Hadith no 7431 Of Sahih Muslim Chapter Zehed Aur Riqqat Angaiz Baatein (Emotional Talk)

Read Sahih Muslim Hadith No 7431 - Hadith No 7431 is from Emotional Talk , Zehed Aur Riqqat Angaiz Baatein Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 7431 of Imam Muslim covers the topic of Emotional Talk briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 7431 from Emotional Talk in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 7431

Hadith No 7431
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Emotional Talk
Roman Name Zehed Aur Riqqat Angaiz Baatein
Arabic Name الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ
Urdu Name زہد اور رقت انگیز باتیں

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کے لوگوں میں تین آدمی تھے ایک کوڑھی سفید داغ والا، دوسرا گنجا، تیسرا اندھا، سو اللہ نے چاہا کہ ان کو آزمائے تو ان کے پاس فرشتہ بھیجا سو وہ سفید داغ والے کے پاس آیا پھر اس نے کہا: کہ تجھ کو کون سی چیز بہت پیاری ہے؟ اس نے کہا: اچھا رنگ اور اچھی کھال اور مجھ سے یہ بیماری دور ہو جائے جس کے سبب لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فرشتہ نے اس پر ہاتھ ملا سو اس کی گھن دور ہو گئی اور اس کو اچھا رنگ اور اچھی کھال دی گئی۔ فرشتہ نے کہا: کون سا مال تجھ کو بہت پسند ہے؟ اس نے کہا: اونٹ یا گائے۔“ اسحاق بن عبداللہ اس حدیث کے ایک راوی کو شک پڑ گیا کہ اس نے اونٹ مانگا یا گائے، لیکن سفید داغ والے یا گنجے نے ان میں سے ایک نے اونٹ کہا، دوسرے نے گائے، سو اس کو دس مہینے کی گابھن اونٹنی دی۔ پھر کہا: اللہ تعالیٰ تیرے واسطے اس میں برکت دے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتہ پھر گنجے کے پاس آیا سو کہا: کون سی چیز تجھ کو بہت پسند آتی ہے؟ اس نے کہا: اچھے بال اور یہ بیماری جاتی رہے جس کے سبب سے لوگ مجھ سے گھناتے ہیں۔ پھر اس نے اس پر ہاتھ ملا سو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اس کو اچھے بال ملے۔ فرشتہ نے کہا: کہ کون سا مال تجھ کو بھاتا ہے۔ اس نے کہا کہ گائے؟ سو اس کو گابھن گائے ملی۔ فرشتہ نے کہا: اللہ تیرے مال میں برکت دے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا سو کہا کہ تجھ کو کون سی چیز بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ میری آنکھ میں روشنی دے تو میں اس کے سبب لوگوں کو دیکھوں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فرشتہ نے اس پر ہاتھ ملا سو اس کو اللہ تعالیٰ نے روشنی دی۔ فرشتہ نے کہا کہ کون سا مال تجھ کو بہت پسند ہے؟ اس نے کہا: بھیڑ بکری۔ تو اس کو گابھن بکری ملی۔ پھر اونٹنی اور گائے اور بکری بھی جنی۔ پھر ہوتے ہوتے سفید داغ والے کے جنگل بھر اونٹ ہو گئے اور گنجے کے جنگل بھر گائے بیل ہو گئے اور اندھے کے جنگل بھر بکریاں ہو گئیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعد مدت کے وہی فرشتہ سفید داغ والے کے پاس اپنی اگلی صورت اور شکل میں آیا، سو اس نے کہا کہ میں محتاج آدمی ہوں سفر میں میرے تمام اسباب کٹ گئے (یعنی تدبیریں جاتی رہیں اور مال اور اسباب نہ رہا) سو آج منزل پر پہنچنا مجھ کو ممکن نہیں بدوں اللہ کی مدد کے پھر بدوں تیرے کرم کے۔ میں تجھ سے مانگتا ہوں اسی کے نام پر جس نے تجھ کو ستھرا رنگ اور ستھری کھال اور مال اونٹ دئیے، ایک اونٹ دے جو میرے سفر میں کام آئے۔ اس نے اس سے کہا: لوگوں کے حق مجھ پر بہت ہیں (یعنی قرضدار ہوں یا گھربار کے خرچ سے مال زیادہ نہیں جو تجھ کو دوں)۔ پھر فرشتہ نے کہا: البتہ میں تجھ کو پہچانتا ہوں بھلا کیا تو محتاج کوڑھی نہ تھا کہ تجھ سے لوگ گھناتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تجھ کو یہ مال دیا۔ اس نے جواب دیا: کہ میں نے تو یہ مال اپنے باپ دادا سے پایا ہے جو کئی پشت سے بڑے آدمی تھے۔ فرشتہ نے کہا: اگر تو جھوٹا ہو تو اللہ تجھ کو ویسا ہی کر ڈالے جیسا تو تھا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اسی اپنی صورت اور شکل میں پھر اس سے کہا: جیسا سفید داغ والے سے کہا تھا۔ اس نے وہی جواب دیا جو سفید داغ والے نے دیا تھا۔ فرشتہ نے کہا: اگر تو جھوٹا ہو تو اللہ تجھ کو ویسا ہی کر ڈالے جیسا تو تھا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور فرشتہ اندھے کے پاس گیا اپنی اسی صورت اور شکل میں پھر فرشتہ نے کہا: میں محتاج آدمی اور مسافر ہوں میرے سفر میں سب وسیلے اور تدبیریں کٹ گئیں سو مجھ کو آج منزل پر پہنچنا بغیر اللہ کی مدد اور تیرے کرم کے مشکل ہے۔ سو میں تجھ سے اس اللہ کے نام پر جس نے تجھ کو آنکھ دی ایک بکری مانگتا ہوں کہ میرے سفر میں وہ کام آئے۔ اس نے کہا: بے شک میں اندھا تھا اللہ نے مجھ کو آنکھ دی تو لے جا ان بکریوں میں سے جتنا تیرا جی چاہے اور چھوڑ جا بکریوں میں سے جتنا تیرا جی چاہے۔ اللہ کی قسم! آج جو چیز تو اللہ کی راہ میں لے گا میں تجھ کو مشکل میں نہیں ڈالوں گا (یعنی تیرا ہاتھ نہ پکڑوں گا) سو فرشتہ نے کہا: اپنا مال رہنے دے تم تینوں آدمی صرف آزمائے گئے تھے۔ سو تجھ سے تو البتہ اللہ راضی ہوا اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا۔“

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ ، وَأَقْرَعَ ، وَأَعْمَى ، فَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا ، فَأَتَى الْأَبْرَصَ ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : لَوْنٌ حَسَنٌ ، وَجِلْدٌ حَسَنٌ ، وَيَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ ، قَالَ : فَمَسَحَهُ ، فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : الْإِبِلُ أَوَ قَالَ : الْبَقَرُ شَكَّ إِسْحَاقُ إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ أَوِ الْأَقْرَعَ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : الْإِبِلُ وَقَالَ الْآخَرُ : الْبَقَرُ ، قَالَ : فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، قَالَ : فَأَتَى الْأَقْرَعَ ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : شَعَرٌ حَسَنٌ ، وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ ، قَالَ : فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : الْبَقَرُ ، فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، قَالَ : فَأَتَى الْأَعْمَى ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ ، قَالَ : فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : الْغَنَمُ ، فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا ، فَأُنْتِجَ هَذَانِ وَوَلَّدَ هَذَا ، قَالَ : فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنَ الْإِبِلِ ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينٌ : قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي ، فَلَا بَلَاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِيرًا ، أَتَبَلَّغُ عَلَيْهِ فِي سَفَرِي ؟ ، فَقَالَ : الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ ، فَقَالَ لَهُ : كَأَنِّي أَعْرِفُكَ ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيرًا ، فَأَعْطَاكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا ، عَنْ كَابِرٍ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ ، قَالَ : وَأَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا ، وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَى هَذَا ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا ، فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ ، قَالَ : وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ ، فَقَالَ : رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي ، فَلَا بَلَاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً ، أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي ؟ ، فَقَالَ : قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي ، فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ ، فَوَاللَّهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ ، فَقَالَ : أَمْسِكْ مَالَكَ ، فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فَقَدْ رُضِيَ عَنْكَ وَسُخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ " .

Your Comments/Thoughts ?

