Hadith no 2068 Of Sunan Abi Dawud Chapter Nikah Ke Ehkaam O Masail (Marriage-kitab Al-nikah)
Read Sunan Abi Dawud Hadith No 2068 - Hadith No 2068 is from Marriage-kitab Al-nikah , Nikah Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 2068 of Imam Abu Dawood covers the topic of Marriage-kitab Al-nikah briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 2068 from Marriage-kitab Al-nikah in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ابی داود - حدیث نمبر 2068
| Hadith No | 2068 |
|---|---|
| Book Name | Sunan Abi Dawud |
| Book Writer | Imam Abu Dawood |
| Writer Death | 275 ھ |
| Chapter Name | Marriage-kitab Al-nikah |
| Roman Name | Nikah Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | النكاح |
| Urdu Name | نکاح کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
´عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے` اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء سورة النساء» ۱؎ کے بارے میں دریافت کیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو (یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو) چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں۔ عروہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے نزول کے بعد یتیم لڑکیوں کے بارے میں حکم دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن وما يتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء اللاتي لا تؤتونهن ما كتب لهن وترغبون أن تنكحوهن» ۲؎ ام المؤمنین عائشہ نے کہا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ ان پر کتاب میں پڑھی جاتی ہیں اس سے مراد پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» اور اس دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے قول: «وترغبون أن تنكحوهن» سے یہی غرض ہے کہ تم میں سے کسی کی پرورش میں کم مال والی کم حسن والی یتیم لڑکی ہو تو وہ اس کے ساتھ نکاح سے بے رغبتی نہ کرے چنانچہ انہیں منع کیا گیا کہ مال اور حسن کی بنا پر یتیم لڑکیوں سے نکاح کی رغبت کریں، ہاں انصاف کی شرط کے ساتھ درست ہے۔ یونس نے کہا کہ ربیعہ نے اللہ کے فرمان: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر پانے کا ڈر ہو تو انہیں چھوڑ دو (کسی اور عورت سے نکاح کر لو) میں نے تمہارے لیے چار عورتوں سے نکاح جائز کر دیا ہے۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 ،قَالَتْ : " يَا ابْنَ أُخْتِي ، هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّهَا ، فَتُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا ، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ " ، قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ :وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، قَالَتْ : وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْهِمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ فِيهَا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآيَةِ الْآخِرَةِ : وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 هِيَ رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حِجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ " . قَالَ يُونُسُ : وَقَالَ رَبِيعَةُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3 ، قَالَ : يَقُولُ : اتْرُكُوهُنَّ إِنْ خِفْتُمْ ، فَقَدْ أَحْلَلْتُ لَكُمْ أَرْبَعًا .
English Translation
Ibn Shihab said “Urwah bin Al Zubair asked Aishah, wife of the Prophet ﷺ about the Quranic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you. ” She said “O my nephew, this means the female orphan who is under the protection of her guardian and she holds a share in his property and her property and beauty attracts him; so her guardian intends to marry her without doing justice to her in respect of her dower and he gives her the same amount of dower as others give her. They (i. e., the guardians) were prohibited to marry them except that they do justice to them and pay them their maximum customary dower and they were asked to marry women other than them (i. e., the orphans) who seem good to them. Urwah reported that Aishah said “The people then consulted the Messenger of Allah ﷺ about women after revelation of this verse. Thereupon Allaah the Exalted sent down the verse “They consult thee concerning women. Say Allaah giveth you decree concerning them and the scripture which hath been recited unto you (giveth decree) concerning female orphans unto whom you give not that which is ordained for them though you desire to marry them. “ She said “The mention made by Allaah about the Scripture recited to them refers to the former verse in which Allaah has said “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you. ” Aishah said “The pronouncement of Allaah, the Exalted in the latter verse “though you desire to marry them” means the disinterest of one of you in marrying a female orphan who was under his protection, but she said little property and beauty. So they were prohibited to marry them for their interest in the property and beauty of the female orphans due to their disinterest in themselves except that they do justice )to them). The narrator Yunus said “Rabiah said explain the Quranic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans” means “Leave them if you fear (that you will not do justice to them), for I have made four women lawful for you. ”
- Previous Hadith
- Hadith No. 2068 of 5274
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
نکاح کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 2099
´عبداللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أبوها» کا لفظ محفوظ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2122
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے خاندان کے لیے بے عزتی مت تصور کرنا، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2067
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی اور خالہ کو (نکاح میں) جمع کرنے، اسی طرح دو خالاؤں اور دو پھوپھیوں کو (نکاح میں) جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2075
´ابن اسحاق سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن ہرمزاعرج نے مجھ سے بیان کیا کہ` عباس بن عبداللہ بن عباس نے اپنی بیٹی کا نکاح عبدالرحمٰن بن حکم سے کر دیا اور عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کا نکاح عباس سے کر دیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے سے اپنی بیٹی کے شادی کرنے کو اپنی بیوی کا مہر قرار دیا تو معاویہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2115
´اس سند سے بھی عبداللہ سے مروی ہے` عثمان نے اسی کے مثل روایت بیان کی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2162
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی بیوی کی دبر (پاخانہ کے مقام) میں صحبت کرے اس پر لعنت ہے“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2143
´معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنی عورتوں کے پاس کدھر سے آئیں، اور کدھر سے نہ آئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”اپنی کھیتی ۱؎ میں جدھر سے بھی چاہو آؤ، جب خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، اور جب ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2110
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے (اس عورت کو اپنے لیے) حلال کر لیا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2062
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں نازل کی ہیں ان میں «عشر رضعات يحرمن» والی آیت بھی تھی پھر یہ آیت «خمس معلومات يحرمن» والی آیت سے منسوخ ہو گئی، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2151
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو (اپنی بیوی) زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا: ”عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2057
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میرے پاس افلح بن ابوقعیس آئے تو میں نے پردہ کر لیا، انہوں نے کہا: مجھ سے پردہ کر رہی ہو، میں تو تمہارا چچا ہوں؟ میں نے کہا: چچا کس طرح سے؟ انہوں نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے عورت نے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2174
´ابونضرہ کہتے ہیں: مجھ سے قبیلہ طفاوہ کے ایک شیخ نے بیان کیا کہ` مدینہ میں میں ایک بار ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کسی کو بھی مہمانوں کے معاملے میں ان سے زیادہ چاق و چوبند اور ان کی خاطر مدارات کرنے والا نہیں دیکھا، ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میں ان کے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2157
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا: ”کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آ جائے“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2077
´حارث الاعور رضی اللہ عنہ ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ` ہمارا خیال ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2073
´سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے نکاح متعہ کو حرام قرار دیا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2164
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بخشے ان کو «أنى شئتم» کے لفظ سے وہم ہو گیا تھا، اصل واقعہ یوں ہے کہ انصار کے اس بت پرست قبیلے کا یہود (جو کہ اہل کتاب ہیں کے) ایک قبیلے کے ساتھ میل جول تھا اور انصار علم میں یہود کو اپنے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2065
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھوپھی کے نکاح میں رہتے ہوئے بھتیجی سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، اور نہ بھتیجی کے نکاح میں رہتے ہوئے پھوپھی سے نکاح درست ہے، اسی طرح خالہ کے نکاح میں رہتے ہوئے بھانجی سے نکاح نہیں کیا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2050
´معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: مجھے ایک عورت ملی ہے جو اچھے خاندان والی ہے، خوبصورت ہے لیکن اس سے اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2137
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا: ”اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں“، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2060
´اس سند سے بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے` لیکن اس میں: «شد العظم» کے بجائے «أنشز العظم» کا لفظ ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے