Hadith no 1739 Of Sahih Muslim Chapter Musafron Ki Namaz Aur Qasr Ke Ehkaam (Commands Related to Short Prayers for Travellers)

Read Sahih Muslim Hadith No 1739 - Hadith No 1739 is from Commands Related To Short Prayers For Travellers , Musafron Ki Namaz Aur Qasr Ke Ehkaam Chapter in the Sahih Muslim Hadees Book, which is written by Imam Muslim. Hadith # 1739 of Imam Muslim covers the topic of Commands Related To Short Prayers For Travellers briefly in Sahih Muslim. You can read Hadith No 1739 from Commands Related To Short Prayers For Travellers in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

صحیح مسلم - حدیث نمبر 1739

Hadith No 1739
Book Name Sahih Muslim
Book Writer Imam Muslim
Writer Death 261 ھ
Chapter Name Commands Related To Short Prayers For Travellers
Roman Name Musafron Ki Namaz Aur Qasr Ke Ehkaam
Arabic Name صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا
Urdu Name مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام

Urdu Translation

‏‏‏‏ قتادہ نے زرارہ سے روایت کی ہے کہ سعد بن ہشام بن عامر نے چاہا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور مدینہ کو آئے اور چاہا کہ اپنے باغ و زمین بیچ ڈالیں اور اس سے ہتھیار اور گھوڑے خریدیں اور نصاریٰ سے مرنے کے وقت تک لڑیں۔ پھر جب مدینہ میں آئے اور مدینہ والوں سے ملے، انہوں نے ان کو منع کیا (یعنی بالکل کاروبار دنیا اور ضروریات بشریٰ چھوڑ کر ایسا نہ کرنا چاہیئے) اور خبر دی کہ چھ آدمیوں نے اس کا ارادہ کیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: کیا تمہارے لئے میری راہ اچھی نہیں۔ پھر جب لوگوں نے ان سے یہ کہا تو انہوں نے اپنی بیوی سے رجعت کی (یعنی جس کو طلاق دے دی تھی) اور ان کو طلاق دے دی تھی اور ان کی رجعت پر لوگوں کو گواہ کر لیا۔ پھر وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آۓ اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کا حال پوچھا۔ انہوں نے کہا: میں تم کو ایسا شخص بتا دوں کہ جو ساری زمین کے لوگوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کا حال بہتر جانتا ہے۔ انہوں نے کہا: وہ کون ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔ تو تم ان کے پاس جاؤ ان سے پوچھو پھر میرے پاس آؤ اور ان کے جواب سے خبر دو۔ پھر میں ان کے پاس چلا حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے چاہا کہ وہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے چلیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کے پاس نہیں جاتا اس لئے کہ میں نے ان کو روکا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں کے بیچ میں کچھ نہ بولیں۔ (یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم کی آپس کی لڑائیوں میں) مگر انہوں نے نہ مانا اور چلی گئیں۔ زرارہ نے کہا کہ میں نے حکیم کو قسم دی۔ غرض وہ آئے اور ہم سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف چلے اور انہیں اطلاع دی۔ انہوں نے اجازت دی اور ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تب انہوں نے فرمایا: کیا یہ حکیم ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں غرض سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو پہچان لیا، (یعنی آواز وغیرہ سے پردہ کی آڑ سے) پھر انہوں نے فرمایا: کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ حکیم نے کیا: میرے ساتھ سعد بن ہشام ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ہشام کون سے؟ حکیم نے کہا: عامر کے بیٹے تب ان پر بہت مہربانی کی اور قتادہ نے کہا کہ جنگ احد میں شہید ہوئے تھے۔ پھر میں نے عرض کیا کہ ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سے خبر دیجئے۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق وہی تھا جس کا قرآن میں حکم ہے۔ انہوں نے کہا: پھر میں نے چلنے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ موت کے وقت تک اب کسی سے کوئی چیز نہ پوچھوں۔ پھر مجھے خیال آیا تو میں نے عرض کیا کہ خبر دیجئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے اٹھنے سے۔ پھر انہوں نے فرمایا: کیا تم نے «يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ» نہیں پڑھی میں نے کہا کیوں نہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرض کیا رات کو کھڑے ہو کر پڑھنے کو اس سورت کے اول میں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب صحابہ رات کو نماز پڑھتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کا خاتمہ بارہ مہینے تک آسمان پر روک رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کا آخر اتارا اور اس میں تخفیف فرمائی (یعنی تہجد کی فرضیت معاف کر دی۔ مسنون ہونا باقی رہا) پھر ہو گیا رات کا نماز پڑھنا خوشی کا سودا بعد اس کے کہ فرض تھا۔ پھر میں نے عرض کیا: اے ام المؤمنین! خبر دیجئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی۔ تب انہوں نے فرمایا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چاہتا اٹھا دیتا تھا رات کو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے تھے اور وضو، پھر نو رکعت پڑھتے تھے نہ بیٹھتے اس میں مگر آٹھویں رکعت کے بعد اور یاد کرتے اللہ تعالیٰ کو اور اس کی حمد کرتے اور دعا کرتے (یعنی تشہد پڑھتے) پھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے اور نویں رکعت پڑھتے پھر بیٹھتے اور اللہ کو یاد کرتے اور اس کی تعریف کرتے اور اس سے دعا کرتے اور اس طرح سلام پھیرتے کہ ہم کو سنا دیتے (تاکہ سوتے جاگ اٹھیں) پھر دو رکعت پڑھتے اس کے بعد، بیٹھے بیٹھے بعد سلام کے۔ غرض یہ گیارہ رکعات ہوئیں اے میرے بیٹے! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی اور بعد میں گوشت آ گیا، سات رکعات وتر پڑھنے لگے اور دو رکعتیں ویسی ہی پڑھتے جیسے اوپر ہم نے بیان کیں۔ غرض یہ سب نو رکعتیں ہوئیں۔ اے میرے بیٹے! (یعنی سات وتر و تہجد کی اور دو بعد وتر کے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی نماز پڑھتے اس پر ہمیشگی کرتے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند یا کسی درد کا غلبہ ہوتا کہ رات کو نہ اٹھ سکتے تو دن کو بارہ رکعات ادا کرتے (یعنی وتر نہ پڑھتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ وتر کی قضا نہیں) اور میں نہیں جانتی کہ کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا قرآن ایک رات میں پڑھ لیا ہو (اس سے ایک شب قرآن ختم کرنے کا بدعت ہونا ثابت ہوا) نہ یہ جانتی ہوں کہ ساری رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی صبح تک (یعنی ذرا بھی نہ سوئے نہ آرام لیا ہو) اور نہ یہ کہ سارا مہینہ روزہ رکھا ہو، سوا رمضان کے۔ پھر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے یہ ساری حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ بیشک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچ فرمایا اور کہا: کہ اگر میں ان کے پاس ہوتا یا جاتا تو یہ سب منہ در منہ سنتا۔ زرارہ نے کہا: کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ ان کے پاس نہیں جاتے ہیں تو میں کبھی ان کی بات آپ سے نہ کہتا۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا ، فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ ، وَيُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، لَقِيَ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِكَ ، وَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ فِي حَيَاةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَاهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ، فَلَمَّا حَدَّثُوهُ بِذَلِكَ ، رَاجَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَأَشْهَدَ عَلَى رَجْعَتِهَا ، فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَنْ ؟ قَالَ : عَائِشَةُ ، فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ، ثُمَّ ائْتِنِي فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا ، فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ ، فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِقَارِبِهَا ، لِأَنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا ، فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا ، قَالَ : فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ ، فَجَاءَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا ، فَأَذِنَتْ لَنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَحَكِيمٌ ، فَعَرَفَتْهُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَتْ : مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَتْ : مَنْ هِشَامٌ ؟ قَالَ : ابْنُ عَامِرٍ ، فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ ، وَقَالَتْ : خَيْرًا ، قَالَ قَتَادَةُ وَكَانَ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ : فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَمُوتَ ، ثُمَّ بَدَا لِي ، فَقُلْتُ : أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ سورة المزمل آية 1 ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا ، وَأَمْسَكَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ التَّخْفِيفَ ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " كُنَّا نُعِدُّ لَهُ ، سِوَاكَهُ ، وَطَهُورَهُ ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَتَسَوَّكُ ، وَيَتَوَضَّأُ ، وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ ، لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ ، وَلَا يُسَلِّمُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّ التَّاسِعَةَ ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، وَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يَا بُنَيَّ ، فَلَمَّا أَسَنَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ الأَوَّلِ ، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا ، وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ ، وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا ، فَقَالَ : صَدَقَتْ لَوْ كُنْتُ أَقْرَبُهَا أَوْ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي بِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ حَدِيثَهَا .

