Hadith no 5362 Of Sahih Muslim Chapter Mashroobat Ka Bayan (Lecture on Drinks)

Read Sahih Muslim Hadith No 5362 - Hadith No 5362 is from Lecture On Drinks , Mashroobat Ka Bayan Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 5362 of Imam Muslim covers the topic of Lecture On Drinks briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 5362 from Lecture On Drinks in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 5362

Hadith No 5362
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Lecture On Drinks
Roman Name Mashroobat Ka Bayan
Arabic Name الْأَشْرِبَةِ
Urdu Name مشروبات کا بیان

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں اور میرے دونوں ساتھی آئے اور ہمارے کانوں اور آنکھوں کی قوت جاتی رہی تھی تکلیف سے (فاقہ وغیرہ کے) ہم اپنے تئیں پیش کرتے تھے آپ کے اصحاب پر کوئی ہم کو قبول نہ کرتا۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اپنے گھر لے گئے، وہاں تین بکریاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا دودھ دوہو ہم تم سب پیئں گے۔“ پھر ہم ان کا دودھ دوہا کرتے اور ہر ایک ہم میں سے اپنا حصہ پی لیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تشریف لاتے اور ایسی آواز سے سلام کرتے جس سے سونے والا نہ جاگے اور جاگنے والا سن لے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے اور نماز پڑھتے، پھر اپنے دودھ کے پاس آتے اور اس کو پیتے، ایک رات شیطان نے مجھ کو بھڑکایا، میں اپنا حصہ پی چکا تھا۔ شیطان نے یہ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو انصار کے پاس جاتے ہیں وہ آپ کو تحفے دیتے ہیں اور جو آپ کو احتیاج ہوتی ہے وہ مل جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس گھونٹ دودھ کی کیا احتیاج ہو گی۔ آخر میں آیا وہ دودھ پی گیا۔ جب دودھ پیٹ میں سما گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ دودھ نہیں ملنے کا۔ اس وقت شیطان نے مجھ کو ندامت دی اور کہنے لگا: خرابی ہو تیری تو نے کیا کام کیا، تو نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ پی لیا۔ اب وہ آئیں گے اور دودھ نہ پائیں گے پھر تجھ پر بددعا کریں گے، تیری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوں گی میں ایک چادر اوڑھے تھا۔ جب اس کو پاؤں پر ڈالتا تو سر کھل جاتا اور جب سر ڈھانپتا تو پاؤں کھل جاتے اور نیند بھی مجھ کو نہ آئی۔ میرے ساتھی سو گئے، انہوں نے یہ کام نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا، آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور معمول کے موافق سلام کیا، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی بعد اس کے دودھ کے پاس آئے برتن کھولا تو اس میں کچھ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا میں سمجھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کرتے ہیں اور تو تباہ ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کھلا اس کو جو مجھ کو کھلائے اور پلا اس کو جو مجھے پلائے۔“ یہ سن کر میں نے اپنی چادر کو مضبوط باندھا اور چھری لی اور بکریوں کی طرف چلا کہ جو ان میں سے موٹی ہو اس کو ذبح کروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔ دیکھا تو اس کے تھن میں دودھ بھرا ہوا تھا پھر دیکھا تو اور بکریوں کے تھنوں میں بھی دودھ بھرا ہوا ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا ایک برتن لیا جس میں وہ دودھ نہ دوہتے تھے (یعنی اس میں دوہنے کی خواہش نہ کرتے تھے) اس میں میں نے دودھ دوہا یہاں تک کہ اوپر پھین آ گیا (اتنا زیادہ دودھ نکلا) اور اس کو میں لے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے حصہ کا دودھ رات کو پیا یا نہیں۔“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ دودھ پیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر مجھے دیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور پیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور پیا۔ پھر مجھے دیا جب مجھ کو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نے لے لی۔ اس وقت میں ہنسا یہاں تک کہ خوشی کے مارے زمین پر لوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مقداد! تو نے کوئی بری بات کی وہ کیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا حال ایسا ہوا میں نے ایسا قصور کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت کا دودھ جو خلاف معمول اترا اللہ کی رحمت تھی تو نے مجھ سے پہلے ہی کیوں نہ کہا۔ ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو بھی جگا دیتے وہ بھی دودھ پیتے۔“ میں نے عرض کیا: قسم ہے اس کی جس نے آپ کو سچا کلام دے کر بھیجا اب مجھ کو کوئی پروا نہیں جب میں نے اللہ کی رحمت حاصل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل کی کہ کوئی بھی اس کو حاصل کرے۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْمِقْدَادِ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي ، وَقَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ ، فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَقْبَلُنَا ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى أَهْلِهِ ، فَإِذَا ثَلَاثَةُ أَعْنُزٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا " ، قَالَ : فَكُنَّا نَحْتَلِبُ ، فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا نَصِيبَهُ ، وَنَرْفَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ ، قَالَ : فَيَجِيءُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لَا يُوقِظُ نَائِمًا وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ ، قَال : ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُ ، فَأَتَانِي الشَّيْطَانُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ شَرِبْتُ نَصِيبِي ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ : يَأْتِي الْأَنْصَارَ فَيُتْحِفُونَهُ وَيُصِيبُ عِنْدَهُمْ مَا بِهِ حَاجَةٌ إِلَى هَذِهِ الْجُرْعَةِ ، فَأَتَيْتُهَا فَشَرِبْتُهَا ، فَلَمَّا أَنْ وَغَلَتْ فِي بَطْنِي وَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ إِلَيْهَا سَبِيلٌ ، قَالَ : نَدَّمَنِي الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ مَا صَنَعْتَ أَشَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ ؟ فَيَجِيءُ فَلَا يَجِدُهُ فَيَدْعُو عَلَيْكَ فَتَهْلِكُ ، فَتَذْهَبُ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ ، وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ إِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى قَدَمَيَّ خَرَجَ رَأْسِي ، وَإِذَا وَضَعْتُهَا عَلَى رَأْسِي خَرَجَ قَدَمَايَ ، وَجَعَلَ لَا يَجِيئُنِي النَّوْمُ ، وَأَمَّا صَاحِبَايَ فَنَامَا وَلَمْ يَصْنَعَا مَا صَنَعْتُ ، قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثُمَّ أَتَى شَرَابَهُ فَكَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقُلْتُ : الْآنَ يَدْعُو عَلَيَّ فَأَهْلِكُ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَأَسْقِ مَنْ أَسْقَانِي " ، قَالَ : فَعَمَدْتُ إِلَى الشَّمْلَةِ فَشَدَدْتُهَا عَلَيَّ وَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْأَعْنُزِ أَيُّهَا أَسْمَنُ ، فَأَذْبَحُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هِيَ حَافِلَةٌ وَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ كُلُّهُنَّ ، فَعَمَدْتُ إِلَى إِنَاءٍ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانُوا يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ ، قَالَ : فَحَلَبْتُ فِيهِ حَتَّى عَلَتْهُ رَغْوَةٌ ، فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَشَرِبْتُمْ شَرَابَكُمُ اللَّيْلَةَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي ، فَلَمَّا عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَوِيَ وَأَصَبْتُ دَعْوَتَهُ ، ضَحِكْتُ حَتَّى أُلْقِيتُ إِلَى الْأَرْضِ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِحْدَى سَوْآتِكَ يَا مِقْدَادُ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ مِنْ أَمْرِي كَذَا وَكَذَا وَفَعَلْتُ كَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذِهِ إِلَّا رَحْمَةٌ مِنَ اللَّهِ أَفَلَا كُنْتَ آذَنْتَنِي فَنُوقِظَ صَاحِبَيْنَا فَيُصِيبَانِ مِنْهَا ؟ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُبَالِي إِذَا أَصَبْتَهَا وَأَصَبْتُهَا مَعَكَ مَنْ أَصَابَهَا مِنَ النَّاسِ .

