Hadith no 1562 Of Sahih Muslim Chapter Masjidon Aur Namaz Ki Jagha Ke Ehkaam (Commands Related to Mosques and Place of Prayer)

Read Sahih Muslim Hadith No 1562 - Hadith No 1562 is from Commands Related To Mosques And Place Of Prayer , Masjidon Aur Namaz Ki Jagha Ke Ehkaam Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 1562 of Imam Muslim covers the topic of Commands Related To Mosques And Place Of Prayer briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 1562 from Commands Related To Mosques And Place Of Prayer in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 1562

Hadith No 1562
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Commands Related To Mosques And Place Of Prayer
Roman Name Masjidon Aur Namaz Ki Jagha Ke Ehkaam
Arabic Name الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Urdu Name مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر خطبہ پڑھا اور فرمایا: ”تم آج زوال کے بعد اور اپنی ساری رات چلو گے اگر اللہ نے چاہا تو کل صبح پانی پر پہنچو گے۔“ پس لوگ اس طرح چلے کہ کویٔی کسی کی طرف متوجہ نہ ہوتا تھا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم چلے جاتے تھے یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کی طرف تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے اور اپنی سواری پر سے جھکے (یعنی غلبہ خواب سے) اور میں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیکا دیا۔ (تاکہ گر نہ پڑیں) بغیر اس کے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگاؤں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، پھر چلے یہاں تک کہ جب بہت رات گزر گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھکے اور میں نے پھر ٹیکہ دیا بغیر اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگاؤں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ پھر چلے یہاں تک کہ آخر سحر کا وقت ہو گیا پھر ایک بار بہت جھکے کہ اگلے دو بار سے بھی زیادہ قریب تھا کہ گر پڑیں۔ پھر میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: ”کہ یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کی کہ ابوقتادہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟۔“ میں نے عرض کیا کہ میں رات سے آپ کے ساتھ اسی طرح چل رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے جیسے تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہم کو دیکھتے ہو کہ ہم لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کسی کو دیکھتے ہو؟“ میں نے کہا یہ ایک سوار ہے پھر کہا یہ ایک اور سوار ہے یہاں تک کہ ہم سات سوار جمع ہو گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راہ سے ایک طرف الگ ہوئے اور اپنا سر زمیں پر رکھا (یعنی سونے کو) اور فرمایا کہ تم لوگ ہماری نماز کا خیال رکھنا (یعنی نماز کے وقت جگا دینا) پھر پہلے جو جاگے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور دھوپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر آ گئی۔ پھر ہم لوگ گھبرا کر اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو۔“ پھر چلے یہاں تک کہ جب دھوپ چڑھ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، اپنا وضو کا لوٹا منگوایا۔ جو میرے پاس تھا اس میں تھوڑا سا پانی تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا جو اور وضوؤں سے کم تھا (یعنی بہت قلیل پانی سے بہت جلد) اور اس میں تھوڑا سا پانی باقی رہ گیا۔ پھر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کہ وہ ہمارے لوٹے کو رکھ چھوڑو کہ اس کی ایک عجیب کیفیت ہو گی۔“ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی اذان کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر صبح کی فرض نماز ادا کی اور ویسے ہی ادا کی جیسے ہر روز ادا کرتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوئے۔ پھر ہم میں سے ہر ایک چپکے چپکے کہتا تھا کہ آج ہمارے اس قصور کا کیا کفارہ ہو گا جو ہم نے نماز میں قصور کیا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”کیا میں تم لوگوں کا پیشوا نہیں ہوں۔“ پھر فرمایا کہ ”سونے میں کیا قصور ہے۔ قصور تو یہ ہے کہ ایک آدمی نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ نماز کا دوسرا وقت آ جائے (یعنی جاگنے میں قضا کر دے) پھر جو ایسا کرے۔ (یعنی اس کی نماز قضا ہو جائے) تو لازم ہے کہ جب ہوشیار ہو ادا کرے پھر جب دوسرا دن آئے تو اپنی نماز اوقات معینہ پر ادا کرے۔“ (یعنی یہ نہیں کہ ایک بار قضا ہو جانے سے نماز کا وقت ہی بدل جائے) پھر فرمایا: کہ تم کیا خیال کرتے ہو کہ لوگوں نے کیا کیا ہوگا۔“ پھر فرمایا: کہ لوگوں نے جب صبح کی تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تب سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پیچھے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں کہ تمہیں پیچھے چھوڑ جائیں۔ اور بعض لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے آگے ہیں۔ پھر وہ لوگ اگر سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی بات مانتے تو سیدھی راہ پاتے (یہ خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معجزہ کے طور پر دے دی) راوی نے کہا کہ پھر ہم لوگوں تک پہنچے یہاں تک کہ دن چڑھ گیا اور ہر چیز گرم ہو گئی اور لوگ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو مر گئے اور پیاسے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں تم نہیں مرے۔“ پھر فرمایا کہ ”ہمارا چھوٹا پیالہ لاؤ“ اور وہ لوٹا منگوایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی ڈالنے لگے اور سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو پانی پلانے لگے۔ پھر جب لوگوں نے دیکھا کہ پانی ایک لوٹا بھر ہی ہے تو لوگ گرے اس پر (یعنی ہر شخص ڈرنے لگا کہ پانی تھوڑا ہے کہیں محروم نہ رہ جاؤں) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی طرح آہستگی سے لیتے رہو تم سب سیراب ہو جاؤ گے۔“ غرض کہ پھر لوگ اطمینان سے لینے لگے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی ڈالتے تھے اور میں پلاتا تھا یہاں تک کوئی باقی نہ رہا میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا (راوی نے کہا) کہ پھر ڈالا اور مجھ سے فرمایا: ”کہ پیو۔“ میں نے عرض کیا کہ میں نہ پیئوں گا جب تک آپ نہ پئیں اے اللہ کے رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کا پلانے والا سب کے آخر میں پیتا ہے“ پھر میں نے پیا (راوی نے) کہا پھر لوگ پانی پر خوش خوش اور آسودہ پہنچے (راوی نے) کہا کہ عبداللہ بن رباح نے کہا کہ میں لوگوں سے یہی حدیث روایت کرتا تھا جامع مسجد میں کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ غور کرو اے جوان پٹھے کہ تم کیا کہتے ہو اس لیے کہ میں بھی اس رات کا ایک سوار تھا تو میں نے کہا تم اس بات سے خوب واقف ہو گے۔ انہوں نے کہا کہ تم کس قوم سے ہو؟ میں نے کہا کہ میں انصار میں سے ہوں۔ انہوں نے کہا: تو تم اپنی حدیثوں کو خوب جانتے ہو۔ پھر میں نے لوگوں سے پوری روایت بیان کی۔ تب سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی اس رات حاضر تھا مگر میں نہیں جانتا کہ جیسا تم نے یاد رکھا ایسا اور کسی نے یاد رکھا ہو۔

Hadith in Arabic

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ وَلَيْلَتَكُمْ ، وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا ، فَانْطَلَقَ النَّاسُ ، لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ " ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ ، حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ ، قَالَ : فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ ، حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : ثُمَّ سَارَ حَتَّى تَهَوَّرَ اللَّيْلُ ، مَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ ، حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : ثُمَّ سَارَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ ، مَالَ مَيْلَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الْمَيْلَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ حَتَّى كَادَ يَنْجَفِلُ ، فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ : مَتَى كَانَ هَذَا مَسِيرَكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ : مَا زَالَ هَذَا مَسِيرِي مُنْذُ اللَّيْلَةِ ، قَالَ : حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَرَانَا نَخْفَى عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ ؟ قُلْتُ : هَذَا رَاكِبٌ ، ثُمَّ قُلْتُ : هَذَا رَاكِبٌ آخَرُ ، حَتَّى اجْتَمَعْنَا ، فَكُنَّا سَبْعَةَ رَكْبٍ ، قَالَ : فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّرِيقِ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ قَالَ : احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ ، قَالَ : فَقُمْنَا فَزِعِينَ ، ثُمَّ قَالَ : ارْكَبُوا ، فَرَكِبْنَا ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ ، ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَةٍ ، كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مَنْ مَاءٍ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ ، قَالَ : وَبَقِيَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي قَتَادَةَ : احْفَظْ عَلَيْنَا مِيضَأَتَكَ ، فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ ، فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَكِبْنَا مَعَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ ، مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِيطِنَا فِي صَلَاتِنَا ؟ ثُمَّ قَالَ : أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ ، " إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ ، حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ الأُخْرَى ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ ، فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا " ، ثُمَّ قَالَ : مَا تَرَوْنَ النَّاسَ صَنَعُوا ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : أَصْبَحَ النَّاسُ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَعْدَكُمْ لَمْ يَكُنْ لِيُخَلِّفَكُمْ ، وَقَالَ النَّاسُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ ، فَإِنْ يُطِيعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدُوا ، قَالَ فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ ، وَحَمِيَ كُلُّ شَيْءٍ ، وَهُمْ يَقُولُونَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْنَا ، عَطِشْنَا ، فَقَالَ : لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ قَالَ : أَطْلِقُوا لِي غُمَرِي ، قَالَ : وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ ، وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ ، فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِي الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسِنُوا الْمَلَأَ ، كُلُّكُمْ سَيَرْوَى ، قَالَ : فَفَعَلُوا ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ ، حَتَّى مَا بَقِيَ غَيْرِي ، وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ صَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : اشْرَبْ ، فَقُلْتُ : لَا أَشْرَبُ حَتَّى تَشْرَبَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا ، قَالَ : فَشَرِبْتُ ، وَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَى النَّاسُ الْمَاءَ جَامِّينَ رِوَاءً ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ : إِنِّي لَأُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ ، إِذْ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى ، كَيْفَ تُحَدِّثُ ، فَإِنِّي أَحَدُ الرَّكْبِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : حَدِّثْ ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِحَدِيثِكُمْ ، قَالَ : فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : لَقَدْ شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتُهُ .

Your Comments/Thoughts ?

مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام سے مزید احادیث

حدیث نمبر 1446

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم ایک دن ٹھہرے رہے۔ نماز عشاء کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے جب تہائی رات گزر گئی یا اس کے بعد پھر ہم نہیں جانتے کہ آپ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1537

‏‏‏‏ سیدنا مالک بن حویرث ابوسلیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم جوان تھے اور ہم عمر تھے اور باقی سارا واقعہ وہی بیان کیا جو مذکورہ حدیث میں ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1251

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس درخت میں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے پاس نہ پھٹکے اور نہ ہم کو لہسن کی بو سے ستائے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1202

‏‏‏‏ اوپر والی حدیث اس سند سے بھی منقول ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1271

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ ازوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلا دوگانہ پڑھ کر کھڑے ہو گئے جس کے بعد بیٹھنے کا قصد تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے چلے گئے۔ جب نماز تمام ہوئی تو سلام سے پہلے سجدہ کیا، پھر سلام ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1503

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ روایت آئی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1494

‏‏‏‏ سیدنا انس بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جندب قسری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔ پس اللہ تم سے اپنے کسی ذمہ کا سوال نہیں کرے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1526

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ چکتے تو اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے جب تک کہ آفتاب خوب نہ نکل آتا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1365

‏‏‏‏ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی تکبیر ہو تو کھڑے نہ ہو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔“ ابن حاتم نے شک کیا کہ ( «إِذَا أُقِيمَتْ» ہے یا «نُودِىَ»)۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1297

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ «وَالنَّجْمِ» پڑھی اور اس میں سجدہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جتنے لوگ تھے، ان سب نے سجدہ کیا مگر ایک بوڑھے (امیہ بن خلف) نے ایک مٹھی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1250

‏‏‏‏ عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس درخت میں سے کھائے وہ ہمارے پاس نہ آئے نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1368

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک بار نماز کی تکبیر کہی اور لوگوں نے صف باندھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اپنے مقام میں کھڑے ہوئے پھر ہم کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنی جگہوں پر رہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صف سے نکل گئے اور غسل کیا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1343

‏‏‏‏ ابوالزبیر نے کہا: سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہ ہمیشہ ہر نماز کے بعد سلام پھیرتے وقت پڑھتے «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1564

‏‏‏‏ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے یہاں تک کہ جب آخر رات ہوئی اور صبح قریب ہوئی تو پڑ گئے ایسا پڑنا کہ جس پڑنے سے مسافر کو کوئی لیٹنا مزیدار نہیں۔ پھر نہ جگایا ہم کو مگر دھوپ کی گرمی نے اور بیان کی روایت مثل روایت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1291

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا تو بنی سلیم میں سے ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نماز گھٹ گئی یا آپ بھول گئے اور بیان کیا حدیث کو جیسے اوپر گزری۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1270

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو حلیف تھے بنی عبدالمطلب کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں بیچ کا قعدہ بھول گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پوری کر چکے تو دو سجدے کئے ہر سجدے کے لئے تکبیر کہی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1379

‏‏‏‏ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے ایک دن نماز عصر میں کچھ دیر کی تو عروہ نے ان سے کہا کہ بیشک جبرائیل علیہ السلام اترے اور انہوں نے امام ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1183

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں نے ایک گرجا کا حال بیان کیا جو انہوں نے دیکھا تھا حبشہ کے ملک میں جس کا نام ماریہ تھا۔ پھر ویسا ہی روایت کیا جیسے اوپر ذکر کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1348

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ فقراء مہاجرین نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! مال والے بلند درجوں پر پہنچ گئے اور ہمیشہ کی نعمتیں لے گئے۔ غرض روایت کی انہوں نے مثل حدیث شیبہ کے جو لیث سے مروی ہے مگر اتنی بات انہوں نے مدرج کی (اور مدرج یہ ہے کہ راوی کا قول کسی روایت میں ملا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1334

‏‏‏‏ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفار کرتے اور کہتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ» سے اخیر تک۔ ولید نے کہا: میں ..مکمل حدیث پڑھیئے