Hadith no 403 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)

Read Sahih Muslim Hadith No 403 - Hadith No 403 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 403 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 403 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 403

Hadith No 403
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Faith
Roman Name Emaan Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْإِيمَانِ
Urdu Name ایمان کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: پہلے پہل جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع ہوئی، وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہونے لگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح نمودار ہوتا۔ پھر آپ کو تنہائی کا شوق ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرا کے غار میں اکیلے تشریف رکھتے۔ وہاں عبادت کیا کرتے کئی راتوں تک اور گھر میں نہ آتے۔ اتنا توشہ ساتھ لے جاتے، پھر ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ کر آتے وہ اور توشہ اتنا ہی تیار کر دیتیں یہاں تک کہ اچانک آپ پر وحی اتری (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی توقع نہ تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حرا کے غار میں تھے، کہ فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پڑھا ہوا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس فرشتے نے مجھے پکڑ کر دبوچا اتنا کہ وہ تھک گیا یا میں تھک گیا۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھ میں نے کہا: میں پڑھا ہوا نہیں۔ اس نے پھر مجھے پکڑا اور دبوچا یہاں تک کہ تھک گیا۔ پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ۔ میں نے کہا: میں پڑھا ہوا نہیں۔ اس نے پھر مجھ کو پکڑا اور دبوچا یہاں تک کہ تھک گیا۔ پھر چھوڑ دیا اور کہا: «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» یعنی ”پڑھ اپنے مالک کا نام لے کر جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹکی سے۔ پڑھ اور تیرا مالک بڑی عزت والا ہے، جس نے سکھلایا قلم سے، سکھلایا آدمی کو وہ جو نہیں جانتا تھا“۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے اور گردن کے بیچ کا گوشت پھڑک رہا تھا۔ (ڈر اور خوف سے چونکہ یہ وحی کا پہلا مرتبہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عادت نہ تھی، اس واسطے ہیبت چھا گئی) یہاں تک کہ پہنچے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ڈھانپ دو، ڈھانپ دو“ (کپڑوں سے) انہوں نے ڈھانپ دیا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا اس وقت اپنی بی بی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اے خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا“ اور سب حال بیان کیا کہا: ”مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں آپ خوش ہو جائیے۔ قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا یا کبھی رنجیدہ نہ کرے گا، آپ اللہ کی قسم ناتے کو جوڑتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں (یعنی عیال اور اطفال اور یتیم اور مسکین کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کا بار اٹھاتے ہیں) اور نادار کیلئے کمائی کرتے ہیں، اور خاطر داری کرتے ہیں مہمان کی اور سچی آفتوں میں (جیسے کوئی قرض دار ہو گیا یا مفلس ہو گیا یا اور کوئی تباہی آئی) مدد کرتے ہیں لوگوں کی۔“ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے (کیونکہ ورقہ، نوفل کے بیٹے تھے اور نوفل، اسد کے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا خویلد کی بیٹی تھیں اور خویلد، اسد کے بیٹے تھے تو ورقہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے باپ بھائی بھائی تھے) اور جاہلیت کے زمانے میں وہ نصرانی ہو گئے تھے اور عربی لکھنا جانتے تھے تو انجیل کو عربی میں لکھتے تھے جتنا اللہ کو منظور تھا۔ اور بہت بوڑھے تھے۔ ان کی بینائی جاتی رہی تھی (بڑھاپے کی وجہ سے) سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے چچا! (وہ چچا کے بیٹے تھے مگر بزرگی کیلئے ان کو چچا کہا اور ایک روایت میں چچا کے بیٹے ہیں) اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے کہا: اے بھتیجے میرے! تم کیا دیکھتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیفیت دیکھی تھی۔ سب بیان کی۔ ورقہ نے کہا یہ تو وہ ناموس ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی۔ کاش میں اس زمانہ میں جوان ہوتا کاش میں زندہ رہتا اس وقت تک جب تمہاری قوم تم کو نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ مجھے نکال دیں گے۔“ ورقہ نے کہا: ہاں جب کوئی شخص دنیا میں وہ لے کر آیا جس کو تم لائے ہو (یعنی شریعت اور دین) تو لوگ اس کے دشمن ہو گئے اور جو میں اس دن کو پاؤں گا تو اچھی طرح تمہاری مدد کروں گا۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا ، قَالَتْ : " كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ ، الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ ، فَكَانَ يَخْلُ وَبِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ ، وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُولَاتِ الْعَدَدِ ، قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، قَالَ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، قَالَ : فَأَخَذَنِي ، فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، قَالَ : فَأَخَذَنِي ، فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، فَقُلْتُ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ { 1 } خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ { 2 } اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ { 3 } الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ { 4 } عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ { 5 } سورة العلق آية 1-5 فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ ، فَقَالَ : زَمِّلُونِي ، زَمِّلُونِي ، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ، ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ : أَيْ خَدِيجَةُ : مَا لِي ، وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ " ، قَالَ : لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ : كَلَّا أَبْشِرْ ، فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ، وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ ، حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ ابْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا ، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ : أَيْ عَمِّ ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَاذَا تَرَى ؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَآهُ ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ : هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا ، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ ، قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ ، قَالَ وَرَقَةُ : نَعَمْ ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا .

Your Comments/Thoughts ?

ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 412

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس فرشتے آئے اور مجھے لے گئے زم زم کے پاس، پھر چیرا گیا سینہ میرا اور دھویا گیا زم زم کے پانی سے، پھر چھوڑ دیا گیا میں اپنی جگہ پر۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 385

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک پیغمبر کو وہی معجزے ملے ہیں جو اس سے پہلے دوسرے پیغمبر کو مل چکے تھے پھر ایمان لائے اس پر آدمی لیکن مجھ کو جو معجزہ ملا وہ قرآن ہے جو اللہ نے بھیجا میرے پاس مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 454

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم دیکھیں گے اپنے پروردگار کو قیامت کے دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دیکھو گے۔ تم کو کچھ تکلیف ہوتی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 162

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تھے: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان بچے رہیں۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 148

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے سواری پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ!“، انہوں نے کہا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور فرمانبردار ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 166

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں تین باتیں ہوں گی، وہ ایمان کا مزہ پائے گا۔ جو شخص کسی سے دوستی رکھے پھر اس سے دوستی نہ رکھتا ہو مگر اللہ کے لئے (اللہ کا نیک بندہ سمجھ کر) اور جو شخص اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 490

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک دعا ہوتی ہے جس کو وہ مانگتا ہے۔ میرا ارادہ ہے بشرطیکہ اللہ چاہے میں اس دعا کو چھپا رکھوں اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت کے دن۔“ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 267

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں نہ جائے گا، وہ شخص جس کے دل میں رتی برابر غرور ہو۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 286

‏‏‏‏ اعمش کی سند میں یہ لفظ روایت ہیں کہ ” گریبان پھاڑنا اور جاہلیت والے جملے بولنا۔ “مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 237

‏‏‏‏ عدی بن ثابت سے روایت ہے، میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حدیث بیان کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، انصار کے متعلق کہ ”ان کا دوست مومن ہے اور ان کا دشمن منافق ہے اور جس نے ان ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 176

‏‏‏‏ ابو شریح خزاعی (خویلد بن عمرو، یا عبدالرحمٰن، یا عمرو بن خویلد، یا ہانی بن عمرو کعب) سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے ہمسایہ کے ساتھ نیکی کرے اور جو شخص اللہ پر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 482

‏‏‏‏ سیدنا ابو ہریرہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا۔ مسلمان کھڑے رہیں گے یہاں تک کہ جنت ان کے پاس آ جائے گی، پھر وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: ابا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 397

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مزید کئی سندوں سے مذکورہ حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 218

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنے باپوں سے نفرت مت کرو (یعنی اپنے باپ کو باپ کہو، دوسرے کو باپ مت بناؤ) جو شخص اپنے باپ سے نفرت کرے وہ کافر ہو گیا۔“ (اس کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 377

‏‏‏‏ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گنو کتنے آدمی اسلام کے قائل ہیں۔“ پھر ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ ڈرتے ہیں ہم پر (کوئی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 486

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا اور دروازہ کھلواؤں گا چوکیدار پوچھے گا: تم کون ہو؟ میں کہوں گا: محمد! وہ کہے گا: آپ ہی کے واسطے مجھے حکم ہوا تھا کہ آپ سے پہلے کسی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 310

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے خیبر کی طرف پھر اللہ نے فتح دی ہم کو، تو نہیں لوٹا ہم نے چاندی اور سونا (یعنی چاندی اور سونا ہاتھ نہیں آیا) بلکہ لوٹا ہم نے اسباب اور اناج اور کپڑے پھر ہم چلے وادی کی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 476

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے، اس میں یہ ہے کہ ”میں اپنے پروردگار کے پاس چوتھی مرتبہ آؤں گا اور عرض کروں گا اے پروردگار! اب تو دوزخ میں کوئی باقی نہیں رہا۔ مگر جس کو قرآن نے روک رکھا“ (یعنی قرآن کے بموجب وہ ہمیشہ دوزخ میں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 199

‏‏‏‏ سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے پر اور زکوٰۃ دینے پر اور ہر مسلمان کی خیرخواہی پر بیعت کی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 219

‏‏‏‏ ابوعثمان (نہدی عبدالرحمٰن بن مل) سے روایت ہے جب زیاد کا دعویٰ کیا گیا تو ابوبکرہ سے ملا، (زیاد ان کا مادری بھائی تھا) اور میں نے کہا: تم نے یہ کیا کیا (یعنی تمہارے بھائی نے) میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے میرے ..مکمل حدیث پڑھیئے