Hadith no 6214 Of Sahih Muslim Chapter Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib (Vistues of Companions of Prophet SAW)
Read Sahih Muslim Hadith No 6214 - Hadith No 6214 is from Vistues Of Companions Of Prophet SAW , Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 6214 of Imam Muslim covers the topic of Vistues Of Companions Of Prophet SAW briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 6214 from Vistues Of Companions Of Prophet SAW in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 6214
| Hadith No | 6214 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Vistues Of Companions Of Prophet SAW |
| Roman Name | Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib |
| Arabic Name | فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ |
| Urdu Name | صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب |
Urdu Translation
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے , انہوں نے وضو کیا اپنے گھر میں، پھر نکلے اور کہنے لگے میں ملازمت کروں گا آج کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ساتھ رہوں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے , وہ مسجد میں آئے اور پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: اس طرف گئے ہیں، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشان پر پوچھتے ہوئے اسی طرف چلے یہاں تک کہ بئراریس پر پہنچے (بئر اریس ایک کنواں ہے مدینہ سے باہر)۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دروازے پر بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ لکڑی کا تھا، یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہو ئے اور وضو کیا، تب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر بیٹھے تھے اس کی منڈیر پر پنڈلیا ں کھول کر کنویں میں لٹکائے ہوئے، میں نے سلام کیا، پھر میں لوٹا اور دروازے پر بیٹھا، میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا «بواب» (وہ شخص جو دروازے پر رہتا ہے) آج بنوں گا، اتنے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور دروازے پر دستک دی، میں نے کہا: کو ن ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر میں نے کہا: ٹھہرو، پھر میں گیا، اور میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو اجازت دے اور جنت کی خوشخبری دے۔“ میں آیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اندر آؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی طرف بیٹھے کنویں کی مینڈھ پر اور اپنے پاؤں لٹکا دئیے کنویں میں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اور پنڈلیاں کھول دیں، میں لوٹا اور دروازے پر بیٹھا اور میں اپنے بھائی کو وضو کرتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا، وہ مجھ سے ملنے والا تھا، میں نے (اپنے دل میں) کہا: اگر اللہ کو اس کی بہتری منظور ہے تو اس کو لائے گا، اچانک ہی ایک آدمی نے دروازہ ہلایا، میں نے کہا: کون؟ انہوں نے کہا: عمر بن خطاب۔ میں نے کہا: ٹھہرو اور میں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور سلام کیا اور عرض کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اجازت مانگتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو اجازت دے اور جنت کی خوشخبری دے۔“ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اندرآؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو جنت کی بشارت دی۔ وہ اندر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کنویں کی منڈیر پر بیٹھے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا دیے، میں لوٹا اور بیٹھا اور کہا: اگر اللہ کو فلانے کی یعنی میرے بھائی کی بھلائی منظور ہے تو وہ بھی آئے گا، ایک آدمی آیا اور دروازہ ہلایا میں نے کہا: کون ہے؟ اس نے کہا: عثمان بن عفان۔ میں نے کہا: ٹھہرو اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو اجازت دے اور جنت کی خوشخبری دے مگر اس کے ساتھ ایک آفت بھی ہے۔“ وہ آئے، انہوں نے دیکھا منڈیر پر جگہ نہیں رہی تو وہ ان کے سامنے دوسری طرف بیٹھے۔ شریک نے کہا: سعید بن مسیب نے کہا: میں نے اس حدیث سے یہ نکالا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح ہوں گی (ویسا ہی ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس حجرہ میں جگہ نہ ملی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بقیع میں دفن ہوئے۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : " لَأَلْزَمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَكُونَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هَذَا ، قَالَ : فَجَاءَ الْمَسْجِدَ ، فَسَأَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : خَرَجَ وَجَّهَ هَاهُنَا ، قَالَ : فَخَرَجْتُ عَلَى أَثَرِهِ أَسْأَلُ عَنْهُ حَتَّى دَخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ ، قَالَ : فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ ، وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ حَتَّى قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأَ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَلَسَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسٍ ، وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ ، قَالَ : فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ ، فَقُلْتُ لَأَكُونَنَّ بَوَّابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَدَفَعَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : عَلَى رِسْلِكَ ، قَالَ : ثُمَّ ذَهَبْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَأَقْبَلْتُ حَتَّى قُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ : ادْخُلْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفِّ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَكْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي ، فَقُلْتُ : إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ يُرِيدُ أَخَاهُ خَيْرًا يَأْتِ بِهِ ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرِّكُ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالَ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : عَلَى رِسْلِكَ ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، وَقُلْتُ : هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، فَجِئْتُ عُمَرَ ، فَقُلْتُ : أَذِنَ وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ ، قَالَ : فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفِّ عَنْ يَسَارِهِ ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَجَلَسْتُ ، فَقُلْتُ : إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا يَعْنِي أَخَاهُ يَأْتِ بِهِ ، فَجَاءَ إِنْسَانٌ فَحَرَّكَ الْبَابَ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَقُلْتُ : عَلَى رِسْلِكَ ، قَالَ وَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيبُهُ ، قَالَ : فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ : ادْخُلْ وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيبُكَ ، قَالَ : فَدَخَلَ فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ ، قَالَ شَرِيكٌ : فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ : فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ " .
- Previous Hadith
- Hadith No. 6214 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب سے مزید احادیث
حدیث نمبر 6335
مسروق سے روایت ہے، ہم عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی، کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس وقت سے میں اس آدمی سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6435
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غفار کو اللہ بخشے اور اسلم کو سلامت رکھے اور عصیہ نے نافرمانی کی اللہ اور اس کے رسول کی۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6374
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6171
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کو خطبہ دیا۔ جیسا کہ حدیث مالک میں ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6315
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے تھے تجھ سے اگر ہو سکے تو سب سے پہلے بازار میں مت جا اور نہ سب کے بعد وہاں سے نکل کیونکہ بازار معرکہ ہے شیطان کا اور وہیں اس کا جھنڈا کھڑا ہوتا ہے، انہوں نے کہا: سیدنا جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6188
عمر بن سعید سے انہی اسناد کے تحت اسی طرح مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6351
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سندس (ایک ریشمی کپڑا ہے) کا ایک جبہ تحفہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے حریر سے۔ لوگوں نے اسے دیکھ کر تعجب کیا (اس کی نرمی اور خوبی سے) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6369
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، میں نے خواب میں دیکھا، میرے ہاتھ میں استبرق کا ایک ٹکڑا ہے (استبرق ایک ریشمی کپڑا ہے) اور میں جنت کے جس مکان میں جانا چاہتا ہوں وہ ٹکڑا مجھے اڑا کر وہاں لے جاتا ہے۔ یہ خواب میں نے اپنی بہن ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6488
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم میں کچھ جھگڑا ہو ا تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو برا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت برا کہو میرے اصحاب میں سے کسی کو اس لیے کہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6338
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6298
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کو جاتے تو قرعہ ڈالتے اپنی عورتوں پر، ایک بار قرعہ مجھ پر اور ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر آیا، ہم دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلیں اور آپ مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6439
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش، انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار اور اشجع دوست ہیں اور ان کا حمایتی کوئی نہیں سوائے اللہ اور اس کے رسول کے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6306
ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں معمولی لفظوں کا ردو بدل ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6350
شعبہ نے دونوں سندوں کے ساتھ اسی طرح بیان کیا جیسا ابوداؤد نے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6317
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا، وہ ایک برتن میں شربت لائیں، میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6182
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے دن تم میں سے کون روزہ دار ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6220
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو امیر کیا تو کہا: تم کیوں برا نہیں کہتے ابوتراب کو؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تین باتوں کی وجہ سے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائیں سیدنا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6481
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے ایک مہینہ پہلے فرماتے تھے: ”تم مجھ سے قیامت کو پوچھتے ہو قیامت کا علم تو اللہ کو ہے اور میں قسم کھاتا ہوں اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6366
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے جریر! تو مجھ کو آرام نہیں دیتا ذوالخلصہ سے۔“ جو بت خانہ تھا خثعم کا (ایک قبیلہ ہے) اس کو کعبہ یمانی بھی کہتے تھے۔ جریر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6344
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند بیان کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے