Hadith no 99 Of Sahih Muslim Chapter Emaan Ke Ehkaam O Masail (Problems and Commands About Faith)

Read Sahih Muslim Hadith No 99 - Hadith No 99 is from Problems And Commands About Faith , Emaan Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 99 of Imam Muslim covers the topic of Problems And Commands About Faith briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 99 from Problems And Commands About Faith in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 99

Hadith No 99
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Problems And Commands About Faith
Roman Name Emaan Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الْإِيمَانِ
Urdu Name ایمان کے احکام و مسائل

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پوچھو مجھ سے۔“ (دین کی باتیں جو ضروری ہیں، البتہ بے ضرورت پوچھنا منع ہے) لوگوں نے خوف کیا پوچھنے میں (یعنی ان پر رعب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چھا گیا) تو ایک شخص آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے پاس بیٹھا اور بولا: یا رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے۔“ وہ بولا: سچ کہا آپ نے، پھر اس نے کہا: یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یقین کرے تو اللہ پر اور اس کی کتابوں پر اور اس سے ملنے پر اور اس کے پیغمبروں پر اور یقین کرے تو جی اٹھنے پر مرنے کے بعد اور یقین کرے تو پوری تقدیر پر“ وہ بولا: سچ کہا آپ نے، پھر بولا: یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرے جیسے تو اس کو دیکھ رہا اگر تو اس کو نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ وہ بولا: سچ کہا آپ نے، پھر بولا: یا رسول اللہ! قیامت کب ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ البتہ میں تجھ سے اس کی نشانیاں بیان کرتا ہوں۔ جب تو لونڈی کو دیکھے (یا عورت کو) وہ اپنے مالک اور میاں کو جنے تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب تو دیکھے ننگے پاؤں، ننگے بدن، بہروں، گونگوں کو (یعنی احمق اور نادانوں کو) وہ بادشاہ ہیں ملک کے تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب تو دیکھے بکریاں چرانے والوں کو بڑی بڑی عمارتیں بنا رہے ہیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے۔ قیامت غیب کی پانچ باتوں میں سے ہے جن کا علم کسی کو نہیں سوا اللہ کے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» یعنی ”اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور برساتا ہے پانی اور جانتا ہے جو ماں کے پیٹ میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کس ملک میں مرے گا“، پھر وہ شخص کھڑا ہوا (اور چلا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو بلاؤ میرے پاس۔“ لوگوں نے ڈھونڈا تو کہیں نہ پایا اس کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام تھے۔ انہوں نے چاہا تم کو علم ہو جائے جب تم نے نہ پوچھا۔“ (یعنی تم نے سوال نہ کیا۔ رعب میں آ گئے تو جبریل علیہ السلام آدمی کے بھیس میں بن کر آئے اور ضروری باتیں پوچھ کر گئے تاکہ تم کو علم ہو جائے)۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَلُونِي ؟ فَهَابُوهُ أَنْ يَسْأَلُوهُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَلَسَ عِنْدَ رُكْبَتَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " لَا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ ، وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكِتَابِهِ ، وَلِقَائِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَال : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الإِحْسَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَخْشَى اللَّهَ ، كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَكُنْ تَرَاهُ ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ ؟ قَالَ : مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا " إِذَا رَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا ، وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكْمَ مُلُوكَ الأَرْضِ ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا ، وَإِذَا رَأَيْتَ رِعَاءَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا ، فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ ، لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوهُ عَلَيَّ ، فَالْتُمِسَ فَلَمْ يَجِدُوهُ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا جِبْرِيلُ ، أَرَادَ أَنْ تَعَلَّمُوا إِذْ لَمْ تَسْأَلُوا .

Your Comments/Thoughts ?

