Hadith no 2922 Of Sahih Muslim Chapter Hajj Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Pilgrimage)

Read Sahih Muslim Hadith No 2922 - Hadith No 2922 is from Problems And Commands About Pilgrimage , Hajj Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 2922 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Pilgrimage briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 2922 from Problems And Commands About Pilgrimage in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 2922

Hadith No 2922
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Pilgrimage
Roman Name Hajj Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْحَجِّ
Urdu Name حج کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نکلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لبیک پکارتے ہوئے حج کی حج کے مہینوں میں اوقات و مواضع حج میں (یا ممنوعات شرعیہ حج سے بچتے ہوئے) اور حج کی راتوں میں (مراد اس سے یہ قول ہے اللہ تعالیٰ کا «الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ» (۲-البقرة:۱۹۷) اور امام شافعی اور جماہیر علماء رحمہ اللہ علیہم کے نزدیک صحابہ و تابعین سے اور اسلاف صالحین سے حج کے مہینے شوال اور ذیقعدہ اور دس راتیں ہیں ذی الحجہ کی کہ تمام ہوتی ہیں نحر کی رات کی صبح تک یعنی دسویں تاریخ کی صبح تک اور امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے اور مشہور روایت مالک رحمہ اللہ کی یہ ہے کہ وہ شوال اور ذیقعدہ اور ذی الحجہ کا سارا مہینہ ہے اور یہی مروی ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور مشہور روایت ان دونوں کی وہی ہے جو ہم نے اوپر جماہیر سے نقل کی) یہاں تک کہ سرف میں اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب کی طرف نکلے اور فرمایا کہ: ”جس کے پاس ہدی نہ ہو تو میرے نزدیک بہتر ہے کہ وہ اس احرام کو عمرہ کر لے اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ نہ کرے۔“ سو بعض لوگوں نے اس پر عمل کیا اور بعضوں نے نہیں (اس لیے کہ امر و جوب کے طور پر نہ تھا بلکہ استحباب کے طور پر تھا) حالانکہ ان کے ساتھ ہدی نہ تھی (مگر تاہم وہ احرام حج ہی کا باندھے رہے اور نیت حج ہی کی رہی) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو ہدی تھی اور ان لوگوں کے ساتھ بھی جن کو طاقت تھی ہدی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم روتی کیوں ہو؟“ میں نے عرض کیا کہ آپ نے جو یاروں سے فرمایا میں نے سنا کہ آپ نے عمرہ کا حکم دیا (اور میں اس کی بجا آوری سے بہ سبب حیض کے مجبور ہوں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں؟“ میں نے عرض کی کہ میں نماز نہیں پڑھتی۔ (یہاں سے معلوم ہوا کہ حائضہ کو بے نمازی آ گئی بولنا مستحب ہے کہ اس میں حیا اور تہذیب ہے اور یہ اصطلاح گویا اسی حدیث سے نکلی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا نقصان ہے؟ تم حج میں مشغول رہو (یعنی ابھی افعال عمرہ میں تاخیر کرو اگرچہ احرام عمرہ کا ہے) تو اللہ سے امید ہے کہ تم کو وہ بھی عنایت فرما دے اور بات تو یہ ہے کہ آخر تم آدم کی اولاد ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر بھی لکھا ہے جو ان سب پر لکھا ہے۔“ (اس سے معلوم ہوا کہ تخصیص حیض اور ابتدا اس کی بنی اسرائیل سے باطل ہے) پھر فرماتی ہیں کہ میں حج میں نکلی اور ہم منٰی میں اترے اور میں پاک ہوئی اور طواف کیا بیت اللہ کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا ”کہ اپنی ہمشیرہ کو حرم سے باہر لے جاؤ اور وہ عمرہ کا احرام باندھے۔ (اس سے استدلال کیا ہے ان لوگوں نے جو اس بات کے قائل ہیں کہ مکہ والا جب عمرہ کرے تو حل میں یعنی حرم سے باہر جا کر احرام باندھے اور روا نہیں ہے کہ حرم ہی سے احرام باندھ لے اور اگر اس نے حرم ہی میں احرام باندھا اور پھر حل میں گیا طواف سے پہلے تو بھی کافی ہے اور اس پر دم واجب نہیں اور اگر حرم میں احرام باندھ کر بھی حل میں نہ نکلا اور طواف و سعی اور حلق کیا تو اس میں دو قول ہیں: ایک یہ کہ عمرہ اس کا صحیح نہیں جب تک کہ حل کی طرف نہ نکلے پھر طواف و سعی کرے اور حلق اور دوسرا یہ ہے کہ عمرہ صحیح ہے مگر اس کا دم لازم آتا ہے یعنی ایک بکری۔ اس لیے کہ اس نے میقات کو ترک کیا اور علما نے کہا ہے کہ واجب ہے حل کی طرف نکلنا تاکہ نسک اس کا حل و حرم دونوں میں ہو جائے جیسے حاجی دونوں میں جاتا ہے اور عرفات میں وقوف کرتا ہے اور وہ حل میں ہے پھر مکہ میں داخل ہوتا ہے طواف وغیرہ کے لیے یہ تفصیل ہے مذہب شافعی رحمہ اللہ کی اور یہی کہا ہے جمہور علما نے کہ واجب ہے نکلنا حل کی طرف عمرہ کے احرام کے لیے جدھر سے حل قریب ہو اور امام مالک رحمہ اللہ ہی کا مذہب ہے کہ احرام عمرہ کا تنعیم سے ہے اور معتمرین کی میقات وہی ہے۔ مگر یہ قول شاذ و مردود ہے اور جماہیر کا وہی قول ہے کہ تمام جوانب حل کے برابر ہیں خواہ تنعیم ہو یا اور کوئی) (نووی رحمه الله) اور طواف کرے بیت اللہ کا اور فرمایا آپ نے کہ میں تم دونوں کا منتظر ہوں یہیں۔“ سيده عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر دونوں نکلے اور میں نے لبیک پکاری اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی اور ہم آۓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی منزل میں تھے رات میں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تم فارغ ہو گئیں۔“ میں نے عرض کی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں کوچ پکار دی اور نکلے اور بیت اللہ پر سے گزرے اور طواف کیا (یہ طواف وداع کیا) نماز صبح سے پہلے پھر مدینہ کو چلے۔

