Hadith no 416 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)

Read Sahih Muslim Hadith No 416 - Hadith No 416 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 416 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 416 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 416

Hadith No 416
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Faith
Roman Name Emaan Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْإِيمَانِ
Urdu Name ایمان کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے شاید سنا مالک بن صعصعہ سے جو ایک شخص تھے ان کی قوم سے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”میں خانہ کعبہ کے پاس تھا۔ اور میری حالت خواب اور بیداری کے بیچ میں تھی اتنے میں میں نے سنا ایک شخص کو جو کہتا تھا کہ ہم دونوں میں سے تیسرے یہ ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر میرے پاس آئے اور مجھ کو لے گئے۔ پھر میرے پاس ایک طشت لایا گیا سونے کا اس میں پانی تھا زمزم کا اور میرا سینہ چیرا گیا یہاں تک“ اور یہاں تک قتادہ نے کہا (جو راوی ہے اس حدیث کا) میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا: اس سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یعنی چیرا گیا پیٹ کے نیچے تک اور دل نکالا گیا اس میں سے پھر ایک جانور کو لائے، جس کا رنگ سفید تھا، اس کو براق کہتے تھے گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی۔ مجھ کو اس پر سوار کیا پھر ہم چلے یہاں تک کہ پہلے آسمان پر آئے، جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: جبرائیل، کہا تمہارے ساتھ کون ہے، کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کہا انہوں نے: کیا بلوائے گئے ہیں وہ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ہاں پھر دروازہ کھلا اور فرشتوں نے کہا: مرحبا مبارک ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا پھر ہم آئے آدم علیہ السلام کے پاس اور بیان کیا کہ حدیث کا پورا قصہ اور ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے آسمان پر ملاقات کی عیسٰی علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام سے اور تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے اور چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے پانچویں آسمان پر ہارون علیہ السلام سے پھر کہا: کہ ہم چلے یہاں تک کہ چھٹے آسمان پر پہنچے۔ وہاں موسیٰ علیہ السلام سے ملے ان کو میں نے سلام کیا۔ انہوں نے کہا مرحبا نیک بھائی اور نیک نبی کو جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے، آواز آئی اے موسیٰ کیوں روتے ہو، انہوں نے کہا: اے پروردگار! اس لڑکے کو تو نے میرے بعد پیغمبر بنایا اور اس کی امت میں سے جنت میں زیادہ لوگ جائیں گے میری امت سے (تو موسیٰ علیہ السلام کو رنج ہوا اپنی قوم پر حالانکہ ان کی تعداد بہت تھی، مگر جنتی ان میں سے کم تھے ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم چلے یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچے، وہاں میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا اور بیان کیا اس حدیث میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے چار نہریں دیکھیں جو سدرۃ کی جڑ سے نکلتی تھی دو نہریں کھلی تھیں اور دو نہریں ڈھانپی تھیں میں نے کہا: اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا: ڈھانپی ہوئی دو نہریں تو جنت میں گئی ہیں۔ اور کھلی ہوئیں نیل و فرات ہیں۔ پھر اٹھایا گیا میرے لیے بیت المعمور میں نے کہا اے جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: بیت المعمور ہے۔ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں جو پھر کبھی اس میں نہیں آتے پس یہی ان کا اخیر آتا ہے پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ، دونوں میرے سامنے کئے گئے میں نے دودھ کو پسند کیا، آواز آئی ٹھیک کیا تم نے، اللہ تمہیں ٹھیک راستے پر لایا اور تمہاری امت بھی تمہارے راستے پر چلے گی پھر میرے اوپر پچاس نمازیں فرض ہوئیں ہر روز۔ پھر بیان کیا سارا قصہ اخیر تک۔“

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ لَعَلَّهُ ، قَالَ : عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ ، إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا ، يَقُولُ : أَحَدُ الثَّلَاثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ، فَأُتِيتُ فَانْطُلِقَ بِي ، فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا ، قَالَ قَتَادَةُ : فَقُلْتُ لِلَّذِي مَعِي : مَا يَعْنِي ؟ قَالَ : إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ ، فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي ، فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ ، ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً ، ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ ، يُقَالُ لَهُ : الْبُرَاقُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ ، يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ ، فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَم ، فَقِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَفَتَحَ لَنَا ، وَقَالَ : مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَقِيَ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ عِيسَى وَيَحْيَى عَلَيْهَا السَّلَام ، وَفِي الثَّالِثَةِ يُوسُفَ ، وَفِي الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ ، وَفِي الْخَامِسَةِ هَارُونَ ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى ، فَنُودِيَ مَا يُبْكِيكَ ، قَالَ : رَبِّ ، هَذَا غُلَامٌ بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : وَحَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ رَأَى أَرْبَعَةَ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ ، وَنَهْرَانِ بَاطِنَان ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ الأَنْهَارُ ؟ قَالَ : أَمَّا النَّهْرَانِ الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ، ثُمَّ رُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ ، يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرُ مَا عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا خَمْرٌ وَالآخَرُ لَبَنٌ ، فَعُرِضَا عَلَيَّ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ ، فَقِيلَ : أَصَبْتَ ، أَصَابَ اللَّهُ بِكَ أُمَّتُكَ عَلَى الْفِطْرَةِ ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسُونَ صَلَاةً " ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهَا إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ .

Your Comments/Thoughts ?

ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 358

‏‏‏‏ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص حضر موت (ایک ملک کا نام عرب میں) کا اور ایک شخص کندہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ حضر موت والے نے کہا: یا رسول اللہ! اس شخص نے میری زمین دبا لی ہے جو میرے باپ کی تھی۔ کندہ والے نے کہا: وہ میری ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 497

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 446

‏‏‏‏ اعمش سے اسی طرح دوسری روایت ہے، مگر اس میں پانچ باتوں کے بدلے چار باتیں ہیں اور مخلوق کا ذکر نہیں اور کہا کہ حجاب اس کا نور ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 502

‏‏‏‏ عبد المالک بن عمیر سے بھی اس سند سے یہ روایت آئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 100

‏‏‏‏ طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے، نجد والوں (نجد عرب میں ایک ملک ہے) میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے بال بکھرے تھے۔ ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سنتے تھے لیکن سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کہتا ہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 242

‏‏‏‏ بکر بن مضر کی ابن الھاد سے اس سند سے بھی روایت مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 464

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے کم درجے کا جنتی وہ ہے جس کا منہ اللہ تعالیٰ جہنم کی طرف سے پھیر کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک درخت دکھا دے گا۔ سایہ دار وہ کہے گا: اے رب میرے! مجھے اس درخت کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 331

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے درگزر کیا میری امت سے ان خیالوں پر (گناہ کے) جو دل میں آئیں جب تک ان کو زبان سے نہ نکالیں یا ان پر عمل نہ کریں۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 152

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 395

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہمیشہ ایک گروہ میری امت کا لڑتا رہے گا (کافروں اور مخالفوں سے) حق پر قیامت کے دن تک وہ غالب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 297

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین شخص ہیں جن سے اللہ قیامت میں نہ بولے گا، نہ ان کو دیکھے گا، نہ ان کو گناہ سے پاک کرے گا اور ان کے لیے بڑے درد کا عذاب ہے۔ ایک تو وہ جو جنگل میں حاجت سے زیادہ پانی رکھتا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 98

‏‏‏‏ یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے اور «رب» کے بجائے «بعل» کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 387

‏‏‏‏ ایک شخص نے جو خراسان کا رہنے والا تھا شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا: ہمارے ملک کے لوگ کہتے ہیں جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کرے پھر اس سے نکاح کر لے تو اس کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کوئی ہدی کے جانور پر سواری کرے۔ شعبی رحمہ اللہ نے کہا: مجھ سے بیان کیا ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے، انہوں نے سیدنا ابوموسیٰ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 335

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ جل جلالہ نے فرمایا: جب میرا بندہ قصد کرتا ہے نیکی کرنے کا پھر کرتا نہیں اس کو تو میں اس کیلئے ایک نیکی لکھتا ہوں اور جو کرتا ہے اس نیکی کو تو ایک کے بدلے دس نیکیوں سے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 200

‏‏‏‏ سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر مسلمان کی خیرخواہی کے لیے بیعت کی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 249

‏‏‏‏ زہری ایک اور سند سے گزشتہ حدیث کے مثل روایت بیان کرتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 481

‏‏‏‏ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک پیالہ رکھا ثرید کا (ثرید ایک کھانا ہے جو روٹی اور شوربہ ملا کر بناتے ہیں) اور گوشت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دست کا گوشت لیا اور وہ بہت پسند تھا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 452

‏‏‏‏ عطاء بن یزید لیثی اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں یہ بتاتے ہیں کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھ سکیں گے؟ باقی ابراہیم بن سعد والی روایت کے ہم معنی بیان کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 144

‏‏‏‏ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گدھے پر سوار تھا جس کا نام ”عفیر“ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! تو جانتا ہے اللہ کا بندوں پر کیا حق ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 127

‏‏‏‏ سیدنا جابر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی حدیث بیان کرتے ہیں جو سعید بن مسیّب ابوہریرہ سے بیان کرتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے