Hadith no 7511 Of Sahih Muslim Chapter Zehed Aur Riqqat Angaiz Baatein (Emotional Talk)

Read Sahih Muslim Hadith No 7511 - Hadith No 7511 is from Emotional Talk , Zehed Aur Riqqat Angaiz Baatein Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 7511 of Imam Muslim covers the topic of Emotional Talk briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 7511 from Emotional Talk in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 7511

Hadith No 7511
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Emotional Talk
Roman Name Zehed Aur Riqqat Angaiz Baatein
Arabic Name الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ
Urdu Name زہد اور رقت انگیز باتیں

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو بادشاہ سے بولا: میں بوڑھا ہو گیا ہوں میرے پاس کوئی لڑکا بھیج میں اس کو جادو سکھلاؤں۔ بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیجا، وہ اس کو جادو سکھلاتا تھا۔ اس لڑکے کی آمدورفت کی راہ میں ایک راہب تھا (نصرانی درویش یعنی پادری تارک الدنیا) وہ لڑکا اس کے پاس بیٹھتا اور اس کا کلام سنتا۔ اس کو بھلا معلوم ہوتا۔ جب جادوگر کے پاس جاتا تو راہب کی طرف ہو کر نکلتا اور اس کے پاس بیٹھتا پھر جب جادوگر کے پاس جاتا تو جادوگر اس کو مارتا۔ آخر لڑکے نے جادوگر کے مارنے کا راہب سے گلہ کیا۔ راہب نے کہا: جب تو جادوگر سے ڈرے تو یہ کہہ دیا کر میرے گھر والوں نے مجھ کو روک رکھا تھا اور جب تو اپنے گھر والوں سے ڈرے تو کہہ دیا کر کہ جادوگر نے مجھ کو روک رکھا تھا۔ اسی حالت میں وہ لڑکا رہا کہ ناگاہ ایک بڑے قد کے جانور پر گزرا جس نے لوگوں کو آمدورفت سے روک دیا تھا۔ لڑکے نے کہا کہ آج دریافت کرتا ہوں جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے۔ اس نے ایک پتھر لیا اور کہا: الہیٰ! اگر راہب کا طریقہ تجھ کو پسند ہو جادوگر کے طریقہ سے تو اس جانور کو قتل کر تاکہ لوگ چلیں پھریں۔ پھر اس کو مارا اس پتھر سے وہ جانور مر گیا اور لوگ چلنے پھرنے لگے۔ پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اس سے یہ حال کہا۔ وہ بولا: بیٹا! تو مجھ سے بڑھ گیا مقرر تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو قریب آزمایا جائے گا پھر اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا۔ اس لڑکے کا یہ حال تھا کہ اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا اور ہر قسم کی بیماری کا علاج کرتا۔ یہ حال بادشاہ کے ایک مصاحب نے سنا وہ اندھا ہو گیا تھا وہ بہت سے تحفے لے کر لڑکے کے پاس آیا اور کہنے لگا: یہ سب مال تیرا ہے اگر تو مجھ کو اچھا کر دے۔ لڑکے نے کہا: میں کسی کو اچھا نہیں کرتا، اچھا کرنا تو اللہ کا کام ہے۔ اگر تو اللہ پر ایمان لائے تو میں اللہ سے دعا کروں وہ تجھ کو اچھا کر دے گا۔ وہ مصاحب اللہ پر ایمان لایا۔ اللہ نے اس کو اچھا کر دیا۔ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور اس کے پاس بیٹھا جیسا کہ بیٹھا کرتا تھا۔ بادشاہ نے کہا: تیری آنکھ کس نے روشن کی؟ مصاحب بولا: میرے مالک نے۔ بادشاہ نے کہا: میرے سوا تیرا کون مالک ہے؟ مصاحب نے کہا: میرا اور تیرا دونوں کا مالک اللہ ہے۔ بادشاہ نے اس کو پکڑا اور مارنا شروع کیا اور مارتا رہا یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا نام لیا۔ وہ لڑکا بلایا گیا بادشاہ نے اس سے کہا: اے بیٹا! تو جادو میں اس درجہ پر پہنچا کہ اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہے اور بڑے بڑے کام کرتا ہے؟ وہ بولا: میں تو کسی کو اچھا نہیں کرتا، اللہ اچھا کرتا ہے۔ بادشاہ نے اس کو پکڑا اور مارتا رہا یہاں تک کہ اس نے راہب کا نام بتلایا۔ وہ راہب پکڑا ہوا آیا۔ اس سے کہا گیا: اپنے دین سے پھر جا۔ اس نے نہ مانا، بادشاہ نے ایک آرہ منگوایا اور راہب کی چندیا پر رکھا اور اس کو چیر ڈالا یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہو کر گرا۔ پھر وہ مصاحب بلایا گیا اس سے کہا گیا: تو اپنے دین سے پھر جا۔ اس نے بھی نہ مانا۔ اس کی چندیا پر بھی آرہ رکھا اور چیز ڈالا یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہو کر گرا۔ پھر وہ لڑکا بلایا گیا۔ اس سے کہا: اپنے دین سے پلٹ جا۔ اس نے بھی نہ مانا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے چند مصاحبوں کے حوالے کیا اور کہا: اس کو فلاں پہاڑ پر لے جا کر چوٹی پر چڑھاؤ۔ جب تم چوٹی پر پہنچو تو اس لڑکے سے پوچھو: اگر وہ اپنے دین سے پھر جائے تو خیر نہیں تو اس کو دھکیل دو۔ وہ اس کو لے گئے اور پہاڑ پر چڑھایا۔ لڑکے نے دعا کی الہٰی! تو جس طرح سے چاہے مجھے ان کے شر سے بچا۔ پہاڑ ہلا اور وہ لوگ گر پڑے۔ وہ لڑکا بادشاہ کے پاس چلا آیا۔ بادشاہ نے پوچھا: تیرے ساتھی کدھر گئے؟ اس نے کہا: اللہ نے مجھ کو ان کے شر سے بچایا۔ پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند مصاحبوں کے حوالے کیا اور کہا: اس کو لے جاؤ ایک ناؤ پر چڑھاؤ اور دریا کے اندر لے جاؤ، اگر اپنے دین سے پھر جائے تو خیر ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دو۔ وہ لوگ اس کو لے گئے لڑکے نے کہا: الہٰی! تو مجھ کو جس طرح چاہے ان کے شر سے بچائے۔ وہ ناؤ اوندھی ہو گئی اور لڑکے کے ساتھی سب ڈوب گئے اور لڑکا زندہ بچ کر بادشاہ کے پاس آیا۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا: تیرے ساتھی کہاں گئے؟ وہ بولا: اللہ تعالیٰ نے ان سے مجھ کو بچایا۔ پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا: تو مجھ کو نہ مار سکے گا یہاں تک کہ میں جو بتلاؤں وہ کرے۔ بادشاہ نے کہا: وہ کیا؟ اس نے کہا: تو سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر اور ایک لکڑی پر مجھ کو سولی دے، پھر میرے ترکش سے ایک تیر لے اور کمان کے اندر رکھ پھر کہہ اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا مالک ہے مارتا ہوں، پھر تیر مار۔ اگر تو ایسا کرے گا تو مجھ کو قتل کرے گا۔ بادشاہ نے سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور اس لڑکے کو ایک لکڑی پر سولی دی، پھر اس کے ترکش سے ایک تیر لیا اور تیر کو کمان کے اندررکھ کر کہا: اللہ کے نام سے مارتا ہوں جو اس لڑکے کا مالک ہے اور تیر مارا۔ وہ لڑکے کی کنپٹی پر لگا۔ اس نے اپنا ہاتھ تیر کے مقام پر رکھا اور مر گیا، اور لوگوں نے یہ حال دیکھ کر کہا: ہم تو اس لڑکے کے مالک پر ایمان لائے۔ ہم اس لڑکے کے مالک پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے مالک پر ایمان لائے۔ کسی نے بادشاہ سے کہا: جس چیز سے تو ڈرتا تھا اللہ کی قسم وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے۔ بادشاہ نے حکم دیا راہوں کے ناکوں پر خندقیں کھودنے کا۔ پھر خندقیں کھودی گئیں اور ان کے اندر خوب آگ بھڑکائی اور کہا: جو شخص اس دین سے (یعنی لڑکے کے دین سے) نہ پھرے اس کو ان خندقوں میں دھکیل دو یا اس سے کہو کہ ان خندقوں میں گرے۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا، وہ عورت آگ میں گرنے سے جھجکی (پیچھے ہٹی) بچے نے کہا: اے ماں! صبر کر تو سچے دین پر ہے۔“ (تو مرنے کے بعد پھر چین ہی چین ہے پھر تو دنیا کی مصیبت سے کیوں ڈرتی ہے۔)

