Hadith no 479 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)
Read Sahih Muslim Hadith No 479 - Hadith No 479 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 479 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 479 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 479
| Hadith No | 479 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Problems And Commands About Faith |
| Roman Name | Emaan Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الْإِيمَانِ |
| Urdu Name | ایمان کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
معبد بن ہلال عنزی سے روایت ہے کہ ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ثابت کی سفارش چاہی (ان سے ملنے کے لئے) آخر ہم ان تک پہنچے۔ وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت نے ہمارے لئے اجازت مانگی اندر آنے کی، ہم اندر گئے، انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ بٹھایا تخت پر۔ ثابت نے کہا: اے ابوحمزہ (یہ کنیت ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی) تمہارے بھائی بصرہ والے چاہتے ہیں تم ان کو شفاعت کی حدیث سناؤ۔ انہوں نے کہا: ہم سے بیان کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کے پاس جائیں گے: پہلے آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ کہیں گے: تم اپنی اولاد کی سفارش کرو (اللہ کے پاس تاکہ وہ نجات دے اس آفت سے) وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں، لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے دوست ہیں۔ لوگ ان کے پاس جائیں گے وہ کہیں گے میں اس قابل نہیں، لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ کلیم اللہ ہیں (یعنی اللہ نے ان سے کلام کیا بلاواسطہ) لوگ ان کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں، لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ روح اللہ ہیں اور اس کا کلمہ ہیں (یعنی بن باپ کے اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں) لوگ ان کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے میں کہوں گا، اچھا یہ میرا کام ہے اور چلوں گا اور اللہ تعالیٰ سے اجازت مانگوں گا (باریاب ہونے) مجھے اجازت ملے گی، میں اس کے سامنے کھڑا ہوں گا۔ اور ایسی ایسی تعریفیں اس کی بیان کروں گا جو اب میں نہیں بیان کر سکتا۔ اس وقت اللہ میرے دل میں ڈال دے گا، بعد اس کے سجدے میں گر پڑوں گا۔ آخر حکم ہو گا، اے محمد! اپنا سر اٹھا اور کہہ ہم سنیں گے اور مانگ ہم دیں گے، سفارش کر ہم قبول کریں گے۔ میں عرض کروں گا: مالک میرے! امت میری، امت میری۔ حکم ہوگا، جا اور جس کے دل میں گیہوں یا جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اس کو نکال لے دوزخ سے، میں ایسے سب لوگوں کو نکال لوں گا اور پھر مالک کے پاس آ کر ویسی ہی تعریفیں کروں گا پھر سجدہ میں گر پڑوں گا۔ حکم ہو گا: اے محمد! اپنا سر اٹھا اور کہہ جو کہنا ہے۔ تیری بات سنی جائے گی، مانگ جو مانگتا ہے ملے گا، سفارش کر تیری سفارش قبول ہوگی۔ میں عرض کروں گا: مالک میرے! امت میری، امت میری (یعنی اپنی امت کی بخشش چاہتا ہوں) حکم ہو گا جا اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اس کو جہنم سے نکال لے میں ایسا ہی کروں گا۔ اور پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس آؤں گا اور ایسی ہی تعریفیں کروں گا۔ اور سجدے میں گر پڑوں گا۔ حکم ہو گا، اے محمد! اپنا سر اٹھا اور کہہ ہم سنیں گے، مانگ ہم دیں گے، سفارش کر ہم قبول کریں گے۔ میں عرض کروں گا: اے مالک میرے! میری امت، میری امت۔ حکم ہو گا، جا اور جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم، بہت کم، بہت ہی کم ایمان ہو اس کو جہنم سے نکال لے۔ میں جا کر ایسا ہی کروں گا۔“ معبد بن ہلال نے کہا: یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو انہوں نے ہم سے بیان کی، پھر ہم ان کے پاس سے نکلے جب جبان (قبرستان) کی بلندی پر پہنچے تو ہم نے کہا: کاش! ہم حسن (بصری) کی طرف چلیں اور ان کو سلام کریں۔ اور وہ ابوخلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے (حجاج بن یوسف ظالم کے ڈر سے) خیر ہم ان کے پاس گئے اور ان کو سلام کیا، ہم نے کہا: اے ابو سعید! ہم تمہارے بھائی ابوحمزہ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) کے پاس سے آ رہے ہیں، انہوں نے شفاعت کے باب میں ایک حدیث ہم سے بیان کی، ویسی حدیث ہم نے نہیں سنی، انہوں نے کہا: ہاں بیان کرو۔ ہم نے وہ حدیث ان سے بیان کی۔ انہوں نے کہا: اور بیان کرو۔ ہم نے کہا: بس اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کی۔ انہوں نے کہا: یہ حدیث تو انہوں نے ہم سے بیس برس پہلے بیان کی تھی جب وہ توانا تھے (یعنی بوڑھے نہ تھے جیسے اب ہیں) اب انہوں نے کچھ چھوڑ دیا، میں نہیں جانتا وہ بھول گئے یا تم سے بیان کرنا مناسب نہ جانا ایسا نہ ہو تم بھروسہ کر بیٹھو اور نیک اعمال میں سستی کرنے لگو، ہم نے ان سے کہا وہ کیا ہے؟ ہم سے بیان کرو یہ سن کر ہنسے اور کہا: انسان کی پیدائش میں جلدی ہے، میں نے تم سے یہ قصہ اس لئے ذکر کیا تھا کہ میں تم سے بیان کروں اس ٹکڑے کو (جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے چھوڑ دیا یعنی تم جلدی کر کے درخواست کر بیٹھے بیان کرنے کی اگر درخواست نہ کرتے تب بھی بیان کرتا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پھر لوٹوں گا اپنے پروردگار کے پاس چوتھی بار اسی طرح تعریف توصیف کروں گا پھر سجدے میں گروں گا مجھ کو حکم ہو گا، اے محمد! سر اٹھاؤ اور کہو ہم سنیں گے، مانگو ہم دیں گے۔ سفارش کرو ہم قبول کریں گے۔ اس وقت میں عرض کروں گا مالک میرے! مجھ کو اجازت دے اس شخص کو بھی جہنم سے نکالنے کی جس نے «لا اله الا الله» کہا ہو (یعنی صرف توحید پر یقین رکھتا ہو) اللہ تعالیٰ فرمائے گا، یہ تمہارا کام نہیں لیکن قسم ہے میری عزت اور بزرگی اور جاہ و جلال کی میں جہنم سے نکالوں گا اس شخص کو جس نے «لا اله الا الله» کہا ہو۔“ معبد نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ حسن نے یہ حدیث ہم سے بیان کی کہا کہ انہوں نے اس کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے میں سمجھتا ہوں یوں کہا: بیس برس سے پہلے جب وہ زوردار تھے (یعنی ان کا حافظہ اچھا تھا بدن میں طاقت تھی)۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، قَالَ : انْطَلَقْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَتَشَفَّعْنَا بِثَابِتٍ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الضُّحَى ، فَاسْتَأْذَنَ لَنَا ثَابِتٌ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَجْلَسَ ثَابِتًا مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ ، أَنْ تُحَدِّثَهُمْ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ لَهُ : اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِكَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللَّهِ ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّهِ ، فَيُؤْتَى مُوسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ ، فَيُؤتَى عِيسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُوتَى ، فَأَقُولُ : أَنَا لَهَا ، فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي ، فَيُؤْذَنُ لِي ، فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الآنَ يُلْهِمُنِيهِ اللَّهُ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : رَبِّ أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ أَوْ شَعِيرَةٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ لِي : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَى رَبِّي ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ لِي : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ ، أَدْنَى ، أَدْنَى ، أَدْنَى مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ " ، هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ ، قُلْنَا : لَوْ مِلْنَا إِلَى الْحَسَنِ ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَبِي حَمْزَةَ ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ ، قَالَ : هِيَهِ فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : هِيَهِ ، قُلْنَا : مَا زَادَنَا ؟ قَالَ : قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ ، وَلَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ أَوْ كَرِهَ ، أَنْ يُحَدِّثَكُمْ فَتَتَّكِلُوا ، قُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا فَضَحِكَ ، وَقَالَ : خُلِقَ الإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سورة الأنبياء آية 37 مَا ذَكَرْتُ لَكُمْ هَذَا ، إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ لَكَ ، أَوَ قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ ، وَلَكِنْ ، وَعِزَّتِي ، وَكِبْرِيَائِي ، وَعَظَمَتِي ، وَجِبْرِيَائِي ، لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، قَالَ : فَأَشْهَدُ عَلَى الْحَسَنِ ، أَنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُرَاهُ ، قَالَ : قَبْلَ عِشْرِينَ سَنَةً ، وَهُوَ يَوْمِئِذٍ جَمِيعٌ .
- Previous Hadith
- Hadith No. 479 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 272
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ کو خوشخبری دی کہ جو شخص تمہاری امت سے مرے گا اور وہ کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہو گا تو جنت میں جائے گا۔“ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 210
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں چار باتیں ہوں گی، وہ تو پکا منافق ہے اور جس میں ان چاروں میں سے ایک خصلت ہو گی تو اس میں نفاق کی ایک ہی خصلت ہے، یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے، ایک تو یہ کہ جب بات ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 358
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص حضر موت (ایک ملک کا نام عرب میں) کا اور ایک شخص کندہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ حضر موت والے نے کہا: یا رسول اللہ! اس شخص نے میری زمین دبا لی ہے جو میرے باپ کی تھی۔ کندہ والے نے کہا: وہ میری ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 301
گزشتہ سند کے علاوہ راوی تین سندوں سے بیان کرتے ہیں شعبہ سے یہی حدیث۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 380
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا میں بیٹھا تھا۔ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح سے جیسے اوپر گزری۔ اتنا زیادہ ہے آخر میں اٹھا اور میں نے چپکے سے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں کو کیوں چھوڑ دیا؟مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 334
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ”جب میرا بندہ برائی کا قصد کرے (دل میں) تو مت لکھو اس کو پھر اگر وہ برائی کرے تو ایک برائی لکھ لو۔ اور جو نیکی کا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 383
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں مذکورہ حدیث کی مثل مگر مالک کی سند سے جو روایت ہے اس میں لفظ ہیں کہ (یہ سوال اس لئے ہے) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے پھر باقی ساری آیت پڑھی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 217
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے تئیں کسی اور کا بیٹا کہے اور وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا بیٹا نہیں ہے (یعنی جان بوجھ کر اپنے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 479
معبد بن ہلال عنزی سے روایت ہے کہ ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ثابت کی سفارش چاہی (ان سے ملنے کے لئے) آخر ہم ان تک پہنچے۔ وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت نے ہمارے لئے اجازت مانگی اندر آنے کی، ہم اندر گئے، انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ بٹھایا تخت پر۔ ثابت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 450
حماد بن سلمہ سے اسی اسناد سے یہی حدیث مروی ہے، اتنا زیادہ ہے کہ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ» ”یعنی نیکوں کے واسطے نیکی ہے اور زیادہ۔“ (زیادہ سے مراد دیدار الہٰی ہے جو سب نعمتوں سے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 522
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میری امت میں سے ستر ہزار کی ایک جماعت جنت میں جائے گی جن کے منہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 490
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک دعا ہوتی ہے جس کو وہ مانگتا ہے۔ میرا ارادہ ہے بشرطیکہ اللہ چاہے میں اس دعا کو چھپا رکھوں اپنی امت کی شفاعت کے لیے قیامت کے دن۔“ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 191
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی آئی ہے صرف اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ”کفر کا سرچشمہ مشرق میں ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 455
دوسری روایت بھی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی ہے، اس میں یہ ہے کہ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے مالک کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کو کچھ حرج ہوتا ہے سورج کے دیکھنے میں جب صاف دن ہو؟“ ہم نے کہا: نہیں، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 297
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین شخص ہیں جن سے اللہ قیامت میں نہ بولے گا، نہ ان کو دیکھے گا، نہ ان کو گناہ سے پاک کرے گا اور ان کے لیے بڑے درد کا عذاب ہے۔ ایک تو وہ جو جنگل میں حاجت سے زیادہ پانی رکھتا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 171
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی آدمی مؤمن نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی یا ہمسایہ کیلئے وہی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 461
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں اس شخص کو جو سب کے بعد جنت میں جائے گا، یہ وہ شخص ہے جو جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا نکلے گا، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا اور داخل ہو بہشت میں، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 361
ثابت سے روایت ہے جو مولٰی تھے عمرو بن عبدالرحمٰن کے جب عبداللہ بن عمرو اور عنبسہ بن ابی سفیان میں فساد ہوا۔ تو دونوں مستعد ہوئے لڑنے کے لئے۔ خالد بن العاص یہ سن کر سوار ہوئے اور عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے اور ان کو سمجھایا۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا: تجھے معلوم نہیں رسول اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 388
مختلف سندوں سے صالح بن صالح یہ حدیث اسی طرح روایت کرتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 350
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے لوگ ہر بات پوچھیں گے یہاں تک کہ یوں کہیں گے کہ اللہ نے تو ہر چیز کو پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟“مکمل حدیث پڑھیئے