Your Comments/Thoughts ?

مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام سے مزید احادیث

حدیث نمبر 1731

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ اپنے گھر میں یا فرمایا اپنے پاس سوتے پایا (یعنی تہجد کے بعد سو جاتے)۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1636

‏‏‏‏ شقیق کے بیٹے عبداللہ نے کہا کہ ہم میں ایک دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وعظ کہا عصر کے بعد جب آفتاب ڈوب گیا اور تارے نکل آۓ اور لوگ کہنے لگے نماز، نماز، پھر ایک شخص آیا قبیلہ بنی تمیم کا کہ وہ دم نہ لیتا تھا، نہ باز رہتا تھا، برابر کہے جاتا تھا نماز، نماز، تب سیدنا ابن عباس رضی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1823

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں اللہ کی یاد ہوتی ہے اور جس گھر میں نہیں ہوتی وہ مثل زندہ اور مردہ کے ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1712

‏‏‏‏ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نہیں دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نفل پڑھا ہو یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال باقی رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نفل پڑھنے لگے اور سورت کو پڑھتے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1573

‏‏‏‏ یعلیٰ بن امیہ نے کہا کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اللہ تو فرماتا ہے: «فلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاَةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا» کہ کچھ مضائقہ نہیں اگر قصر کرو تم نماز میں اگر خوف ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1720

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت پڑھتے پانچ ان میں سے وتر ہوتیں کہ بیٹھتے مگر ان کے آخر میں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1710

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا جب تک کہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز نہ پڑھنے لگے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1610

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر نماز پڑھتے تھے وہ جدھر منہ کرے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1704

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ قرأت کرتے ہوں نماز میں بیٹھ کر۔ پھر جب بوڑھے ہو گئے بیٹھے بیٹھے قرأت کرتے، یہاں تک کہ جب رہ جاتیں سورت میں تیس یا چالیس آیتیں تو کھڑے ہو کر پڑھتے پھر رکوع کرتے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1735

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے اور وہ سامنے آڑی لیٹی رہتیں پھر جب وتر رہ جاتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جگا دیتے وہ وتر پڑھ لیتیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1805

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا اور ہم ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! تم پار ہوتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، پھر رسول اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1697

‏‏‏‏ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بندہ مسلمان ایسا نہیں کہ اس نے وضو پورا کیا اور پھر اللہ کے لئے ہر دن میں نماز پڑھی اور پھر مثل اوپر کی روایت کے بیان کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1793

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور ایک پرانی مشک سے ہلکا وضو کیا پھر ان سے وضو کے بارے میں بیان کیا کہ وضو بہت ہلکا تھا اور تھوڑے پانی سے کیا تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1618

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھا کرتے تھے جدھر وہ منہ کرے اور اسی پر وتر پڑھتے مگر فرض اس پر نہ پڑھتے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1669

‏‏‏‏ ابوطالب کی بیٹی ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہاتے پایا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ایک کپڑے سے آپ مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1613

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ روایت مروی ہے اس میں یہ ہے کہ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی «فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّه» جہاں بھی تم پھرو وہاں اللہ کا چہرہ ہے اور کہا: اس مسئلہ کے بارے میں یہ نازل ہوئی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1719

‏‏‏‏ ابن شہاب مذکورہ حدیث کی مانند بیان کرتے ہیں مگر انہوں نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ فجر واضح ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مؤذن آیا اور نہ ہی اقامت کا ذکر کیا باقی حدیث اس کے مانند ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1586

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعت پڑھتے رہے یہاں تک کہ لوٹے میں نے کہا: مکہ میں کب تک رہے؟ کہا: دس روز۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1774

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدھی رات یا دو تہائی گزر جاتی ہے اترتا ہے اللہ برکت والا، بلند ذات والا، دنیا کے آسمان کی طرف اور فرماتا ہے: کوئی مانگنے والا ہے کہ وہ اسے دے۔ کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1765

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح سے پہلے پڑھ لیا کرو۔مکمل حدیث پڑھیئے