Hadith no 3245 Of Sahih Muslim Chapter Hajj Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Pilgrimage)
Read Sahih Muslim Hadith No 3245 - Hadith No 3245 is from Problems And Commands About Pilgrimage , Hajj Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 3245 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Pilgrimage briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 3245 from Problems And Commands About Pilgrimage in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 3245
| Hadith No | 3245 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Problems And Commands About Pilgrimage |
| Roman Name | Hajj Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الْحَجِّ |
| Urdu Name | حج کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
عطاء نے کہا کہ جب کعبہ جل گیا یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب کہ مکہ میں آ کر شام والے لڑے تھے اور جو حال اس کو ہوا سو ہوا اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبہ شریف کو ویسا ہی رہنے دیا، یہاں تک کہ لوگ موسم حج میں جمع ہوئے اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا ارادہ تھا کہ لوگوں کو خانہ کعبہ دکھا کر جرأت دلائیں اہل شام کی لڑائی پر یا ان کا تجربہ کریں کہ انہیں کچھ حمیت دین ہے یا نہیں پھر جب لوگ آ گئے تو انہوں نے کہا: اے لوگو! مشورہ دو مجھے خانہ کعبہ کے لیے کہ میں اسے توڑ کر نئے سرے سے بناؤں یا جو اس میں بودا ہو گیا ہے اسے درست کر دوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھے ایک رائے سوجھی ہے اور میں تو یہ جانتا ہوں کہ تم صرف جو ان میں بودا ہو گیا ہے اس کی مرمت کر دو اور خانہ کعبہ کو ویسا ہی رہنے دو جیسا کہ لوگوں کے وقت تھا اور ان ہی پتھروں کو رہنے دو جن کے اوپر لوگ مسلمان ہوئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ہیں تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جائے تو اس کا دل کبھی نہ چاہے جب تک نیا نہ بنائے، پھر تمہارے رب کا گھر تو اس سے کہیں افضل ہے اس کا کیا حال ہے اور میں اپنے رب سے استخارہ کرتا ہوں۔ تین بار پھر مصمم ارادہ کرتا ہوں اپنے کام کا، پھر جب تین بار استخارہ ہو چکا تو ان کی رائے میں آیا کہ خانہ مبارک کو توڑ کر بنائیں اور جو لوگ خوف کرنے لگے کہ ایسا نہ ہو جو شخص کہ پہلے خانہ کے اوپر توڑنے چڑھے اس پر کوئی بلائے آسمانی نازل نہ ہو (اس سے معلوم ہوا کہ مالک اس گھر کا اوپر ہے اور تمام صحابہ کا یہی عقیدہ تھا) یہاں تک کہ ایک شخص چڑھا اور اس میں سے ایک پتھر گرا دیا پھر جب لوگوں نے دیکھا کہ اس پر کوئی بلا نہ اتری تو ایک دوسرے پر گرنے لگے اور خانہ مبارک کو ڈھا کر زمین تک پہنچا دیا اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے چند ستون کھڑے کر کے ان پر پردہ ڈال دیا (تاکہ لوگ اسی پردہ کی طرف نماز پڑھتے رہیں اور مقام کعبہ کو جانتے رہیں اور وہ پردے میں پڑے رہے) یہاں تک کہ دیواریں اس کی اونچی ہو گئیں اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے کہ فرماتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”کہ اگر لوگ نئے نئے کفر نہ چھوڑے ہوتے اور میرے پاس اتنا بھی خرچ نہیں ہے کہ اس کو بنا سکوں ورنہ پانچ گز حطیم سے کعبہ کے اندر کر دیتا اور ایک دروازہ تو اس میں ایسا رہنے دیتا کہ لوگ اس میں داخل ہوتے اور دوسرا ایسا بناتا کہ لوگ اس سے باہر جاتے۔“ پھر سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم آج کے دن اتنا خرچ بھی رکھتے ہیں کہ اسے صرف کریں اور لوگوں کا خوف بھی نہیں۔ کہا راوی نے پھر سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے پانچ گز اس کی دیواریں زیادہ کر دیں حطیم کی جانب سے یہاں تک کہ نکلی وہاں پر ایک بنیاد کہ لوگوں نے اسے خوب دیکھا (اور وہ بنیاد تھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی) پھر اسی بنیاد پر سے دیوار اٹھانا شروع کی اور طول کعبہ کا اٹھارہ ذراع تھا پھر جب اس میں زیادہ کیا تو چھوٹا نظر آنے لگا (چوڑان زیادہ ہو گئی اور لمبان کم نظر آنے لگی) سو اس کی لمبان میں بھی دس ذراع زیادہ کیئے اور اس کے دو دروازے رکھے ایک میں سے اندر جائیں، دوسرے سے باہر آئیں پھر جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حجاج نے عبدالملک بن مروان کو یہ خبر لکھ بھیجی کہ سیدنا ابن زیبر رضی اللہ عنہ نے بناء کی وہ ان ہی بنیادوں پر کی جس کو معتبر لوگ مکہ کے دیکھ چکے ہیں (یعنی بنائے ابراہیم علیہ السلام پر کی) سو عبدالملک نے اس کو جواب لکھا کہ ہم کو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی لت پت سے کچھ نہیں اور تم ایسا کرو جو انہوں نے طول میں زیادہ کر دیا ہے اس کو تو رہنے دو اور جو حطیم کی طرف سے زیادہ کیا ہے اس کو نکال ڈالو اور پھر حالت اولیٰ پر بنا دو اور وہ دروازہ بند کر دو جو کہ انہوں نے زیادہ کھولا ہے غرض حجاج نے اسے توڑ کر بنائے اول پر بنا دیا۔
Hadith in Arabic
حدثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حدثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ أَوْ يُحَرِّبَهُمْ عَلَى أَهْلِ الشَّامِ ، فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْكَعْبَةِ أَنْقُضُهَا ، ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا ، أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْيٌ فِيهَا أَرَى أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَى مِنْهَا وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ مَا رَضِيَ حَتَّى يُجِدَّهُ ، فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ ، إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا ، ثُمَّ عَازِمٌ عَلَى أَمْرِي ، فَلَمَّا مَضَى الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا ، فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ ، فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً ، فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَتَابَعُوا ، فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ ، فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ وَلَيْسَ عَنْدِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ ، لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ " ، قَالَ : فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ ، قَالَ : فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ حَتَّى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، فَبَنَى عَلَيْهِ الْبِنَاءَ وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا ، فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ ، فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشْرَ أَذْرُعٍ ، وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ ، وَالْآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ ، فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، كَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ، يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ ، وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَاءَ عَلَى أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَيْءٍ ، أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ ، وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ ، وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ فَنَقَضَهُ ، وَأَعَادَهُ إِلَى بِنَائِهِ .
- Previous Hadith
- Hadith No. 3245 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
حج کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 2938
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اسی مضمون کی جو اوپر بیان ہوا لیکن اس میں «دَخَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى عَائِشَةَ» سے اوپر کے الفاظ نہیں ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2818
عبید بن جریج نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ اے ابو عبدالرحمٰن! میں نے تم کو چار باتیں کرتے دیکھا ہے کہ تمہارے اور یاروں میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وہ کیا ہیں؟“ اے بیٹے جریج کے!مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3250
کہا مسلم رحمہ اللہ نے روایت کی ہم سے یہی حدیث ابوبکر بن ابوشیبہ نے، ان سے عبیداللہ یعنی ابن موسیٰ نے، ان سے شیبان نے، ان سے اشعث نے، ان سے اسود نے، ان سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے کہا: پوچھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجر کو اور بیان کی حدیث ابوالاحوص ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3215
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3305
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے مکہ کی فتح دی اپنے رسول کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا: ”اللہ پاک نے اصحاب فیل کو مکہ سے روک دیا اور اپنے رسول کو مؤمنوں کو اس کا حاکم فرمایا اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3045
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ میں نہ جاتے جب تک ذی طویٰ میں رات کو نہ رہتے پھر جب وہاں صبح ہو جاتی نہاتے پھر داخل ہوتے دن کو اور ذکر کرتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2841
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں خوشبو لگاتی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبل احرام کے اور نحر کے دن (یعنی بعد رمی جمرہ عقبہ کے) قبل اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف افاضہ کریں بیت اللہ کا اور اس خوشبو میں مسک ہوتا تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3391
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں پیدل اور سوار آیا کرتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2895
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگائے مکہ کی راہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باند ھے ہوۓ تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2983
یہ حدیث چند الفاظ کے اختلاف سے اس سند کے ساتھ بھی آئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3159
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نحر کے دن خطبہ پڑھا اور ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! آگے وہی مضمون ہے جو اوپر کی روایتوں میں کئی بار گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3107
ہشام بن عروہ سے اسی اسناد سے وہی مضمون مروی ہوا مگر حمید کی روایت میں یہ ہے کہ ہشام نے کہا کہ نص جو اونٹنی کی چال ہے وہ عنق سے تیز ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2866
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ان کو قتل کرنے کا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2883
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2838
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ارادہ کرتے احرام کا تو عمدہ سے عمدہ خوشبو لگاتے جو پاتے، پھر میں دیکھتی تھی چمک تیل کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں احرام باندھنے کے بعد۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3266
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ کسی مسلمان عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ایک رات کی مسافت طے کرے سوائے اس کے کہ اس کا کوئی محرم ساتھ ہو۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2806
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ اور شام اور نجد والوں کی میقات ویسی ہی روایت کی اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میقات اہل یمن کی یلملم ہے۔“ مگر میں نے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3363
سیدنا ابوہریرہ و سعد رضی اللہ عنہما دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللَّهُمَّ بَارِكْ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِى مُدِّهِمْ» کہ ”یا اللہ برکت دے مدینہ والوں کے مُد میں۔“ اور آگے وہی مضمون بیان ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3220
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگوں کو حکم ہوا ہے کہ آخر میں بیت اللہ کے پاس سے ہو کر جائیں (یعنی طواف کر کے) اور حائضہ پر تخفیف ہو گئی (یعنی طواف وداع کے لیے)۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3074
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ طواف کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا حجتہ الوداع میں اپنی اونٹنی پر اور حجر کو اپنی چھڑی سے چھوتے تھے تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونچے ہو جائیں ..مکمل حدیث پڑھیئے