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَكَانَ لَهُ سَاحِرٌ ، فَلَمَّا كَبِرَ ، قَالَ لِلْمَلِكِ : إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ ، فَابْعَثْ إِلَيَّ غُلَامًا أُعَلِّمْهُ السِّحْرَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ غُلَامًا يُعَلِّمُهُ ، فَكَانَ فِي طَرِيقِهِ إِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ ، فَقَعَدَ إِلَيْهِ وَسَمِعَ كَلَامَهُ ، فَأَعْجَبَهُ ، فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ مَرَّ بِالرَّاهِبِ ، وَقَعَدَ إِلَيْهِ ، فَإِذَا أَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهُ ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ ، فَقَالَ : إِذَا خَشِيتَ السَّاحِرَ ، فَقُلْ حَبَسَنِي أَهْلِي ، وَإِذَا خَشِيتَ أَهْلَكَ ، فَقُلْ حَبَسَنِي السَّاحِرُ ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَدْ حَبَسَتِ النَّاسَ ، فَقَالَ : الْيَوْمَ أَعْلَمُ آلسَّاحِرُ أَفْضَلُ أَمْ الرَّاهِبُ أَفْضَلُ ، فَأَخَذَ حَجَرًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ ، فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ حَتَّى يَمْضِيَ النَّاسُ ، فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا ، وَمَضَى النَّاسُ ، فَأَتَى الرَّاهِبَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ : أَيْ بُنَيَّ أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي قَدْ بَلَغَ مِنْ أَمْرِكَ مَا أَرَى ، وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى فَإِنِ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ ، وَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَيُدَاوِي النَّاسَ مِنْ سَائِرِ الْأَدْوَاءِ ، فَسَمِعَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ كَانَ قَدْ عَمِيَ ، فَأَتَاهُ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ ، فَقَالَ : مَا هَاهُنَا لَكَ أَجْمَعُ إِنْ أَنْتَ شَفَيْتَنِي ، فَقَالَ : إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ ، فَإِنْ أَنْتَ آمَنْتَ بِاللَّهِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ ، فَآمَنَ بِاللَّهِ فَشَفَاهُ اللَّهُ ، فَأَتَى الْمَلِكَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ ؟ ، قَالَ : رَبِّي ، قَالَ : وَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي ؟ ، قَالَ : رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ ، فَأَخَذَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الْغُلَامِ ، فَجِيءَ بِالْغُلَامِ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : أَيْ بُنَيَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ مَا تُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ ، فَأَخَذَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ ، فَجِيءَ بِالرَّاهِبِ ، فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ ، فَأَبَى فَدَعَا بِالْمِئْشَارِ ، فَوَضَعَ الْمِئْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، فَشَقَّهُ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ ثُمَّ جِيءَ بِجَلِيسِ الْمَلِكِ ، فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ ، فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِئْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ ، فَشَقَّهُ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ ، ثُمَّ جِيءَ بِالْغُلَامِ ، فَقِيلَ لَهُ : ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ ، فَأَبَى فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : اذْهَبُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا ، فَاصْعَدُوا بِهِ الْجَبَلَ ، فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَاطْرَحُوهُ ، فَذَهَبُوا بِهِ فَصَعِدُوا بِهِ الْجَبَلَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ ، فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ ، فَسَقَطُوا وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ ، فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ : مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ ؟ ، قَالَ : كَفَانِيهِمُ اللَّهُ ، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : اذْهَبُوا بِهِ ، فَاحْمِلُوهُ فِي قُرْقُورٍ ، فَتَوَسَّطُوا بِهِ الْبَحْرَ ، فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ ، وَإِلَّا فَاقْذِفُوهُ ، فَذَهَبُوا بِهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ ، فَانْكَفَأَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ ، فَغَرِقُوا وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ ، فَقَالَ لَهُ : الْمَلِكُ مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ ؟ ، قَالَ : كَفَانِيهِمُ اللَّهُ ، فَقَالَ لِلْمَلِكِ : إِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ ، قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ ، قَالَ : تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، وَتَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ ثُمَّ خُذْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي ، ثُمَّ ضَعِ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ، ثُمَّ قُلْ : بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ ، ثُمَّ ارْمِنِي ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي ، فَجَمَعَ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ وَصَلَبَهُ عَلَى جِذْعٍ ، ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبْدِ الْقَوْسِ ، ثُمَّ قَالَ : بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ ثُمَّ رَمَاهُ ، فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ فِي صُدْغِهِ فِي مَوْضِعِ السَّهْمِ ، فَمَاتَ ، فَقَالَ : النَّاسُ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ ، آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ ، فَأُتِيَ الْمَلِكُ ، فَقِيلَ لَهُ : أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ ، قَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ حَذَرُكَ قَدْ آمَنَ النَّاسُ ، فَأَمَرَ بِالْأُخْدُودِ فِي أَفْوَاهِ السِّكَكِ ، فَخُدَّتْ وَأَضْرَمَ النِّيرَانَ ، وَقَالَ : مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهِ ، فَأَحْمُوهُ فِيهَا أَوْ قِيلَ لَهُ اقْتَحِمْ ، فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا ، فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِيهَا ، فَقَالَ لَهَا : الْغُلَامُ يَا أُمَّهْ اصْبِرِي ، فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ " .

Your Comments/Thoughts ?

زہد اور رقت انگیز باتیں سے مزید احادیث

حدیث نمبر 7492

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7424

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردے کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں پھر دو لوٹ آتی ہیں اور ایک رہ جاتی ہے اس کے ساتھ، اس کے گھر والے اور مال اور عمل، تو گھر والے اور مال تو لوٹ جاتے ہیں اور عمل اس کے ساتھ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7462

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: کیا ہم مہاجرین فقیروں میں سے ہیں؟ عبداللہ نے کہا: تیری جورو ہے جس کے پاس تو رہاتا ہے؟ وہ بولا: ہاں۔ عبداللہ نے کہا: تیرا گھر ہے۔ جس میں تو رہتا ہے۔ وہ بولا: ہاں۔ عبداللہ نے کہا: تو امیروں میں سے ہے۔ وہ بولا: میرے پاس ایک خادم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7454

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور ہم سیر ہوئے تھے پانی اور کھجور سے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7488

‏‏‏‏ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں سیدنا ابوموسٰی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے گھر میں تھے (ام کلثوم ان کا نام تھا پہلے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں جب انہوں نے طلاق دے دی تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا) ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7507

‏‏‏‏ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی طرح روایت بیان کرتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7435

‏‏‏‏ خالد بن عمیر عدوی سے روایت ہے، عتبہ بن عروان نے (جو امیر تھے بصرہ کے) ہم کو خطبہ سنایا تو اللہ تعالیٰ کی ثنا کی پھر کہا بعد حمد وصلوۃ کے۔ معلوم ہو کہ دینا نے خبر دی ختم ہونے کی اور دنیا میں سے کچھ باقی نہ رہا مگر جیسے برتن میں کچھ بچا ہوا پانی رہ جاتا ہے جس کو اس کا صاحب بچا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7475

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں بہ نسبت اور شریکوں کے محض بے پرواہ ہوں ساجھی سے، جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے ساتھ میرے غیر کو ملایا اور ساجھی کیا تو میں اس کو اور اس کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7517

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے اور ہم میں سے ہر ایک شخص کو خوراک کے لیے ہر روز ایک کھجور ملتی تھی وہ اس کو چوس لیتا تھا، پھر اس کو پھراتا اپنے دانتوں میں اور ہم اپنی کمانوں سے درخت کے پتے جھاڑتے اور ان کو کھاتے یہاں تک کہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7425

‏‏‏‏ سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا وہاں کا جزیہ لانے کو اور آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7421

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7514

‏‏‏‏ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم چلے یہاں تک کہ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی مسجد میں آئے، وہ ایک کپڑے کو لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں لوگوں کی گردنوں پر سے گزرا یہاں تک کہ ان کے اور قبلہ کے بیچ میں بیٹھا۔ میں نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے کیا تم ایک کپڑے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7419

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7479

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7484

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7485

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میری تمام امت کے گناہ بخشے جائیں گے مگر ان لوگوں کے جو اپنے گناہوں کو فاش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آدمی رات کو ایک گناہ کا کام کرے، پھر صبح ہو اور پروردگار نے اس کا گناہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7502

‏‏‏‏ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر آیا ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! اللہ کے رسول کے بعد کوئی شخص اس سے بہتر نہیں فلاں فلاں کام میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7503

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے بعد اس سے کوئی بہتر نہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7463

‏‏‏‏ ابوعبدالرحمن نے کہا: تین آدمی سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، میں ان کے پاس موجود تھا۔ وہ کہنے لگے، اے ابومحمد! اللہ کی قسم! ہم کو کوئی چیز میسر نہیں، نہ خرچ ہے، نہ سواری، نہ اسباب۔ عبداللہ نے کہا: تم جو چاہو میں کروں اگر چاہتے ہو تو ہمارے پاس چلے آؤ ہم تم کو وہ دیں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 7455

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔مکمل حدیث پڑھیئے