Hadith no 3001 Of Sahih Muslim Chapter Hajj Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Pilgrimage)

Read Sahih Muslim Hadith No 3001 - Hadith No 3001 is from Problems And Commands About Pilgrimage , Hajj Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 3001 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Pilgrimage briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 3001 from Problems And Commands About Pilgrimage in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 3001

Hadith No 3001
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Pilgrimage
Roman Name Hajj Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْحَجِّ
Urdu Name حج کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ محمد جو فرزند ہیں عبدالرحمٰن کے روایت ہے کہ ایک شخص نے عراق والوں سے ان سے کہا کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے میرے لیے یہ پوچھ دو کہ جو شخص لبیک پکارے حج کی اور طواف کر چکے بیت اللہ کا تو وہ حلال ہو چکا یا یا نہیں؟ (یعنی احرام اس کا کھل گیا یا نہیں؟) پھر اگر وہ تم سے کہیں کہ نہیں حلال ہوا تو ان سے کہو کہ ایک شخص کہتا ہے کہ وہ حلال ہو گیا۔ محمد نے کہا کہ پھر میں نے عروہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں حلال ہوا وہ شخص جس نے لبیک حج کی پکاری ہے جب تک کہ حج پورا نہ کرے۔ میں نے کہا کہ ایک شخص کہتا ہے حلال ہو گیا، تو انہوں نے فرمایا: بہت برا کہتا ہے پھر وہ عراقی مجھے ملا اور مجھ سے پوچھا تو میں نے اس سے بیان کر دیا (یعنی جواب عروہ کا) تو اس نے کہا کہ ان سے کہو وہ یہ کہتا ہے کہ ایک شخص نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اور اسماء اور زبیر نے بھی دونوں نے ایسا کیوں کیا؟ محمد نے کہا: میں پھر عروہ کے پاس گیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ کون شخص ہے؟ میں نے کہا: میں اس کا حال نہیں جانتا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے پاس آ کر کیوں نہیں پوچھ لیتا میں اس کو عراق والا جانتا ہوں، میں نے کہا میں نہیں جانتا (اس وقت تک شاید ان کو بھی معلوم نہ ہو کہ یہ عراقی ہے بعد میں معلوم ہوا ہو) تب عروہ نے کہا کہ اس نے جھوٹ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حج کیا تو اس کی خبر دی مجھ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ پہلے پہل جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو وضو کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا (اس سے ثابت ہوا وضو کرنا اور امت کا اجماع ہے کہ وضو طواف کے لیے مشروع ہے مگر اس میں اختلاف ہے کہ واجب ہے یا شرط صحت طواف کی۔ امام مالک اور شافعی اور جمہور اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ شرط ہے یعنی بغیر وضو طواف صحیح نہیں اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مستحب ہے اور شرط نہیں اور جمہور کی دلیل یہی حدیث ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول یہی اس کی دلیل ہے جو ترمذی رحمہ اللہ وغیرہ نے روایت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طواف بیت اللہ کا نماز ہے مگر االلہ تعالیٰ نے اس میں کلام روا کر دیا اور اگرچہ صحیح یہی ہے کہ یہ روایت موقوف ہے اور قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہی ہے مگر جب قول صحابی مشہور ہو جائے اور کوئی اس پر انکار نہ کرے تو حجت ہے علی الخصوص جب فعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس پر دال ہو، پھر اس کی حجت ہونے میں کیا مقال ہے) پھر حج کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے بھی پہلے طواف کیا۔ بیت اللہ کا اور نہ تھا کچھ سوا اس کے یہاں پر جو متن میں «لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ» ہے اور آگے بھی کئی جگہ یہی لفط آیا ہے اس کو قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا کہ کہ کاتب کی غلطی ہے صحیح یہ ہے کہ «لَمْ يَكُنْ عُمْرَةٍ» یعنی پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے طواف کر کے اپنے حج کو عمرہ نہیں کر ڈالا کہ عمرہ کر کے احرام کھول دیتے ہوں اور حج کا احرام پھر دوبارہ مکہ سے باندھے ہوں جیسا مذہب ہے بعض کا اور یہی قول ہے ابن قیم رحمہ اللہ کا اور دلائل اس کے ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اور اس سائل کا بھی مذہب یہی تھا اور نووی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ «غيره» کا لفظ غلط نہیں ہے بلکہ لفظ اور معنی دونوں صحیح ہیں یعنی «لم يكن غيره» تشدید یاء ہے یعنی پھر طواف کر کے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو بدل نہیں ڈالا کہ حج کو عمرہ کر دیا ہو یا قران کر دیا ہو) پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی مثل کیا پھر حج کیا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اور ان کو بھی میں نے دیکھا کہ پہلے طواف بیت اللہ کیا اور اس کو بدلا نہیں، پھر سیدنا معاویہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے بھی، پھر حج کیا میں نے اپنے باپ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سو انہوں نے بھی پہلے طواف کیا بیت اللہ کا اور پھر اس کو بدلا نہیں، پھر میں نے مہاجرین اور انصار کو بھی یہی کرتے دیکھا، پھر میں نے سب کے اخیر میں جس کو ایسا کرتے دیکھا وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں کہ انہوں نے بھی حج کو عمرہ کر کے توڑ نہیں ڈالا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تو ان کے پاس موجود ہیں یہ لوگ ان سے کیوں نہیں پوچھ لیتے اور اسی طرح جتنے لوگ گزر چکے ہیں سب لوگ جب مکہ میں قدم رکھتے تھے تو پہلے طواف کرتے تھے بیت اللہ کا اور پھر احرام نہیں کھولتے تھے (اس سے معلوم ہوا کہ طواف قدوم سے احرام نہیں کھلتا اور معلوم ہوا کہ باہر کا آدمی جب حرم میں داخل ہو تو پہلے طواف کرے۔ تحیتہ المسجد نہ پڑھے اور یہ سب باتیں متفق علیہ ہیں) اور میں نے اپنی والدہ اور خالہ کو دیکھا کہ جب یہ تشریف لاتیں۔ (یعنی جب تک حج اور عمرہ سے فارغ نہ ہو لیتیں) اور میری ماں نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ آئیں اور ان کی بہن (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور فلانے فلانے عمرہ لے کر پھر جب حجر اسود کو چھوا حلال ہو گئیں (یعنی بعد اتمام طواف اور سعی کے) اور اس عراقی نے جو کہا جھوٹ کہا (اس مسئلہ میں)۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ : سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا ؟ ، فَإِنْ قَالَ لَكَ : لَا يَحِلُّ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ " ، قُلْتُ : فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ ، قَالَ : بِئْسَ مَا قَالَ ، فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : فَقُلْ لَهُ : فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ ، وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ قَدْ فَعَلَا ذَلِكَ ، قَالَ فَجِئْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقُلْتُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا ، قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : فَإِنَّهُ قَدْ كَذَبَ : " قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ " ، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ ، فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ مُعَاوِيَةُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ، ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ ، وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ ، وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَيْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ ، أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ ، وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ ، لَا تَبْدَآنِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ، ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا ، وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ .

Your Comments/Thoughts ?

حج کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 2825

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2882

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2906

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنمہا نے کہا کہ ضباعہ رضی اللہ عنہا نے حج کا ارادہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ان کو کہ اپنے احرام میں شرط کر لیں اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2872

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ایذاء دینے والے ہیں انہیں حرم اور غیر حرم میں قتل کیا جا سکتا ہے: سانپ، سیاہ و سفید کوا، چوہا، کٹ کھنا کتا اور چیل۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3014

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ جس سے ہم نے نفع لیا سو جس کے پاس قربانی نہ ہو وہ اسی طرح حج کا احرام عمرہ کر کے کھول ڈالے اس لیے کہ عمرہ حج کے دنوں میں روا ہو گیا قیامت تک۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2848

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔ مگر اس میں ہے کہ ”اگر ہم احرام باندھے ہوئے نہ ہوتے تو آپ کا ہدیہ قبول کرتے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2890

‏‏‏‏ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کھڑے تھے اور میرے سر میں سے جو ئیں گر رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو جو ئیں ستاتی ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2972

‏‏‏‏ مطرف نے کہا کہ مجھ سے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تم سے آج ایک حدیث بیان کروں کہ اللہ تعالیٰ تم کو آج کے بعد اس کا نفع دے اور جان لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھروالوں سے ایک گروہ کو عمرہ کروایا عشرہ ذی الحجہ میں اور پھر اس پر کوئی آیت نہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3081

‏‏‏‏ عروہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ جو سعی نہ کرے صفا اور مروہ میں اس پر کچھ گناہ نہیں اور میں تو پرواہ نہیں رکھتا اگر نہ سعی کروں ان میں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ برا کہا تو نے اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے سب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2814

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ لبیک پکارتے تھے تلبید کئے ہوئے سر میں اور کہتے تھے لبیک سے آخر تک اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھیں پھر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2976

‏‏‏‏ مطرف نے کہا: مجھے پیغام بھیج کر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا اس بیماری میں جس ان کی وفات ہوئی تھی اور کہا: میں تم سے کئی حدیثیں بیان کرتا ہوں شاید اللہ تعالیٰ میرے بعد تم کو اس سے نفع دے پھر اگر میں جیتا رہا (یعنی اس مرض سے اچھا ہو کر) تو تم اس کو میرے نام ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3366

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لیے فرمایا: ”لوگ وہاں کے مدینہ کو چھوڑ دیں گے اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہو گا اور ایسا چھوڑیں گے کہ وطن ہو جائے گا درندوں اور پرندوں کا۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3073

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور حجر اسود کو اپنی چھڑی سے چھو لیتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2896

‏‏‏‏ سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگائے مکہ کی راہ میں اپنے سر کے بیچ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام سے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3202

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث چند الفاظ کے فرق کے ساتھ مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2960

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون مروی ہوا اتنی بات زیادہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کو بھیجا تھا اور میں اس سال آیا جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا آگے وہی مطلب ہے جو اوپر مذکور ہوا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3006

‏‏‏‏ شعبہ نے اسی اسناد سے یہی مضمون روایت کیا اور عبدالرحمٰن کی روایت میں صرف متعہ کا لفظ ہے اور معتہ حج مذکور نہیں اور ابن جعفر کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ شعبہ نے کہا کہ مسلم نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ متعہ حج کا ہے یا متعہ عورتوں کا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3384

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ کجاوے نہ باندھے جائیں مگر تین مسجدوں کی طرف ایک میری یہ مسجد یعنی جو مدینہ میں ہے اور مسجد الحرام اور مسجد اقصیٰ۔“ (یعنی بیت المقدس)۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3172

‏‏‏‏ عطاء نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ محصب میں اترنا کچھ سنت و واجب نہیں وہ تو ایک منزل ہے کہ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3150

‏‏‏‏ یحییٰ نے اپنی دادی سے روایت کی کہ انہوں نے حجتہ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈانے والوں کے لیے تین بار دعا کی اور کتروانے والوں کے لیے ایک بار اور وکیع کی روایت میں حجتہ الودع کا لفظ نہیں ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے