Hadith no 2149 Of Sahih Muslim Chapter Janaze Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Funeral)
Read Sahih Muslim Hadith No 2149 - Hadith No 2149 is from Problems And Commands About Funeral , Janaze Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 2149 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Funeral briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 2149 from Problems And Commands About Funeral in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 2149
| Hadith No | 2149 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Problems And Commands About Funeral |
| Roman Name | Janaze Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الْجَنَائِزِ |
| Urdu Name | جنازے کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہا کہ میں بیٹھا تھا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بازو پر اور ہم سب ام ابان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے جنازے کے منتظر تھے اور ان کے (یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے) پاس عمرو بن عثمان تھے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی آئے کہ ان کو ایک شخص لاتا تھا جو ان کو لے آیا کرتا تھا (یعنی وہ نابینا تھے) پھر گمان کرتا ہوں میں کہ خبر دی ان کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جگہ سے پھر وہ آئے اور میرے بازو پر بیٹھ گئے اور میں ان دونوں (یعنی سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں تھا کہ اتنے میں گھر میں ایک رونے کی آواز آئی اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا گویا اشارہ کیا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی طرف کہ وہ کھڑے ہو کر ان رونے والوں کو منع کر دیں (یعنی ان کو سنانے کے لئے کہا کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ فرماتے تھے: ”میت پر عذاب ہوتا اس پر لوگوں کے رونے سے۔“ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو عام فرمایا (یعنی اس کی قید نہ لگائی کہ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے لیے فرمائی تھی) اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے یہاں تک کہ جب بیداء میں پہنچے (بیداء ایک مقام کا نام ہے) یکایک ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ ایک درخت کے سایہ میں اترا ہوا ہے تو مجھ سے امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جاؤ اور معلوم کرو کہ یہ شخص کون ہے؟ پھر میں گیا اور میں نے دیکھا کہ وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر میں لوٹا اور میں نے کہا، مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا کہ دیکھو یہ کون ہے تو میں دیکھا کہ وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ جاؤ اور ان کو حکم دو کہ ہم سے ملیں۔ میں نے کہا: ان کے ساتھ ان کی بیوی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا مضائقہ ہے اگرچہ ہو ان کے ساتھ ان کی بیوی، پھر جب مدینہ میں آئے تو کچھ دیر ہی نہ لگی کہ امیرالمؤمنین زخمی ہو گئے اور صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ ہائے میرے بھائی اور ہائے میرے صاحب! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نہیں جانتے ہو یا تم نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ ”کہ مردہ اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب پاتا ہے۔“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا کہ بعض لوگوں کے رونے سے عذاب پاتا ہے۔ پھر میں کھڑا ہوا (یہ قول عبداللہ بن ابی ملیکہ کا ہے) اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے یہ سب بیان کیا جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تب انہوں (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: نہیں، یہ بات نہیں ہے اللہ کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کبھی کہ مردہ کو اس کے لوگوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: ”کافر پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب اور زیادہ ہو جاتا ہے اور رلاتا بھی وہی ہے، اور ہنساتا بھی وہی ہے، (یعنی اللہ) اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔“ ایوب نے کہا کہ ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ مجھ سے بیان کیا قاسم بن محمد نے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر پہنچی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کی تو انہوں نے فرمایا: تم ایسے لوگوں کی بات کرتے ہو جو جھوٹ نہیں بولتے اور نہ وہ جھٹلائے جا سکتے ہیں مگر سننے میں کبھی غلطی ہو جاتی ہے (یعنی مراد یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات یہود یا کسی اور کافر کے لئے فرمائی تھی۔ سننے والوں نے اس کو ہر شخص کے لئے عام سمجھ لیا)۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ ، وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُودُهُ قَائِدٌ ، فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَكُنْتُ بَيْنَهُمَا ، فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : كَأَنَّهُ يَعْرِضُ عَلَى عَمْرٍ وَأَنْ يَقُومَ فَيَنْهَاهُمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ " ، قَالَ : فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ ، فَقَالَ لِي : اذْهَبْ فَاعْلَمْ لِي مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَاكَ وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ ، قَالَ : مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا ، فَقُلْتُ : إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ ، قَالَ : وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ ، وَرُبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ : مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ ، يَقُولُ : وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَمْ تَعْلَمْ ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ ، قَالَ أَيُّوبُ أَوَ قَالَ : أَوَ لَمْ تَعْلَمْ ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ " ، قَالَ : فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً ، وَأَمَّا عُمَرُ ، فَقَالَ : بِبَعْضِ ، فَقُمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَحَدَّثْتُهَا بِمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ ، فَقَالَتْ : " لَا وَاللَّهِ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ " ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَزِيدُهُ اللَّهُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا ، وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى ، وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى " ، قَالَ أَيُّوبُ : قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ قَوْلُ عُمَرَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، قَالَتْ : " إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِّي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ " .
- Previous Hadith
- Hadith No. 2149 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
جنازے کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 2216
سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں کی نماز میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور ایک جنازہ پر پانچ تکبیریں کہیں اور ہم نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کہتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2202
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ گزرا کہ ”یہ خود آرام پانے والا ہے اور اس کے جانے سے اور لوگوں نے آرام پایا۔“ لوگوں نے عرض ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2236
روایت کی حسین سے اسی اسناد سے اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی ماں کا ذکر نہیں کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2171
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ایسا ہی روایت کیا مگر اتنا ہے کہ اس میں یوں کہا: ”غسل دو ان کو تین بار یا پانچ بار یا سات بار یا اس سے زیادہ اگر تم ضرورت سمجھو۔“ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2231
مسلم رحمہ اللہ نے کہا: اور روایت کی مجھ سے یہی حدیث محمد بن بکر نے اور عبید اللہ بن سعید نے، دونوں نے کہا: روایت کی ہم سے یحییٰ نے اور وہ قطان ہیں انہوں نے شعبہ سے اسی اسناد سے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2215
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کرتی تھی یا ایک جوان تھا اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ پایا تو پوچھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ وہ مر گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھ کو خبر نہ کی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2172
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو طاق مرتبہ غسل دینا تین یا پانچ یا سات مرتبہ۔“ اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”ہم نے تین مینڈھیاں کیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2133
مسلم رحمہ اللہ نے کہا اور یہی حدیث روایت کی مجھ سے شیبہ بن سعید نے ان سے عبدالعزیز نے یعنی دراوردی نے ان سے علاء نے اسی سند سے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2158
روایت کی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل اوپر کی روایت کے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2203
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور یحییٰ کی حدیث میں یہ لفظ ہیں «يَسْتَرِيحُ مِنْ أَذَى الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ» یعنی ”مؤمن دنیا کی تکلیفوں سے اور اس کی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2214
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر نماز پڑھی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2199
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک فرزند مر گیا قدید یا عسفان میں (قدید اور عسفان مقام کے نام ہیں) تو انہوں نے کریب سے کہا کہ دیکھو کتنے لوگ جمع ہوئے ہیں، (یعنی نماز جنازہ کے لئے) کریب نے کہا: میں گیا اور دیکھا لوگ جمع ہیں اور ان کو خبر کی۔ سیدنا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2167
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمیں جنازہ کے پیچھے جانے سے روکا گیا مگر زیادہ سختی نہ کی گئی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2193
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جنازہ پڑھا اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور جو قبر میں ڈالنے تک ساتھ رہا اس کے لیے دو قیراط۔“ ان کے شاگرد ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2173
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا وفات فرما گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”ان کو طاق بار نہلاؤ تین یا پانچ بار اور پانچویں بار کے پانی میں کافورمکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2149
عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہا کہ میں بیٹھا تھا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بازو پر اور ہم سب ام ابان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے جنازے کے منتظر تھے اور ان کے (یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے) پاس عمرو بن عثمان تھے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2136
روایت ہے عاصم احول سے اسی اسناد سے مگر حدیث حماد کی پوری اور لمبی ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2184
اس سند سے بھی مذکورہ روایت آئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2159
روایت کی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل اس روایت کے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2130
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کو آئے اور ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، پھر ان کو بند کر دیا اور فرمایا: ”جب جان نکلتی ہے تو آنکھیں اس کے پیچھے لگی رہتی ہیں۔“ اور لوگوں نے ..مکمل حدیث پڑھیئے