Hadith no 480 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)

Read Sahih Muslim Hadith No 480 - Hadith No 480 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 480 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 480 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 480

Hadith No 480
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Faith
Roman Name Emaan Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْإِيمَانِ
Urdu Name ایمان کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو دست کا گوشت آپ کو دیا گیا اور دست کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں سے اسے نوچا، پھر فرمایا: ”میں سردار ہوں سب آدمیوں کا قیامت کے دن اور تم جانتے ہو کس وجہ سے اللہ تعالیٰ اکٹھا کرے گا قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو ایک ہی میدان میں یہاں تک کہ پکارنے والے کی آواز ان سب کو سنائی دے گی اور دیکھنے والے کی نگاہ ان سب پر پہنچے گی اور آفتاب نزدیک ہو جائے گا۔ اور لوگوں پر وہ مصیبت اور سختی ہو گی کہ اس کہ سہہ نہ سکیں گے۔ آخر آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے۔ چلو آدم علیہ السلام کے پاس اور ان کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے آدم! تم سب آدمیوں کے باپ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح تم میں پھونکی اور فرشتوں کو حکم کیا انہوں نے سجدہ کیا تم کو، ہماری سفارش کرو اپنے پروردگار سے، کیا تم نہیں دیکھتے ہم کس حال میں ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے جو ہم پر مصیبت ہے۔ آدم علیہ السلام کہیں گے: آج میرا پروردگار غصے میں ہے اور ایسا غصے میں ہے کہ کبھی ایسا غصے نہیں ہوا تھا نہ ہوگا۔ اور اس نے مجھے منع کیا تھا درخت سے لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی (اور درخت میں سے کھا لیا) اب مجھے خود اپنی فکر ہے تم اور کسی کے پاس جاؤ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ پھر وہ سب لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے نوح! تم سب پیغمبروں سے پہلے زمین پر آئے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں شکر گزار بندہ کہا تم ہماری سفارش کرو اپنے رب کے پاس کیا تم نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں اور جو مصیبت ہم پر آئی ہے۔ وہ کہیں گے: میرا رب آج ایسا غصہ میں ہے کہ ویسا کبھی نہیں ہوا تھا نہ ہو گا، اور میں نے اپنی قوم پر بددعا کی تھی اس لیے مجھے خود اپنی فکر ہے، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ پھر وہ سب مل کر ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے ابراہیم! تم اللہ کے نبی ہو اور اس کے دوست ہو، زمین والوں میں سے، تم ہماری سفارش کرو اپنے پروردگار کے پاس، کیا تم نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے۔ وہ کہیں گے: میرا پروردگار آج اتنا غصہ میں ہے کہ ویسا کبھی نہیں ہوا تھا نہ ہو گا اور اپنی جھوٹ والی باتوں کو بیان کریں گے (یعنی دنیا میں جو انہوں نے تین بار جھوٹ بولا تھا) اس لئے مجھے خود اپنی فکر ہے تم اور کسی کے پاس جاؤ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے موسیٰ! تم اللہ کے رسول ہو اللہ نے تمہیں بزرگی دی اپنے پیاموں سے اور اپنے کلام سے سب لوگوں پر۔ تم ہماری سفارش کرو اپنے پروردگار کے پاس کیا تم نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کہیں گے: میرا پروردگار آج ایسے غصہ میں ہے اتنا کبھی غصہ نہیں ہوا تھا نہ ہو گا۔ اور میں نے دنیا میں ایک خون کیا تھا جس کا مجھے حکم نہ تھا، اس لیے مجھے خود اپنی فکر ہے۔ تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ سب لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے عیسیٰ! تم اللہ کے رسول ہو۔ تم نے لوگوں سے بات کی ماں کی گود میں (جھولے میں دودھ پیتے وقت) تم اللہ کا ایک کلمہ ہو جو اس نے ڈال دیا مریم علیہا السلام میں اور اس کی روح ہو تو سفارش کرو ہماری اپنے رب کے پاس، کیا تم نہیں دیکھتے ہم جس حال میں ہیں اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے، عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے: میرا پروردگار آج اس قدر غصے میں ہے کہ اتنا غصہ میں کبھی نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو گا اور گناہ ان کا بیان نہیں کیا (جیسے اور پیغمبروں کی خطائیں بیان کیں۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی گناہ منقول نہیں) تو مجھے اپنی فکر ہے، اپنی فکر ہے، تم اور کسی کے پاس جاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ سب میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے محمد! تم اللہ کے رسول ہو۔ خاتم الانبیاء ہو، اللہ نے تمہارے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دیئے ہیں، تم سفارش کرو ہماری اپنے رب کے پاس، کیا تم ہمارا حال نہیں دیکھتے ہم کس مصیبت میں ہیں۔ یہ سن کر میں چلوں گا اور عرش تلے آ کر اپنے پروردگار کو سجدہ کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ میرا دل کھول دے گا اور وہ وہ تعریفیں اپنی مجھے بتائے گا جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں بتائیں (میں اس کی خوب تعریف اور حمد کروں گا) پھر فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھا۔ مانگ جو مانگنا ہے دیا جائے گا۔ سفارش کر قبول کی جائے گی، میں سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا: امت میری، میری امت، حکم ہو گا، اے محمد! اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن سے حساب کتاب نہ ہو گا باب ایمن میں سے جنت میں داخل کر اور وہ اور لوگوں کے شریک ہیں۔ باقی دروازوں میں جنت کے (‏‏یعنی ان میں سے بھی جا سکتے ہیں مگر یہ دروازہ ان کے لیے مخصوص ہے) قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جنت کے دروازے کے دونوں بازؤں میں اتنا فاصلہ ہے جیسے مکہ اور ہجر (ایک شہر ہے بحرین میں) یا جیسے مکہ اور بصرہ میں۔“ (بصریٰ ایک شہر ہے دمشق سے تین منزل پر)۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ومُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاتَّفَقَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ ، إِلَّا مَا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا مِنَ الْحَرْفِ بَعْدَ الْحَرْفِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِلَحْمٍ ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ، فَقَالَ : أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَهَلْ تَدْرُونَ بِمَ ذَاكَ يَجْمَعُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ؟ فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي ، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ ، فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ ، وَمَا لَا يَحْتَمِلُونَ ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : أَلَا تَرَوْنَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ ، أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَكُمْ ، أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ ؟ ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : ائْتُوا آدَمَ ، فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ آدَمُ : إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ ، فَيَأْتُونَ نُوحًا ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ ، أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى الأَرْضِ ، وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ ، دَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى ، فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَقُولُونَ : يَا مُوسَى ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَضَّلَكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنِّي قَتَلْتُ : نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَيَأْتُونَ عِيسَى ، فَيَقُولُونَ : يَا عِيسَى ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ ، وَكَلِمَةٌ مِنْهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَأْتُونِّي ، فَيَقُولُونَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَخَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ ، وَغَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ ، أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ، فَأَنْطَلِقُ ، فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي ، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا ، لَمْ يَفْتَحْهُ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، سَلْ تُعْطَهْ ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي ، أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ، أَدْخِلِ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ البَابِ الأَيْمَنِ مِنَ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرٍ ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى " ،

Your Comments/Thoughts ?

ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 183

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں معنی سابقہ حدیث والا مگر سند کچھ مختلف ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 526

‏‏‏‏ سیدنا سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار یا سات لاکھ (ابوحازم جو راوی ہے اس حدیث کا اس کو یاد نہیں رہا کہ سہل نے ستر ہزار کہا یا سات لاکھ) آدمی جنت میں جائیں گے ایک دوسرے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 406

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ صحابہ میں سے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذکر کرتے تھے وحی موقوف ہو جانے کا: ”ایک ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 244

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی سجدہ کی آیت پڑھتا ہے پھر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا ایک طرف چلا جاتا ہے اور کہتا ہے خرابی ہو اس کی یا میری، آدمی کو سجدہ کا حکم ہوا اور اس نے سجدہ کیا، اب اس کو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 348

‏‏‏‏ محمد سے یہ حدیث موقوفاً ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اسناد میں نہیں ہے لیکن اخیر حدیث میں یوں ہے کہ سچ کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 503

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جب یہ آیت اتری، «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» ”ڈرا، تو اپنے کنبے والوں کو“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 377

‏‏‏‏ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گنو کتنے آدمی اسلام کے قائل ہیں۔“ پھر ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ ڈرتے ہیں ہم پر (کوئی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 318

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کچھ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ! کیا ہم سے پوچھ ہو گی ان کاموں کی جو ہم نے جاہلیت کے زمانے میں کیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے جو اچھی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 107

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھ کو بتلائیے کوئی ایسا کام جس کے کرنے سے میں جنت میں چلا جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کام یہ ہے کہ عبادت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 523

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار آدمی جنت میں جائیں گے ان سے بعض کی صورت چاند کی طرح چمکتی ہو گی۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 312

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”البتہ اللہ چلائے گا، ایک ہوا یمن کے ملک سے جو ریشم سے بھی زیادہ ملائم ہو گی، پھر یہ ہوا نہ چھوڑے گی۔ اس شخص کو جس کے دل میں دانے کے برابر یا رتی برابر بھی ایمان ہو گا، یعنی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 195

‏‏‏‏ دوسری روایت بھی ایسی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ بہشت میں نہ جاوَ گے جب تک ایمان نہ لاوَ گے اخیر تک۔“ ابومعاویہ اور وکیع کی حدیث کی طرح۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 97

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں میں برآمد تھے، اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا: یا رسول اللہ! ایمان کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو یقین کرے دل سے اللہ پر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 139

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (یہ شک ہے اعمش کو جو راوی ہے اس حدیث کا) جب غزوہ تبوک کا وقت آیا (تبوک شام میں ایک مقام کا نام ہے) تو لوگوں کو سخت بھوک لگی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کاش آپ ہم کو اجازت دیتے تو ہم اپنے اونٹوں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 443

‏‏‏‏ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو نور ہے میں اس کو کیسے دیکھتا۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 257

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا گناہ اللہ کے نزدیک بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ کا شریک یا برابر والا کسی اور کو بنا دے حالانکہ تجھے اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 408

‏‏‏‏ زہری سے روایت ہے، اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کی طرح اور کہا نازل کیا اللہ تعالیٰ نے سورۂ مدثر کو ”اے کپڑا اوڑھنے والے اور پلیدی چھوڑ دے تک“ پہلے اس سے کہ فرض کی جائے نماز، اور پلیدی وہ بت ہیں، اور کہا اس نے «فَجُثِثْتُ مِنْهُ» جیسے کہا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 196

‏‏‏‏ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین خلوص اور خیرخواہی کا نام ہے۔“ ہم نے کہا: کس کی خیرخواہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی اور اس کی کتاب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 165

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین باتیں ہیں، جس میں ہوں گی، وہ ان کی وجہ سے ایمان کی مٹھاس اور حلاوت پائے گا۔ ایک تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے دوسرے سب لوگوں سے زیادہ محبت رکھے، دوسرے یہ کہ کسی آدمی سے صرف ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 386

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اس زمانے کا (یعنی میرے وقت اور میرے بعد قیامت تک) کوئی یہودی ..مکمل حدیث پڑھیئے