Your Comments/Thoughts ?

مشروبات کا بیان سے مزید احادیث

حدیث نمبر 5153

‏‏‏‏ سیدنا اسماعیل بن مسلم عبدی رضی اللہ عنہ اس سند کے ساتھ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم کچی کھجوروں کو پکی اور خشک کھجوروں کے ساتھ یا کشمش کو پکی کھجوروں کے ساتھ یا کشمش کو کچی اور پکی کھجوروں کے ساتھ ملا کر بھگوئیں۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5171

‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے اور لاکھی برتن میں نبیذ بنانے سے۔ یہ جریر کی حدیث ہے اور عبثر اور شعبہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے تونبے اور روغن قیر ملے ہوئے برتنوں (کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5289

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا جس میں پانی ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی طرف ایک دیہاتی شخص تھا اور بائیں طرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5283

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا کھڑے ہو کر اور پانی مانگا کعبہ کے پاس۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5178

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، عبدالقیس کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم کو منع کرتا ہوں تونبے اور سبز برتن اور چوبین اور روغنی سے اور لاکھی سے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5331

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اقعاء کے طور پر بیٹھے تھے کھجور کھا رہے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5236

‏‏‏‏ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید کو حکم دیا پیغام دینے کا۔ انہوں نے پیام دیا، وہ آئی اور بنی ساعدہ کے قلعوں میں اتری، رسول اللہ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5363

‏‏‏‏ سلیمان بن مغیرہ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5318

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور پھر ابن نمیر کی روایت کی طرح حدیث نقل کی ہے اور اس میں یہ ہے کہ پھر جو کھانا بچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اکٹھا کیا اور ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5311

‏‏‏‏ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور اعمش ابوسفیان سے جابر کی حدیث کی طرح نقل کرتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5298

‏‏‏‏ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھاتے پھر جب فارغ ہوتے تو انگلیوں کو چاٹتے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5328

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ کے پاس اترے ہم نے کھانا پیش کیا اور وطبہ ایک کھانا ہے (جو کھجور، پنیر اور گھی سے مل کر بنتا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا پھر سوکھی کھجوریں آئیں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5261

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5154

‏‏‏‏ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت بھگوؤ گدر کھجور کو اور پختہ کھجور کو ملا کر اور مت بھگوؤ انگور اور کھجور ملا کر بلکہ علیحدہ علیحدہ بھگوؤ ہر ایک کو۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5343

‏‏‏‏ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5146

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، منع کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور انگور کو یا پکی اور گدر کھجور کو ملا کر بھگونے سے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5355

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور مجھ کو اشارہ کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا پھر ہم چلے یہاں تک ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5169

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھی اور حنتم اور لکڑی کے برتن سے (جس کو نقیر کہتے ہیں وہ کھجور کی لکڑی کو کرید کر بناتے ہیں) کسی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: حنتم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سبز گھڑے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5368

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک کا کھانا دو کو کافی ہے اور دو کا چار کو اور چار کا آٹھ کو۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 5360

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک انصاری کے پاس مہمان آیا اس کے پاس کچھ نہ تھا۔ سوائے اس کے اور اس کے بچوں کے کھانے کے، اس نے اپنی عورت سے کہا: بچوں کو سلا دے اور چراغ بجھا دے اور جو کچھ تیرے پاس ہے وہ مہمان کے سامنے رکھ دے۔ اس نے ایسا ہی کیا تب یہ آیت اتری «وَيُؤْثِرُونَ ..مکمل حدیث پڑھیئے