Hadith no 479 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)

Read Sahih Muslim Hadith No 479 - Hadith No 479 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 479 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 479 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 479

Hadith No 479
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Faith
Roman Name Emaan Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْإِيمَانِ
Urdu Name ایمان کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ معبد بن ہلال عنزی سے روایت ہے کہ ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ثابت کی سفارش چاہی (ان سے ملنے کے لئے) آخر ہم ان تک پہنچے۔ وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت نے ہمارے لئے اجازت مانگی اندر آنے کی، ہم اندر گئے، انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ بٹھایا تخت پر۔ ثابت نے کہا: اے ابوحمزہ (یہ کنیت ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی) تمہارے بھائی بصرہ والے چاہتے ہیں تم ان کو شفاعت کی حدیث سناؤ۔ انہوں نے کہا: ہم سے بیان کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کے پاس جائیں گے: پہلے آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ کہیں گے: تم اپنی اولاد کی سفارش کرو (اللہ کے پاس تاکہ وہ نجات دے اس آفت سے) وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں، لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے دوست ہیں۔ لوگ ان کے پاس جائیں گے وہ کہیں گے میں اس قابل نہیں، لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ کلیم اللہ ہیں (یعنی اللہ نے ان سے کلام کیا بلاواسطہ) لوگ ان کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں، لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ روح اللہ ہیں اور اس کا کلمہ ہیں (یعنی بن باپ کے اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں) لوگ ان کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے میں کہوں گا، اچھا یہ میرا کام ہے اور چلوں گا اور اللہ تعالیٰ سے اجازت مانگوں گا (باریاب ہونے) مجھے اجازت ملے گی، میں اس کے سامنے کھڑا ہوں گا۔ اور ایسی ایسی تعریفیں اس کی بیان کروں گا جو اب میں نہیں بیان کر سکتا۔ اس وقت اللہ میرے دل میں ڈال دے گا، بعد اس کے سجدے میں گر پڑوں گا۔ آخر حکم ہو گا، اے محمد! اپنا سر اٹھا اور کہہ ہم سنیں گے اور مانگ ہم دیں گے، سفارش کر ہم قبول کریں گے۔ میں عرض کروں گا: مالک میرے! امت میری، امت میری۔ حکم ہوگا، جا اور جس کے دل میں گیہوں یا جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اس کو نکال لے دوزخ سے، میں ایسے سب لوگوں کو نکال لوں گا اور پھر مالک کے پاس آ کر ویسی ہی تعریفیں کروں گا پھر سجدہ میں گر پڑوں گا۔ حکم ہو گا: اے محمد! اپنا سر اٹھا اور کہہ جو کہنا ہے۔ تیری بات سنی جائے گی، مانگ جو مانگتا ہے ملے گا، سفارش کر تیری سفارش قبول ہوگی۔ میں عرض کروں گا: مالک میرے! امت میری، امت میری (یعنی اپنی امت کی بخشش چاہتا ہوں) حکم ہو گا جا اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اس کو جہنم سے نکال لے میں ایسا ہی کروں گا۔ اور پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس آؤں گا اور ایسی ہی تعریفیں کروں گا۔ اور سجدے میں گر پڑوں گا۔ حکم ہو گا، اے محمد! اپنا سر اٹھا اور کہہ ہم سنیں گے، مانگ ہم دیں گے، سفارش کر ہم قبول کریں گے۔ میں عرض کروں گا: اے مالک میرے! میری امت، میری امت۔ حکم ہو گا، جا اور جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم، بہت کم، بہت ہی کم ایمان ہو اس کو جہنم سے نکال لے۔ میں جا کر ایسا ہی کروں گا۔“ معبد بن ہلال نے کہا: یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو انہوں نے ہم سے بیان کی، پھر ہم ان کے پاس سے نکلے جب جبان (قبرستان) کی بلندی پر پہنچے تو ہم نے کہا: کاش! ہم حسن (بصری) کی طرف چلیں اور ان کو سلام کریں۔ اور وہ ابوخلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے (حجاج بن یوسف ظالم کے ڈر سے) خیر ہم ان کے پاس گئے اور ان کو سلام کیا، ہم نے کہا: اے ابو سعید! ہم تمہارے بھائی ابوحمزہ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) کے پاس سے آ رہے ہیں، انہوں نے شفاعت کے باب میں ایک حدیث ہم سے بیان کی، ویسی حدیث ہم نے نہیں سنی، انہوں نے کہا: ہاں بیان کرو۔ ہم نے وہ حدیث ان سے بیان کی۔ انہوں نے کہا: اور بیان کرو۔ ہم نے کہا: بس اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کی۔ انہوں نے کہا: یہ حدیث تو انہوں نے ہم سے بیس برس پہلے بیان کی تھی جب وہ توانا تھے (یعنی بوڑھے نہ تھے جیسے اب ہیں) اب انہوں نے کچھ چھوڑ دیا، میں نہیں جانتا وہ بھول گئے یا تم سے بیان کرنا مناسب نہ جانا ایسا نہ ہو تم بھروسہ کر بیٹھو اور نیک اعمال میں سستی کرنے لگو، ہم نے ان سے کہا وہ کیا ہے؟ ہم سے بیان کرو یہ سن کر ہنسے اور کہا: انسان کی پیدائش میں جلدی ہے، میں نے تم سے یہ قصہ اس لئے ذکر کیا تھا کہ میں تم سے بیان کروں اس ٹکڑے کو (جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے چھوڑ دیا یعنی تم جلدی کر کے درخواست کر بیٹھے بیان کرنے کی اگر درخواست نہ کرتے تب بھی بیان کرتا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پھر لوٹوں گا اپنے پروردگار کے پاس چوتھی بار اسی طرح تعریف توصیف کروں گا پھر سجدے میں گروں گا مجھ کو حکم ہو گا، اے محمد! سر اٹھاؤ اور کہو ہم سنیں گے، مانگو ہم دیں گے۔ سفارش کرو ہم قبول کریں گے۔ اس وقت میں عرض کروں گا مالک میرے! مجھ کو اجازت دے اس شخص کو بھی جہنم سے نکالنے کی جس نے «لا اله الا الله» کہا ہو (یعنی صرف توحید پر یقین رکھتا ہو) اللہ تعالیٰ فرمائے گا، یہ تمہارا کام نہیں لیکن قسم ہے میری عزت اور بزرگی اور جاہ و جلال کی میں جہنم سے نکالوں گا اس شخص کو جس نے «لا اله الا الله» کہا ہو۔“ معبد نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ حسن نے یہ حدیث ہم سے بیان کی کہا کہ انہوں نے اس کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے میں سمجھتا ہوں یوں کہا: بیس برس سے پہلے جب وہ زوردار تھے (یعنی ان کا حافظہ اچھا تھا بدن میں طاقت تھی)۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَنَزِيُّ ، قَالَ : انْطَلَقْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَتَشَفَّعْنَا بِثَابِتٍ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الضُّحَى ، فَاسْتَأْذَنَ لَنَا ثَابِتٌ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَجْلَسَ ثَابِتًا مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ ، أَنْ تُحَدِّثَهُمْ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ لَهُ : اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِكَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللَّهِ ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللَّهِ ، فَيُؤْتَى مُوسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّهُ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ ، فَيُؤتَى عِيسَى ، فَيَقُولُ : لَسْتُ لَهَا ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُوتَى ، فَأَقُولُ : أَنَا لَهَا ، فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي ، فَيُؤْذَنُ لِي ، فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الآنَ يُلْهِمُنِيهِ اللَّهُ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : رَبِّ أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ أَوْ شَعِيرَةٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ لِي : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَى رَبِّي ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ لِي : انْطَلِقْ ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ ، أَدْنَى ، أَدْنَى ، أَدْنَى مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَفْعَلُ " ، هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ ، قُلْنَا : لَوْ مِلْنَا إِلَى الْحَسَنِ ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَبِي حَمْزَةَ ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ ، قَالَ : هِيَهِ فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : هِيَهِ ، قُلْنَا : مَا زَادَنَا ؟ قَالَ : قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ ، وَلَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ أَوْ كَرِهَ ، أَنْ يُحَدِّثَكُمْ فَتَتَّكِلُوا ، قُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا فَضَحِكَ ، وَقَالَ : خُلِقَ الإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سورة الأنبياء آية 37 مَا ذَكَرْتُ لَكُمْ هَذَا ، إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا ، فَيُقَالُ لِي : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَقُلْ : يُسْمَعْ لَكَ ، وَسَلْ تُعْطَ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ لَكَ ، أَوَ قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ ، وَلَكِنْ ، وَعِزَّتِي ، وَكِبْرِيَائِي ، وَعَظَمَتِي ، وَجِبْرِيَائِي ، لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، قَالَ : فَأَشْهَدُ عَلَى الْحَسَنِ ، أَنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُرَاهُ ، قَالَ : قَبْلَ عِشْرِينَ سَنَةً ، وَهُوَ يَوْمِئِذٍ جَمِيعٌ .

Your Comments/Thoughts ?

ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 462

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہچانتا ہوں اس شخص کو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا وہ ایک شخص ہو گا جو گھسٹتا ہوا کولھوں کے بل دوزخ سے نکلے گا۔ اس سے کہا جائے گا، جا جنت میں جا، وہ جائے گا دیکھے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 271

‏‏‏‏ ایک اور سند سے مروی ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے الفاظ ہی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 316

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: کہ تم اپنی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ کرو۔ اور اس حدیث میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 320

‏‏‏‏ اعمش بھی اس سند سے اسی روایت کو بیان کرتے ہیں سابقہ حدیث کی مانند۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 510

‏‏‏‏ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے ابوطالب کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے غصے ہوتے تھے (یعنی جو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 177

‏‏‏‏ طارق بن شہاب سے روایت ہے، سب سے پہلے جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، وہ مروان تھا (حکم کا بیٹا جو خلفائے بنی امیہ میں سے پہلا خلیفہ ہے) اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: خطبہ سے پہلے نماز پڑھنی چاہئیے۔ مروان نے کہا: یہ بات موقوف کر دی گئی۔ سیدنا ابوسعد رضی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 418

‏‏‏‏ قتادہ سے روایت ہے، میں نے ابوعالیہ سے سنا، وہ کہتے تھے: مجھے حدیث بیان کی تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی نے، یعنی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا معراج کا تو فرمایا: ”موسیٰ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 94

‏‏‏‏ یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں کہ جب معبد نے تقدیر کے مسئلہ میں باتیں شروع کیں تو ہم نے مخالفت کی اس وقت کی بات ہے کہ میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حج کے لئے روانہ ہوئے باقی حدیث بعض الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ بیان کی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 179

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کے اس کی امت میں سے حواری نہ ہوں اور اصحاب نہ ہوں جو اس کے طریقے پر چلتے ہیں اور اس کے حکم کی پیروی کرتے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 292

‏‏‏‏ ہمام بن حارث سے روایت ہے، ہم مسجد میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور ہمارے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ لوگوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ بادشاہ تک بات لگاتا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کو سنانے کی نیت سے کہا، میں نے رسول اللہ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 446

‏‏‏‏ اعمش سے اسی طرح دوسری روایت ہے، مگر اس میں پانچ باتوں کے بدلے چار باتیں ہیں اور مخلوق کا ذکر نہیں اور کہا کہ حجاب اس کا نور ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 528

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مجھ پر، امتیں پیش کی گئیں“ باقی حدیث وہی ہے جو اوپر گزری ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 371

‏‏‏‏ سیدنا ربعی بن حراش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سنا سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے کون ہم سے حدیث بیان کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتنوں میں؟ وہاں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے کہا میں بیان کرتا ہوں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 308

‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے، ہم سے سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے اس مسجد میں حدیث بیان کی، پھر ہم اس کو نہیں بھولے اور نہ ہم کو ڈر ہے کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے جھوٹ باندھا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 337

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص قصد کرے نیکی کا اور نہ کرے اس کو تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اور جو شخص قصد کرے نیکی اور کرے اس کو، تو اس کیلئے دس سے سات سو نیکیوں تک لکھی جاتی ہیں۔ اور جو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 210

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں چار باتیں ہوں گی، وہ تو پکا منافق ہے اور جس میں ان چاروں میں سے ایک خصلت ہو گی تو اس میں نفاق کی ایک ہی خصلت ہے، یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے، ایک تو یہ کہ جب بات ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 124

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے لوگ جو کافر ہونے تھے وہ کافر ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ان لوگوں سے کیونکر لڑو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 148

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے سواری پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ!“، انہوں نے کہا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور فرمانبردار ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 383

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں مذکورہ حدیث کی مثل مگر مالک کی سند سے جو روایت ہے اس میں لفظ ہیں کہ (یہ سوال اس لئے ہے) کہ میرا دل مطمئن ہو جائے پھر باقی ساری آیت پڑھی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 236

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور ان سے دشمنی رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ “مکمل حدیث پڑھیئے