دو سورتیں چمکتی پڑھو سورۂ البقرہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1857

‏‏‏‏ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سورۂ کہف پڑھی اور گھر میں ایک جانور بندھا تھا سو وہ بھاگنے لگا۔ جب اس نے نظر کی دیکھا ایک بدلی ہے کہ اس نے اس کو ڈھانک لیا ہے پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1902

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبیداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل علیہ السلام نے ایک حرف پر قرآن پڑھایا اور میں ان سے زیادہ کی درخواست کرتا رہا اور وہ زیادہ کرتا رہا یہاں تک کہ سات حرف ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1911

‏‏‏‏ ابووائل نے کہا کہ ایک دن صبح کی نماز کے بعد ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور دروازہ پر ہم نے سلام کیا۔ انہوں نے اجازت دی مگر ہم دروازہ پر ذرا ٹھہر گئے تب ایک لونڈی نکلی اور اس نے کہا: تم آتے نہیں؟ غرض ہم اندر گئے اور ان کو دیکھا کہ بیٹھے ہوئے تسبیح کر رہے ہیں۔ انہوں ..مکمل حدیث پڑھیئے