Hadith no 3500 Of Sahih Muslim Chapter Nikah Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Marriage)
Read Sahih Muslim Hadith No 3500 - Hadith No 3500 is from Problems And Commands About Marriage , Nikah Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 3500 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Marriage briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 3500 from Problems And Commands About Marriage in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 3500
| Hadith No | 3500 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Problems And Commands About Marriage |
| Roman Name | Nikah Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | النِّكَاحِ |
| Urdu Name | نکاح کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ردیف تھا سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا خیبر کے دن اور قدم میرا چھو جاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم سے، پھر پہنچے ہم اہل خیبر کے پاس جب آفتاب نکلا اور ان لوگوں نے اپنے چارپایوں کو نکالا تھا۔ اور وہ اپنے کدال اور ٹوکری اور پھاوڑے لے کر نکلے اور کہنے لگے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خمیس یعنی دونوں آ گئے کہاراوی نے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خراب ہوا خیبر اور جب ہم اترتے ہیں کسی قوم کے آنگن میں سو برا انجام ہوتا ہے ڈرائے گئے لوگوں کا۔“ اور اللہ تعالٰی نے ان کو شکست دی اور دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک باندی خوبصورت آئی اور خرید لیا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات شخصوں کے بدلے میں اور پھر سپرد کیا اس کو ام سلیم رضی اللہ عنہا کےکہ سنگار کر دیں ان کا اور تیار کر دیں ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ اور کہا راوی نے کہ گمان کرتا ہوں میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے ان کے سپرد کیا کہ وہ ان کے گھر میں عدت پوری کرے یعنی ایک حیض کے ساتھ استبراء ان کا ہو جو حکم ہے باندی کا اور یہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیٹی تھیں حیی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا ولیمہ کیا کھجور اور اقط سے اور گھی سے اور زمین میں کئی گڑھے کھودے گئے اور اس میں دستر خوان چمڑے کا بچھا دیا گیا، گڑھے اس لیے کھودے کہ گھی ادھر ادھر نہ جانے پائے اور اقط اور گھی لائے اور اس میں ڈال دیا۔ اور لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا اور لوگ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا یا ان کو ام ولد بنایا پھر لوگوں نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چھپایا تو جانو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں اور اگر نہ چھپایا تو جانو کہ ام ولد ہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہونے لگےتو ان پر پردہ کیا اور وہ اونٹ کے سرین پر بیٹھیں، سو لوگوں نے جان لیا کہ ان سے نکاح کیا ہے پھر جب مدینہ کے قریب پہنچ گئے جلدی چلایا اونٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور جلدی چالایا ہم نے اور ٹھوکر کھائی عضباء اونٹنی نے یہ نام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گرے اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی گریں سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ان پر پردہ کر لیا اور عورتیں دیکھنے لگیں اور کہنے لگیں اللہ دور کرے یہودیہ کو۔ کہا راوی نے میں نے کہا اے حمزہ،کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں سیدہ زینب ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں بھی حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو آسودہ اور سیر کر دیا روٹی اور گوشت سے اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتے تھے کہ لوگوں کو بلا لاؤں پھر جب کھلانے سے فارغ ہو چکے۔ کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوا دو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں رہ گئے (یعنی جہاں زینب تھیں) اور ان کو باتوں نے بٹھا رکھا اور وہ نہ نکلے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیبیوں کے حجروں پر جاتے تھے اور ہر ایک پر سلام کرتے تھے اور فرماتے تھے:کہ ”کیسے ہو تم اے گھر والو!“ وہ کہتی تھیں کہ ہم خیریت سے ہیں، اے رسول اللہ کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بی بی کو کیسا پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کہ ”خیر سے ہیں۔“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کی خیر و عافیت پوچھنے سے فارغ ہوئے لوٹے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹا اور جب دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ دونوں شخص موجود ہیں اور باتوں میں مشغول ہیں۔ پھر جب ان دونوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے، کھڑے ہو گئے اور باہر نکلے سو اللہ کی قسم ہے کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری کہ وہ دونوں شخص چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ کر آئے یعنی حجرہ زینب پر اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر رکھا دروازے کی چوکھٹ پر، پردہ ڈال دیا میرے اور اپنے بیچ میں اور یہ آیت مبارک اتری «لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ» ”نہ داخل ہو تم نبی کے گھر میں مگر جب ان کی طرف سے اجازت ہو تم کو۔“
Hadith in Arabic
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَفَّانُ ، حدثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حدثنا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ ، وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ ، وَمَكَاتِلِهِمْ ، وَمُرُورِهِمْ ، فقَالُوا : مُحَمَّدٌ ، وَالْخَمِيسُ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، قَالَ : وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ ، قَالَ : وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ، قَالَ : وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ ، وَالْأَقِطَ ، وَالسَّمْنَ ، فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ ، فَوُضِعَتْ فِيهَا وَجِيءَ بِالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ ، فَشَبِعَ النَّاسُ ، قَالَ : وَقَالَ النَّاسُ : لَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ ؟ قَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا ، فَقَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَفَعَنْا ، قَالَ : فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ ، وَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ فَقَامَ فَسَتَرَهَا وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ ، فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ؟ قَالَ : إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ . (حديث موقوف) قَالَ أَنَسٌ : وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا ، وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ ، فَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا ، فَجَعَلَ يَمُرُّ عَلَى نِسَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ : " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَيْفَ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ ؟ " ، فَيَقُولُونَ : بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ ؟ : فَيَقُولُ : بِخَيْرٍ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَمْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ : لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ سورة الأحزاب آية 53 الْآيَةَ " .
- Previous Hadith
- Hadith No. 3500 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
نکاح کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 3474
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث اسی طرح مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3431
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا متعہ سے عورتوں کے اور پلے ہوئے شہری گدھوں کا گوشت کھانے سے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3539
شعبہ سے یہی مضمون مروی ہے اس میں ہے کہ ”لعنت کرتے ہیں اس کو فرشتے یہاں تک کہ لوٹ کر شوہر کے بچھونے پر آئے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3480
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھ سے عقد کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں چھ برس کی تھی اور مجھ سے ہم بستر ہوئے جب میں نو برس کی تھی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3565
سیدنا جدامہ رضی اللہ عنہ سے اول وہی مضمون غیلہ کا مروی ہوا پھر یہ ہے کہ پوچھا لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ یہ وأو خفی ہے۔“ عبیداللہ کی روایت میں ہے مقری سے کہ آپ مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3509
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو ضرور آئے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3542
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ برا لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہے جو اپنی عورت کے پاس جائے اور عورت اس کے پاس آئے (یعنی صحبت کرے) اور پھر اس کا بھید ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3456
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث آئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3519
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3559
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اترتا تھا اور اسحٰق کی روایت میں یہ بھی ہے کہ سفیان نے کہا کہ اگر عزل برا ہوتا تو قرآن میں اس کی نہی اترتی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3534
مضمون وہی ہے مگر شعبہ کی روایت میں «بِاسْمِ اللَّهِ» کا لفظ نہیں اور عبدالرزاق کی روایت میں ہے اور ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ منصور نے کہا کہ خیال کرتا ہوں میں کہ انہوں نے «بِاسْمِ اللَّهِ» کہا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3538
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت رات کو اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر الگ رہتی ہے تو فرشتے اس کو لعنت کرتے رہتے ہیں صبح تک۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3460
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ سوائے اس کے کہ اس میں یہ زیادہ ہے کہ کوئی بھائی اپنے بھائی کی بیع پر بولی نہ بڑھائے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3458
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس سے کہ شہر والا مال بیچ دے گاؤں والے کا اور منع فرمایا اس سے کہ آپس میں لاڑھیا پن کرو اور اس سے کہ پیغام نکاح دے کوئی اپنے بھائی کے پیغام پر یا بیچے کوئی اپنے بھائی کی بیع پر اور نہ مانگے طلاق ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3523
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سب سے برا کھانا ولیمے کا کھانا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3483
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ عقد کیا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں، ہم بستر ہوئے مجھ سے شوال میں اور کون سی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مجھ سے بڑھ کر پیاری تھی اور سیدہ عائشہ صدیقد رضی اللہ عنہا ہمیشہ دوست رکھتی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3484
اور روایت کی ہم سے ابن نمیر نے، ان سے ان کے باپ نے، ان سے سفیان نے اسی اسناد سے اور نہیں ذکر کیا اس میں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دوست رکھتی تھیں کہ ان کے قبیلہ کی عورتوں سے شوال میں ہم بستری کی جائے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3400
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ”اے جوانوں کے گروہ! تم میں سے جو خرچ کی طاقت رکھے وہ نکاح کر لے اس لیے کہ نکاح آنکھوں کو نیچا کر دیتا ہے اور فرج (شرمگاہ کو) زنا وغیرہ سے بچا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3510
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بلایا جائے کوئی تم میں کا ولیمہ کی طرف چاہئیے کہ قبول کرے۔“ راوی نے کہا: عبیداللہ اس سے ولیمہ نکاح کا مراد لیتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3413
سیدنا جابر اور سلمہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی نکلا اور اس نے پکارا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے