Hadith no 2102 Of Sahih Muslim Chapter Sooraj Aur Chand Girhan Ke Ehkaam (Commands About Solar and Lunar Eclipse)
Read Sahih Muslim Hadith No 2102 - Hadith No 2102 is from Commands About Solar And Lunar Eclipse , Sooraj Aur Chand Girhan Ke Ehkaam Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 2102 of Imam Muslim covers the topic of Commands About Solar And Lunar Eclipse briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 2102 from Commands About Solar And Lunar Eclipse in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 2102
| Hadith No | 2102 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Commands About Solar And Lunar Eclipse |
| Roman Name | Sooraj Aur Chand Girhan Ke Ehkaam |
| Arabic Name | الْكُسُوفِ |
| Urdu Name | سورج اور چاند گرہن کے احکام |
Urdu Translation
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: سورج گہن ہوا ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم انتقال کر گئے تھے، سو لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کی موت سے سورج گہن ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور چار سجدوں کے ساتھ چھ رکوع کیے۔ اس طرح کہ پہلے اللہ اکبر کہا اور قرأت کی اور لمبی قرأت کی، پھر رکوع کیا قریب قیام کے (یعنی طول میں) پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قرأت کی دوسری قرأت سے کم، پھر رکوع کیا قیام کے برابر، پھر سر اٹھایا اور قیام کیا پھر رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کو جھکے اور دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور پھر رکوع کئیے تین رکوع کہ ان میں سے ہر پچھلا رکوع اپنے پہلے رکوع سے کم تھا اور ہر رکوع سجدہ کے برابر تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹے اور سب صفیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے ہٹیں یہاں تک کہ ہم عورتوں کے قریب پہنچ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آگے بڑھے (سبحان اللہ! کیا اطاعت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے، اور نماز سے فارغ ہوئے اس وقت کہ آفتاب کھل چکا تھا۔ پھر فرمایا: ”اے لوگو! سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اور بے شک ان دونوں میں کسی آدمی کے مرنے سے گہن نہیں لگتا ہے۔ پھر جب دیکھو اس میں سے کچھ تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ صاف ہو جائے اور کوئی چیز نہیں رہی جس کا تم کو وعدہ دیا گیا ہے کہ میں نے اس کو نہ دیکھا ہو اس اپنی نماز میں، چنانچہ دوزخ آئی اور جب آئی کہ جب تم نے مجھے دیکھا کہ پیچھے ہٹا، اور ڈر سے کہ شاید اس کی لو مجھے لگ جائے (سبحان اللہ! اتنے بڑے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ ان پر رحمت کرے اور سلام بھیجے۔ دوزخ سے اتنا خوف ہے، پھر ہم کو کتنا لازم ہے) اور وہ یہاں تک قریب ہوئی کہ میں نے اس میں ٹیڑھے منہ کی لکڑی والے کو دیکھا کہ اپنی آنتیں گھسیٹتا تھا آگ میں اور دنیا میں حاجیوں کی اس طرح چوری کرتا تھا کہ اس نے اپنی لکڑی میں کسی چیز کو اٹکایا (یعنی چادر کپڑا وغیرہ) اگر اس کا مالک آگاہ ہوا تو کہہ دیا یہ چیز میری کھونڈی میں اٹک گئی اور اگر اس کا مالک غافل ہو گیا تو وہ لے کر چل دیا اور یہاں تک کہ میں نے اس بلی والی کو دیکھا کہ اس نے بلی کو باندھ رکھا اور نہ کھانا دیا، نہ چھوڑا کہ وہ خود زمیں کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی یہاں تک کہ بھوک سے مر گئی۔ پھر جنت کو میرے آگے لائے۔ اور وہ اس وقت آئی جب تم نے مجھ کو دیکھا کہ میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں اپنی جگہ جا کر کھڑا ہوا۔ اور میں نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور چاہتا تھا کہ اس کے کچھ پھل توڑ لوں کہ تم دیکھو۔ پھر میں نے خیال کیا کہ نہ کروں۔ غرض جن چیزوں کا تم کو وعدہ دیا گیا ہے ان میں سے کوئی چیز ایسی نہیں رہی جو میں اپنی اس نماز میں نہ دیکھی ہو۔“
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ ، بَدَأَ فَكَبَّرَ ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ أَيْضًا ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ، لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا ، وَرُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ ، ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ خَلْفَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَتَّى انْتَهَى إِلَى النِّسَاءِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ وَتَقَدَّمَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ ، فَانْصَرَفَ حِينَ انْصَرَفَ ، وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ " ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : " لِمَوْتِ بَشَرٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ، فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ ، مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ ، لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ ، كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ ، فَإِنْ فُطِنَ لَهُ ، قَالَ : إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي ، وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ، ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي ، وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ ، فَمَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ " .
- Previous Hadith
- Hadith No. 2102 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
سورج اور چاند گرہن کے احکام سے مزید احادیث
حدیث نمبر 2121
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کے مرنے، جینے سے نہیں گہناتے بلکہ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم ان کو دیکھو تو نماز ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2114
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند دونوں نشانیاں ہیں اللہ کی نشانیوں میں سے کہ اللہ ان سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور وہ کسی کے مرنے کے سبب سے نہیں گہناتیں۔ پھر جب تم گہن دیکھو تو نماز پڑھو ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2103
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گہن ہوا اور میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی۔ وہ نماز پڑھتی تھیں سو میں نے کہا کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ تو انہوں نے اپنے سر سے آسمان کو اشارہ کیا۔ میں نے کہا: ایک ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2092
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سورج گہن ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ایک پکارنے والے کو بھیجا کہ یوں پکار دے کہ ”سب لوگ مل کر نماز ادا کرو۔“ غرض لوگ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2093
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن کی نماز میں قرأت پکار کر پڑھی اور چار رکوع کئیے اور چار سجدے دو رکعتوں میں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2097
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکوع کئیے (یعنی دو رکعت میں) اور چار سجدے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2112
ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نماز پڑھائی کسوف کی، قرأت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا پھر سجدہ کیا کہا کہ دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھائی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2108
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے وہی مضمون روایت کیا جو اوپر گزرا۔ اور اس کے بعد کہا کہ میں نے اپنی حاجت پوری کی اور پھر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز کو کھڑے ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوئی اور بہت لمبا قیام کیا یہاں تک کہ میں اپنے تئیں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2118
عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا کہ میں تیر پھینک رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کہ سورج گہن ہوا اور میں نے تیروں کو پھینک دیا اور دل میں کہا کہ دیکھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا نیا کام ہوتا ہے سورج گہن میں آج کے دن۔ میں ان تک ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2095
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سورج گہن کے دن جیسے عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2094
زہری نے کہا کہ خبر دی مجھے کثیر بن عباس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع کیے دو رکعتوں میں اور چار سجدے کیے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2120
عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں: میں تیر اندازی کر رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کہ اچانک سورج گرہن ہو گیا پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2096
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ روایت کی مجھ سے اس شخص نے جس کو میں سچا جانتا ہوں۔ مراد اس شخص سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، کہ ایک بار سورج گہن ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بڑی دیر کھڑے رہے، اس طرح کہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2116
سفیان اور وکیع سے روایت ہے کہ سورج گرہن ہوا جب ابراہیم فوت ہوئے پس لوگوں نے کہا کہ یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے گرہن ہوا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2106
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھبرائے مراد یہ تھی کہ جس دن سورج گہن ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبراہٹ سے کسی عورت کی بڑی چادر اوڑھ لی اور چلے یہاں تک کہ آپ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2099
روایت کی یحییٰ بن سعید نے اسی اسناد سے مثل سلیمان بن بلال کی روایت کے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2090
ہشام بن عروہ نے اسی سند سے بیان کیا اور یہ زیادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد کے بعد فرمایا: ”بیشک سورج اور چاند اللہ تعالٰی کی نشانیوں میں سے ہیں اور یہ بھی زیادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2091
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں سورج گہن ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے مسجد اور نماز کو کھڑے ہوئے اور اللہ اکبر کہا اور لوگوں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2109
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گہن ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی اور بہت لمبا قیام کیا سورہ بقرہ کے برابر، پھر رکوع کیا بہت لمبا، پھر سر اٹھایا اور بہت لمبا قیام کیا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2101
مسلم رحمہ اللہ نے کہا کہ بیان کی یہی روایت مجھ سے ابوغسان مسمعی نے، ان سے عبدالمالک نے، روایت کی ہشام نے، اسی اسناد سے مثل اس کے مگر اس میں یہ ہے ”دیکھا میں نے ایک عورت بڑی آواز والی لمبی کالی کو اور یہ نہیں فرمایا: ”وہ بنی اسرائیل کی تھی۔“مکمل حدیث پڑھیئے