Hadith no 2150 Of Sahih Muslim Chapter Janaze Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Funeral)

Read Sahih Muslim Hadith No 2150 - Hadith No 2150 is from Problems And Commands About Funeral , Janaze Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 2150 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Funeral briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 2150 from Problems And Commands About Funeral in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 2150

Hadith No 2150
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Funeral
Roman Name Janaze Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْجَنَائِزِ
Urdu Name جنازے کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے انتقال کیا مکہ میں اور ہم آئے کہ ان کے جنازہ میں شریک ہوں اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی آئے اور میں ان دونوں کے بیچ میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ یوں ہوا کہ پہلے میں ایک صاحب کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرے صاحب جو آئے تو میرے بازو پر بیٹھے (اس لیے میں ان دونوں کے بیچ میں ہو گیا) پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرو بن عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا اور وہ ان کے آگے بیٹھے تھے، کہ تم اس رونے سے منع نہیں کرتے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت پر عذاب ہوتا ہے، اس کے گھر والوں کے رونے سے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو یوں کہا کرتے تھے کہ بعض گھر والوں کے رونے سے (یعنی تم نے بعض کا لفظ چھوڑ دیا) پھر حدیث بیان کی اور کہا میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ واپس آتا تھا یہاں تک کہ جب ہم بیداء میں پہنچے تو وہاں چند سوار ایک درخت کے سایہ کے نیچے دیکھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ دیکھو یہ سوار کون ہیں؟ میں نے دیکھا تو وہ صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی تو انہوں نے کہا ان کو بلاؤ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ان کے پاس گیا اور صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا چلو اور امیر المؤمنین سے ملو۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخم لگا تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور رونے لگے اور کہنے لگے: ہائے میرے بھائی اور ہائے میرے صاحب! تو کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو۔ اے صہیب! کیا تم میرے اوپر روتے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت پر بعض لوگوں کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے۔“ تب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انتقال کیا میں نے اس کا ذکر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا: اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا تھا، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کافر کا عذاب اس کے لوگوں کے رونے سے زیادہ کر دیتا ہے۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم کو قرآن کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں فرماتا ہے وَ «لاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» ”کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں۔“ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسی بات فرمائی کہ اللہ ہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ قسم ہے اللہ کی پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر کچھ نہیں کہا۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ ، قَالَ : فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا ، قَالَ : فَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا ، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ : أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ كَانَ عُمَرُيَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ، ثُمَّ حَدَّثَ ، فَقَالَ : صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ ، إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ ؟ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : ادْعُهُ لِي ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ ، فَقُلْتُ : ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ ، دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي ، يَقُولُ : وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ ؟ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ ، لَا وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَحَدٍ ، وَلَكِنْ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " ، قَالَ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ : حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِكَ : وَاللَّهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : فَوَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَيْءٍ .

Your Comments/Thoughts ?

جنازے کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 2214

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر نماز پڑھی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2215

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کرتی تھی یا ایک جوان تھا اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ پایا تو پوچھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ وہ مر گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھ کو خبر نہ کی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2141

‏‏‏‏ روایت کی شعبہ نے اسی اسناد سے مانند عثمان بن عمر کی روایت کے اور وہی قصہ بیان کیا اور عبدالصمد کی روایت میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے کہ وہ قبر کے پاس بیٹھی تھی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2231

‏‏‏‏ مسلم رحمہ اللہ نے کہا: اور روایت کی مجھ سے یہی حدیث محمد بن بکر نے اور عبید اللہ بن سعید نے، دونوں نے کہا: روایت کی ہم سے یحییٰ نے اور وہ قطان ہیں انہوں نے شعبہ سے اسی اسناد سے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2156

‏‏‏‏ عمرہ نے خبر دی کہ انہوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آگے ذکر ہوا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مردہ پر عذاب ہوتا ہے زندہ کے رونے سے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اللہ ابوعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو بخشے انہوں نے جھوٹ نہیں کہا مگر بھول چوک ہو گئی۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2179

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا جو سحول کے بنے ہوئے تھے (سحول یمن میں ایک جگہ کا نام ہے) جو روئی کے تھے کہ ان میں کرتا تھا نہ عمامہ اور حلہ کا لوگوں کو شبہ ہو گیا۔ حقیقت یہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2185

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ پڑھا اور اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص کا ذکر کیا کہ ان کا انتقال ہو گیا تھا اور ان کو ایسا کفن دیا تھا، جس سے ستر نہیں ڈھنپتا تھا اور شب کو دفن کر دیا تھا، پس جھڑکا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2216

‏‏‏‏ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں کی نماز میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور ایک جنازہ پر پانچ تکبیریں کہیں اور ہم نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کہتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2164

‏‏‏‏ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور اس میں یہ بات بھی تھی کہ نوحہ نہیں کرنا پس اس بات پر ہم میں سے صرف پانچ نے وفا کی ان میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2160

‏‏‏‏ ابومالک اشعری نے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں جاہلیت (یعنی زمانہ کفر) کی چار چیزیں ہیں کہ لوگ ان کی نہ چھوڑیں گے، ایک اپنے حسب پر فخر کرنا، دوسرے کے نسب پر طعن کرنا، تیسرے تاروں سے پانی کی امید رکھنا، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2158

‏‏‏‏ روایت کی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل اوپر کی روایت کے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2180

‏‏‏‏ ترجمہ اس کا وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمن کے حلہ میں لپیٹنا تھا جو سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا تھا۔ پھر اتار ڈالا اور آخر میں یہ ہے کہ اس حلہ کو خیرات کر دیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2184

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ روایت آئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2166

‏‏‏‏ محمد بن سیرین نے کہا کہ سیدنا ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم کو جنازہ کے ساتھ چلنے سے روکا جاتا تھا مگر تاکید سے نہیں روکا جاتا تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2209

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا، سو کھڑے ہو اور اس پر نماز پڑھو۔“ پھر ہم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صفیں باندھ دیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2195

‏‏‏‏ سیدنا عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ خباب رضی اللہ عنہ مقصورہ والے آئے اور کہا: اے عبداللہ سنتے ہو کہ ابوہریرہ کیا کہتے ہیں، کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2244

‏‏‏‏ روایت کی حبیب نے اسی اسناد سے یہی حدیث اور اس میں یہ لفظ ہیں «وَلاَ صُورَةً إِلاَّ طَمَسْتَهَا» یعنی نہ چھوڑ کوئی تصویر مگر یہ کہ مٹا دے اس کو۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2188

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جلدی لے جاؤ جنازے کو اگر وہ نیک ہو گا تو اس کو خیر کے قریب کرو گے اور اگر وہ اس کے علاوہ ہو گا تو شر کو تم اپنی گردنوں سے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2198

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مردہ ایسا نہیں کہ اس پر ایک گروہ مسلمانوں کا نماز پڑھے جس کی گنتی سو تک پہنچتی ہو اور پھر سب اس کی شفاعت کریں (یعنی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2204

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کی خبر دی جس دن انہوں نے انتقال کیا اور عیدگاہ میں گئے اور چار تکبیریں کہیں (یعنی نماز جنازہ پڑھی)۔مکمل حدیث پڑھیئے