Hadith no 451 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)

Read Sahih Muslim Hadith No 451 - Hadith No 451 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 451 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 451 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 451

Hadith No 451
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Faith
Roman Name Emaan Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْإِيمَانِ
Urdu Name ایمان کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا ہم اپنے پروردگار کو دیکھیں گے قیامت کے روز۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ایک دوسرے کو تکلیف دیتے ہو؟ چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں؟ (یعنی ازدحام اور ہجوم کی وجہ سے) یا تم کو کچھ تکلیف ہوتی ہے، چودھویں رات کے چاند دیکھنے میں؟“ لوگوں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا تم کو کچھ مشقت ہوتی ہے یا ایک دوسرے کو صدمہ پہنچاتے ہو سورج کے دیکھنے میں جس وقت کہ بادل نہ ہو؟“ (اور آسمان صاف ہو) لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسی طرح (یعنی بغیر تکلیف اور مشقت اور زحمت اور ازدحام کے) تم اپنے پروردگار کو دیکھو گے حق تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جمع کرے گا۔ تو فرما دے گا جو کوئی جس کو پوجتا تھا اس کے ساتھ ہو جائے پھر جو شخص آفتاب کو پوجتا تھا وہ سورج کے ساتھ ہو گا اور جو چاند کو پوجتا تھا وہ چاند کے ساتھ اور جو طاغوت کو پوجتا تھا وہ طاغوت کے ساتھ اور یہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم باقی رہ جائے گی اس میں منافق لوگ بھی ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے گا ایسی صورت میں جس کو وہ نہ پہچانیں گے اور کہے گا:میں تمہارا پروردگار ہوں وہ کہیں گے: اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ہم تجھ سے اور ہم اسی جگہ ٹھہرے ہیں یہاں تک کہ ہمارا پروردگار آئے گا تو ہم اس کو پہچان لیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ کہیں گے: تو ہمارا رب ہے، پھر اس کے ساتھ ہو جائیں گے اور دوزخ کی پشت پر پل رکھا جائے گا۔ تو میں اور میری امت سب سے پہلے پار ہوں گے اور سوائے پیغمبروں کے اور کوئی اس دن بات نہ کر سکے گا اور پیغمبروں کا بول اس وقت یہ ہو گا۔ «اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» یا اللہ! بچائیو (یہ شفقت کی راہ سے کہیں گے اور خلق پر) اور دوزخ میں آنکڑے ہیں (لوہے کے جن کا سر ٹیڑھا ہوتا ہے اور تنور میں گوشت جب ڈالتے ہیں تو آنکڑوں میں لگا کر ڈالتے ہیں) جیسے سعدان کے کانٹے۔“ (سعدان ایک جھاڑ ہے کانٹوں دار) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحابہ رضی اللہ عنہم سے، تم نے سعدان کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں دیکھا ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس وہ آنکڑے سعدان کے کانٹوں کی وضع پر ہوں گے۔ (یعنی سرخم) پر یہ کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے کہ وہ آنکڑے کتنے بڑے بڑے ہوں گے، وہ لوگوں کو دوزخ میں دھر گھسیٹیں گے، (یعنی فرشتے ان آنکڑوں سے گھسیٹ لیں گے دوزخیوں کو) ان کے بدعملوں کی وجہ سے اب بعض ان میں مؤمن ہوں گے جو بچ جائیں گے اپنے عمل کے سبب سے اور بعض ان میں سے بدلہ دیئے جائیں گے اپنے عمل کا۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے فیصلے سے فراغت پائے گا اور چاہے گا کہ نکالے دوزخ والوں میں سے اپنی رحمت سے جس کو چاہے تو فرشتوں کو حکم کرے گا۔ نکالیں دوزخ سے اس کو جس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا ہو، جس پر اللہ نے رحمت کرنا چاہا ہو جو کہ لا الہٰ الا اللہ کہتا ہو تو فرشتے دوزخ میں سے ایسے لوگوں کو پہچان لیں گے، ان کو پہچانیں گے سجدہ کے نشانوں سے آگ آدمی کو جلا ڈالے گی مگر سجدے کے نشان کو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا جلانا آگ پر حرام کیا ہے۔ پھر وہ دوزخ سے نکالے جائیں گے جلے بھنے جب ان پر آب حیات چھڑکا جائے گا وہ تازہ ہو کر ایسے جم اٹھیں گے۔ جیسے دانہ کچرے کے بہاؤ میں جم اٹھتا ہے (پانی جہاں پر کوڑا کچرا مٹی بہا کر لاتا ہے، وہاں دانہ خوب اگتا ہے اور جلد شاداب اور سرسبز ہو جاتا ہے، اسی طرح وہ جہنمی بھی آب حیات ڈالتے ہی تازے ہو جائیں گے اور جلن کے نشان جاتے رہیں گے) بعد اس کے اللہ تعالیٰ بندوں کے فیصلے سے فراغت کرے گا اور ایک مرد باقی رہ جائے گا، جس کا منہ دوزخ کی طرف ہو گا اور یہ بہشت والوں میں جائے گا۔ وہ کہے گا: اے رب! میرا منہ جہنم کی طرف سے پھیر دے اس کی لپٹ نے مجھے جلا ڈالا، پھر اللہ سے دعا کیا کرے گا۔ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا بعد اس کے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اگر میں یہ تیرا سوال پورا کروں تو تو اور سوال کرے گا وہ کہے گا نہیں۔ میں پھر کچھ سوال نہ کروں گا اور جیسے اللہ کو منظور ہے وہ قول و اقرار کرے گا۔ تب اللہ تعالیٰ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا (جنت کی طرف) جب جنت کی طرف اس کا منہ ہو گا تو چپ رہے گا۔ جب تک اللہ کو منظور ہو گا۔ پھر کہے گا: اے رب! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ تو کیا کیا قول اور اقرار کر چکا تھا کہ میں پھر دوسرا سوال نہ کروں گا۔ برا ہو تیرا اے آدمی! کیسا دغا باز ہے، وہ کہے گا: اے رب! اور دعا کرے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائے گا اچھا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں تو پھر تو اور کچھ نہ مانگے گا، وہ کہے گا نہیں قسم ہے تیری عزت کی اور کیا کیا قول اور اقرار کرے گا جیسے اللہ کو منظور ہو گا آخر اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا جب وہاں کھڑا ہو گا تو ساری بہشت اس کو دکھائی دے گی اور جو کچھ اس میں نعمت یا خوشی اور فرحت ہے وہ سب۔ پھر ایک مدت تک جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ چپ رہے گا۔ بعد اس کے عرض کرے گا: اے رب! مجھے جنت کے اندر لے جا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے کیا اقرار کیا تھا، تو بولا تھا کہ اب میں کچھ سوال نہ کروں گا۔ برا ہو تیرا اے آدم کے بیٹے! کیسا مکار ہے۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں تیری مخلوق میں بدنصیب نہیں ہوں اور دعا کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ اللہ جل شانہُ ہنس دے گا اور جب اللہ تعالیٰ کو ہنسی آ جائے گی، تو فرمائے گا: اچھا جا جنت میں۔ جب وہ جنت کے اندر جائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اب تو کوئی آرزو کر۔ وہ کرے گا اور مانگے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو یاد دالائے گا۔ فلانی چیز مانگ، فلانی چیز مانگ۔ جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو حق تعالیٰ فرمائے گا: ”ہم نے یہ سب تجھے دیں اور ان کے ساتھ اتنی ہی اور دیں۔“ (یعنی تیری خواہشوں سے دو چند لے۔ سبحان اللہ! کیا کرم اور رحمت ہے اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر اور جو وہ کرم نہ کرے تو اور کون کرے وہی مالک ہے، وہی خالق ہے، وہی رازق ہے، وہی پالنے ولا ہے) عطاء بن یزید نے کہا جو اس حدیث کا راوی ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس حدیث کی روایت کرنے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے موافق تھے، کہیں خلاف نہ تھے، مگر جب سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: ہم نے یہ سب تجھے دیں اور اتنی ہی اور دیں تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: دس حصے زیادہ دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے تو یہی بات یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: ”ہم نے یہ سب تجھے دیں اور اتنی ہی اور دیں۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: ”ہم نے یہ سب تجھے دیں اور دس حصے زیادہ دیں۔“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا یہ وہ شخص ہے جو سب سے اخیر میں جنت میں جائے گا (تو اور جنتیوں کو معلوم نہیں کیا کیا نعمتیں ملیں گی)۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ نَاسًا ، قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ؟ قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ ؟ قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ ، فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا ، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ رَبُّنَا ، فَيَتَّبِعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ ، فَأَكُونُ أَنَا ، وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ ، وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ : اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ ، هَلْ رَأَيْتُمُ السَّعْدَانَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ ، تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ ، فَمِنْهُمُ الْمُؤْمِنُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ ، وَمِنْهُمُ الْمُجَازَى حَتَّى يُنَجَّى ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ ، مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ يَعْرِفُونَهُمْ بِأَثَرِ السُّجُودِ تَأْكُلُ النَّارُ مِنَ ابْنِ آدَمَ ، إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ ، فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ وَقَدِ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ ، فَيَنْبُتُونَ مِنْهُ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ، ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ ، وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ ، فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا ، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا ، فَيَدْعُو اللَّهَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ ، وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ ، وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ ، فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا ، سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ : أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ ، وَمَوَاثِيقَكَ ، لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَغْدَرَكَ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، وَيَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَقُولَ لَهُ : فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ ، أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ ؟ فَيَقُولُ : لَا وَعِزَّتِكَ ، فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ عُهُودٍ ، وَمَوَاثِيقَ ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا قَامَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، فَرَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ وَالسُّرُورِ ، فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ : أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ ، وَمَوَاثِيقَكَ ، أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا أَغْدَرَكَ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ ، حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ ، فَإِذَا ضَحِكَ اللَّهُ مِنْهُ ، قَالَ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا دَخَلَهَا ، قَالَ اللَّهُ لَهُ : تَمَنَّهْ ، فَيَسْأَلُ رَبَّهُ وَيَتَمَنَّى ، حَتَّى إِنَّ اللَّهَ لَيُذَكِّرُهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا ، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " ، قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ : لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا ، حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنَّ اللَّهَ ، قَالَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ وَمِثْلُهُ مَعَهُ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : مَا حَفِظْتُ إِلَّا قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ ، وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ .

Your Comments/Thoughts ?

ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 234

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، پانی برسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صبح کی لوگوں نے بعض نے شکر پر اور بعض نے کفر پر تو جنہوں نے شکر پر صبح کی۔ انہوں نے کہا: یہ اللہ کی رحمت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 103

‏‏‏‏ دوسری سند میں روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن میں ہم کو منع کیا گیا تھا سوال کرنے سے، باقی پہلے والی حدیث بیان کی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 522

‏‏‏‏ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میری امت میں سے ستر ہزار کی ایک جماعت جنت میں جائے گی جن کے منہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 297

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین شخص ہیں جن سے اللہ قیامت میں نہ بولے گا، نہ ان کو دیکھے گا، نہ ان کو گناہ سے پاک کرے گا اور ان کے لیے بڑے درد کا عذاب ہے۔ ایک تو وہ جو جنگل میں حاجت سے زیادہ پانی رکھتا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 478

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکلے گا دوزخ سے وہ شخص جس نے «لا اله الا الله» کہا ہو گا۔ اور اس کے دل میں ایک جو برابر بھلائی ہو گی۔ پھر نکلے گا دوزخ سے وہ شخص جس نے «لا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 200

‏‏‏‏ سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر مسلمان کی خیرخواہی کے لیے بیعت کی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 426

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے بیچ میں مسیح دجال کا ذکر کیا تو فرمایا: ”اللہ جل شانہ کانا نہیں ہے اور مسیح دجال کانا ہے داہنی آنکھ کا، اس کی کانی آنکھ جیسے پھولا ہوا انگور“ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 166

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں تین باتیں ہوں گی، وہ ایمان کا مزہ پائے گا۔ جو شخص کسی سے دوستی رکھے پھر اس سے دوستی نہ رکھتا ہو مگر اللہ کے لئے (اللہ کا نیک بندہ سمجھ کر) اور جو شخص اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 273

‏‏‏‏ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، ایک سفید کپڑا اوڑھے ہوئے، پھر میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، پھر میں آیا آپ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 214

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ”اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 296

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے اللہ بات نہ کرے گا قیامت کے روز، نہ ان کو پاک کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور ان کو دکھ کا عذاب ہے۔ ایک تو بوڑھا زنا کرنے والا، دوسرے بادشاہ جھوٹا، تیسرے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 194

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بہشت میں نہ جاوَ گے۔ جب تک ایمان نہ لاوَ گے اور ایماندار نہ بنو گے۔ جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھو گے اور میں تم کو وہ چیز نہ بتلا دوں جب تم اس کو کرو تو تم آپس ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 358

‏‏‏‏ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص حضر موت (ایک ملک کا نام عرب میں) کا اور ایک شخص کندہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ حضر موت والے نے کہا: یا رسول اللہ! اس شخص نے میری زمین دبا لی ہے جو میرے باپ کی تھی۔ کندہ والے نے کہا: وہ میری ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 484

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب پیغمروں سے زیادہ میرے تابع ہوں گے قیامت کے روز اور میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا“ (یعنی کھلواؤں گا)۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 291

‏‏‏‏ ہمام بن حارث سے روایت ہے، ایک شخص لوگوں کی باتیں حاکم سے بیان کرتا تھا، ایک بار ہم مسجد میں بیٹھے تھے، لوگوں نے کہا: یہ شخص حاکم تک بات کو پہنچاتا ہے، پھر وہ آیا بیٹھا ہمارے پاس، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 161

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرہ بن العاص کہتے تھے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا مسلمان بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں (یعنی نہ زبان سے کسی مسلمان ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 160

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ کہ تو بھوکے اور مہمان کو) کھانا کھلا دے اور ہر شخص سے سلام ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 146

‏‏‏‏ اسود بن ھلال سے روایت ہے، کہا: میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا میں نے آپ کی بات پر لبیک کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 350

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے لوگ ہر بات پوچھیں گے یہاں تک کہ یوں کہیں گے کہ اللہ نے تو ہر چیز کو پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 525

‏‏‏‏ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ کون ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ..مکمل حدیث پڑھیئے