Hadith no 1563 Of Sahih Muslim Chapter Masjidon Aur Namaz Ki Jagha Ke Ehkaam (Commands Related to Mosques and Place of Prayer)

Read Sahih Muslim Hadith No 1563 - Hadith No 1563 is from Commands Related To Mosques And Place Of Prayer , Masjidon Aur Namaz Ki Jagha Ke Ehkaam Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 1563 of Imam Muslim covers the topic of Commands Related To Mosques And Place Of Prayer briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 1563 from Commands Related To Mosques And Place Of Prayer in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 1563

Hadith No 1563
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Commands Related To Mosques And Place Of Prayer
Roman Name Masjidon Aur Namaz Ki Jagha Ke Ehkaam
Arabic Name الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Urdu Name مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

Urdu Translation

‏‏‏‏ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا۔ سو ایک رات شب کو ہم چلے، یہاں تک کہ جب آخری رات ہوئی اترے اور ہماری آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ دھوپ نکل آئی۔ سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جاگے اور ہماری عادت تھی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند سے نہیں جگاتے تھے (کہ شاید وحی نہ اتری ہو) جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہ جاگیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جاگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سورج کو دیکھا کہ نکل آیا تب فرمایا: ”کہ چلو“ اور ہمارے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی چلے یہاں تک کہ جب دھوپ صاف ہو گئی ہمارے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ اور ایک شخص جماعت سے الگ رہا کہ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اس سے فرمایا: ”کہ تم کیوں ہمارے ساتھ نماز کے ادا کرنے سے باز رہے۔“ اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے نبی! مجھے جنابت ہوگئی ہے۔ سو اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس نے خاک پر تیمم کیا اور نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سواروں کے ساتھ مجھے آگے دوڑایا کہ ہم پانی ڈھونڈیں اور ہم بہت پیاسے ہو گئے تھے۔ پھر ہم چلے جاتے تھے کہ ایک عورت کو دیکھا کہ اپنے دونوں پیر لٹکائے دو پکھالوں پر بیٹھی چلی جاتی ہے (یعنی اونٹ پر) تو ہم نے اس سے کہا کہ پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ بہت دور ہے تم کو پانی نہیں مل سکتا ہم نے کہا کہ تیرے گھر والوں سے پانی کتنی دور ہے؟ اس نے کہا ایک دن رات کا راستہ ہے۔ پھر ہم نے کہا چل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہیں؟ غرض کہ ہم اسے مجبور کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال پوچھا، سو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے حال سے خبر دی جیسی اس نے خبر دی تھی ہم کو اور کہا کہ وہ یتیموں والی ہے اور اس کے پاس کئی بچے بن باپ کے ہیں۔ غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اس کے اونٹ کو بٹھایا جائے سو وہ بٹھایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پکھالوں کے اوپر کے دہانوں میں کلی کی اور اونٹ کو پھر کھڑا کر دیا۔ پھر سب نے پانی پیا اور ہم سب چالیس آدمی تھے بہت پیاسے یہاں تک کہ ہم سب آسودہ ہو گئے اور اپنے ساتھ کی سب مشکیں اور چھاگلیں بھر لیں اور جس رفیق کو جنابت تھی ان کو بھی نہلوایا مگر کسی اونٹ کو پانی نہیں پلایا اور اس کی پکھالیں ویسی ہی پانی سے پھٹی پڑتی تھیں۔ پھر فرمایا: ” تم میں سے جس کے پاس کچھ ہو لاؤ۔“ سو ہم نے بہت ٹکڑوں اور کھجوروں کو جمع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پوٹلی باندھی اور اس نیک بخت سے فرمایا: ” کہ یہ لے جا اور اپنے کمسن بچوں کو کھلا دے اور جان لے کہ ہم نے تیرا پانی کچھ نہیں گھٹایا۔“ پھر جب وہ اپنے گھر پہنچی تو کہنے لگی کہ آج میں اس بڑے جادوگر آدمی سے ملی یا بیشک وہ نبی ہے جیسا دعوٰی کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا معجزہ بیان کیا کہ یہ یہ گزرا سو اللہ تعالیٰ نے اس گاؤں بھر کو اس عورت کہ وجہ سے ہدایت کی اور وہ بھی اسلام لائی اور گاؤں والے بھی اسلام لائے۔

Hadith in Arabic

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ الْعُطَارِدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ ، فَأَدْلَجْنَا لَيْلَتَنَا ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ ، عَرَّسْنَا فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا ، حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ : فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَّا أَبُو بَكْرٍ ، وَكُنَّا لَا نُوقِظُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَنَامِهِ ، إِذَا نَامَ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ عُمَرُ ، فَقَامَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ ، حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ ، قَالَ : ارْتَحِلُوا ، فَسَارَ بِنَا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ ، نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا فُلَانُ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا ؟ قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ عَجَّلَنِي فِي رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ نَطْلُبُ الْمَاءَ ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ ، إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ ، فَقُلْنَا لَهَا : أَيْنَ الْمَاءُ ؟ قَالَتْ : أَيْهَاهْ ، أَيْهَاهْ ، لَا مَاءَ لَكُمْ ، قُلْنَا : فَكَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ ؟ قَالَتْ : مَسِيرَةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، قُلْنَا : انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : وَمَا رَسُولُ اللَّهِ ، فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا ، حَتَّى انْطَلَقْنَا بِهَا ، فَاسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا ، فَأَخْبَرَتْهُ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَتْنَا ، وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا مُوتِمَةٌ لَهَا صِبْيَانٌ أَيْتَامٌ ، فَأَمَرَ بِرَاوِيَتِهَ ، فَأُنِيخَتْ ، فَمَجَّ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ الْعُلْيَاوَيْنِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِرَاوِيَتِهَا ، فَشَرِبْنَا وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا عِطَاشٌ ، حَتَّى رَوِينَا وَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا ، غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا ، وَهِيَ تَكَادُ تَنْضَرِجُ مِنَ الْمَاءِ ، يَعْنِي الْمَزَادَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : هَاتُوا مَا كَانَ عِنْدَكُمْ ، فَجَمَعْنَا لَهَا مِنْ كِسَرٍ وَتَمْرٍ ، وَصَرَّ لَهَا صُرَّةً ، فَقَالَ لَهَا : اذْهَبِي فَأَطْعِمِي هَذَا عِيَالَكِ ، وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ ، فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا ، قَالَتْ : لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ الْبَشَرِ ، أَوْ إِنَّهُ لَنَبِيٌّ كَمَا زَعَمَ ، كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ذَيْتَ وَذَيْتَ ، فَهَدَى اللَّهُ ذَاكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ ، فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا " .

Your Comments/Thoughts ?

مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام سے مزید احادیث

حدیث نمبر 1508

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے تم میں سے ہر ایک کے لئے دعائے خیر کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے، (کہتے ہیں) یا اللہ! اس کو بخش دے، یا اللہ! اس پر رحم کر، جب تک وہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1362

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی تکبیر ہو تو تم میں سے کوئی دوڑ کر نہ چلے لیکن آہستہ چلے آرام سے اور وقار سے اور پڑھ جو تجھے ملے اور ادا کر جو تجھ سے آگے امام نے پڑھ لی ہے۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1300

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث اسی طرح مذکور ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1447

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن عشاء کی نماز کے وقت کسی کام میں مشغول ہو گئے اور اس میں دیر کی یہاں تک کہ ہم سو گئے، مسجد میں اور پھر جاگے، پھر سو گئے پھر جاگے پھر ہماری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1474

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے مذکورہ حدیث کے مثل بیان کیا اس میں اضافہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچیس حصہ زیادہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1224

‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث چند الفاظ کے رد بدل کے ساتھ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1529

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین شخص ہوں تو ایک ان میں سے امام ہو جائے اور امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو قرآن زیادہ پڑھا ہو۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1237

‏‏‏‏ اوپر والی حدیث اس سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1470

‏‏‏‏ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ہوگا جب تو باقی رہے گا ایسے لوگوں میں جو نماز میں اپنے وقت سے دیر کرتے ہیں۔ تو تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا، پھر اگر تکبیر ہو تو لوگوں کے ساتھ بھی پڑھ لے، اس لئے کہ اس میں نیکی کی زیادتی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1454

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری مثل نماز پڑھا کرتے تھے اور عشاء کی نماز میں تمہاری بہ نسبت ذرا دیر کیا کرتے تھے اور نماز ہلکی پڑھتے تھے اور ابوکامل کی روایت میں تخفیف کا لفظ ہے۔ اس کے معنی بھی وہی ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1408

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج بلند رہتا تھا اور اس میں گرمی ہوتی تھی اور جانے والا اونچے کناروں تک جاتا تھا اور وہاں پہنچ جاتا تھا اور آفتاب بلند رہتا تھا۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں اونچے کناروں کا ذکر نہیں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1462

‏‏‏‏ سیار بن سلامہ نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا کہ وہ پوچھتے تھے سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا حال۔ شعبہ نے کہا: کیا تم نے سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے سنا؟ انہوں کہا کہ گویا میں ابھی سن رہا ہوں (یعنی مجھے ایسا یاد ہے) ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1378

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1522

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بھلا دیکھو کہ اگر کسی کے دروازہ پر ایک نہر ہو کہ وہ اس میں ہر روز پانچ بار نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہے گا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1234

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن شِّخِّيرِ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوکا پھر زمین پر مل ڈالا اپنے جوتے سے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1524

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کو یا شام کو گیا مسجد میں اللہ تعالیٰ نے اس کی جنت میں ضیافت تیار کی ہر صبح اور شام میں۔“مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1314

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1359

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب نماز شروع ہو جائے تو دوڑتے ہوئے مت آؤ بلکہ چلتے ہوئے سکون سے آؤ اور جو امام کے ساتھ ملے پڑھ لو اور جو نہ ملے اس کو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1471

‏‏‏‏ ابوالعالیہ نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن صامت سے کہا کہ ہم جمعہ کے دن حاکموں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو آخر وقت ادا کرتے ہیں ابوالعالیہ نے کہا کہ عبداللہ نے میری ران پر ایک ہاتھ مارا کہ میرے درد ہونے لگا اور کہا کہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی بات کو پوچھا تو انہوں نے بھی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1392

‏‏‏‏ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نماز کے وقتوں کی بابت پوچھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم ہمارے ساتھ نماز میں حاضر رہو“، پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم کیا، انہوں ..مکمل حدیث پڑھیئے