Hadith no 2290 Of Sahih Muslim Chapter Zakat Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Zakat)

Read Sahih Muslim Hadith No 2290 - Hadith No 2290 is from Problems And Commands About Zakat , Zakat Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 2290 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Zakat briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 2290 from Problems And Commands About Zakat in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 2290

Hadith No 2290
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Zakat
Roman Name Zakat Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الزَّكَاةِ
Urdu Name زکاۃ کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی چاندی سونے کا مالک ایسا نہیں کہ اس کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو مگر وہ قیامت کے دن ایسا ہو گا کہ اس کی چاندی، سونے کے تختے بنائے جائیں گے اور وہ جہنم کی آگ میں گرم کیے جائیں گے پھر اس کا ماتھا اور کروٹیں اس سے داغی جائیں گی اور اس کی پیٹھ اور جب وہ ٹھنڈے ہو جائیں گے پھر گرم کیے جائیں گے پچاس ہزار برس کے دن پھر اس کو یہی عذاب ہو گا یہاں تک کہ فیصلہ ہو اور بندوں کا اور اس کی کچھ راہ نکلے جنت یا دوزخ کی طرف۔“ ان سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! پھر اونٹوں کا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اونٹ والا اپنے اونٹوں کا حق نہیں دیتا اور اس کے حق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دودھ دوہے جس دن ان کو پانی پلائے (عرب کا معمول تھا کہ تیسرے یا چوتھے دن اونٹوں کو پانی پلانے لے جاتے وہاں مسکین جمع رہتے اونٹوں کے مالک ان کو دودھ دوھ کر پلاتے حالانکہ یہ واجب نہیں ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کا ایک حق اس کو بھی قرار دیا) جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ اوندھا لٹایا جائے گا ایک برابر زمین پر اوروہ اونٹ نہایت فربہ ہو کر آئیں گے کہ ان میں سے کوئی بچہ بھی باقی نہ رہے گا اور اس کو اپنے کھروں سے روندیں گے اور منہ سے کاٹین گے پھر جب ان میں سے پہلا جانور روندتا چلا جائے گا پچھلا آ جائے گا۔ یوں یہ عذاب ہوتا رہے گا سارا دن کہ پچاس ہزار برس کا ہو گا یہاں تک کہ فیصلہ ہو جائے بندوں کا پھر اس کی کچھ راہ نکلے جنت یا دوزخ کی طرف۔“ پھر عرض کی اے اللہ کے رسول! اور گائے بکری کا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی گائے بکری والا ایسا نہیں جو اس کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو مگر جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ اوندھا لٹایا جائے گا ایک پٹ پر صاف زمین پر اور ان گائے بکریوں میں سب آئیں گی کوئی باقی نہ رہے گی اور ایسی ہوں گی کہ ان میں سینگ مڑی ہوئی نہ ہوں گی، نہ بے سینگ کی، نہ سینگ ٹوٹی اور آ کر اس کو ماریں گی اپنے سینگوں سے اور روندیں گی اپنے کھروں سے جب اگلی اس پر سے گزر جائے گی پچھلی پھر آئے گی یہی عذاب ہو گا اس پر پچاس ہزار برس کے دن پھر یہاں تک کہ فیصلہ ہو جائے بندوں کا پھر اس کی راہ کی جائے جنت یا دوزخ کی طرف۔“ پھر عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! اور گھوڑے؟ آپ نے فرمایا: ”گھوڑے تین طرح پر ہیں ایک اپنے مالک پر بار ہے یعنی بال ہے۔ دوسرا اپنے مالک کا عیب ڈھاپنے والا ہے۔ تیسرا اپنے مالک کے ثواب کا سامان ہے، اب اس وبال والے گھوڑے کا حال سنو جو باندھا ہے اس لیے کہ لوگوں کو دکھلائے اور لوگوں میں بڑ مارے اور مسلمانوں سے عداوت کرے سو یہ اپنے مالک کے حق میں وبال ہے اور وہ جو عیب ڈھانپنے والا ہے وہ گھوڑا ہے کہ اس کو اللہ کی راہ میں باندھا ہے (یعنی جہاد کے لئے) اور اس کی سواری میں اللہ کا حق نہیں بھولتا اور نہ اس کے گھاس چارہ میں کمی کرتا ہے تو وہ اس کا عیب ڈھانپنے والا ہے اور جو ثواب کا سامان ہے اس کا کیا کہنا وہ گھوڑا ہے کہ باندھا اللہ کی راہ میں اہل اسلام کی مدد اور حمایت کے لئے کسی چراگاہ یا باغ میں پھر اس نے جو کھایا اس پر چراگاہ یا باغ سے اس کی گنتی کے موافق نیکیاں اس کے مالک کے لئے لکھی گئیں اور اس کی لید اور پیشاب تک نیکیوں میں لکھا گیا اور جب وہ اپنی لمبی رسی توڑ کر ایک دو ٹیلے پر چڑھ جاتا ہے تو اس کے قدموں اور اس کی لید کی گنتی کے موافق نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جب اس کا مالک کسی ندی پر لے جاتا ہے اور وہ گھوڑا اس میں سے پانی پی لیتا ہے اگرچہ مالک کا پلانے کا ارادہ بھی نہ تھا، تب بھی اس کے لئے ان قطروں کے موافق نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو اس نے پیئے ہیں۔“ (یہ ثواب تو بے ارادہ پانی پی لینے میں ہے پھر جب پانی پلانے کے ارادہ سے لے جائے تو کیا کچھ ثواب نہ پائے گا) پھر عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! اور گدھے کا حال فرمائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں کے بارہ میں فرمایا: ”میرے اوپر کوئی حکم نہیں اترا بجز اس آیت کے جو بے مثل اور جمع کرنے والی ہے «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» یعنی جس نے ذرہ کے برابر نیکی کی وہ اسے دیکھے گا یعنی قیامت کے دن اور جس نے ذرہ برابر بدی کی وہ بھی اسے دیکھے گا۔“

Hadith in Arabic

وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا ، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْإِبِلُ ؟ ، قَالَ : وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا ، وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا ، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ ؟ ، قَالَ : وَلَا صَاحِبُ بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا ، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ وَلَا عَضْبَاءُ ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا ، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْخَيْلُ ؟ ، قَالَ : الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ : هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ ، فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي ظُهُورِهَا وَلَا رِقَابِهَا ، فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فِي مَرْجٍ وَرَوْضَةٍ فَمَا أَكَلَتْ مِنْ ذَلِكَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ ، إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا أَكَلَتْ حَسَنَاتٌ ، وَكُتِبَ لَهُ عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ ، وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وَأَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ ، وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَى نَهْرٍ ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحُمُرُ ؟ ، قَالَ : مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ { 7 } وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ { 8 } سورة الزلزلة آية 7-8 " ،

Your Comments/Thoughts ?

زکاۃ کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 2336

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت بندے صبح کرتے ہیں، دو فرشتے اترتے ہیں ایک تو یہ کہتا ہے کہ یا اللہ! خرچ کرنے والے کو اور دے، اور دوسرا کہتا ہے کہ یا اللہ! بخیل کو تباہ کر۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2486

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ گائے کا گوشت لائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کسی نے کہا: یہ گوشت صدقہ کا ہے جو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر صدقہ ہے اور ہم کو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2382

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کی اے اللہ کے رسول! افضل اور ثواب میں بڑا صدقہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو صدقہ دے اور تو تندرست ہو اور حریص ہو اور خوف کرتا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2417

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ فرمایا: ”اگر آدمی کا ایک جنگل سونے کا ہو تو بھی آرزو کرے کہ دوسرا ہو اور اس کا منہ نہیں بھرتی مگر مٹی (قبر کی) اور اللہ رجوع کرتا ہے اس کی طرف جو توبہ کرے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2374

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کون تم میں سے آج روزہ دار ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون جنازہ کے ساتھ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2422

‏‏‏‏ وہی روایت دوسری سند سے مروی ہوئی اتنی بات زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”خیر کا نتیجہ خیر ہی ہوتا ہے۔“ اور آخر میں فرمایا: ”جس نے اس کو (یعنی مال کو) حق کی راہ سے لیا اور راہ حق میں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2322

‏‏‏‏ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خرچ کرتا ہے مسلمان اپنے گھر والوں پر اور اس میں ثواب کی امید رکھتا ہے تو وہ صدقہ ہے اس کے لیے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2416

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: یہ مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات اتری تھی یا خود فرماتے تھے، پھر بیان کی روایت ابوعوانہ کی جو اوپر گزری۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2278

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر رمضان کے بعد لوگوں پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کیا ہے ہر آزاد اور غلام مرد و عورت پر جو مسلمان ہو۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2352

‏‏‏‏ وہی ترجمہ جو اوپر گزرا اس روایت میں بس اتنی بات زیادہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اور خطبہ پڑھا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2447

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب حنین کا دن ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو غنیمت کا مال زیادہ دیا چنانچہ اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیے اور عیینہ کو بھی ایسے ہی اور چند آدمیوں کو سردارانِ عرب سے ایسا ہی کچھ دیا اور لوگوں سے ان کو مقدم کیا تقسیم میں۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2407

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2342

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص صدقہ دیتا ہے پاک مال سے اور اللہ قبول نہیں کرتا مگر پاک مال کو(یعنی حلال کو) پھر جب کوئی پاک مال سے صدقہ دیتا ہے تو رحمٰن اپنے داہنے ہاتھ میں اس ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2453

‏‏‏‏ یہ حدیث سابقہ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس میں یہ وضاحت ہے کہ اس آدمی کو قتل کرنے کی اجازت پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مانگی پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مانگی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2302

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ آرزو نہیں کہ یہ احد کا پہاڑ میرے لئے سونا ہو جائے اور تین دن سے زیادہ میرے پاس ایک دینار بھی باقی رہے مگر وہ دینار کہ وہ اپنے کسی قرض خواہ کو دینے کے لئے اٹھا رکھوں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2474

‏‏‏‏ شعبہ سے یہی روایت آتی ہے اور اس میں یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کو صدقہ حلال نہیں۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2471

‏‏‏‏ اور یہ روایت کی ہم سے ابوکامل نے، انہوں نے عبدالواحد سے، انہوں نے سلیمان سے اسی اسناد سے اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکلیں گی ان سے کئی قومیں۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2334

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2263

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ فرمایا: ”پانچ ٹوکروں سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ ہے اور نہ پانچ اوقیہ سے کم میں۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2475

‏‏‏‏ شعبہ سے اس روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم صدقہ نہیں کھاتے۔“مکمل حدیث پڑھیئے