Hadith no 2292 Of Sahih Muslim Chapter Zakat Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Zakat)
Read Sahih Muslim Hadith No 2292 - Hadith No 2292 is from Problems And Commands About Zakat , Zakat Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 2292 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Zakat briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 2292 from Problems And Commands About Zakat in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 2292
| Hadith No | 2292 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Problems And Commands About Zakat |
| Roman Name | Zakat Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الزَّكَاةِ |
| Urdu Name | زکاۃ کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی صاحب کنز (یعنی خزانہ والا) ایسا نہیں ہے جو زکوٰۃ نہ دیتا ہو مگر گرم کیا جائے گا وہ خزانہ اس جہنم کی آگ میں اور اس کے تختے بنائے جائیں گے پھر داغی جائیں گی اس سے ان کی دونوں کروٹیں اور ماتھا جب تک کہ فیصلہ کرے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا اتنے بڑے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار برس ہے پھر اس کی راہ نکلے جنت کو جانے کی یا دوزخ کو اور جو اونٹ والا ایسا ہو کہ ان کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو وہ لٹایا جائے گا ایک پٹ پر زمین برابر میں اور وہ اونٹ آئیں گے فربہ ہو کر جیسے دنیا میں بہت فربہی کے وقت تھے اور وہ اس کو روندیں گے اور جب ان میں کا پچھلا اس پر سے نکل جائے گا اگلا پھر لوٹ آئے گا (یہی صحیح ہے اور اوپر کی روایت میں وارد ہوا ہے کہ جب ان میں کا پہلا روندتا چلا جائے گا پچھلا آئے گا یہ راوی کی غلطی ہے اس لئے کہ اس میں معنی صحیح نہیں ہوتے نووی) یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا اتنے بڑے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار برس ہے، پھر اس کی راہ نکلے جنت میں جانے کی یا دوزخ میں، جو بکری والا ان کی زکوٰۃ نہیں دیتا وہ لٹایا جائے گا ایک پٹ پر برابر زمین میں اور وہ آئیں گی بہت موٹی ہو کر جیسی دنیا میں تھیں اور اس کو روندیں گی اپنے کھروں سے اور کونچیں گی اپنے سینگوں سے کہ ان میں کوئی سینگ مڑی ہوئی اور بے سینگ والی نہ ہو گی، جب اس پر سے پچھلی گزر جائے گی اگلی پھر آ جائے گی یہی عذاب ہوتا رہے گا، جب تک اللہ فیصلہ کرے اپنے بندوں کا ایسے دن میں جس کا اندازہ پچاس ہزار برس ہے تمہاری زندگی کے حساب سے پھر اس کی راہ نکالی جائے گی جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف۔“ سہیل نے کہا: اور میں نہیں جانتا کہ گائے کا ذکر بھی آپ نے کیا یا نہیں؟ پھر عرض کی اور گھوڑے اے اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی میں بہتری یا فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں بہتری بندھی ہے۔“ سہیل نے کہا: مجھے اس میں شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں بہتری ہے قیامت کے دن تک“ (یعنی جہاد کا بڑا سامان گھوڑا ہے اور بہتری دین و دنیا کی جہاد میں ہے) پھر فرمایا: ”گھوڑے تین قسم میں ہیں ایک تو آدمی کے لیے ثواب ہے، دوسرا پردہ ہے (اس کے عیبوں کا)، تیرا وبال و عذاب ہے۔ سو جو ثواب ہے تو وہ اس شخص کے لئے ہے جس نے گھوڑا باندھا اللہ کی راہ میں اور تیار رکھا اسی واسطے (یعنی جہاد کو) سو وہ جو غائب کرتا ہے اپنے پیٹ میں اللہ اس کے مالک کے لئے ثواب لکھتا ہے (یعنی اس کا دانہ چارہ سب موجب ثواب ہے) اور اگر اس کو کسی چراگاہ میں چرایا تو جو کچھ اس نے کھایا اللہ نے اسے ثواب میں لکھا یا جس نہر سے اس نے پانی پلایا اس کے ہر قطرہ پر جو اس نے پیٹ میں اٹھایا ایک ثواب ہے یہاں تک کہ اس کے پیشاب اور لید میں ثواب کا ذکر فرمایا اور اگر ایک دو ٹیلے پر کود گیا تو ہر قدم پر جو اس نے رکھا ایک ثواب لکھا گیا اور جو مالک کا پردہ ہے وہ اس کا گھوڑا ہے جس نے احسان کرنے کو اور اپنی خوبی کے لئے باندھا اور اس کی سواری کا حق نہ بھولا (یعنی دوستوں کو مانگے کبھی کبھی غرباء کو چڑھا لیا) اور نہ اس کے پیٹ کا (یعنی دانے چارے پانی مصالحے کی خبر رکھے) اس کی تکلیف اور آرام میں اور جو وبال و عذاب ہے وہ اس کا گھوڑا ہے جس سے اترانے اور سرکشی اور شرارت کے لئے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے باندھا، سو وہ اس پر وبال ہے۔“ پھر عرض کی کہ گدھے کا حال فرمائیے، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اللہ نے مجھ پر اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں اتارا مگر یہ آیت جامع بے مثل «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ۔
Hadith in Arabic
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ ، إِلَّا أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، فَيُجْعَلُ صَفَائِحَ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا ، إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ ، كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا ، إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ ، كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ ، قَالَ سُهَيْلٌ : فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الْبَقَرَ أَمْ لَا ؟ ، قَالُوا : فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا ، أَوَ قَالَ : الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا ، قَالَ سُهَيْلٌ : أَنَا أَشُكُّ الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ : فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ ، وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ ، فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ ، فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَيُعِدُّهَا لَهُ ، فَلَا تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرًا ، وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا ، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ ، حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا ، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ ، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ ، فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا ، وَلَا يَنْسَى حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا ، وَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ ، فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَاءَ النَّاسِ ، فَذَاكَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ ، قَالُوا : فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ { 7 } وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ { 8 } سورة الزلزلة آية 7-8 " ،
- Previous Hadith
- Hadith No. 2292 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
زکاۃ کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 2317
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی آزاد کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور اس کا ذکر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کو ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2404
سیدنا قبیصہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں قرضدار ہو گیا تھا ایک بڑی رقم کا (یعنی دو قبیلوں کی اصلاح وغیرہ کے لئے یا کسی اور امر خیر کے واسطے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا آپ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2446
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین فتح کیا اور غنیمت تقسیم کی اور مؤلفتہ القلوب کو مال دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر لگی کہ انصار چاہتے ہیں کہ جیسا اور لوگوں کو حصہ ملا ہے ویسا ہی ہم کو بھی ملے تب ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2329
ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چند اصحاب رضی اللہ عنہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول! مال والے سب مال لوٹ لے گئے، اس لیے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم روزہ رکھتے ہیں اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2452
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سونا بھیجا ایک چمڑے میں جو ببول کی چھال سے رنگا ہوا تھا اور مٹی بھی جدا نہیں ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار آدمیوں میں بانٹا۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2299
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2412
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ””ابن آدم بوڑھا ہوتا ہے اور اس میں دو چیزیں جوان رہتی ہیں مال کی حرص اور عمر کے بڑھنے کی حرض۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2285
ترجمہ وہ جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2425
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2356
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے اور اس میں ہے کہ ہم اپنی کمروں پر بوجھ اٹھاتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2327
ہشام نے دوسری اسناد سے یہی روایت کی اور ابواسامہ کی روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے وصیت نہیں کی جیسے ابن بشر کی روایت میں ہے اور راویوں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2284
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام کی طرف سے ایک صاع گیہوں یا ایک صاع پنیر یا جَو یا کھجور یا انگور نکالتے تھے پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج کو یا عمرہ کو آئے تو لوگوں میں منبر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2364
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے گھر کے اناج سے خرچ کرے بغیر فساد کے (یعنی جتنا دستور ہے جیسے فقیر کو ٹکڑا یا سائل کو ایک مٹھی جس میں شوہر کی رضا عادت سے معلوم ہوتی ہے) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2363
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خزانچی مسلمان امانت دار ہو جو خرچ کرتا ہو اور کبھی فرما دیتا ہو جس کا حکم ہوا ہو اور پوری رقم دیتا ہو (یعنی تحریر بٹہ رشوت نہ کاٹتا ہو) اور پوری خیرات ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2308
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے آدم کے بیٹے خرچ کر کہ میں بھی تیرے اوپر خرچ کروں۔“ اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ”اللہ کا ہاتھ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2286
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم صدقہ فطر دیتے تھے پنیر، کھجور اور جَو سے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2445
عمر بن سعید سے اس سند سے یہی روایت مروی ہوئی اور اس میں علقمہ بن علاثہ اور صفوان بن امیہ کا ذکر نہیں نہ شعروں کا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2377
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2459
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے اور ان دونوں میں ایک فرقہ جدا ہو جائے گا اور ان کو قتل کرے گا وہ گروہ جو حق سے قریب ہو گا۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2289
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر ادا کر دیا جائے لوگوں کے نماز کو جانے سے پہلے۔مکمل حدیث پڑھیئے