Hadith no 6305 Of Sahih Muslim Chapter Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib (Vistues of Companions of Prophet SAW)
Read Sahih Muslim Hadith No 6305 - Hadith No 6305 is from Vistues Of Companions Of Prophet SAW , Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 6305 of Imam Muslim covers the topic of Vistues Of Companions Of Prophet SAW briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 6305 from Vistues Of Companions Of Prophet SAW in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 6305
| Hadith No | 6305 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Vistues Of Companions Of Prophet SAW |
| Roman Name | Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib |
| Arabic Name | فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ |
| Urdu Name | صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب |
Urdu Translation
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، گیارہ عورتیں بیٹھیں اور ان تمام نے یہ اقرار کیا اور عہد کیا کہ اپنے اپنے خاوندوں کی کوئی بات نہ چھپائیں گی۔ پہلی عورت نے کہا: میرا خاوند گویا دبلے اونٹ کا گوشت ہے جو ایک دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو نہ تو وہاں تک صاف راستہ ہے کہ کوئی چڑھ جائے اور نہ وہ گوشت موٹا ہے کہ لایا جائے۔ دوسری عورت نے کہا: میں اپنے خاوند کی خبر نہیں پھیلا سکتی میں ڈرتی ہوں اگر بیان کروں تو پورا بیان نہ کر سکوں گی، اس قدر اس میں عیوب ہیں ظاہری بھی اور باطنی بھی (اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ میں ڈرتی ہوں اگر بیان کروں تو اس کو چھوڑ دوں گی یعنی وہ خفا ہو کر مجھ کو طلاق دے گا اور اس کو چھوڑنا پڑے گا)۔ تیسری عورت نے کہا: میرا خاوند لمبا ہے (یعنی احمق) اگر میں اس کی برائی بیان کروں تو مجھ کو طلاق دے دے گا اور جو چپ رہو ں تو اوہڑ رہوں گی (یعنی نہ نکاح کے مزے اٹھاؤں گی نہ بالکل محروم رہوں گی)۔ چوتھی نے کہا:میرا خاوند تو ایسا ہے جیسے تہامہ (حجاز اور مکہ) کی رات نہ گرم ہے نہ سرد (یعنی معتدل المزاج ہے) نہ ڈر ہے نہ رنج (یہ اس کی تعریف کی یعنی اس کے عمدہ اخلاق ہیں اور نہ وہ میری صحبت سے ملول ہوتا ہے۔) پانچویں عورت نے کہا: میرا خاوند جب گھر میں آتا ہے تو چیتا ہے (یعنی پڑ کر سو جاتا ہے اور کسی کو نہیں ستاتا) اور جب باہر نکلتا ہ ےتو شیر ہے اور جو مال اسباب گھر چھوڑ جاتا ہے اس کو نہیں پوچھتا۔ چھٹی عورت نے کہا: میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب تمام کر دیتا ہے اور پیتا ہے تو تلچھٹ تک نہیں چھوڑتا اور لیٹتا ہے تو بدن لپیٹ لیتا ہے اور مجھ پر اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا کہ میرا دکھ اور درد پہچانے (یہ بھی ہجو ہے یعنی سوا کھانے پینے کے بیل کی طرح اور کوئی کام کا نہیں عورت کی خبر تک نہیں لیتا۔) ساتویں عورت نے کہا: میرا خاوند نامرد ہے یا شریر نہایت احمق ہے کہ کلام نہیں کرنا جانتا سب جہاں بھر کے عیب اس میں موجود ہیں ایسا ظالم کہ تیرا سر پھوڑے یا ہاتھ توڑے یا سر اور ہاتھ دونوں مروڑے۔ آٹھویں عورت نے کہا: میراخاوند بو میں زرنب ہے (زرنب ایک خوشبودار گھاس ہے) اور چھونے میں نرم جیسے خرگوش (یہ تعریف ہے یعنی اس کا ظاہر اور باطن دونوں اچھے ہیں۔ نویں عورت نے کہا: میرا خاوند اونچے محل والا لمبے پر تلے والا (یعنی قدآور) بڑی راکھ والا (یعنی سخی ہے اس کا باورچی خانہ ہمیشہ گرم رہتا ہے تو راکھ بہت نکلتی ہے) اس کا گھر نزدیک ہے مجلس اور مسافر خانہ سے (یعنی سردار اور سخی ہے اس کا لنگر جاری ہے)۔ دسویں عورت نے کہا: میرے خاوند کا نام مالک ہے مالک افضل ہے میری اس تعریف سے، اس کے اونٹوں کے بہت شترخانے ہیں اور کمتر چراگاہیں ہیں (یعنی ضیافت میں اس کے یہاں اونٹ بہت ذبح ہوا کرتے ہیں اس سبب سے شترخانوں سے جنگل میں کم چرنے جاتے ہیں) جب کہ اونٹ باجے کی آواز سنتے ہیں تو اپنے ذبح ہونے کا یقین کر لیتے ہیں (ضیافت میں راگ اور باجے کا معمول تھا اس سبب سے باجے کی آواز سن کر اونٹوں کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو جاتا تھا)۔ گیارھویں عورت نے کہا: میرے خاوند کا نام ابوزرع ہے، سو واہ! کیا خوب ابوزرع ہے، اس نے زیور سے میرے دونوں کان جھلائے اور چربی سے میرے دونوں بازو بھرے (یعنی مجھ کو موٹا کیا اور مجھ کو بہت خوش کیا) سو میری جان بہت چین میں رہی۔ مجھ کو اس نے بھیڑ بکری والوں میں پایا جو پہاڑ کے کنارے رہتے تھے سو اس نے مجھ کو گھوڑے اور اونٹ اور کھیت اور خرمن کا مالک کر دیا (یعنی میں نہایت ذلیل اور محتاج تھی اس نے مجھ کو باعزت اور مالدار کر دیا) میں اس کی بات کرتی ہوں وہ مجھ کو برا نہیں کہتا سوتی ہوں تو فجر کر دیتی ہوں (یعنی کچھ کام نہیں کرنا پڑتا) اور پیتی ہوں تو سیراب ہو جاتی ہوں۔ ماں ابوزرع کی! سو کیا خوب ہے ماں ابوزرع کی اس کی بڑی بڑی گٹھڑیاں کشادہ اور کشادہ گھر۔ بیٹا ابوزرع کا! سو کیا خوب ہے بیٹا ابوزرع کا اس کی خواب گاہ جیسے تلوار کی میان (یعنی نازنین بدن ہے) اس کو آسودہ کر دیتا ہے حلوان کا ہاتھ۔ (یعنی کم خور ہے) بیٹی ابوزرع کی! سو کیا خوب ہے بیٹی ابوزرع کی، اپنے ماں باپ کی تابعدار اپنے لباس کے بھرنے والی (یعنی موٹی ہے) اور اپنے سوت کی رشک (یعنی اپنے خاوند کی پیاری ہے) اس واسطے اس کی سوت اس سے جلتی ہے۔ لونڈی ابوزرع کی! کیا خوب ہے لونڈی ابوزرع کی ہماری بات مشہور نہیں کرتی ظاہر کر کے اور ہمارا کھانا نہیں لے جاتی اٹھا کر اور ہمارا گھر آلودہ نہیں رکھتی کوڑے سے۔ ابوزرع باہر نکلا جب کہ مشکوں میں دودھ متھا جاتا تھا (گھی نکالنے کے واسطے) سو وہ ملا ایک عورت سے، جس کے ساتھ اس کے دو لڑکے تھے جیسے دو چیتے اس کی گود میں دو اناروں سے کھیلتے تھے سو ابوزرع نے مجھے طلاق دے دی اور اس عورت سے نکاح کیا، پھر میں نے اس کے بعد ایک سردار مرد سے نکاح کیا عمدہ گھوڑے کا سوار اور نیزہ باز۔ اس نے مجھ کو چوپائے جانور بہت دیے اور اس نے مجھ کو ہر مویشی سے جوڑا جوڑا دیا سو اس نے مجھ سے کہا کہ اے ام زرع! اور کھلا اپنے لوگوں کو سو اگر میں جمع کروں جو دوسرے خاوند نے دیا تو ابوزرع کے چھوٹے برتن کے برابر بھی نہ پہنچے (یعنی دوسرے خاوند کا احسان پہلے خاوند کے احسان سے نہایت کم ہے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں تیرے لیے ایسا ہوں جیسے ابوزرع تھا ام زرع کے لیے۔“ (یعنی ویسی تیری خاطر کرتا ہوں اور سب باتوں میں تشبیہ ضروری نہیں تو آپ نے طلاق نہیں دی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اور یہ غیبت میں داخل نہیں جو عورتوں نے اپنے خاوندوں کا ذکر کیا کیونکہ انہوں نے اپنے خاوندوں کا نام نہیں لیا اور جب تک نام لےکر کسی کی برائی نہ کرے وہ غیبت نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ عورتیں مجہول ہیں یہ اگر غیبت بھی کرتی ہوں تو کیا بعید ہے اور اس وقت میں اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی برائی کرے ان لوگوں کے سامنے جو اس کے خاوند کو پہنچانتے ہوں تو وہ غیبت ہو جائے گی گو نام نہ لے نووی)۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عِيسَى وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً ، فَتَعَاهَدْنَ ، وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا ، قَالَتِ الْأُولَى : زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ ، عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ وَعْرٍ لَا سَهْلٌ ، فَيُرْتَقَى وَلَا سَمِينٌ ، فَيُنْتَقَلَ ، قَالَتِ الثَّانِيَةُ : زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ ، أَنْ لَا أَذَرَهُ إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ ، قَالَتِ الثَّالِثَةُ : زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ ، قَالَتِ الرَّابِعَةُ : زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ ، لَا حَرَّ ، وَلَا قُرَّ ، وَلَا مَخَافَةَ ، وَلَا سَآمَةَ ، قَالَتِ الْخَامِسَةُ : زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ ، قَالَتِ السَّادِسَةُ : زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ ، وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ ، قَالَتِ السَّابِعَةُ : زَوْجِي غَيَايَاءُ ، أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ ، أَوْ فَلَّكِ ، أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ ، قَالَتِ الثَّامِنَةُ : زَوْجِي الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ ، وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ : زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ ، طَوِيلُ النِّجَادِ ، عَظِيمُ الرَّمَادِ ، قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِي ، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ : زَوْجِي مَالِكٌ ، وَمَا مَالِكٌ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ، لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ ، قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ ، قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ : زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ فَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ ، وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبَجَّحَنِي ، فَبَجَحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي ، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ ، وَأَطِيطٍ ، وَدَائِسٍ ، وَمُنَقٍّ ، فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ ، فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ أُمُّ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ ، وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا ، وَطَوْعُ أُمِّهَا ، وَمِلْءُ كِسَائِهَا ، وَغَيْظُ جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا ، وَلَا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا ، وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا ، قَالَتْ : خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ ، فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا ، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا رَكِبَ شَرِيًّا ، وَأَخَذَ خَطِّيًّا ، وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا ، قَالَ : كُلِي أُمَّ زَرْعٍ ، وَمِيرِي أَهْلَكِ ، فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِي ، مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ " .
- Previous Hadith
- Hadith No. 6305 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب سے مزید احادیث
حدیث نمبر 6436
ترجمہ وہی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ منبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6246
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، خندق والے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ اس قلعمہ میں تھے جس میں عورتیں تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی عورتیں اور حدیث کو بیان کیا، ابن مسہر کی حدیث کے مطابق اور اس میں عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6221
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے: ”تم خوش نہیں ہو اس بات سے کہ تمہارا درجہ میرے پاس ایسا ہو جیسے ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے پاس۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6364
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اتنا زیادہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، میں گھوڑے پر نہیں جمتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا: ”اللہ جما دے اس کو، اور راہ بتانے والا، ہدایت پانے والا بنا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6285
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں جان لیتا ہوں جب تومجھ سے خوش ہوتی ہے اور جب ناخوش ہوتی ہے۔“ میں نے عرض کیا: کیونکر آپ جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6191
صالح یونس کی اسناد کے تحت اسی طرح روایت کرتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6250
ہشام سے انہی اسناد کے تحت مروی ہے اور اس میں دونوں باپ کا بیان ہے یعنی سیدنا ابوبکر اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6277
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، میں نے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کیا وہ میرے نکاح سے تین برس پہلے مر چکی تھیں اور یہ رشک میں اس وقت کرتی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے(اور ان کی تعریف ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6195
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سوتے میں دیکھا میں اپنے حوض میں پانی کھینچ رہا ہو ں اور لوگوں کو پلارہا ہو ں، پھر ابوبکر میرے پاس آئے، انہوں نے ڈول میرے ہاتھ سے لے لیا، مجھے آرام دینے کو اور دو ڈول ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6287
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ گڑیوں سے کھیلتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، انہو ں نے کہا: میری ہمجولیاں آتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر غائب ہو جاتیں، (شرم سے اور ڈر سے) آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6481
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے ایک مہینہ پہلے فرماتے تھے: ”تم مجھ سے قیامت کو پوچھتے ہو قیامت کا علم تو اللہ کو ہے اور میں قسم کھاتا ہوں اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6305
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، گیارہ عورتیں بیٹھیں اور ان تمام نے یہ اقرار کیا اور عہد کیا کہ اپنے اپنے خاوندوں کی کوئی بات نہ چھپائیں گی۔ پہلی عورت نے کہا: میرا خاوند گویا دبلے اونٹ کا گوشت ہے جو ایک دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو نہ تو وہاں تک صاف راستہ ہے کہ کوئی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6302
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی روایتوں کی مانند بیان فرمایا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6402
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، ابومرثد غنوی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور ہم تمام گھوڑ سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چلو اور جب روضہ خاخ کے مقام پر پہنچو گے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6264
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا سردار سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کیا لوگوں نے اس کی سرداری پر طعن کیا (کہ ایک نوجوان شخص کو بڑے بڑے مہاجرین اور انصار کا آپ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6341
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا:کس نے قرآن جمع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: چار آدمیوں نے انصار میں سے ابی بن کعب اور معاذ بن جبل اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور ایک شخص ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6461
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6492
سیدنا اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب یمن سے مدد کے لوگ آتے (یعنی وہ لوگ جو ہر ملک سے اسلام کے لشکر کی مدد کے لیے آتے ہیں جہاد کرنے کے لیے) تو وہ ان سے پوچھتے: تم میں اویس بن عامر بھی کوئی شخص ہے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6351
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سندس (ایک ریشمی کپڑا ہے) کا ایک جبہ تحفہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے حریر سے۔ لوگوں نے اسے دیکھ کر تعجب کیا (اس کی نرمی اور خوبی سے) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 6380
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی زندہ شخص کے لیے جو چلتا، پھرتا ہو یہ نہیں سنا کہ وہ جنت میں ہے مگر سیدنا عبداللہ بن سلام کے لیے۔مکمل حدیث پڑھیئے