Hadith no 6322 Of Sahih Muslim Chapter Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib (Vistues of Companions of Prophet SAW)

Read Sahih Muslim Hadith No 6322 - Hadith No 6322 is from Vistues Of Companions Of Prophet SAW , Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 6322 of Imam Muslim covers the topic of Vistues Of Companions Of Prophet SAW briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 6322 from Vistues Of Companions Of Prophet SAW in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 6322

Hadith No 6322
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Vistues Of Companions Of Prophet SAW
Roman Name Sahaba Karaam R.A Ke Fazail O Munaqib
Arabic Name فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ
Urdu Name صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا جو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پیٹ سے تھا مر گیا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: ابوطلحہ کو خبر نہ کرنا ان کے بیٹے کی جب تک میں خود نہ کہوں۔ آخر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے ام سلیم رضی اللہ عنہا شام کا کھانا سامنے لائیں۔ انہوں نے کھایا اور پیا۔ پھر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اچھی طرح بناؤ سنگھار کیا ان کے لیے یہاں تک کہ انہوں نے جماع کیا ان سے، جب ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ وہ سیر ہو گئے اور ان کے ساتھ صحبت بھی کر چکے اس وقت انہوں نے کہا: اے ابوطلحہ! اگر کچھ لوگ اپنی چیز کسی گھر والوں کو دیں پھر اپنی چیز مانگیں تو کیا گھر والے اس کو روک سکتے ہیں؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں روک سکتے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: تو میں تم کو خبر دیتی ہوں تمہارے بیٹے کے مرنے کی یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ غصے ہوئے اور کہنے لگے، تو نے مجھ کو خبر نہ کی یہاں تک کہ میں آلودہ ہوا (جنبی ہوا) اب مجھ کو خبر کی۔ وہ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے تمہاری گزری ہوئی رات میں۔“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا حاملہ ہو گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی آپ کے ساتھ تھیں اور آپ سفر سے مدینہ میں تشریف لاتے تو رات کو مدینہ میں داخل نہ ہوتے۔ جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کو درد زہ شروع ہوا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس ٹھہرے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے:اے پروردگار! تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے رسول کے ساتھ نکلنا کتنا پسند ہے جب وہ نکلے اور جانا پسند ہے جب وہ جائیں لیکن تو جانتا ہے میں جس وجہ سے رک گیا ہوں۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوطلحہ اب میرے ویسا درد نہیں جیسے پہلے تھا تو چلو ہم چلے۔ جب میاں بی بی مدینہ میں آئے تو پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو درد زہ شروع ہوا اور وہ ایک لڑکا جنیں۔ میری ماں نے کہا: اے انس! اس کو کوئی دودھ نہ پلائے جب تک تو صبح کو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ لے جائے۔ جب صبح ہوئی تو میں نے بچے کو اٹھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا میں نے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اونٹوں کے داغنے کا آلہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ کو دیکھا تو فرمایا: ”شاید ام سلیم نے یہ لڑکاجنا۔“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آلہ ہاتھ مبارک سے رکھ دیا اور میں بچےکو لےکر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجور مدینہ کی منگوائی اور اپنے منہ میں چبائی۔ جب وہ گھل گئی تو بچے کے منہ میں ڈالی، بچہ اس کو چوسنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو انصار کو کھجور سے کیسی محبت ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا : لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ ، قَالَ : فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً ، فَأَكَلَ وَشَرِبَ ، فَقَالَ : ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَوَقَعَ بِهَا ، فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا ، قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ : أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ ، فَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَتْ : فَاحْتَسِبْ ابْنَكَ ، قَالَ : فَغَضِبَ ، وَقَالَ : تَرَكْتِنِي حَتَّى تَلَطَّخْتُ ، ثُمَّ أَخْبَرْتِنِي بِابْنِي ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا ، قَالَ : فَحَمَلَتْ ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا ، فَدَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ ، فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ ، فَاحْتُبِسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ ، وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ : إِنَّكَ لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ ، إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ ، وَقَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى ، قَالَ : تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا أَبَا طَلْحَةَ : مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ انْطَلِقْ ، فَانْطَلَقْنَا ، قَالَ : وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي : يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعُهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ احْتَمَلْتُهُ ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيسَمٌ ، فَلَمَّا رَآنِي ، قَالَ : لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ ، قُلْتُ : نَعَمْ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ ، قَالَ : وَجِئْتُ بِهِ ، فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ ، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ ، فَلَاكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ، ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ ، قَالَ : فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ .

Your Comments/Thoughts ?

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب سے مزید احادیث

حدیث نمبر 6443

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6400

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، تم کہتے ہو کہ ابوہریرہ بہت حدیثیں بیان کرتے ہیں ان کی حدیث کی مانند بیان کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6435

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غفار کو اللہ بخشے اور اسلم کو سلامت رکھے اور عصیہ نے نافرمانی کی اللہ اور اس کے رسول کی۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6303

‏‏‏‏ زکریا سے انہی اسناد کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6391

‏‏‏‏ مسروق سے روایت ہے کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ان کے پاس سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے، ایک شعر سنا رہے تھے، اپنی غزل میں سے جو چند بیتوں کی انہوں نے کہی تھی: وہ شعر یہ ہے۔ پاک ہیں اور عقل والی ان پہ کچھ تہمت نہیں صبح کو اٹھتی ہیں بھوکی غافلوں کے گوشت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6477

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ”قسم کھائیں گے بن قسم دلائے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6496

‏‏‏‏ ابونوفل سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی گھاٹی پر دیکھا (یعنی مکہ کا وہ ناکہ جو مدینہ کی راہ ہے) قریش کے لوگ ان پر سے گزرتے تھے اور اور لوگ بھی (ان کو حجاج نے سولی دے کر اسی پر رہنے دیا تھا) یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6211

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بے شک سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، پھر حدیث عقیل جو زہری سے ہے اس کی مانند بیان کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6446

‏‏‏‏ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ بہتر ہیں بنی تمیم اور بنی عامر سے اور بنی اسد اور غطفان سے جو حلیف ہیں ایک دوسرے کے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6278

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں پر رشک نہیں کیا البتہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کیا اور میں نے ان کو نہیں پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے: ”اس کا گوشت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6170

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور فرمایا: ”اللہ کا ایک بندہ ہے جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے، چاہے دنیا کی دولت لے، چاہے اللہ تعالیٰ کے پاس رہنا اختیار کرے۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کے پاس رہنا اختیار ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6398

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہےجو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6314

‏‏‏‏ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب بیبیاں جمع ہوئیں کوئی باقی نہ رہی، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ان کی چال تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6447

‏‏‏‏ ابی بشر سے انہی اسناد کے تحت مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6280

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اتنا رشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بی بی پر نہیں کیا جتنا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذ کر بہت کرتے اور میں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو کبھی دیکھا بھی نہ تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6458

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرشی عورتیں اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہترین ہیں اور بچوں پر سب سے زیادہ مہربان اور اپنے خاوندوں کے مال کی حفاظت کرنے والی ہیں۔“ اس روایت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6394

‏‏‏‏ ہشام بن عروہ سے انہی اسناد کے ساتھ مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ حسان نے اجازت مانگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے ہجو کرنے کی اور ابوسفیان کا ذکر نہیں کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6274

‏‏‏‏ اسمعیل نے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو خوشخبری دی ایک گھر کی جنت میں؟ انہوں نے کہا: ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خوشخبری دی ایک گھر کی جنت میں جو خولدار موتی کا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6215

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نکلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنے کے لیے، میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغوں کی طرف گئے ہیں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک باغ میں پایا . آپ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 6375

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے راویت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اس وقت گھر میں کو ئی نہ تھا سوا میرے اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا اور میری خالہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے، میری ماں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کا چھوٹا خادم (انس) ..مکمل حدیث پڑھیئے