Hadith no 2306 Of Sahih Muslim Chapter Zakat Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Zakat)

Read Sahih Muslim Hadith No 2306 - Hadith No 2306 is from Problems And Commands About Zakat , Zakat Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 2306 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Zakat briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 2306 from Problems And Commands About Zakat in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 2306

Hadith No 2306
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Zakat
Roman Name Zakat Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الزَّكَاةِ
Urdu Name زکاۃ کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا احنف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں مدینہ میں آیا اور ایک حلقہ میں بیٹھا تھا کہ اس میں قریش کے سردار تھے کہ ایک شخص آیا موٹے کپڑے پہنے ہوئے سخت جسم والا اور سخت چہرے والا اور ان کے پاس کھڑا ہوا اور کہا کہ خوشخبری دے مال جمع کرنے والوں کو گرم پتھر کی جو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس کی چھاتی کی نوک پر رکھا جائے گا یہاں تک کہ شانے کی ہڈی سے پھوٹ نکلے گا اور شانے کی ہڈی پر رکھا جائے گا تو چھاتیوں کی نوک سے پھوٹ نکلے گا، وہ پتھر ایسا ہی ہلتا ہوا آرپار ہوتا رہے گا۔ کہا راوی نے پھر جھکا لیے لوگوں نے سر اور میں نے ان میں سے کسی کو نہ دیکھا کہ ان کو کچھ جواب دیتا اور پھر وہ پھرے اور میں ان کے پیچھے ہوا (کیوں نہ ہوں یہ طالب حدیث ہیں) یہاں کہ ایک کھمبے کے پاس پہنچ گئے اور میں نے کہا کہ میں تو یہی خیال کرتا ہوں۔۔۔ کہ آپ نے جو کچھ کہا ان کو بہت برا لگا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ کچھ عقل نہیں رکھتے (یعنی دین کی) اور میرے دوست ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بلایا اور میں گیا اور فرمایا: ”کہ تم ... احد کو دیکھتے ہو؟۔“ میں نے اپنے اوپر کی دھوپ کو دیکھا اور یہ سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے کسی کام کیلئے وہاں بھیجنا چاہتے ہیں اور میں نے عرض کیا کہ ہاں دیکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ نہیں چاہتا کہ اس پہاڑ کے برابر سونا ہو اور اگر ہو بھی تو میں خرچ کر دوں مگر تین دینار (یعنی تین جن کا اوپر ذکر ہوا کہ قرض کے لئے رکھوں) پر یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں اور کچھ نہیں سمجھتے۔“ پھر میں نے ان نے کہا کہ تمہارا اپنے بھائیوں قریش کے ساتھ کیا حال ہے؟ کہ تم ان کے پاس کسی ضرورت کے لیے نہیں جاتے اور نہ ان سے کچھ لیتے ہو انہوں نے کہا: مجھے قسم ہے تمہارے رب کی کہ نہ میں ان سے دنیا مانگوں گا، نہ دین میں کچھ پوچھوں گا (اس لئے کہ میں ان سے زیادہ جانتا ہوں) یہاں تک کہ ملوں گا میں اللہ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

Hadith in Arabic

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ ، أَخْشَنُ الْجَسَدِ ، أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفَيْهِ ، وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفَيْهِ ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ ، قَالَ : فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا ، قَالَ : فَأَدْبَرَ ، وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ ، فَقُلْتُ : مَا رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ إِلَّا كَرِهُوا قُلْتَ لَهُمْ ، قَالَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا ، إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ ، فَقَالَ " أَتَرَى أُحُدًا " ، فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنَ الشَّمْسِ ، وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ ، فَقُلْتُ : أَرَاهُ ، فَقَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ ، إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ ، ثُمَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا " ، قَالَ : قُلْتُ : مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ مِنْ قُرَيْشٍ ، لَا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ ، قَالَ : لَا وَرَبِّكَ لَا أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا ، وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ .

Your Comments/Thoughts ?

زکاۃ کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 2384

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے اس میں ہے کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2301

‏‏‏‏ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دوسری سند سے وہی روایت مروی ہے مگر اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے، جو زمین پر مر جائے اور اونٹ اور گائے اور بکری چھوڑ جائے اور اس کی زکوٰۃ نہ دے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2377

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2265

‏‏‏‏ یحییٰ نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ انگلیوں سے اشارہ فرما کے وہی حدیث فرماتے تھے جو اوپر گزری۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2418

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ”اگر آدمی کا ایک میدان مال سے بھرا ہو تو بھی چاہے گا کہ اسی کے برابر اور ہو اور آدمی کا جی کسی چیز سے نہیں بھرتا سوا مٹی کے اور رجوع ہوتا ہے اللہ کا اس پر جو توبہ کرے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2399

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں سے مانگتا رہتا ہے اپنے مال کے بڑھانے کو (یعنی نہ ضرورت اور کفایت کے لئے) تو وہ چنگاریاں مانگتا ہے پھر چاہے کم لے یا زیادہ لے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2473

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ایک کھجور صدقہ کی اپنے منہ میں لے کر ڈال لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھو تھو پھینک دے اس کو کیا تو نہیں جانتا کہ ہم لوگ صدقہ نہیں کھاتے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2354

‏‏‏‏ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: چند لوگ گاؤں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ ان پر کپڑے تھے اون کے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا برا حال دیکھا کہ محتاج ہیں پھر ذکر کی ساری حدیث۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2486

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ گائے کا گوشت لائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کسی نے کہا: یہ گوشت صدقہ کا ہے جو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر صدقہ ہے اور ہم کو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2327

‏‏‏‏ ہشام نے دوسری اسناد سے یہی روایت کی اور ابواسامہ کی روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے وصیت نہیں کی جیسے ابن بشر کی روایت میں ہے اور راویوں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2303

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2398

‏‏‏‏ حمزہ نے اپنے باپ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی ہمیشہ لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن آئے گا اور اس کے منہ پر ایک بوٹی گوشت کی نہ ہو گی۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2291

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اونٹوں والا نہیں ہے جو اس کا حق ادا نہ کرتا ہو۔“ اور نہیں کہا کہ اس کا حق اس سے۔ اور اس میں ذکر کیا کہ ان میں سے کوئی بچہ بھی باقی نہ رہے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2276

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام کی زکوٰۃ نہیں مگر صدقہ فطر ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2488

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2441

‏‏‏‏ سيدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب حنین کا دن ہوا ہوازن اور غطفان اور قبیلوں کے لوگ اپنی اولاد اور جانوروں کو لے کر آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار غازی تھے اور مکہ کے لوگ بھی جن کو طلقاء کہتے ہیں پھر یہ سب ایک بار پیٹھ دے دئیے یہاں تک کہ نبی صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2359

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ فرمایا: ”مثال خرچ کرنے والے کی اور صدقہ دینے والے کی (یہاں راوی سے غلطی ہوئی اور صحیح یہ ہے کہ مثال بخیل کی اور صدقہ دینے والے کی) مانند اس شخص کی ہے کہ اس کے اوپر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2484

‏‏‏‏ زہری سے ان اسناد کے ساتھ گزشتہ حدیث کی طرح روایت مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2458

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فرقہ جدا ہو جائے گا جب مسلمانوں میں پھوٹ ہو گی اور اس کو قتل کرے گا وہ گروہ جو قریب ہو گا دونوں گروہوں میں حق سے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2446

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین فتح کیا اور غنیمت تقسیم کی اور مؤلفتہ القلوب کو مال دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر لگی کہ انصار چاہتے ہیں کہ جیسا اور لوگوں کو حصہ ملا ہے ویسا ہی ہم کو بھی ملے تب ..مکمل حدیث پڑھیئے