Hadith no 415 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)
Read Sahih Muslim Hadith No 415 - Hadith No 415 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 415 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 415 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 415
| Hadith No | 415 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Problems And Commands About Faith |
| Roman Name | Emaan Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الْإِيمَانِ |
| Urdu Name | ایمان کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”توڑا گیا چھت میرے مکان کا اور میں مکے میں تھا اور جبرئیل علیہ السلام اترے انہوں نے میرا سینہ چیرا، پھر اس کو دھویا زمزم کے پانی سے پھر ایک طشت لائے سونے کا جس میں حکمت اور ایمان بھرا ہوا تھا اور انڈیل دیا اس کو میرے سینہ میں بعد اس کے ملا دیا سینے کو اور میرا ہاتھ پکڑا اور آسمان پر پہنچے تو جبرئیل علیہ السلام نے وہاں کے کلید بردار سے کہا کھول۔ اس نے پوچھا: کون ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: جبرئیل۔ پوچھا: اور بھی کوئی تیرے ساتھ ہے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ کہا: ہاں۔ تب اس نے دروازہ کھولا۔ جب ہم آسمان کے اوپر گئے تو ایک شخص کو دیکھا جس کی داہنی طرف بھی جھنڈ تھی (روحوں کی) اور بائیں طرف جھنڈ تھی وہ جب داہنی طرف دیکھتے تو ہنستے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو روتے۔ اس نے مجھے دیکھ کر کہا: مرحبا اے نیک بخت نبی اور نیک بخت بیٹے۔ میں نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ آدم علیہ السلام ہے اور یہ جو لوگوں کے جھنڈ ان کے دائیں اور بائیں ہیں یہ ان کی اولاد ہے تو داہنی طرف وہ لوگ ہیں جو جنت میں جائیں گے اور بائیں طرف وہ لوگ ہیں جو جہنم میں جائیں گے اس لئے جب وہ داہنی طرف دیکھتے ہیں تو (خوشی کے مارے) ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج کے مارے) رو دیتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرئیل مجھ کو لے کر چڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور اس کے چوکیدار سے کہا دروازہ کھول۔ اس نے بھی ایسا ہی کہا: جیسے پہلے آسمان کے چوکیدار نے کہا تھا پھر دروازہ کھولا۔“ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں پر آدم اور ادریس اور عیسیٰ اور موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات کی اور یہ بیان نہیں کیا کہ ان میں سے ہر ایک کون سے آسمان پر ملا مگر اتنا کہا کہ آدم علیہ السلام سے پہلے آسمان پر ملاقات ہوئی اور ابراہیم علیہ السلام سے چھٹے آسمان میں جب جبرئیل علیہ السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے مرحبا کہا، مرحبا اے نبی صالح اور بھائی صالح! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: یہ ادریس علیہ السلام ہیں، میں موسیٰ علیہ السلام پر سے گزرا، انہوں نے کہا، مرحبا اے نبی صالح اور بھائی صالح! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا:یہ موسٰی علیہ السلام ہیں پھر میں عیسیٰ علیہ السلام پر سے گزرا، انہوں نے کہا: مرحبا اے نبی صالح اور بھائی صالح! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ عیسٰی علیہ السلام ہیں مریم علیہ السلام کے بیٹے۔ پھر میں ابراہیم علیہ السلام پر گزرا، انہوں نے کہا: مرحبا اے نبی صالح اور بیٹے صالح! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ابن شہاب رحمۃ اللہ نے کہا: مجھ سے ابن حزم نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوحبہ انصاری رضی اللہ عنہ (عامر یا مالک یا ثابت) دونوں کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ”میں چڑھایا گیا ایک ہموار بلند مقام پر، وہاں میں سنتا تھا قلموں کی آواز۔“ ابن حزم اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، میں لوٹ کر آیا، جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا: اللہ نے کیا فرض کیا تمہاری امت پر۔ میں نے کہا: پچاس نمازیں ان پر فرض کیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تم پھر لوٹ جاوَ اپنے رب کے پاس کیونکہ تمہاری امت میں اس قدر طاقت نہیں میں لوٹ کر گیا اپنے پروردگار کے پاس اس نے ایک حصہ معاف کر دیا۔ پھر میں لوٹ کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور ان سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لوٹ جاؤ اپنے پروردگار کے پاس کیونکہ تمہاری امت کو اتنی طاقت نہیں، میں پھر لوٹ گیا اپنے پروردگار کے پاس۔ اس نے فرمایا: پانچ نمازیں ہیں اور وہ پچاس کے برابر ہیں میرے یہاں بات نہیں بدلتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پھر لوٹ کر آیا موسیٰ علیہ السلام کے پاس۔ انہوں نے کہا: پھر جاوَ اپنے پرودگار کے پاس میں نے کہا: مجھے شرم آئی اپنے پروردگار سے (بار بار عرض کرنے سے) پھر جبرائیل علیہ السلام مجھ کو لے کر چلے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اس پر ایسے رنگ چڑھ گئے۔ جن کو میں نہیں سمجھتا وہ کیا تھے، پھر مجھے جنت میں لے گئے، وہاں موتیوں کے گنبد تھے اور مٹی اس کی مشک تھی۔“
Hadith in Arabic
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَفَرَجَ صَدْرِي ، ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ ، فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام لِخَازِنِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا : افْتَحْ ، قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا جِبْرِيلُ ، قَالَ : هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مَعِيَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَفَتَحَ ، قَالَ : فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، فَإِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ ، قَالَ : فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى ، قَالَ : فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا آدَمُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى ، قَالَ : ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ ، حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا : افْتَحْ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا : مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَفَتَحَ ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ ، آدَمَ ، وَإِدْرِيسَ ، وَعِيسَى ، وَمُوسَى ، وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ ، أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، قَالَ : فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَّ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : هَذَا إِدْرِيسُ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا مُوسَى ، قَالَ : ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى ، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ِ إبْرَاهِيمُ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الأَنْصَارِيَّ ، كَانَا يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثُمَّ عَرَجَ بِي ، حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الأَقْلَامِ ، قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً ، قَالَ : فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام : مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً ، قَالَ لِي مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام : فَرَاجِعْ رَبَّكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : رَاجِعْ رَبَّكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَرَاجَعْتُ رَبِّي ، فَقَالَ : هِيَ خَمْسٌ ، وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّكَ ، فَقُلْتُ : قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ ، حَتَّى نَأْتِيَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى ، فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ ، قَالَ : ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤَ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ " .
- Previous Hadith
- Hadith No. 415 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 222
ایک اور سند سے ابووائل سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مثل۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 244
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی سجدہ کی آیت پڑھتا ہے پھر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا ایک طرف چلا جاتا ہے اور کہتا ہے خرابی ہو اس کی یا میری، آدمی کو سجدہ کا حکم ہوا اور اس نے سجدہ کیا، اب اس کو ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 279
صفوان بن محرز سے روایت ہے کہ جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو کہلا بھیجا جب سیدنا عبداللہ بن زیبر رضی اللہ عنہ کا فتنہ ہوا کہ تم اکٹھا کرو میرے لئے اپنے چند بھائیوں کو تاکہ میں ان سے باتیں کروں۔ عسعس نے لوگوں کو کہلا بھیجا۔ وہ اکٹھے ہوئے تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 503
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جب یہ آیت اتری، «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» ”ڈرا، تو اپنے کنبے والوں کو“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 392
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیسے ہو گے تم جب مریم علیہما السلام کا بیٹا اترے گا تم لوگوں میں اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 276
سیدنا مقداد بن عمرو بن اسود کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حلیف تھے بنی زہرہ کے (یعنی ان کی امان میں آئے تھے اور ان سے عہد کر چکے تھے) اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کیا سمجھتے ہیں۔ اگر میں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 126
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ گواہی دیں اس بات کی کہ کوئی معبود برحق نہیں سوا اللہ کے اور ایمان لائیں مجھ پر (کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 301
گزشتہ سند کے علاوہ راوی تین سندوں سے بیان کرتے ہیں شعبہ سے یہی حدیث۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 471
سیدنا حماد بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے سنا ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ”اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو جہنم سے نکالے گا شفاعت کی وجہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 353
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ (ایاس بن ثعلبہ انصاری حارثی یا عبداللہ بن ثعلبہ یا ثعلبہ بن عبداللہ) سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کا حق (مال ہو یا غیر مال جیسے مردے کی کھال گوبر وغیرہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 403
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: پہلے پہل جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع ہوئی، وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہونے لگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی خواب دیکھتے وہ صبح کی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 468
اعمش کی سند سے بھی یہ روایت آئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 360
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیا فرماتے ہیں اگر کوئی شخص آئے میرا مال (ناحق) لینے کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت دے اپنا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 393
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہو گا جب مریم علیہما السلام کے بیٹے اتریں گے تم میں اور امامت کریں گے تمہاری۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 527
حصین بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ میں سعید بن جبیر کے پاس تھا۔ انہوں نے کہا کہ تم میں سے کس نے اس ستارہ کو دیکھا جو کل رات کو ٹوٹا تھا۔ میں نے کہا: میں نے دیکھا کہ میں کچھ نماز میں مشغول نہ تھا (اس سے یہ غرض ہے کہ کوئی مجھ کو عابد، شب بیدار نہ خیال کرے) بلکہ مجھے بچھو نے ڈنگ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 136
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر جائے اور اس کو اس بات کا یقین ہو کہ کوئی لائق عبادت نہیں سوائے اللہ جل جلالہ کے تو وہ جنت میں جائے گا۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 350
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے لوگ ہر بات پوچھیں گے یہاں تک کہ یوں کہیں گے کہ اللہ نے تو ہر چیز کو پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 335
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ جل جلالہ نے فرمایا: جب میرا بندہ قصد کرتا ہے نیکی کرنے کا پھر کرتا نہیں اس کو تو میں اس کیلئے ایک نیکی لکھتا ہوں اور جو کرتا ہے اس نیکی کو تو ایک کے بدلے دس نیکیوں سے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 93
امام ابوالحسین مسلم بن الحجاج اس کتاب کے مؤلف فرماتے ہیں ہم شروع کرتے ہیں کتاب کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے اور اسی کو کافی سمجھ کر۔ اور نہیں ہے ہم کو توفیق دینے والا مگر اللہ تعالیٰ بڑا ہے جلال اس کا۔
یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے، سب سے پہلے جس نے تقدیر میں گفتگو کی بصرے میں (جو ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 528
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مجھ پر، امتیں پیش کی گئیں“ باقی حدیث وہی ہے جو اوپر گزری ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے