Hadith no 93 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)
Read Sahih Muslim Hadith No 93 - Hadith No 93 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 93 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 93 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 93
| Hadith No | 93 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Problems And Commands About Faith |
| Roman Name | Emaan Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الْإِيمَانِ |
| Urdu Name | ایمان کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
امام ابوالحسین مسلم بن الحجاج اس کتاب کے مؤلف فرماتے ہیں ہم شروع کرتے ہیں کتاب کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے اور اسی کو کافی سمجھ کر۔ اور نہیں ہے ہم کو توفیق دینے والا مگر اللہ تعالیٰ بڑا ہے جلال اس کا۔
یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے، سب سے پہلے جس نے تقدیر میں گفتگو کی بصرے میں (جو ایک شہر ہے دہانہ خلیج فارس پر آباد کیا تھا اس کو عتبہ بن غزوان نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں۔ سمعانی نے کہا: بصرہ قبہ ہے اہل اسلام کا اور خزانہ ہے عرب کا۔ اور درحقیقت بصرہ ایک شہر ہے جس سے تجارت اہل ہند اور فارس کے ساتھ بخوبی قائم ہو سکتی ہے اور شاید اسی مصلحت سے اس شہر کی بنا ہوئی ہو گی) وہ معبد جہنی تھا، تو میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری دونوں مل کر چلے حج یا عمرے کے لئے اور ہم نے کہا: کاش! ہم کو کوئی صحابی رسول مل جائے جس سے ہم ذکر کریں اس بات کا جو یہ لوگ کہتے ہیں تقدیر میں تو مل گئے ہم کو اتفاق سے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما مسجد کو جاتے ہوئے۔ ہم نے ان کو بیچ میں کر لیا یعنی میں اور میرا ساتھی داہنے اور بائیں بازو ہو گئے۔ میں سمجھا کہ میرا ساتھی (حمید) مجھ کو بات کرنے دے گا (اس لئے کہ میری گفتگو اچھی تھی) تو میں نے کہا اے ابا عبدالرحمٰن (یہ کنیت ہے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی) ہمارے ملک میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں اور علم کا شوق رکھتے ہیں یا اس کی باریکیاں نکالتے ہیں اور بیان کیا حال ان کا اور کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں اور سب کام ناگہاں ہو گئے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو جب ایسے لوگوں سے ملے تو کہہ دے ان سے میں بیزار ہوں اور وہ مجھ سے۔ اور قسم ہے اللہ جل جلالہ کی کہ ایسے لوگوں میں سے (جن کا ذکر تو نے کیا جو تقدیر کے قائل نہیں) اگر کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو پھر وہ اس کو خرچ کرے اللہ کی راہ میں تو اللہ قبول نہ کرے گا جب تک تقدیر پر ایمان نہ لائے پھر کہا کہ حدیث بیان کی مجھ سے میرے باپ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آن پہنچا جس کے کپڑے نہایت سفید تھے اور بال نہایت کالے تھے۔ یہ نہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ سفر سے آیا ہے اور کوئی ہم میں سے اس کو پہچانتا نہ تھا، وہ بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اور اپنے گھٹنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دئیے اور دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھے (جیسے شاگرد استاد کے سامنے بیٹھتا ہے) پھر بولا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! بتائیے مجھ کو اسلام کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے (یعنی زبان سے کہے اور دل سے یقین کرے) اس بات کی کہ کوئی معبود سچا نہیں سوا اللہ کے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور قائم کرے نماز کو اور ادا کرے زکوٰۃ کو اور روزے رکھے رمضان کے اور حج کرے خانہ کعبہ کا اگر تجھ سے ہو سکے۔“ (یعنی راہ خرچ ہو اور راستے میں خوف نہ ہو) وہ بولا: سچ کہا آپ نے، ہم کو تعجب ہوا کہ آپ ہی پوچھتا ہے پھر آپ ہی کہتا ہے کہ سچ کہا (حالانکہ پوچھنے والا لاعلم ہے اور سچ کہنے والا وہ ہوتا ہے جس کو علم ہو تو یہ دونوں کام ایک شخص کیوں کرے گا) پھر وہ شخص بولا: مجھ کو بتائیے ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو یقین کرے (دل سے) اللہ پر، فرشتوں پر (کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاک بندے ہیں اور اس کا حکم بجا لاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی طاقت دی ہے) اور اس کے پیغمبروں پر (جن کو اس نے بھیجا خلق کو راہ بتلانے کے لئے) اور پچھلے دن پر (یعنی قیامت کے دن پر جس روز حساب کتاب ہو گا اور اچھے اور برے اعمال کی جانچ پڑتال ہو گی) اور یقین کرے تو تقدیر پر کہ برا اور اچھا سب اللہ پاک کی طرف سے ہے۔“ (یعنی سب کا خالق وہی ہے) وہ شخص بولا: سچ کہا آپ نے۔ پھر اس شخص نے پوچھا: مجھ کو بتائیے احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اس طرح دل لگا کر جیسے تو دیکھ رہا ہے۔“ اگر اتنا نہ ہو تو یہی سہی کہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ شخص بولا: بتائیے مجھ کو قیامت کب ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو جس سے پوچھتے ہو وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔“ وہ شخص بولا تو مجھے اس کی نشانیاں بتلائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نشانی یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ تو دیکھے گا ننگوں کو جن کے پاؤں میں جوتا نہ تھا، تن پہ کپڑا نہ تھا، کنگال بڑی بڑی عمارتیں ٹھونک رہے ہیں۔“ راوی نے کہا: پھر وہ شخص چلا گیا۔ میں بڑی دیر تک ٹھہرا رہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عمر! تو جانتا ہے یہ پوچھنے والا کون تھا؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرئیل علیہ السلام تھے تم کو تمھارا دین سکھانے آئے تھے۔“
Hadith in Arabic
قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : بِعَوْنِ اللَّهِ نَبْتَدِئُ وَإِيَّاهُ نَسْتَكْفِي ، وَمَا تَوْفِيقُنَا إِلَّا بِاللَّهِ جَلَّ جَلَالُهُ. ¤ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ . ح وحَدَّثَنَا وَهَذَا حَدِيثُهُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ : كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ : مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ ، حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ ، فَقُلْنَا : لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ فِي الْقَدَرِ ، فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلًا الْمَسْجِدَ ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا ، وَصَاحِبِي ، أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَن ، إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ ، وَذَكَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ ، وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ ، وَأَنَّ الأَمْرَ أُنُفٌ ، قَالَ : فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ ، وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّي ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ ، مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا ، فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ ، حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ ، بَيَاضِ الثِّيَابِ ، شَدِيدُ ، سَوَادِ الشَّعَرِ ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ، وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ ، وَيُصَدِّقُهُ ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ ، قَالَ : " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ ، وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكُتُبِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ ، قَالَ : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ " ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ ، قَالَ : مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا ، قَالَ : " أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا ، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ ، يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ " ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ ، أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ .
- Previous Hadith
- Hadith No. 93 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 359
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ اتنے میں دو شخص آئے لڑتے ہوئے ایک زمین کے لئے۔ ایک بولا: اس نے میری زمین چھین لی ہے جاہلیت کے زمانے میں اور وہ امراء القیس بن عباس کندی تھا اور اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا۔ آپ مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 446
اعمش سے اسی طرح دوسری روایت ہے، مگر اس میں پانچ باتوں کے بدلے چار باتیں ہیں اور مخلوق کا ذکر نہیں اور کہا کہ حجاب اس کا نور ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 146
اسود بن ھلال سے روایت ہے، کہا: میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا میں نے آپ کی بات پر لبیک کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 280
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 278
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حرقہ کی طرف بھیجا جو ایک قبیلہ ہے۔ جہینہ میں سے پھر ہم صبح کو وہاں پہنچے اور ان کو شکست دی۔ میں نے اور ایک انصاری آدمی نے مل کر ایک شخص کو پکڑا۔ جب اس کو گھیرا تو وہ «لَا إِلَهَ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 130
ابومالک سے روایت ہے کہ اس نے سنا اپنے باپ سے، کہا: سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس شخص نے «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» کہا اور انکار کیا ان چیزوں کا جن کو پوجتے ہیں سوائے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 220
سیدنا سعد اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہم دونوں سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کو باپ بتائے تو اس پر جنت حرام ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 492
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر پیغمبر کی ایک دعا ہوتی ہے قبول ہونے والی جس کو وہ مانگتا ہے اور قبول ہوتی ہے اور دی جاتی ہے اور میں نے اپنی دعا اٹھا رکھی ہے اپنی امت کی شفاعت کے لئے قیامت کے دن۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 532
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم! وہ کہیں گے حاضر ہوں تیری خدمت میں، تیری اطاعت میں، اور سب بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ حکم ہو گا کہ دوزخیوں کی جماعت نکالو وہ عرض کریں گے: دوزخیوں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 158
ایک اور سند سے عمران بن حصین کی روایت ہے جس کا معنی سابقہ روایت والا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 306
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کا سامنا ہوا جنگ میں لڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کی طرف جھکے اور وہ لوگ اپنے لشکر کی طرف گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 531
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خطبہ پڑھا ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، تو ٹیکا دیا اپنی پیٹھ کو چمڑے کے ڈیرہ پر اور فرمایا: ”کہ خبردار ہو جاؤ، نہ جائے گا کوئی جنت میں مگر وہ جو مسلمان ہیں۔ یا اللہ! میں نے تیرا پیغام پہنچا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 533
دوسری روایت کا بیان وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں یہ ہے کہ ”تم اس دن اور لوگوں کے سامنے ایسے ہو جیسے ایک سفید بال کالے بیل میں یا ایک سیاہ بال سفید بیل میں۔“ اور گدھے کے پاؤں کے نشان کا ذکر نہیں کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 198
ایک اور سند سے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں گزشتہ حدیث کی طرح۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 530
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک خیمہ میں جس میں قریب چالیس آدمیوں کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ جنتیوں کے چوتھائی تم لوگ ہو۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 367
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے (امانت کے متعلق) دو باتیں بیان کیں ایک تو میں نے دیکھ لی اور دوسری کا انتطار کر رہا ہوں۔ حدیث بیان کی ہم سے (یہ پہلی حدیث ہے) کہ ”امانت لوگوں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 126
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ گواہی دیں اس بات کی کہ کوئی معبود برحق نہیں سوا اللہ کے اور ایمان لائیں مجھ پر (کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 150
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیث بیان کی مجھ سے عتبان بن مالک نے وہ اندھے ہو گئے تھے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہلا بھیجا کہ میرے مکان پر تشریف لائیے اور مسجد کی ایک جگہ مقرر کر دیجئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 397
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مزید کئی سندوں سے مذکورہ حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 457
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جنت والوں کو جنت میں لے جائے گا، جس کو چاہے گا، اپنی رحمت سے اور دوزخ والوں کو دوزخ میں لے جائے گا۔ پھر فرمائے گا: دیکھو جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ..مکمل حدیث پڑھیئے