Hadith no 1770 Of Sunan Abi Dawud Chapter Aimaal Hajj Aur Uske Ehkaam O Masail (The Rites Of Pilgrimage-kitab Al-manasik Wal-hajj)

Read Sunan Abi Dawud Hadith No 1770 - Hadith No 1770 is from The Rites Of Pilgrimage-kitab Al-manasik Wal-hajj , Aimaal Hajj Aur Uske Ehkaam O Masail Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 1770 of Imam Abu Dawood covers the topic of The Rites Of Pilgrimage-kitab Al-manasik Wal-hajj briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 1770 from The Rites Of Pilgrimage-kitab Al-manasik Wal-hajj in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

سنن ابی داود - حدیث نمبر 1770

Hadith No 1770
Book Name Sunan Abi Dawud
Book Writer Imam Abu Dawood
Writer Death 275 ھ
Chapter Name The Rites Of Pilgrimage-kitab Al-manasik Wal-hajj
Roman Name Aimaal Hajj Aur Uske Ehkaam O Masail
Arabic Name المناسك
Urdu Name اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

Urdu Translation

´سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوالعباس! مجھے تعجب ہے کہ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آپ نے احرام کب باندھا؟ تو انہوں نے کہا: اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج کیا تھا اسی وجہ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کی نیت کر کے مدینہ سے نکلے، جب ذی الحلیفہ کی اپنی مسجد میں آپ نے اپنی دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا، لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے اس کو یاد رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا، بعض لوگوں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے ہوئے پایا، اور یہ اس وجہ سے کہ لوگ الگ الگ ٹکڑیوں میں آپ کے پاس آتے تھے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی تو انہوں نے آپ کو تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: آپ نے تلبیہ اس وقت کہا ہے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، جب مقام بیداء کی اونچائی پر چڑھے تو تلبیہ کہا تو بعض لوگوں نے اس وقت اسے سنا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ کہا ہے جب آپ بیداء کی اونچائی پر چڑھے حالانکہ اللہ کی قسم آپ نے وہیں تلبیہ کہا تھا جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ کہا جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی ہوئی اور پھر آپ نے بیداء کی اونچائی چڑھتے وقت تلبیہ کہا۔ سعید کہتے ہیں: جس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو لیا تو اس نے اس جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی اپنی دونوں رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد تلبیہ کہا۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، عَجِبْتُ لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ ، إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً فَمِنْ هُنَاكَ اخْتَلَفُو اخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا ، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ ، فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظْتُهُ عَنْهُ ، ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ ، ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا أَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ " . قَالَ سَعِيدٌ : فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ .

English Translation

Narrated Abdullah ibn Abbas: Saeed ibn Jubayr said: I said to Abdullah ibn Abbas: AbulAbbas, I am surprised to see the difference of opinion amongst the companions of the Messenger ﷺ about the wearing of ihram by the Messenger of Allah ﷺ when he made it obligatory. He replied: I am aware of it more than the people. The Messenger of Allah ﷺ performed only one hajj. Hence the people differed among themselves. The Messenger of Allah ﷺ came out (from Madina) with the intention of performing hajj. When he offered two rak'ahs of prayer in the mosque at Dhul-Hulayfah, he made it obligatory by wearing it. At the same meeting, he raised his voice in the talbiyah for hajj, when he finished his two rak'ahs. Some people heard it and I retained it from him. He then rode (on the she-camel), and when it (the she-camel) stood up, with him on its back, he raised his voice in the talbiyah and some people heard it at that moment. This is because the people were coming in groups, so they heard him raising his voice calling the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back, and they thought that the Messenger of Allah ﷺ had raised his voice in the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back. The Messenger of Allah ﷺ proceeded further; when he ascended the height of al-Bayda' he raised his voice in the talbiyah. Some people heard it at that moment. They thought that he had raised his voice in the talbiyah when he ascended the height of al-Bayda'. I swear by Allah, he raised his voice in the talbiyah at the place where he prayed, and he raised his voice in the talbiyah when his she-camel stood up with him on its back, and he raised his voice in the talbiyah when he ascended the height of al-Bayda'. Saeed (ibn Jubayr) said; He who follows the view of Ibn Abbas raises his voice in talbiyah (and ihram) at the place of is prayer after he finishes two rak'ahs of his prayer.

Your Comments/Thoughts ?

اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 1896

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے، اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کر لیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1775

´عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کہتی ہیں کہ` سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرع کا راستہ (جو مکہ کو جاتا ہے) اختیار کرتے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آپ کو لے کر سیدھی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پڑھتے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1868

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ۱؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی ۲؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے، البتہ اکثر کدی کی جانب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1832

´براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ۱؎ تو میں نے ان سے پوچھا: «جلبان السلاح» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1749

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال ہدی ۱؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ۲؎ تھا، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ سونے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1862

´حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے، یا لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا، اب اس پر اگلے سال حج ہو گا ۱؎۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1998

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی (طواف سے) لوٹ کر۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1738

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر کیا پھر ان دونوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، ان دونوں (راویوں میں سے) میں سے ایک نے کہا: اہل یمن کے لیے یلملم، اور دوسرے نے کہا: مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1976

´عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1944

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو حکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1878

´صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1856

´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے؟ کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2000

´ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کا طواف رات تک مؤخر کیا ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1722

´ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا: یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1954

´ہرماس بن زیاد باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی اونٹنی عضباء پر عید الاضحی کے دن منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1873

´عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوما، اور کہا: میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1974

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب وہ جمرہ کبری (جمرہ عقبہ) کے پاس آئے تو بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب کیا اور جمرے کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: اسی طرح اس ذات نے بھی کنکریاں ماری تھیں جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1992

´مجاہد کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟ انہوں نے جواب دیا: دو بار ۱؎، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1964

´زہری سے روایت ہے کہ` عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز (اصل میں) چار رکعت ہی ہے (نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے)۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 1962

´ابراہیم کہتے ہیں` عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں اس لیے کہ انہوں نے منیٰ کو وطن بنا لیا تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے