Hadith no 415 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)

Read Sahih Muslim Hadith No 415 - Hadith No 415 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 415 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 415 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 415

Hadith No 415
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Faith
Roman Name Emaan Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْإِيمَانِ
Urdu Name ایمان کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”توڑا گیا چھت میرے مکان کا اور میں مکے میں تھا اور جبرئیل علیہ السلام اترے انہوں نے میرا سینہ چیرا، پھر اس کو دھویا زمزم کے پانی سے پھر ایک طشت لائے سونے کا جس میں حکمت اور ایمان بھرا ہوا تھا اور انڈیل دیا اس کو میرے سینہ میں بعد اس کے ملا دیا سینے کو اور میرا ہاتھ پکڑا اور آسمان پر پہنچے تو جبرئیل علیہ السلام نے وہاں کے کلید بردار سے کہا کھول۔ اس نے پوچھا: کون ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: جبرئیل۔ پوچھا: اور بھی کوئی تیرے ساتھ ہے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ کہا: ہاں۔ تب اس نے دروازہ کھولا۔ جب ہم آسمان کے اوپر گئے تو ایک شخص کو دیکھا جس کی داہنی طرف بھی جھنڈ تھی (روحوں کی) اور بائیں طرف جھنڈ تھی وہ جب داہنی طرف دیکھتے تو ہنستے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو روتے۔ اس نے مجھے دیکھ کر کہا: مرحبا اے نیک بخت نبی اور نیک بخت بیٹے۔ میں نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ آدم علیہ السلام ہے اور یہ جو لوگوں کے جھنڈ ان کے دائیں اور بائیں ہیں یہ ان کی اولاد ہے تو داہنی طرف وہ لوگ ہیں جو جنت میں جائیں گے اور بائیں طرف وہ لوگ ہیں جو جہنم میں جائیں گے اس لئے جب وہ داہنی طرف دیکھتے ہیں تو (خوشی کے مارے) ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج کے مارے) رو دیتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرئیل مجھ کو لے کر چڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور اس کے چوکیدار سے کہا دروازہ کھول۔ اس نے بھی ایسا ہی کہا: جیسے پہلے آسمان کے چوکیدار نے کہا تھا پھر دروازہ کھولا۔“ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں پر آدم اور ادریس اور عیسیٰ اور موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات کی اور یہ بیان نہیں کیا کہ ان میں سے ہر ایک کون سے آسمان پر ملا مگر اتنا کہا کہ آدم علیہ السلام سے پہلے آسمان پر ملاقات ہوئی اور ابراہیم علیہ السلام سے چھٹے آسمان میں جب جبرئیل علیہ السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے مرحبا کہا، مرحبا اے نبی صالح اور بھائی صالح! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: یہ ادریس علیہ السلام ہیں، میں موسیٰ علیہ السلام پر سے گزرا، انہوں نے کہا، مرحبا اے نبی صالح اور بھائی صالح! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا:یہ موسٰی علیہ السلام ہیں پھر میں عیسیٰ علیہ السلام پر سے گزرا، انہوں نے کہا: مرحبا اے نبی صالح اور بھائی صالح! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ عیسٰی علیہ السلام ہیں مریم علیہ السلام کے بیٹے۔ پھر میں ابراہیم علیہ السلام پر گزرا، انہوں نے کہا: مرحبا اے نبی صالح اور بیٹے صالح! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ابن شہاب رحمۃ اللہ نے کہا: مجھ سے ابن حزم نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوحبہ انصاری رضی اللہ عنہ (عامر یا مالک یا ثابت) دونوں کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ”میں چڑھایا گیا ایک ہموار بلند مقام پر، وہاں میں سنتا تھا قلموں کی آواز۔“ ابن حزم اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، میں لوٹ کر آیا، جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا: اللہ نے کیا فرض کیا تمہاری امت پر۔ میں نے کہا: پچاس نمازیں ان پر فرض کیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تم پھر لوٹ جاوَ اپنے رب کے پاس کیونکہ تمہاری امت میں اس قدر طاقت نہیں میں لوٹ کر گیا اپنے پروردگار کے پاس اس نے ایک حصہ معاف کر دیا۔ پھر میں لوٹ کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور ان سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لوٹ جاؤ اپنے پروردگار کے پاس کیونکہ تمہاری امت کو اتنی طاقت نہیں، میں پھر لوٹ گیا اپنے پروردگار کے پاس۔ اس نے فرمایا: پانچ نمازیں ہیں اور وہ پچاس کے برابر ہیں میرے یہاں بات نہیں بدلتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پھر لوٹ کر آیا موسیٰ علیہ السلام کے پاس۔ انہوں نے کہا: پھر جاوَ اپنے پرودگار کے پاس میں نے کہا: مجھے شرم آئی اپنے پروردگار سے (بار بار عرض کرنے سے) پھر جبرائیل علیہ السلام مجھ کو لے کر چلے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اس پر ایسے رنگ چڑھ گئے۔ جن کو میں نہیں سمجھتا وہ کیا تھے، پھر مجھے جنت میں لے گئے، وہاں موتیوں کے گنبد تھے اور مٹی اس کی مشک تھی۔“

