Hadith no 93 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)
Read Sahih Muslim Hadith No 93 - Hadith No 93 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 93 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 93 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
صحیح مسلم - حدیث نمبر 93
| Hadith No | 93 |
|---|---|
| Book Name | Sahih Muslim |
| Book Writer | Imam Muslim |
| Writer Death | 261 ھ |
| Chapter Name | Problems And Commands About Faith |
| Roman Name | Emaan Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الْإِيمَانِ |
| Urdu Name | ایمان کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
امام ابوالحسین مسلم بن الحجاج اس کتاب کے مؤلف فرماتے ہیں ہم شروع کرتے ہیں کتاب کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے اور اسی کو کافی سمجھ کر۔ اور نہیں ہے ہم کو توفیق دینے والا مگر اللہ تعالیٰ بڑا ہے جلال اس کا۔
یحییٰ بن یعمر سے روایت ہے، سب سے پہلے جس نے تقدیر میں گفتگو کی بصرے میں (جو ایک شہر ہے دہانہ خلیج فارس پر آباد کیا تھا اس کو عتبہ بن غزوان نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں۔ سمعانی نے کہا: بصرہ قبہ ہے اہل اسلام کا اور خزانہ ہے عرب کا۔ اور درحقیقت بصرہ ایک شہر ہے جس سے تجارت اہل ہند اور فارس کے ساتھ بخوبی قائم ہو سکتی ہے اور شاید اسی مصلحت سے اس شہر کی بنا ہوئی ہو گی) وہ معبد جہنی تھا، تو میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری دونوں مل کر چلے حج یا عمرے کے لئے اور ہم نے کہا: کاش! ہم کو کوئی صحابی رسول مل جائے جس سے ہم ذکر کریں اس بات کا جو یہ لوگ کہتے ہیں تقدیر میں تو مل گئے ہم کو اتفاق سے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما مسجد کو جاتے ہوئے۔ ہم نے ان کو بیچ میں کر لیا یعنی میں اور میرا ساتھی داہنے اور بائیں بازو ہو گئے۔ میں سمجھا کہ میرا ساتھی (حمید) مجھ کو بات کرنے دے گا (اس لئے کہ میری گفتگو اچھی تھی) تو میں نے کہا اے ابا عبدالرحمٰن (یہ کنیت ہے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی) ہمارے ملک میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں اور علم کا شوق رکھتے ہیں یا اس کی باریکیاں نکالتے ہیں اور بیان کیا حال ان کا اور کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں اور سب کام ناگہاں ہو گئے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو جب ایسے لوگوں سے ملے تو کہہ دے ان سے میں بیزار ہوں اور وہ مجھ سے۔ اور قسم ہے اللہ جل جلالہ کی کہ ایسے لوگوں میں سے (جن کا ذکر تو نے کیا جو تقدیر کے قائل نہیں) اگر کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو پھر وہ اس کو خرچ کرے اللہ کی راہ میں تو اللہ قبول نہ کرے گا جب تک تقدیر پر ایمان نہ لائے پھر کہا کہ حدیث بیان کی مجھ سے میرے باپ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آن پہنچا جس کے کپڑے نہایت سفید تھے اور بال نہایت کالے تھے۔ یہ نہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ سفر سے آیا ہے اور کوئی ہم میں سے اس کو پہچانتا نہ تھا، وہ بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اور اپنے گھٹنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دئیے اور دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھے (جیسے شاگرد استاد کے سامنے بیٹھتا ہے) پھر بولا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! بتائیے مجھ کو اسلام کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے (یعنی زبان سے کہے اور دل سے یقین کرے) اس بات کی کہ کوئی معبود سچا نہیں سوا اللہ کے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور قائم کرے نماز کو اور ادا کرے زکوٰۃ کو اور روزے رکھے رمضان کے اور حج کرے خانہ کعبہ کا اگر تجھ سے ہو سکے۔“ (یعنی راہ خرچ ہو اور راستے میں خوف نہ ہو) وہ بولا: سچ کہا آپ نے، ہم کو تعجب ہوا کہ آپ ہی پوچھتا ہے پھر آپ ہی کہتا ہے کہ سچ کہا (حالانکہ پوچھنے والا لاعلم ہے اور سچ کہنے والا وہ ہوتا ہے جس کو علم ہو تو یہ دونوں کام ایک شخص کیوں کرے گا) پھر وہ شخص بولا: مجھ کو بتائیے ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو یقین کرے (دل سے) اللہ پر، فرشتوں پر (کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاک بندے ہیں اور اس کا حکم بجا لاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی طاقت دی ہے) اور اس کے پیغمبروں پر (جن کو اس نے بھیجا خلق کو راہ بتلانے کے لئے) اور پچھلے دن پر (یعنی قیامت کے دن پر جس روز حساب کتاب ہو گا اور اچھے اور برے اعمال کی جانچ پڑتال ہو گی) اور یقین کرے تو تقدیر پر کہ برا اور اچھا سب اللہ پاک کی طرف سے ہے۔“ (یعنی سب کا خالق وہی ہے) وہ شخص بولا: سچ کہا آپ نے۔ پھر اس شخص نے پوچھا: مجھ کو بتائیے احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اس طرح دل لگا کر جیسے تو دیکھ رہا ہے۔“ اگر اتنا نہ ہو تو یہی سہی کہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ شخص بولا: بتائیے مجھ کو قیامت کب ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو جس سے پوچھتے ہو وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔“ وہ شخص بولا تو مجھے اس کی نشانیاں بتلائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نشانی یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ تو دیکھے گا ننگوں کو جن کے پاؤں میں جوتا نہ تھا، تن پہ کپڑا نہ تھا، کنگال بڑی بڑی عمارتیں ٹھونک رہے ہیں۔“ راوی نے کہا: پھر وہ شخص چلا گیا۔ میں بڑی دیر تک ٹھہرا رہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عمر! تو جانتا ہے یہ پوچھنے والا کون تھا؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرئیل علیہ السلام تھے تم کو تمھارا دین سکھانے آئے تھے۔“
Hadith in Arabic
قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : بِعَوْنِ اللَّهِ نَبْتَدِئُ وَإِيَّاهُ نَسْتَكْفِي ، وَمَا تَوْفِيقُنَا إِلَّا بِاللَّهِ جَلَّ جَلَالُهُ. ¤ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ . ح وحَدَّثَنَا وَهَذَا حَدِيثُهُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ : كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ : مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ ، حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ ، فَقُلْنَا : لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ فِي الْقَدَرِ ، فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلًا الْمَسْجِدَ ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا ، وَصَاحِبِي ، أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَن ، إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ ، وَذَكَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ ، وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ ، وَأَنَّ الأَمْرَ أُنُفٌ ، قَالَ : فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ ، وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّي ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ ، مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا ، فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ ، حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ ، بَيَاضِ الثِّيَابِ ، شَدِيدُ ، سَوَادِ الشَّعَرِ ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ، وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ ، وَيُصَدِّقُهُ ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ ، قَالَ : " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ ، وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكُتُبِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ ، قَالَ : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ " ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ ، قَالَ : مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا ، قَالَ : " أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا ، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ ، يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ " ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ ، أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ .
- Previous Hadith
- Hadith No. 93 of 7563
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 226
گزشتہ حدیث اس سند سے بھی مذکور ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 124
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے لوگ جو کافر ہونے تھے وہ کافر ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ان لوگوں سے کیونکر لڑو ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 196
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین خلوص اور خیرخواہی کا نام ہے۔“ ہم نے کہا: کس کی خیرخواہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی اور اس کی کتاب ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 131
ابومالک اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس نے اللہ کی وحدانیت بیان کی۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 453
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، یہ وہ حدیثیں ہیں جو بیان کیں، ہم سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بیان کیا کئی حدیثوں کو، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سب سے کم درجے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 209
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں زنا کرتا زانی جبکہ وہ زنا کرتا ہے۔“ باقی شعبہ والی روایت کے الفاظ بیان کیے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 443
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو نور ہے میں اس کو کیسے دیکھتا۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 342
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا وسوسے کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو نرا ایمان ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 487
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا ہوتی ہے (جس کو اللہ تعالیٰ ضرور قبول کرتا ہے اور باقی دعائیں قبول بھی ہوتی ہیں اور نہیں بھی ہوتی) تو میں چاہتا ہوں کہ اپنی دعا کو چھپا رکھوں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 188
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے اتنا اضافہ ہے کہ ”ایمان یمن والوں میں ہے، حکمت یمن والوں میں ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 115
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عبدالقیس کا وفد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! ہم ربیعہ کے قبیلہ میں سے ہیں اور ہمارے اور آپ کے بیچ میں مضر کے کافر روک ہیں (مضر بھی ایک قبیلہ کا نام ہے۔ اس کے لوگ کافر تھے اور وہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 477
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اکھٹا کرے گا مومنوں کو قیامت کے دن ان کو خیال آئے گا۔“ اخیر تک جیسے اوپر حدیث گزری اس میں یہ ہے کہ ”آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 200
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر مسلمان کی خیرخواہی کے لیے بیعت کی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 451
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا ہم اپنے پروردگار کو دیکھیں گے قیامت کے روز۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ایک دوسرے کو تکلیف دیتے ہو؟ چودھویں رات کا چاند ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 425
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ کو ایک رات دکھلائی دیا کہ میں کعبہ کے پاس ہوں میں نے ایک آدمی کو دیکھا گیہوں رنگ جیسے کہ تم نے بہت اچھی گیہوں رنگ کے آدمی دیکھے ہوں اس کے کندھوں تک بال ہیں جیسے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 318
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کچھ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ! کیا ہم سے پوچھ ہو گی ان کاموں کی جو ہم نے جاہلیت کے زمانے میں کیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے جو اچھی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 322
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، مشرکوں میں چند لوگوں نے (شرک کی حالت میں) بہت خون کیے تھے اور بہت زنا کیا تھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: آپ جو فرماتے ہیں اور جس راہ کی طرف بلاتے ہیں وہ خوب ہے اور جو آپ ہم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 347
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگ تم سے علم کی باتیں پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے اللہ نے تو ہم کو پیدا کیا، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ “ راوی نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 505
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 235
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی نشانی یہ ہے کہ انصار سے دشمنی رکھے اور مومن کی نشانی یہ ہے کہ انصار سے محبت رکھے۔“مکمل حدیث پڑھیئے