Hadith no 5948 Of Sahih Muslim Chapter Anbia Karaam Ke Fazail (Virtues of Prophets)
Read Sahih Muslim Hadith No 5948 - Hadith No 5948 is from Virtues Of Prophets , Anbia Karaam Ke Fazail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 5948 of Imam Muslim covers the topic of Virtues Of Prophets briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 5948 from Virtues Of Prophets in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 5948
| Hadith No | 5948 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Virtues Of Prophets |
| Roman Name | Anbia Karaam Ke Fazail |
| Arabic Name | الْفَضَائِلِ |
| Urdu Name | انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل |
Urdu Translation
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جب تبوک کی جنگ تھی تو وادی القریٰ (ایک مقام ہے مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر شام کے راستہ میں) میں ایک باغ پر پہنچے، جو ایک عورت کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندازہ کرو اس باغ میں کتنا میوہ ہے۔“ ہم نے اندازہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے میں وہ دس وسق معلوم ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کہا: ”تو یہ گنتی یاد رکھنا جب تک ہم لوٹ کر آئیں، اگر اللہ چاہے۔“ پھر ہم لوگ آگے چلے، یہاں تک کہ تبوک میں پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کی رات زور کی آندھی چلے گی تو کوئی کھڑا نہ ہو اور جس کے پاس اونٹ ہو وہ اس کو مضبوط باندھ دے۔“ پھر ایسا ہی ہوا زور کی آندھی چلی، ایک شخص کھڑ ا ہوا، اس کو ہوا اڑا لے گئی، اور طے کے دو پہاڑوں میں ڈال دیا، اس کے بعد علماء کے بیٹے کا ایلچی جو ایلہ کا حاکم تھا آیا ایک کتاب لے کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سفید خچر تحفہ لایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب لکھا اور ایک چادر تحفہ بھیجی۔ پھر ہم لوٹے یہاں تک کہ وادی القریٰ میں پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے باغ کے میوے کا حال پوچھا، کتنا میوہ نکلا؟ اس نے کہا: پورا دس وسق نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جلدی جاؤں گا تم میں سے جس کا جی چاہے وہ میرے ساتھ جلدی چلے، اور جس کا جی چاہے ٹھہر جائے۔“ ہم نکلے یہاں تک کہ مدینہ دکھلائی دینے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طابہ ہے۔ (طابہ مدینہ منورہ کا نام) اور یہ احد پہاڑ ہے جو ہم کو چاہتا ہے اور ہم اس کو چاہتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”انصار کے سب گھروں میں بنی نجار کے گھر بہتر ہیں، (کیونکہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہوئے)، پھر بنی عبدالاشہل کا گھر، پھر بنی حارث بن خزرج کا گھر، پھر بنی ساعدہ کا گھر اور انصار کے سب گھروں میں بہتری ہے۔“ پھر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہم سے ملے، ابواسید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم نے نہیں سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے گھروں کی بہتری بیان کی تو ہم کو سب کے اخیر کر دیا، یہ سن کر سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے انصار کی فضیلت بیان کی اور ہم کو سب سے آخر میں کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم کو یہ کافی نہیں ہےکہ تم اچھوں میں رہے۔“
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَي ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ ، فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْرُصُوهَا ، فَخَرَصْنَاهَا ، وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ ، وَقَالَ : أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَانْطَلَقْنَا حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْكُمْ ، فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ ، فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ ، فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ ، وَجَاءَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَاءِ صَاحِبِ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا ، كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا ؟ فَقَالَتْ : عَشَرَةَ أَوْسُقٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي مُسْرِعٌ ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : هَذِهِ طَابَةُ ، وَهَذَا أُحُدٌ ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ ، دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ ، فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ ، فَجَعَلَنَا آخِرًا ، فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ ، فَجَعَلْتَنَا آخِرًا ، فَقَالَ : أَوَ لَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ " .
