Hadith no 6305 Of Sahih Muslim Chapter Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib (Vistues of Companions of Prophet SAW)
Read Sahih Muslim Hadith No 6305 - Hadith No 6305 is from Vistues Of Companions Of Prophet SAW , Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 6305 of Imam Muslim covers the topic of Vistues Of Companions Of Prophet SAW briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 6305 from Vistues Of Companions Of Prophet SAW in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 6305
| Hadith No | 6305 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Vistues Of Companions Of Prophet SAW |
| Roman Name | Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib |
| Arabic Name | فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ |
| Urdu Name | صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب |
Urdu Translation
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، گیارہ عورتیں بیٹھیں اور ان تمام نے یہ اقرار کیا اور عہد کیا کہ اپنے اپنے خاوندوں کی کوئی بات نہ چھپائیں گی۔ پہلی عورت نے کہا: میرا خاوند گویا دبلے اونٹ کا گوشت ہے جو ایک دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو نہ تو وہاں تک صاف راستہ ہے کہ کوئی چڑھ جائے اور نہ وہ گوشت موٹا ہے کہ لایا جائے۔ دوسری عورت نے کہا: میں اپنے خاوند کی خبر نہیں پھیلا سکتی میں ڈرتی ہوں اگر بیان کروں تو پورا بیان نہ کر سکوں گی، اس قدر اس میں عیوب ہیں ظاہری بھی اور باطنی بھی (اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ میں ڈرتی ہوں اگر بیان کروں تو اس کو چھوڑ دوں گی یعنی وہ خفا ہو کر مجھ کو طلاق دے گا اور اس کو چھوڑنا پڑے گا)۔ تیسری عورت نے کہا: میرا خاوند لمبا ہے (یعنی احمق) اگر میں اس کی برائی بیان کروں تو مجھ کو طلاق دے دے گا اور جو چپ رہو ں تو اوہڑ رہوں گی (یعنی نہ نکاح کے مزے اٹھاؤں گی نہ بالکل محروم رہوں گی)۔ چوتھی نے کہا:میرا خاوند تو ایسا ہے جیسے تہامہ (حجاز اور مکہ) کی رات نہ گرم ہے نہ سرد (یعنی معتدل المزاج ہے) نہ ڈر ہے نہ رنج (یہ اس کی تعریف کی یعنی اس کے عمدہ اخلاق ہیں اور نہ وہ میری صحبت سے ملول ہوتا ہے۔) پانچویں عورت نے کہا: میرا خاوند جب گھر میں آتا ہے تو چیتا ہے (یعنی پڑ کر سو جاتا ہے اور کسی کو نہیں ستاتا) اور جب باہر نکلتا ہ ےتو شیر ہے اور جو مال اسباب گھر چھوڑ جاتا ہے اس کو نہیں پوچھتا۔ چھٹی عورت نے کہا: میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب تمام کر دیتا ہے اور پیتا ہے تو تلچھٹ تک نہیں چھوڑتا اور لیٹتا ہے تو بدن لپیٹ لیتا ہے اور مجھ پر اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا کہ میرا دکھ اور درد پہچانے (یہ بھی ہجو ہے یعنی سوا کھانے پینے کے بیل کی طرح اور کوئی کام کا نہیں عورت کی خبر تک نہیں لیتا۔) ساتویں عورت نے کہا: میرا خاوند نامرد ہے یا شریر نہایت احمق ہے کہ کلام نہیں کرنا جانتا سب جہاں بھر کے عیب اس میں موجود ہیں ایسا ظالم کہ تیرا سر پھوڑے یا ہاتھ توڑے یا سر اور ہاتھ دونوں مروڑے۔ آٹھویں عورت نے کہا: میراخاوند بو میں زرنب ہے (زرنب ایک خوشبودار گھاس ہے) اور چھونے میں نرم جیسے خرگوش (یہ تعریف ہے یعنی اس کا ظاہر اور باطن دونوں اچھے ہیں۔ نویں عورت نے کہا: میرا خاوند اونچے محل والا لمبے پر تلے والا (یعنی قدآور) بڑی راکھ والا (یعنی سخی ہے اس کا باورچی خانہ ہمیشہ گرم رہتا ہے تو راکھ بہت نکلتی ہے) اس کا گھر نزدیک ہے مجلس اور مسافر خانہ سے (یعنی سردار اور سخی ہے اس کا لنگر جاری ہے)۔ دسویں عورت نے کہا: میرے خاوند کا نام مالک ہے مالک افضل ہے میری اس تعریف سے، اس کے اونٹوں کے بہت شترخانے ہیں اور کمتر چراگاہیں ہیں (یعنی ضیافت میں اس کے یہاں اونٹ بہت ذبح ہوا کرتے ہیں اس سبب سے شترخانوں سے جنگل میں کم چرنے جاتے ہیں) جب کہ اونٹ باجے کی آواز سنتے ہیں تو اپنے ذبح ہونے کا یقین کر لیتے ہیں (ضیافت میں راگ اور باجے کا معمول تھا اس سبب سے باجے کی آواز سن کر اونٹوں کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو جاتا تھا)۔ گیارھویں عورت نے کہا: میرے خاوند کا نام ابوزرع ہے، سو واہ! کیا خوب ابوزرع ہے، اس نے زیور سے میرے دونوں کان جھلائے اور چربی سے میرے دونوں بازو بھرے (یعنی مجھ کو موٹا کیا اور مجھ کو بہت خوش کیا) سو میری جان بہت چین میں رہی۔ مجھ کو اس نے بھیڑ بکری والوں میں پایا جو پہاڑ کے کنارے رہتے تھے سو اس نے مجھ کو گھوڑے اور اونٹ اور کھیت اور خرمن کا مالک کر دیا (یعنی میں نہایت ذلیل اور محتاج تھی اس نے مجھ کو باعزت اور مالدار کر دیا) میں اس کی بات کرتی ہوں وہ مجھ کو برا نہیں کہتا سوتی ہوں تو فجر کر دیتی ہوں (یعنی کچھ کام نہیں کرنا پڑتا) اور پیتی ہوں تو سیراب ہو جاتی ہوں۔ ماں ابوزرع کی! سو کیا خوب ہے ماں ابوزرع کی اس کی بڑی بڑی گٹھڑیاں کشادہ اور کشادہ گھر۔ بیٹا ابوزرع کا! سو کیا خوب ہے بیٹا ابوزرع کا اس کی خواب گاہ جیسے تلوار کی میان (یعنی نازنین بدن ہے) اس کو آسودہ کر دیتا ہے حلوان کا ہاتھ۔ (یعنی کم خور ہے) بیٹی ابوزرع کی! سو کیا خوب ہے بیٹی ابوزرع کی، اپنے ماں باپ کی تابعدار اپنے لباس کے بھرنے والی (یعنی موٹی ہے) اور اپنے سوت کی رشک (یعنی اپنے خاوند کی پیاری ہے) اس واسطے اس کی سوت اس سے جلتی ہے۔ لونڈی ابوزرع کی! کیا خوب ہے لونڈی ابوزرع کی ہماری بات مشہور نہیں کرتی ظاہر کر کے اور ہمارا کھانا نہیں لے جاتی اٹھا کر اور ہمارا گھر آلودہ نہیں رکھتی کوڑے سے۔ ابوزرع باہر نکلا جب کہ مشکوں میں دودھ متھا جاتا تھا (گھی نکالنے کے واسطے) سو وہ ملا ایک عورت سے، جس کے ساتھ اس کے دو لڑکے تھے جیسے دو چیتے اس کی گود میں دو اناروں سے کھیلتے تھے سو ابوزرع نے مجھے طلاق دے دی اور اس عورت سے نکاح کیا، پھر میں نے اس کے بعد ایک سردار مرد سے نکاح کیا عمدہ گھوڑے کا سوار اور نیزہ باز۔ اس نے مجھ کو چوپائے جانور بہت دیے اور اس نے مجھ کو ہر مویشی سے جوڑا جوڑا دیا سو اس نے مجھ سے کہا کہ اے ام زرع! اور کھلا اپنے لوگوں کو سو اگر میں جمع کروں جو دوسرے خاوند نے دیا تو ابوزرع کے چھوٹے برتن کے برابر بھی نہ پہنچے (یعنی دوسرے خاوند کا احسان پہلے خاوند کے احسان سے نہایت کم ہے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں تیرے لیے ایسا ہوں جیسے ابوزرع تھا ام زرع کے لیے۔“ (یعنی ویسی تیری خاطر کرتا ہوں اور سب باتوں میں تشبیہ ضروری نہیں تو آپ نے طلاق نہیں دی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اور یہ غیبت میں داخل نہیں جو عورتوں نے اپنے خاوندوں کا ذکر کیا کیونکہ انہوں نے اپنے خاوندوں کا نام نہیں لیا اور جب تک نام لےکر کسی کی برائی نہ کرے وہ غیبت نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ عورتیں مجہول ہیں یہ اگر غیبت بھی کرتی ہوں تو کیا بعید ہے اور اس وقت میں اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی برائی کرے ان لوگوں کے سامنے جو اس کے خاوند کو پہنچانتے ہوں تو وہ غیبت ہو جائے گی گو نام نہ لے نووی)۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عِيسَى وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً ، فَتَعَاهَدْنَ ، وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا ، قَالَتِ الْأُولَى : زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ ، عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ وَعْرٍ لَا سَهْلٌ ، فَيُرْتَقَى وَلَا سَمِينٌ ، فَيُنْتَقَلَ ، قَالَتِ الثَّانِيَةُ : زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ ، أَنْ لَا أَذَرَهُ إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ ، قَالَتِ الثَّالِثَةُ : زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ ، قَالَتِ الرَّابِعَةُ : زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ ، لَا حَرَّ ، وَلَا قُرَّ ، وَلَا مَخَافَةَ ، وَلَا سَآمَةَ ، قَالَتِ الْخَامِسَةُ : زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ ، قَالَتِ السَّادِسَةُ : زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ ، وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ ، قَالَتِ السَّابِعَةُ : زَوْجِي غَيَايَاءُ ، أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ ، أَوْ فَلَّكِ ، أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ ، قَالَتِ الثَّامِنَةُ : زَوْجِي الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ ، وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ : زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ ، طَوِيلُ النِّجَادِ ، عَظِيمُ الرَّمَادِ ، قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِي ، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ : زَوْجِي مَالِكٌ ، وَمَا مَالِكٌ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ، لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ ، قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ ، قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ : زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ فَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ ، وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبَجَّحَنِي ، فَبَجَحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي ، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ ، وَأَطِيطٍ ، وَدَائِسٍ ، وَمُنَقٍّ ، فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ ، فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ أُمُّ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ ، وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا ، وَطَوْعُ أُمِّهَا ، وَمِلْءُ كِسَائِهَا ، وَغَيْظُ جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا ، وَلَا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا ، وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا ، قَالَتْ : خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ ، فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا ، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا رَكِبَ شَرِيًّا ، وَأَخَذَ خَطِّيًّا ، وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا ، قَالَ : كُلِي أُمَّ زَرْعٍ ، وَمِيرِي أَهْلَكِ ، فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِي ، مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " .
- Previous Hadith
- Hadith No. 6305 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب سے مزید احادیث
حدیث نمبر 6337
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6372
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا:: یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! بہت مال اور بہت اولاد دے اس کو اور جو تو دے اس کو برکت دے اس میں۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6291
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6280
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اتنا رشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بی بی پر نہیں کیا جتنا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذ کر بہت کرتے اور میں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو کبھی دیکھا بھی نہ تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6259
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاندھے پر دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» یا اللہ! ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6311
زہری سے انہی اسناد کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6298
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کو جاتے تو قرعہ ڈالتے اپنی عورتوں پر، ایک بار قرعہ مجھ پر اور ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر آیا، ہم دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلیں اور آپ مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6328
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اہل بیت میں سے سمجھتا تھا۔ یا اسی طرح کا ذکر کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6322
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا جو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پیٹ سے تھا مر گیا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: ابوطلحہ کو خبر نہ کرنا ان کے بیٹے کی جب تک میں خود نہ کہوں۔ آخر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے ام سلیم رضی اللہ عنہا شام کا کھانا سامنے لائیں۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6397
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے تم سمجھتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بہت بیان کرتے ہیں اور اللہ حساب لینے والا ہے (اگر میں جھوٹ بولتا ہوں یا تم میرے اوپر غلط گمان کرتے ہو) میں ایک مسکین شخص تھا رسول اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6284
ہشام سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6400
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تم کہتے ہو کہ ابوہریرہ بہت حدیثیں بیان کرتے ہیں ان کی حدیث کی مانند بیان کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6361
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے دو برس پہلے نماز پڑھی اور یہ ہے کہ دونوں ایک کاہن کے پاس گئے۔ انیس نے اس کاہن کی تعریف شروع کی یہاں تک کہ اس پر غالب آیا اور ہم نے اس کے اونٹ بھی لے کر اپنے اونٹوں میں ملا لیے اور یہ ہے کہ نماز ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6237
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن ان کے لیے جمع کیا اپنے ماں باپ کو . سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک شخص تھا مشرکوں میں سے جس نے جلا دیا تھا مسلمانوں کو (یعنی بہت مسلمانوں کو قتل کیا تھا) رسول اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6227
ابوحیان سے اسماعیل کی حدیث کی مانند مروی ہے اور حدیث جریر میں اتنا زیادہ ہے کہ اللہ کی کتاب میں ہدایت ہے اور نور ہے جو اس کو پکڑے رہے گا وہ ہدایت پر رہے گا اور جو اس کو چھوڑ دے گا وہ گمراہ جائے گا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6413
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت «إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا» ”جب دو گروہوں نے تم میں سے قصد کیا ہمت ہار دینے کا اور اللہ مالک ہے ان دونوں کا۔“ ہم لوگوں کے باب میں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6330
ابوالاحوص سے روایت ہے کہ ہم ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے اور وہاں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کئی ساتھی تھے اور ایک قرآن مجید دیکھ رہے تھے، اتنے میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6221
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے: ”تم خوش نہیں ہو اس بات سے کہ تمہارا درجہ میرے پاس ایسا ہو جیسے ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے پاس۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6180
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایسا ہی حکم دیا جیسا کہ حدیث عباد بن موسیٰ میں ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6289
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، لوگ میری باری کا انتظار کیا کرتے۔ جس دن میری باری ہوتی تحفے بھیجتے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوں۔مکمل حدیث پڑھیئے