ایمان کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 320

‏‏‏‏ اعمش بھی اس سند سے اسی روایت کو بیان کرتے ہیں سابقہ حدیث کی مانند۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 393

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہو گا جب مریم علیہما السلام کے بیٹے اتریں گے تم میں اور امامت کریں گے تمہاری۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 410

‏‏‏‏ یحییٰ بن ابی کثیر اسی سند سے بیان کرتے ہیں کہ ”وہ بیٹھے ہوئے تھے ایک تختہ پر آسمان و زمین کے درمیان۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 233

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں اتاری اللہ نے آسمان سے کوئی برکت مگر صبح کو ایک فرقہ اس کا انکار کرنے لگا۔ اللہ پانی برساتا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں: فلاں فلاں تارہ نکلا یا ڈوبا اس کی وجہ سے پانی برسا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 384

‏‏‏‏ ابواویس کی سند سے بھی یہ روایت ہے کچھ الفاظ مختلف ہیں مگر معنی وہی ہے جو گزرا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 408

‏‏‏‏ زہری سے روایت ہے، اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کی طرح اور کہا نازل کیا اللہ تعالیٰ نے سورۂ مدثر کو ”اے کپڑا اوڑھنے والے اور پلیدی چھوڑ دے تک“ پہلے اس سے کہ فرض کی جائے نماز، اور پلیدی وہ بت ہیں، اور کہا اس نے «فَجُثِثْتُ مِنْهُ» جیسے کہا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 170

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے مؤمن نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے بھائی یا ہمسایہ کے لئے وہی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 178

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ والی روایت مروان کے قصے میں سابقہ حدیث کی طرح ہے اور اسی طرح یہ شعبہ اور سفیان کی روایت کی طرح ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 126

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ہوا ہے لوگوں سے لڑنے کا یہاں تک کہ وہ گواہی دیں اس بات کی کہ کوئی معبود برحق نہیں سوا اللہ کے اور ایمان لائیں مجھ پر (کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں) ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 464

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے کم درجے کا جنتی وہ ہے جس کا منہ اللہ تعالیٰ جہنم کی طرف سے پھیر کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک درخت دکھا دے گا۔ سایہ دار وہ کہے گا: اے رب میرے! مجھے اس درخت کے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 398

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین باتیں جب ظاہر ہو جائیں تو اس وقت کسی کو ایمان لانے سے فائدہ نہ ہو گا اس کو جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا نیک کام نہیں کیا۔ ایک تو نکلنا آفتاب کا جدھر سے ڈوبتا ہے، دوسرے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 169

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کو میری محبت اولاد، ماں، باپ اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 195

‏‏‏‏ دوسری روایت بھی ایسی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ بہشت میں نہ جاوَ گے جب تک ایمان نہ لاوَ گے اخیر تک۔“ ابومعاویہ اور وکیع کی حدیث کی طرح۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 347

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگ تم سے علم کی باتیں پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے اللہ نے تو ہم کو پیدا کیا، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ “ راوی نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 452

‏‏‏‏ عطاء بن یزید لیثی اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں یہ بتاتے ہیں کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھ سکیں گے؟ باقی ابراہیم بن سعد والی روایت کے ہم معنی بیان کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 429

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، میں نے سنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میں سو رہا تھا اتنے میں میں نے اپنے تئیں دیکھا طواف کر رہا ہوں خانہ کعبہ کا اور ایک شخص کو دیکھا جو گندم رنگ تھا، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 474

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ سے چار آدمی نکالے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کئے جائیں گے ان میں سے ایک جہنم کی طرف دیکھ کر کہے گا: اے مالک میرے! جب تو نے مجھ کو نجات دی اس سے تو اب پھر مت لے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 399

‏‏‏‏ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ایک دن فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں فرمایا: ”یہ چلا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 314

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب یہ آیت اتری «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ» اخیر تک تو سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور کہنے لگے: میں جہنمی ہوں (کیونکہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 332

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جل جلالہ نے بخش دیا۔ میری امت کی دل کی باتوں کو جب تک ان پر عمل نہ کرے یا زبان سے نہ نکالے۔“مکمل حدیث پڑھیئے