- Previous Hadith
- Hadith No. 5948 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 6131
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سب سے زیادہ عیسی علیہ السلام کے قریب ہوں، اور پیغمبر سب علاتی بھائی کی طرح ہیں، (کہ شریعت کے اصول ایک ہیں اور فروع میں اختلاف ہے) اور میرے اور ان کے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5951
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے جہاد کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے وہ بھی ساتھ لوٹے۔ ایک روز دوپہر کے وقت۔ پھر بیان کیا اسی حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6054
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک سفید چمکتا ہوا تھا۔ (نووی رحمہ اللہ نے کہا: یہ رنگ سب رنگوں سے عمدہ ہے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ مبارک موتی کی طرح تھا اور جب چلتے تو آگے جھکے ہوئے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5980
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی روایت کی طرح نقل کرتے ہیں اور شعبہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں «عَنْ مُغِيْرَة» کی جگہ «سَمِعْتُ اَبَا وَاَئِلٍ» کے الفاظ ذکر کیے گئے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6040
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گانے والا خوش آواز تھا (جو اونٹ ہانکتے وقت گاتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”آہستہ چل اے انجشہ! مت توڑ شیشوں کو۔“ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6049
ہشام نے اسی سند کے ساتھ اس قول تک بیان کیا ہے کہ «اَيْسَرَھُُمَا» آسان کام کو اختیار فرماتے اور اس میں «مَا بَعْدَ» کے الفاظ نہیں ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5979
اعمش نے بھی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں «اَصْحَابِي، اَصْحَابِي» کے الفاظ کا ذکر نہیں ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5943
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےروایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےاصحاب زوراء میں تھے، اور زوراء ایک مقام ہے مدینہ میں بازار اورمسجد کے قریب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ پانی کا منگوایا اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6096
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ برس تک رہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تریسٹھ سال کی عمر میں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5938
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ فرماتے تھے: ”اللہ جل جلالہ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو چنا اور قریش کو کنانہ میں سے اور بنی ہاشم کو قریش میں سے اور مجھ کو بنی ہاشم میں سے چنا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6097
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ برس تک رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترا کرتی تھی، اور مدینہ میں دس برس تک رہے اور وفات پائی تریسٹھ برس کی عمر میں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5945
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدہ ام مالک رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپی میں گھی بھیجا کرتی تھی تحفہ کے طور پر، پھر اس کے بیٹے آتے اور اس سے سالن مانگتے اور گھر میں کچھ نہ ہوتا تو ام مالک رضی اللہ عنہا اس کپی کے پاس جاتی اس میں گھی ہوتا۔ اسی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6044
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک عورت کی عقل میں فتور تھا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ سے کام ہے (یعنی کچھ کہنا ہے جو لوگوں کے سامنے نہیں کہہ سکتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ماں فلاں کی (یعنی اس کا نام ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6032
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کنواری لڑکی سے جو پردے میں رہتی ہے زیادہ شرم تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی چیز کو برا جانتے تو ہم اس کی نشانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے پہچان ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6116
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑا مسلمانوں میں قصور اس مسلمان کا ہے جس نے کوئی بات پوچھی وہ حرام نہ تھی، لیکن اس کے پوچھنے کی وجہ سے حرام ہو گئی۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6147
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بڑی شرم تھی، کبھی ان کو کسی نے ننگا نہیں دیکھا تھا، آخر بنی اسرائیل کہنے لگے: ان کو فتق (باد خائے) کی بیماری ہے، ایک بار انہوں نے کسی پانی پر غسل کیا اور اپنا کپڑا پتھر پر رکھا، وہ چلا بھاگتا ہوا اور سیدنا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6162
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6130
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سب سے زیادہ عیسی علیہ السلام کے قریب ہوں، اور پیغمبر سب علاتی بھائی کی طرح ہیں، (کہ شریعت کے اصول ایک ہیں اور فروع میں اختلاف ہے) اور میرے اور ان کے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 5941
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا تو ایک ٹب لایا گیا پھیلا ہوا، لوگ اس میں سے وضو کرنے لگے۔ میں نے اندازہ کیا تو ساٹھ سے اسی آدمی تک نے وضو کیا ہو گا، میں پانی کو دیکھ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6073
ابن سرین سے روایت ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا خضاب کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا بڑھاپا نہیں دیکھا گیا (کہ خضاب کی ضرورت پڑتی) البتہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ..مکمل حدیث پڑھیئے