Hadith in Arabic

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي حُرُمِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ ، حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ مِنْكُمْ هَدْيٌ ، فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا " ، فَمِنْهُمُ الْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ " ، قُلْتُ سَمِعْتُ كَلَامَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ ، فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ ، قَالَ : " وَمَا لَكِ ؟ " ، قُلْتُ : لَا أُصَلِّي ، قَالَ " : " فَلَا يَضُرُّكِ فَكُونِي فِي حَجِّكِ ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا ، وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ ، كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ " ، قَالَتْ : فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَتَطَهَّرْتُ ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْبَيْتِ فَإِنِّي أَنْتَظِرُكُمَا هَا هُنَا " ، قَالَتْ : فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ ، ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : " هَلْ فَرَغْتِ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ ، فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ .

Your Comments/Thoughts ?

حج کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 2985

‏‏‏‏ کہا مسلم نے اور روایت کی ہم سے یہی حدیث ابن نمیر نے، ان سے خالد بن مخلد نے، ان سے مالک نے، ان سے نافع نے، ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! کیا سبب ہے کہ آپ نے احرام نہ کھولا مانند اوپر کی روایت کے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3380

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3298

‏‏‏‏ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہاجر مناسک حج کی ادائیگی کے بعد مکہ میں تین دن قیام کر سکتا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2939

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں احرام عمرہ کا باندھا تھا اور حدیث روایت ہے مانند حدیث لیث کے اور اتنا زائد بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نرم دل تھے، جب ان سے سیدہ عائشہ رضی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3189

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کو، تو کہا کہ حکم کیا ہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب ہم احرام کھول ڈالیں تو قربانی کر لیں اور چند آدمی ہم میں سے ایک ایک قربانی میں شریک ہو جائیں اور یہ جب ہوا کہ آپ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3152

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب منیٰ میں آئے تو پہلے جمرہ عقبہ پر گئے اور کنکریاں ماریں، پھر اپنے فرودگاہ میں تشریف لائے۔ منیٰ میں اترے قربانی کی پھر حجام سے کہا کہ ”لو۔“ اور اشارہ کیا داہنی طرف ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3127

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ان میں تھا جن کو آگے روانہ کر دیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے ضعیفوں میں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3161

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کر کوئی حرج نہیں ہے۔“ کہا کہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3015

‏‏‏‏ شعبہ نے ابوجمرہ ضبعی سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے تمتع کیا اور لوگوں نے مجھے منع کیا۔ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے پوچھا، سو انہوں نے مجھے حکم دیا اور پھر میں بیت اللہ کے پاس جا کر سو رہا اور خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ عمرہ بھی مقبول ہے اور ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3295

‏‏‏‏ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کل آپ کہاں اتریں گے؟ اور یہ بات حج کے دنوں کی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہی نہیں۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2986

‏‏‏‏ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے وہی مضمون مروی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں احرام نہ کھولوں گا جب تک حج کا احرام نہ کھولوں۔“ اور کہا مسلم رحمہ اللہ نے کہ روایت کی ہم سے ابوبکر بن ابوشیبہ نے، ان سے ابواسامہ نے، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2808

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے سوال کیا گیا احرام باندھنے والے کے بارے میں تو آپ نے کہا: میں نے ان سے سنا۔ پھر راوی ابوزبیر خاموش ہو گئے اور کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ انہوں نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3245

‏‏‏‏ عطاء نے کہا کہ جب کعبہ جل گیا یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب کہ مکہ میں آ کر شام والے لڑے تھے اور جو حال اس کو ہوا سو ہوا اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبہ شریف کو ویسا ہی رہنے دیا، یہاں تک کہ لوگ موسم حج میں جمع ہوئے اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا ارادہ تھا کہ لوگوں کو خانہ کعبہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2883

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3386

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خبر دیتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر نہ کرے کوئی مگر تین مسجدوں کی طرف مسجد کعبہ اور میری مسجد اور مسجد ایلیاء۔“ (یعنی بیت المقدس)۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3301

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث آتی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2997

‏‏‏‏ وبرہ نے کہا کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہا کہ مجھے طواف کرنا قبل عرفات میں جانے کے درست ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہاں۔ اس نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو کہتے ہیں کہ جب تک عرفات میں نہ جائے تب تک طواف نہ کرے۔ سیدنا ابن عمر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3274

‏‏‏‏ چند الفاظ کے فرق سے اس سند سے یہی حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3219

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ ادھر ادھر چل پھر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کوچ نہ کرے جب تک چلتے وقت طواف نہ کر لے بیت اللہ کا۔“ زہیر کی روایت میں «فی» کا لفظ نہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3143

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈھیلے لینا استنجا کے طاق ہیں اور کنکریاں جمرہ کی طاق ہیں اور سعی صفا اور مروہ کی طاق ہے اور طواف کعبہ کا طاق ہے (یعنی یہ تینوں سات سات ہیں) اور اسی لیے ضروری ہے ..مکمل حدیث پڑھیئے