زہد اور رقت انگیز باتیں سے مزید احادیث

حدیث نمبر 7456

‏‏‏‏ سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت ہے اور اس میں یہ ہے کہ ہم سیر نہیں ہوئے کھجور اور پانی سے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7494

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7460

‏‏‏‏ سماک سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور زہیر کی روایت میں یہ ہے کہ تم بغیر کھجور اور مکھن کے طرح طرح کے کھانوں کے راضی نہیں ہوتے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7489

‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چھینکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» ۔“ پھر وہ چھینکا۔ آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7512

‏‏‏‏ عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں اور میرا باپ دونوں نکلے دین کا علم حاصل کرنے کے لیے انصار کے قبیلہ میں قبل اس کے کہ وہ مر جائیں۔ (یعنی انصار سے صحابہ کی حدیث سننے کے لیے) تو سب پہلے ہم ابوالیسر سے ملے جو صحابی تھے رسول اللہ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7503

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے بعد اس سے کوئی بہتر نہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7504

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ایک شخص کو تعریف کرتے ہوئے ایک شخص کی جو مبالغہ کر رہا تھا اس کی تعریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ہلاک کیا یا کاٹا اس شخص کی پیٹھ کو۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7432

‏‏‏‏ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اونٹوں میں تھے اتنے میں ان کا بیٹا عمر آیا (یہ عمر بن سعد وہی ہے جو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے لڑا اور جس نے دنیا کے لیے اپنی آخرت برباد کی) جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا تو کہا: پناہ مانگتا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7436

‏‏‏‏ سیدنا خالد بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا وہ حاکم تھے بصرہ کے، پھر بیان کیا اسی طرح جیسے اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7418

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آ رہے تھے کسی عالیہ کی طرف سے (عالیہ وہ گاؤں ہیں جو مدینہ کے باہر بلندی پر واقع ہیں) اور لوگ آپ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7485

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میری تمام امت کے گناہ بخشے جائیں گے مگر ان لوگوں کے جو اپنے گناہوں کو فاش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آدمی رات کو ایک گناہ کا کام کرے، پھر صبح ہو اور پروردگار نے اس کا گناہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7505

‏‏‏‏ سیدنا ابومعمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص کسی امیر کی امیروں میں سے تعریف کر رہا تھا۔ سیدنا مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ نے اس پر مٹی ڈالنا شروع کی اور کہا: حکم کیا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تعریف کرنے والوں کے منہ پر مٹی ڈالو (مراد حقیقتاً ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7440

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا» ”یا اللہ! محمد(صلى الله عليه وسلم) کی آل کو بقدر کفاف روزی دے۔“ مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7441

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ عمرو کی روایت میں «اللَّهُمَّ اجْعَلْ» کی بجائے «اللَّهُمَّ ارْزُقْ» ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7462

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: کیا ہم مہاجرین فقیروں میں سے ہیں؟ عبداللہ نے کہا: تیری جورو ہے جس کے پاس تو رہاتا ہے؟ وہ بولا: ہاں۔ عبداللہ نے کہا: تیرا گھر ہے۔ جس میں تو رہتا ہے۔ وہ بولا: ہاں۔ عبداللہ نے کہا: تو امیروں میں سے ہے۔ وہ بولا: میرے پاس ایک خادم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7426

‏‏‏‏ زہری سے یونس کی سند کے مطابق روایت ہے اور اس میں یہ ہے کہ ”غافل کر دے تم کو جیسے پہلے لوگوں کو غافل کر دیا تھا۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7496

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرایئل کا ایک گروہ گم ہو گیا تھا، معلوم نہ ہوا وہ کہاں گیا۔ میں سمجھتا ہوں وہ گروہ چوہے ہیں (مسخ ہو گئے) کیا تم نہیں دیکھتے جب چوہوں کے لیے اونٹ کا دودھ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7481

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ ایسی بات کہہ بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے آگ میں اتنا اترتا جاتا ہے جیسے مشرق سے مغرب تک۔“ (جیسے کسی مسلمان کی شکایت یا مخبری حاکم وقت کے سامنے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7518

‏‏‏‏ پھر ہم چلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہاں تک کہ ایک کشادہ وادی میں اترے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت کو تشریف لے چلے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوا ایک ڈول پانی کا لے کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7522

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ جب سراقہ بن مالک نزدیک آ پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی، اس کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ وہ اس پر سے کود گیا اور کہنے لگا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں جانتا ..مکمل حدیث پڑھیئے