Hadith no 7511 Of Sahih Muslim Chapter Zehed Aur Riqqat Angaiz Baatein (Emotional Talk)

Read Sahih Muslim Hadith No 7511 - Hadith No 7511 is from Emotional Talk , Zehed Aur Riqqat Angaiz Baatein Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 7511 of Imam Muslim covers the topic of Emotional Talk briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 7511 from Emotional Talk in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 7511

Hadith No 7511
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Emotional Talk
Roman Name Zehed Aur Riqqat Angaiz Baatein
Arabic Name الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ
Urdu Name زہد اور رقت انگیز باتیں

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو بادشاہ سے بولا: میں بوڑھا ہو گیا ہوں میرے پاس کوئی لڑکا بھیج میں اس کو جادو سکھلاؤں۔ بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیجا، وہ اس کو جادو سکھلاتا تھا۔ اس لڑکے کی آمدورفت کی راہ میں ایک راہب تھا (نصرانی درویش یعنی پادری تارک الدنیا) وہ لڑکا اس کے پاس بیٹھتا اور اس کا کلام سنتا۔ اس کو بھلا معلوم ہوتا۔ جب جادوگر کے پاس جاتا تو راہب کی طرف ہو کر نکلتا اور اس کے پاس بیٹھتا پھر جب جادوگر کے پاس جاتا تو جادوگر اس کو مارتا۔ آخر لڑکے نے جادوگر کے مارنے کا راہب سے گلہ کیا۔ راہب نے کہا: جب تو جادوگر سے ڈرے تو یہ کہہ دیا کر میرے گھر والوں نے مجھ کو روک رکھا تھا اور جب تو اپنے گھر والوں سے ڈرے تو کہہ دیا کر کہ جادوگر نے مجھ کو روک رکھا تھا۔ اسی حالت میں وہ لڑکا رہا کہ ناگاہ ایک بڑے قد کے جانور پر گزرا جس نے لوگوں کو آمدورفت سے روک دیا تھا۔ لڑکے نے کہا کہ آج دریافت کرتا ہوں جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے۔ اس نے ایک پتھر لیا اور کہا: الہیٰ! اگر راہب کا طریقہ تجھ کو پسند ہو جادوگر کے طریقہ سے تو اس جانور کو قتل کر تاکہ لوگ چلیں پھریں۔ پھر اس کو مارا اس پتھر سے وہ جانور مر گیا اور لوگ چلنے پھرنے لگے۔ پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اس سے یہ حال کہا۔ وہ بولا: بیٹا! تو مجھ سے بڑھ گیا مقرر تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو قریب آزمایا جائے گا پھر اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا۔ اس لڑکے کا یہ حال تھا کہ اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا اور ہر قسم کی بیماری کا علاج کرتا۔ یہ حال بادشاہ کے ایک مصاحب نے سنا وہ اندھا ہو گیا تھا وہ بہت سے تحفے لے کر لڑکے کے پاس آیا اور کہنے لگا: یہ سب مال تیرا ہے اگر تو مجھ کو اچھا کر دے۔ لڑکے نے کہا: میں کسی کو اچھا نہیں کرتا، اچھا کرنا تو اللہ کا کام ہے۔ اگر تو اللہ پر ایمان لائے تو میں اللہ سے دعا کروں وہ تجھ کو اچھا کر دے گا۔ وہ مصاحب اللہ پر ایمان لایا۔ اللہ نے اس کو اچھا کر دیا۔ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور اس کے پاس بیٹھا جیسا کہ بیٹھا کرتا تھا۔ بادشاہ نے کہا: تیری آنکھ کس نے روشن کی؟ مصاحب بولا: میرے مالک نے۔ بادشاہ نے کہا: میرے سوا تیرا کون مالک ہے؟ مصاحب نے کہا: میرا اور تیرا دونوں کا مالک اللہ ہے۔ بادشاہ نے اس کو پکڑا اور مارنا شروع کیا اور مارتا رہا یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا نام لیا۔ وہ لڑکا بلایا گیا بادشاہ نے اس سے کہا: اے بیٹا! تو جادو میں اس درجہ پر پہنچا کہ اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہے اور بڑے بڑے کام کرتا ہے؟ وہ بولا: میں تو کسی کو اچھا نہیں کرتا، اللہ اچھا کرتا ہے۔ بادشاہ نے اس کو پکڑا اور مارتا رہا یہاں تک کہ اس نے راہب کا نام بتلایا۔ وہ راہب پکڑا ہوا آیا۔ اس سے کہا گیا: اپنے دین سے پھر جا۔ اس نے نہ مانا، بادشاہ نے ایک آرہ منگوایا اور راہب کی چندیا پر رکھا اور اس کو چیر ڈالا یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہو کر گرا۔ پھر وہ مصاحب بلایا گیا اس سے کہا گیا: تو اپنے دین سے پھر جا۔ اس نے بھی نہ مانا۔ اس کی چندیا پر بھی آرہ رکھا اور چیز ڈالا یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہو کر گرا۔ پھر وہ لڑکا بلایا گیا۔ اس سے کہا: اپنے دین سے پلٹ جا۔ اس نے بھی نہ مانا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے چند مصاحبوں کے حوالے کیا اور کہا: اس کو فلاں پہاڑ پر لے جا کر چوٹی پر چڑھاؤ۔ جب تم چوٹی پر پہنچو تو اس لڑکے سے پوچھو: اگر وہ اپنے دین سے پھر جائے تو خیر نہیں تو اس کو دھکیل دو۔ وہ اس کو لے گئے اور پہاڑ پر چڑھایا۔ لڑکے نے دعا کی الہٰی! تو جس طرح سے چاہے مجھے ان کے شر سے بچا۔ پہاڑ ہلا اور وہ لوگ گر پڑے۔ وہ لڑکا بادشاہ کے پاس چلا آیا۔ بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھی کدھر گئے؟ اس نے کہا: اللہ نے مجھ کو ان کے شر سے بچایا۔ پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند مصاحبوں کے حوالے کیا اور کہا: اس کو لے جاؤ ایک ناؤ پر چڑھاؤ اور دریا کے اندر لے جاؤ، اگر اپنے دین سے پھر جائے تو خیر ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دو۔ وہ لوگ اس کو لے گئے لڑکے نے کہا: الہٰی! تو مجھ کو جس طرح چاہے ان کے شر سے بچائے۔ وہ ناؤ اوندھی ہو گئی اور لڑکے کے ساتھی سب ڈوب گئے اور لڑکا زندہ بچ کر بادشاہ کے پاس آیا۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا: تیرے ساتھی کہاں گئے؟ وہ بولا: اللہ تعالیٰ نے ان سے مجھ کو بچایا۔ پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا: تو مجھ کو نہ مار سکے گا یہاں تک کہ میں جو بتلاؤں وہ کرے۔ بادشاہ نے کہا: وہ کیا؟ اس نے کہا: تو سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر اور ایک لکڑی پر مجھ کو سولی دے، پھر میرے ترکش سے ایک تیر لے اور کمان کے اندر رکھ پھر کہہ اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا مالک ہے مارتا ہوں، پھر تیر مار۔ اگر تو ایسا کرے گا تو مجھ کو قتل کرے گا۔ بادشاہ نے سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور اس لڑکے کو ایک لکڑی پر سولی دی، پھر اس کے ترکش سے ایک تیر لیا اور تیر کو کمان کے اندررکھ کر کہا: اللہ کے نام سے مارتا ہوں جو اس لڑکے کا مالک ہے اور تیر مارا۔ وہ لڑکے کی کنپٹی پر لگا۔ اس نے اپنا ہاتھ تیر کے مقام پر رکھا اور مر گیا، اور لوگوں نے یہ حال دیکھ کر کہا: ہم تو اس لڑکے کے مالک پر ایمان لائے۔ ہم اس لڑکے کے مالک پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے مالک پر ایمان لائے۔ کسی نے بادشاہ سے کہا: جس چیز سے تو ڈرتا تھا اللہ کی قسم وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے۔ بادشاہ نے حکم دیا راہوں کے ناکوں پر خندقیں کھودنے کا۔ پھر خندقیں کھودی گئیں اور ان کے اندر خوب آگ بھڑکائی اور کہا: جو شخص اس دین سے (یعنی لڑکے کے دین سے) نہ پھرے اس کو ان خندقوں میں دھکیل دو یا اس سے کہو کہ ان خندقوں میں گرے۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا، وہ عورت آگ میں گرنے سے جھجکی (پیچھے ہٹی) بچے نے کہا: اے ماں! صبر کر تو سچے دین پر ہے۔“ (تو مرنے کے بعد پھر چین ہی چین ہے پھر تو دنیا کی مصیبت سے کیوں ڈرتی ہے۔)

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَكَانَ لَهُ سَاحِرٌ ، فَلَمَّا كَبِرَ ، قَالَ لِلْمَلِكِ : إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ ، فَابْعَثْ إِلَيَّ غُلَامًا أُعَلِّمْهُ السِّحْرَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ غُلَامًا يُعَلِّمُهُ ، فَكَانَ فِي طَرِيقِهِ إِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ ، فَقَعَدَ إِلَيْهِ وَسَمِعَ كَلَامَهُ ، فَأَعْجَبَهُ ، فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ مَرَّ بِالرَّاهِبِ ، وَقَعَدَ إِلَيْهِ ، فَإِذَا أَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهُ ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ ، فَقَالَ : إِذَا خَشِيتَ السَّاحِرَ ، فَقُلْ حَبَسَنِي أَهْلِي ، وَإِذَا خَشِيتَ أَهْلَكَ ، فَقُلْ حَبَسَنِي السَّاحِرُ ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ ، فَقَالَ : الْيَوْمَ أَعْلَمُ آلسَّاحِرُ أَفْضَلُ أَمْ الرَّاهِبُ أَفْضَلُ ، فَأَخَذَ حَجَرًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ ، فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ حَتَّى يَمْضِيَ النَّاسُ ، فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا ، وَمَضَى النَّاسُ ، فَأَتَى الرَّاهِبَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ : أَيْ بُنَيَّ أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي قَدْ بَلَغَ مِنْ أَمْرِكَ مَا أَرَى ، وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى فَإِنِ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ ، وَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَيُدَاوِي النَّاسَ مِنْ سَائِرِ الْأَدْوَاءِ ، فَسَمِعَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ كَانَ قَدْ عَمِيَ ، فَأَتَاهُ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ ، فَقَالَ : مَا هَاهُنَا لَكَ أَجْمَعُ إِنْ أَنْتَ شَفَيْتَنِي ، فَقَالَ : إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ ، فَإِنْ أَنْتَ آمَنْتَ بِاللَّهِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ ، فَآمَنَ بِاللَّهِ فَشَفَاهُ اللَّهُ ، فَأَتَى الْمَلِكَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ ؟ ، قَالَ : رَبِّي ، قَالَ : وَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي ؟ ، قَالَ : رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ ، فَأَخَذَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الْغُلَامِ ، فَجِيءَ بِالْغُلَامِ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : أَيْ بُنَيَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ مَا تُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ ، فَأَخَذَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ ، فَجِيءَ بِالرَّاهِبِ ، فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ ، فَأَبَى فَدَعَا بِالْمِئْشَارِ ، فَوَضَعَ الْمِئْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، فَشَقَّهُ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ ثُمَّ جِيءَ بِجَلِيسِ الْمَلِكِ ، فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ ، فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِئْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، فَشَقَّهُ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ ، ثُمَّ جِيءَ بِالْغُلَامِ ، فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ ، فَأَبَى فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : اذْهَبُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا ، فَاصْعَدُوا بِهِ الْجَبَلَ ، فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَاطْرَحُوهُ ، فَذَهَبُوا بِهِ فَصَعِدُوا بِهِ الْجَبَلَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ ، فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ ، فَسَقَطُوا وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ ؟ ، قَالَ : كَفَانِيهِمُ اللَّهُ ، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : اذْهَبُوا بِهِ ، فَاحْمِلُوهُ فِي قُرْقُورٍ ، فَتَوَسَّطُوا بِهِ الْبَحْرَ ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ ، وَإِلَّا فَاقْذِفُوهُ ، فَذَهَبُوا بِهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ ، فَانْكَفَأَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ ، فَغَرِقُوا وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ ، فَقَالَ لَهُ : الْمَلِكُ مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ ؟ ، قَالَ : كَفَانِيهِمُ اللَّهُ ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ : إِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ ، قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ ، قَالَ : تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، وَتَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ ثُمَّ خُذْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي ، ثُمَّ ضَعِ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ، ثُمَّ قُلْ : بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ ، ثُمَّ ارْمِنِي ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي ، فَجَمَعَ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ وَصَلَبَهُ عَلَى جِذْعٍ ، ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبْدِ الْقَوْسِ ، ثُمَّ قَالَ : بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ ثُمَّ رَمَاهُ ، فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي صُدْغِهِ فِي مَوْضِعِ السَّهْمِ ، فَمَاتَ ، فَقَالَ : النَّاسُ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ ، فَأُتِيَ الْمَلِكُ ، فَقِيلَ لَهُ : أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ ، قَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ حَذَرُكَ قَدْ آمَنَ النَّاسُ ، فَأَمَرَ بِالْأُخْدُودِ فِي أَفْوَاهِ السِّكَكِ ، فَخُدَّتْ وَأَضْرَمَ النِّيرَانَ ، وَقَالَ : مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهِ ، فَأَحْمُوهُ فِيهَا أَوْ قِيلَ لَهُ اقْتَحِمْ ، فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا ، فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِيهَا ، فَقَالَ لَهَا : الْغُلَامُ يَا أُمَّهْ اصْبِرِي ، فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ " .

Your Comments/Thoughts ?

زہد اور رقت انگیز باتیں سے مزید احادیث

حدیث نمبر 7502

‏‏‏‏ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر آیا ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! اللہ کے رسول کے بعد کوئی شخص اس سے بہتر نہیں فلاں فلاں کام میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7437

‏‏‏‏ سیدنا خالد بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سنا عتبہ بن غزوان سے، وہ کہتے تھے: تو مجھے دیکھتا میں ساتواں شخص تھا سات آدمیوں کا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارا کھانا کچھ نہ تھا سوائے حبلہ (ایک درخت ہے) کے پتوں کے یہاں تک کہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7448

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل دو دن تک گہیوں کی روٹی سے سیر نہیں ہوئی مگر ایک دن صرف کھجور ملی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7452

‏‏‏‏ عروہ سے روایت ہے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: قسم اللہ کی! اے بھانجے میرے! ہم ایک چاند دیکھتے، دوسرا دیکھتے، تیسرا۔ دو مہینے میں تین چاند دیکھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں اس مدت تک آگ نہ جلتی۔ میں نے کہا: اے خالہ! پھر آپ کیا کھاتیں؟ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7475

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں بہ نسبت اور شریکوں کے محض بے پرواہ ہوں ساجھی سے، جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے ساتھ میرے غیر کو ملایا اور ساجھی کیا تو میں اس کو اور اس کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7450

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے مگر جب گوشت ہمارے پاس آتا تو آگ سلگاتے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7480

‏‏‏‏ ولید بن حرب سے اسی سند کے ساتھ مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7521

‏‏‏‏ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے باپ (عازب کے) مکان پر آئے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا اور عازب سے بولے: تم اپنے بیٹے سے کہو یہ کجاوہ اٹھا کر میرے ساتھ چلے میرے مکان تک۔ میرے باپ نے بھی مجھ سے کہا: کجاوہ اٹھا لے، میں نے اٹھا لیا اور ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7432

‏‏‏‏ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اونٹوں میں تھے اتنے میں ان کا بیٹا عمر آیا (یہ عمر بن سعد وہی ہے جو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے لڑا اور جس نے دنیا کے لیے اپنی آخرت برباد کی) جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا تو کہا: پناہ مانگتا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7425

‏‏‏‏ سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا وہاں کا جزیہ لانے کو اور آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7520

‏‏‏‏ اور لوگوں نے شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ اللہ تم کو کھلا دے۔“ پھر ہم دریا کے کنارے پر آئے (یعنی سمندر کے) اور دریا نے موج ماری اور ایک جانور باہر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7427

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب فارس اور روم فتح ہو جائیں گے تو تم کیا کہو گے؟“ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہی کہیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7435

‏‏‏‏ خالد بن عمیر عدوی سے روایت ہے، عتبہ بن عروان نے (جو امیر تھے بصرہ کے) ہم کو خطبہ سنایا تو اللہ تعالیٰ کی ثنا کی پھر کہا بعد حمد وصلوۃ کے۔ معلوم ہو کہ دینا نے خبر دی ختم ہونے کی اور دنیا میں سے کچھ باقی نہ رہا مگر جیسے برتن میں کچھ بچا ہوا پانی رہ جاتا ہے جس کو اس کا صاحب بچا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7522

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ جب سراقہ بن مالک نزدیک آ پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی، اس کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ وہ اس پر سے کود گیا اور کہنے لگا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں جانتا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7489

‏‏‏‏ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چھینکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» ۔“ پھر وہ چھینکا۔ آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7433

‏‏‏‏ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے تھے: قسم اللہ کی میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیر مارا اللہ کی راہ میں اور ہم جہاد کرتے تھے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا مگر پتے حبلہ اور سمر کے (یہ دونوں جنگلی درخت ہیں) یہاں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7490

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمائی شیطان کی طرف سے ہے (کیونکہ وہ سستی اور ثقل کی نشانی ہے اور امتلاء بدن کی) پھر جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اس کو روکے جہاں تک ہو سکے۔“ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7482

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ ایک بات کہتا ہے اور نہیں جانتا اس میں کتنا نقصان ہے اس کے سبب سے آگ میں گرے گا اتنی دور تک جیسے مشرق سے مغرب۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7465

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجر پر سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت جاؤ ظالموں کے گھروں میں مگر روتے ہوئے اور بچو کہیں تم کو بھی وہ عذاب نہ ہو جو ان کو ہوا تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7460

‏‏‏‏ سماک سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور زہیر کی روایت میں یہ ہے کہ تم بغیر کھجور اور مکھن کے طرح طرح کے کھانوں کے راضی نہیں ہوتے۔مکمل حدیث پڑھیئے