Hadith in Arabic

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَفَرَجَ صَدْرِي ، ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ ، فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام لِخَازِنِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا : افْتَحْ ، قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا جِبْرِيلُ ، قَالَ : هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مَعِيَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَفَتَحَ ، قَالَ : فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، فَإِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ ، قَالَ : فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى ، قَالَ : فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا آدَمُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى ، قَالَ : ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ ، حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا : افْتَحْ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا : مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَفَتَحَ ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ ، آدَمَ ، وَإِدْرِيسَ ، وَعِيسَى ، وَمُوسَى ، وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ ، أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، قَالَ : فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَّ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : هَذَا إِدْرِيسُ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا مُوسَى ، قَالَ : ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى ، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ِ إبْرَاهِيمُ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الأَنْصَارِيَّ ، كَانَا يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثُمَّ عَرَجَ بِي ، حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الأَقْلَامِ ، قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً ، قَالَ : فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام : مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً ، قَالَ لِي مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام : فَرَاجِعْ رَبَّكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : رَاجِعْ رَبَّكَ ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَرَاجَعْتُ رَبِّي ، فَقَالَ : هِيَ خَمْسٌ ، وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : رَاجِعْ رَبَّكَ ، فَقُلْتُ : قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ ، حَتَّى نَأْتِيَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى ، فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ ، قَالَ : ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤَ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ " .

Your Comments/Thoughts ?

ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 336

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حدیثیں بیان کیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ”جب میرا بندہ دل میں نیت کرتا ہے نیک کام کرنے کی تو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 378

‏‏‏‏ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال بانٹا تو میں عرض کیا: یا رسول اللہ! فلانے کو دیکھئے وہ مومن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان ہے۔“ میں نے تین بار یہی کہا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 329

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت اتری «لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 367

‏‏‏‏ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے (امانت کے متعلق) دو باتیں بیان کیں ایک تو میں نے دیکھ لی اور دوسری کا انتطار کر رہا ہوں۔ حدیث بیان کی ہم سے (یہ پہلی حدیث ہے) کہ ”امانت لوگوں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 481

‏‏‏‏ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک پیالہ رکھا ثرید کا (ثرید ایک کھانا ہے جو روٹی اور شوربہ ملا کر بناتے ہیں) اور گوشت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دست کا گوشت لیا اور وہ بہت پسند تھا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 313

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلدی جلدی نیک کام کر لو ان فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے، صبح کو آدمی ایماندار ہو گا اور شام کو کافر یا شام کو ایماندار ہو گا اور صبح کو کافر ہو گا اور ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 497

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 440

‏‏‏‏ داؤد نے اسی حدیث کو روایت کیا جیسے اوپر گزری اتنا زیادہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپانے والے ہوتے تو چھپاتے اس آیت کو «وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 270

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص اللہ سے ملے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو وہ جنت میں جائے گا اور جو اس ملے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 196

‏‏‏‏ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین خلوص اور خیرخواہی کا نام ہے۔“ ہم نے کہا: کس کی خیرخواہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی اور اس کی کتاب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 493

‏‏‏‏ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر پیغمبر کی ایک دعا ہے جو اس نے مانگی اپنی امت کے لیے پس وہ اس کے لیے قبول کی گئی اور اگر اللہ نے چاہا تو میں نے اپنی دعا چھپا رکھی ہے اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت کے دن۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 420

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ازرق میں گزرے تو پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے کہا: وادی ازرق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا میں موسیٰ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 405

‏‏‏‏ اس روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل کانپ رہا تھا۔ اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ سب سے پہلے جو وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع ہوئی وہ سچا خواب تھا اور پہلی روایت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 462

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہچانتا ہوں اس شخص کو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا وہ ایک شخص ہو گا جو گھسٹتا ہوا کولھوں کے بل دوزخ سے نکلے گا۔ اس سے کہا جائے گا، جا جنت میں جا، وہ جائے گا دیکھے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 249

‏‏‏‏ زہری ایک اور سند سے گزشتہ حدیث کے مثل روایت بیان کرتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 449

‏‏‏‏ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنتی، جنت میں جا چکیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ فرما دے گا تم اور کچھ زیادہ چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: کیا تو نے ہمارے منہ سفید نہ کئے ہم کو جنت نہ دی جہنم سے نہ بچایا (اب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 296

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے اللہ بات نہ کرے گا قیامت کے روز، نہ ان کو پاک کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور ان کو دکھ کا عذاب ہے۔ ایک تو بوڑھا زنا کرنے والا، دوسرے بادشاہ جھوٹا، تیسرے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 142

‏‏‏‏ صنابحی سے روایت ہے، میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ وہ مرنے کے قریب تھے۔ میں رونے لگا۔ انہوں نے کہا: مجھ کو مہلت دو، (یعنی مجھ کو بات کرنے میں) کیوں روتا ہے؟ قسم اللہ کی اگر میں گواہ بنایا جاؤں گا تو تیرے لیے (ایمان کی) گواہی دوں گا اور اگر میری ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 252

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا کام افضل ہے؟ (یعنی سب سے بڑھ کر ہے ثواب میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز پڑھنا اپنے وقت پرمکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 382

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کو شک کیوں نہ ہو۔ جب ابراہیم علیہ السلام کو شک ہوا۔ انہوں نے کہا: اے پروردگار مجھ کو دکھلا دے تو کس طرح زندہ کرے گا مردوں کو؟ پروردگار نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں اس ..مکمل حدیث پڑھیئے