Hadith no 4664 Of Sahih Muslim Chapter Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe (Methods adopted by Prophet SAW about and during Jihad)
Read Sahih Muslim Hadith No 4664 - Hadith No 4664 is from Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad , Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 4664 of Imam Muslim covers the topic of Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 4664 from Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 4664
| Hadith No | 4664 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Methods Adopted By Prophet SAW About And During Jihad |
| Roman Name | Jihad Aur Us Ke Doraan Rasool SAW Ke Ikhtiar Kerda Tareeqe |
| Arabic Name | الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ |
| Urdu Name | جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے |
Urdu Translation
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون مارتا ہے کعب بن اشرف کو، بیشک اس نے ستا رکھا ہے اللہ کو اور اس کے رسول کو۔“ (سیرۃ ابن ہشام میں ہے کہ کعب نے پہلے جا کر مشرکوں کو ترغیب دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کی، پھر مدینہ آ کر مسلمانوں کی عورتوں پر غزلیں کہنا اور ہجو کرنے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔) محمد بن مسلمہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں مار ڈالوں اس کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ محمد بن مسلمہ نے کہا: تو اجازت دیجئیے مجھ کو کہنے کی (یعنی میں اس سے جیسے مصلحت ہو ویسی باتیں کروں گو ظاہر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی بھی ہو تاکہ وہ میرا اعتبار کرے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ“ (جو مصلحت ہو۔) پھر محمد بن مسلمہ نے کعب سے باتیں کیں۔ اپنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بیان کیا اور کہا کہ اس شخص نے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) صدقہ لینے کا قصد کیا ہے اور ہم کو تکلیف میں ڈالا ہے، (یہ تعریض ہے جس کا ظاہری معنی اور ہے اور دراصل مطلب صحیح ہے کہ شرع کے احکام ہم پر جاری کیے اور ان کے بجا لانے میں نفس کو تکلیف ہوتی ہے) جب کعب نے یہ سنا تو کہنے لگا، ابھی اور قسم اللہ کی تم کو تکلیف ہو گی۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: اب تو ہم اس کے شریک ہو چکے اور اب اس کو چھوڑ دینا بھی برا معلوم ہوتا ہے جب تک ہم اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: میں یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھ کو کچھ قرض دو۔ کعب نے کہا: اچھا تم کیا چیز گروی کرو گے۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو۔ کعب نے کہا: اپنی عورتیں گروی کرو۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: تم تو عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت ہو ہم اپنی عورتیں تمہارے پاس کیوں کر گروی کریں۔ کعب نے کہا اچھا اپنی اولاد گروی رکھو۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: ہمارے لڑکے کو لوگ برا کہیں گے کہ کھجور کے دو وسق پر گروی ہوا تھا۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس گروی کریں گے (اس میں یہ مصلحت تھی کہ ہتھیار لے کر اس مردود کے پاس جا سکیں اور اس کو قتل کریں) کعب نے کہا: اچھا، پھر محمد بن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ میں حارث (بن اوس) کو اور ابوعبس بن جبر عبدالرحمٰن اور عباد بن بشر کو لے آؤں گا (سیرۃ ابن ہشام میں ہے کہ ابونائلہ سلکان بن سلامہ بن وقش جو کعب کے رضائی بھائی تھے وہ بھی گئے۔ یہ سب لوگ آئے اور اس کو بلایا رات کو۔ وہ اترا اپنے بالا خانے پر سے) سوائے عمرو کے دوسروں کی روایت میں یہ ہے کہ اس کی عورت نے کہا: یہ آواز تو خونی آواز معلوم ہوتی ہے۔ کعب نے کہا: واہ! یہ تو محمد بن مسلمہ ہیں اور ان کے رضاعی بھائی اور ابونائلہ ہیں (نووی رحمہ اللہ نے کہا: صحیح یوں ہے کہ محمد بن مسلمہ ہیں اور ان کے رضاعی بھائی ابونائلہ بخاری کی روایت میں ہے کہ کعب نے کہا: واہ! یہ تو میرے بھائی محمد بن مسلمہ ہیں اور میرے دودھ شریک بھائی ابونائلہ ہیں۔ اور یہی صحیح ہے جیسا سرۃ ابن ہشام سے معلوم ہوتا ہے) اور جوان مرد کا کام یہ ہے کہ اگر رات کو زخم مارنے کے لیے بھی اس کو بلایا جائے تو چلا آئے محمد نے (اپنے یاروں سے) کہا: جب کعب آئے گا تو میں اپنا ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھاؤں گا اور جب اچھی طرح اس کے سر کو تھام لوں تو تم اپنا کام کرنا۔ پھر کعب اترا، چادر کو بغل کے تلے کئے ہوئے، ان لوگوں نے کہا: کیسی عمدہ خوشبو ہے جو تم میں سے آ رہی ہے۔ کعب نے کہا: ہاں! میرے پاس فلانی عورت ہے وہ عرب کی سب عورتوں سے زیادہ معطر رہتی ہے۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: اگر تم اجازت دو تو میں تمہارا سر سونگھوں، کعب نے کہا: اچھا محمد نے اس کا سر سونگھا، پھر پکڑ کر سونگھا، پھر کہا: اگر اجازت دو تو پھر سونگھوں اور زور سے اس کا سر تھاما اور ساتھیوں سے کہا: لو، انہوں نے اس کو تمام کیا۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ الزُّهْرِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِلزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : ائْذَنْ لِي ، فَلْأَقُلْ قَالَ : قُلْ فَأَتَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : وَذَكَرَ مَا بَيْنَهُمَا ، وَقَالَ : إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَرَادَ صَدَقَةً وَقَدْ عَنَّانَا ، فَلَمَّا سَمِعَهُ ، قَالَ : وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ ، قَالَ : إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ الْآنَ ، وَنَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ ، قَالَ : وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ تُسْلِفَنِي سَلَفًا ، قَالَ : فَمَا تَرْهَنُنِي ؟ ، قَالَ : مَا تُرِيدُ ؟ ، قَالَ : تَرْهَنُنِي نِسَاءَكُمْ ، قَالَ : أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ أَنْ نَرْهَنَكَ نِسَاءَنَا ؟ ، قَالَ لَهُ : تَرْهَنُونِي أَوْلَادَكُمْ ، قَالَ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا : فَيُقَالُ : رُهِنَ فِي وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ وَلَكِنْ نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ يَعْنِي السِّلَاحَ ، قَالَ : فَنَعَمْ وَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِالْحَارِثِ ، وَأَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ ، وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ ، قَالَ : فَجَاءُوا فَدَعَوْهُ لَيْلًا ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ، قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ : غَيْرُ عَمْرٍو ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : إِنِّي لَأَسْمَعُ صَوْتًا كَأَنَّهُ صَوْتُ دَمٍ ، قَالَ : إِنَّمَا هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، وَرَضِيعُهُ وَأَبُو نَائِلَةَ ، إِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَى طَعْنَةٍ لَيْلًا لَأَجَابَ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : إِنِّي إِذَا جَاءَ فَسَوْفَ أَمُدُّ يَدِي إِلَى رَأْسِهِ ، فَإِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَدُونَكُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا نَزَلَ نَزَلَ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ ، فَقَالُوا : نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الطِّيبِ ، قَالَ : نَعَمْ تَحْتِي فُلَانَةُ هِيَ أَعْطَرُ نِسَاءِ الْعَرَبِ ، قَالَ : فَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشُمَّ مِنْهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَشُمَّ ، فَتَنَاوَلَ فَشَمَّ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَعُودَ ؟ ، قَالَ : فَاسْتَمْكَنَ مِنْ رَأْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ : دُونَكُمْ ، قَالَ : فَقَتَلُوهُ " .
- Previous Hadith
- Hadith No. 4664 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے سے مزید احادیث
حدیث نمبر 4658
اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ دونوں حدیثوں کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4626
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4527
اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی شعبہ کی حدیث کی طرح منقل ہے۔ اور زید بن ابی انیسہ کی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ اتفاق سے کام کرو۔ اختلاف مت کرو۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4520
ابن عون سے بھی مذکورہ بالا حدیث اس سند سے مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4563
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے ہمارے حصہ کے خمس میں سے زیادہ دیا تو میرے حصہ میں ایک شارف آیا شارف کہتے ہیں بڑے مسنہ اونٹ کو۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4696
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ جہاد کیے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4560
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4575
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنی نضیر کے مال ان مالوں میں سے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیے اور مسلمانوں نے اس پر چڑھائی نہیں کی گھوڑوں اور اونٹوں سے۔ ایسے مال خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4618
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4526
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بھیجا یمن کی طرف تو فرمایا ”آسانی کرو، دشواری اور سختی مت کرو، خوش کرو اور نفرت مت دلاؤ اور اتفاق سے کام کرو، پھوٹ مت کرو۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4650
امیہ بن خلف یا ابی بن خلف کو (شعبہ جو راوی ہے اس حدیث کا اس کو شک ہے) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے ان سب لوگوں کو دیکھا، مارے گئے بدر کے دن اور کنوئیں میں پھینک دیئے گئے مگر امیہ یا اُبی اس کے ٹکڑے ٹکڑے الگ ہو گئے تھے اس لیے وہ کنویں میں نہیں ڈالا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4668
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے خیبر کی طرف تو رات کو چلے۔ ایک شخص ہم میں سے بولا: اے عامر بن اکوع! (میرے بھائی کو) کچھ اپنے شعر نہیں سناتے (تاکہ راستہ کٹے اور جی نہ گھبرائے (نووی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4666
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار تھا خیبر کے دن اور میرا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے چھو رہا تھا۔ پھر ہم ان کے پاس پہنچے آفتاب نکلتے ہی۔ انہوں نے اپنے جانوروں کو باہر نکالا اور کلہاڑیوں اور زنبیلیں اور کدالیں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4633
سہل بن حنیف صفین کے روز (جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ میں جنگ تھی) کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! اپنا قصور سمجھو۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جس دن صلح ہوئی حدیبیہ کی اگر ہم لڑائی چاہتے تو لڑتے اور یہ اس صلح کا ذکر ہے جو رسول اللہ مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4614
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4634
شقیق سے روایت ہے، میں نے سہل بن حنیف سے سنا، وہ کہتے تھے صفین میں اے لوگو! اپنی عقلوں کا قصور سمجھو، قسم اللہ کی تم دیکھتے مجھ کو ابوجندل کے روز (یعنی حدیبیہ کے دن ابوجندل کا نام عاص بن سہیل بن عمرو تھا) اگر میں طاقت رکھتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4616
ابواسحاق سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا حنین کے دن تم بھاگ گئے تھے اے ابوعمارہ! انہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ نہیں موڑا لیکن چند جلد باز لوگ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4694
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انیس جہاد کیے اور میں بدر اور احد میں شریک نہ تھا، میرے باپ نے مجھے جانے نہیں دیا پھر جب میرے باپ مارے گئے احد کے دن تو میں کسی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4558
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا، میں بھی اس میں تھا نجد کی طرف، وہاں بہت سے اونٹ لوٹ میں آئے تو ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ آئے اور ایک ایک اونٹ انعام میں ملا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 4605
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے ایک تھیلی پائی چربی کی خیبر کے دن۔ میں نے اس کو دبا لیا اور کہنے لگا، اس میں سے تو میں آج کسی کو نہ دوں گا پھر مڑ کر جو دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ سن کر) تبسم فرما رہے تھے میرے اس کہنے ..مکمل حدیث پڑھیئے