Hadith no 3089 Of Sunan Abi Dawud Chapter Janaze Ke Ehkaam O Masail (Funerals-kitab Al-janaiz)
Read Sunan Abi Dawud Hadith No 3089 - Hadith No 3089 is from Funerals-kitab Al-janaiz , Janaze Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 3089 of Imam Abu Dawood covers the topic of Funerals-kitab Al-janaiz briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 3089 from Funerals-kitab Al-janaiz in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ابی داود - حدیث نمبر 3089
| Hadith No | 3089 |
|---|---|
| Book Name | Sunan Abi Dawud |
| Book Writer | Imam Abu Dawood |
| Writer Death | 275 ھ |
| Chapter Name | Funerals-kitab Al-janaiz |
| Roman Name | Janaze Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الجنائز |
| Urdu Name | جنازے کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
´خضر کے تیر انداز بھائی عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں اپنے ملک میں تھا کہ یکایک ہمارے لیے جھنڈے اور پرچم لہرائے گئے تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم ہے، تو میں آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے ایک کمبل پر جو آپ کے لیے بچھایا گیا تھا تشریف فرما تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد آپ کے اصحاب اکٹھا تھے، میں بھی جا کر انہیں میں بیٹھ گیا ۱؎، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا: ”جب مومن بیمار پڑتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس کی بیماری سے عافیت بخشتا ہے تو وہ بیماری اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے اور آئندہ کے لیے نصیحت، اور جب منافق بیمار پڑتا ہے پھر اسے عافیت دے دی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کے مانند ہے جسے اس کے مالک نے باندھ رکھا ہو پھر اسے چھوڑ دیا ہو، اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کس لیے باندھا گیا اور کیوں چھوڑ دیا گیا“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیماریاں کیا ہیں؟ اللہ کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اٹھ جا، تو ہم میں سے نہیں ہے“ ۲؎۔ عامر کہتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ ایک کمبل پوش شخص آیا جس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف آ نکلا، راستے میں درختوں کا ایک جھنڈ دیکھا اور وہاں چڑیا کے بچوں کی آواز سنی تو انہیں پکڑ کر اپنے کمبل میں رکھ لیا، اتنے میں ان بچوں کی ماں آ گئی، اور وہ میرے سر پر منڈلانے لگی، میں نے اس کے لیے ان بچوں سے کمبل ہٹا دیا تو وہ بھی ان بچوں پر آ گری، میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا، اور وہ سب میرے ساتھ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو یہاں رکھو“، میں نے انہیں رکھ دیا، لیکن ماں نے اپنے بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کیا تم اس چڑیا کے اپنے بچوں کے ساتھ محبت کرنے پر تعجب کرتے ہو؟“، صحابہ نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس سے کہیں زیادہ محبت رکھتا ہے جتنی یہ چڑیا اپنے بچوں سے رکھتی ہے، تم انہیں ان کی ماں کے ساتھ لے جاؤ اور وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے انہیں لائے ہو“، تو وہ شخص انہیں واپس چھوڑ آیا۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَنْظُورٍ ،عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي ، عَنْ عَامِرٍ الرَّامِ أَخِي الْخَضِرِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ : هُوَ الْخَضِرُ ، وَلَكِنْ كَذَا قَالَ ، قَالَ : إِنِّي لَبِبِلَادِنَا إِذْ رُفِعَتْ لَنَا رَايَاتٌ وَأَلْوِيَةٌ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا لِوَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ ، وَهُوَ تَحْتَ شَجَرَةٍ قَدْ بُسِطَ لَهُ كِسَاءٌ ، وَهُوَ جَالِسٌ عَلَيْهِ ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ ، فَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْقَامَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السَّقَمُ ، ثُمَّ أَعْفَاهُ اللَّهُ مِنْهُ ، كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ ، وَمَوْعِظَةً لَهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ ، وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مَرِضَ ثُمَّ أُعْفِيَ كَانَ كَالْبَعِيرِ ، عَقَلَهُ أَهْلُهُ ، ثُمَّ أَرْسَلُوهُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عَقَلُوهُ ، وَلَمْ يَدْرِ لِمَ أَرْسَلُوهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ حَوْلَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْأَسْقَامُ ؟ وَاللَّهِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُمْ عَنَّا ، فَلَسْتَ مِنَّا ، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَاءٌ ، وَفِي يَدِهِ شَيْءٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمَّا رَأَيْتُكَ أَقْبَلْتُ إِلَيْكَ ، فَمَرَرْتُ بِغَيْضَةِ شَجَرٍ ، فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ ، فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي ، فَجَاءَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلَى رَأْسِي ، فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ مَعَهُنَّ ، فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي ، فَهُنَّ أُولَاءِ مَعِي ، قَالَ : ضَعْهُنَّ عَنْكَ ، فَوَضَعْتُهُنَّ ، وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلَّا لُزُومَهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : أَتَعْجَبُونَ لِرُحْمِ أُمِّ الْأَفْرَاخِ فِرَاخَهَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ ، لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ أُمِّ الْأَفْرَاخِ بِفِرَاخِهَا ، ارْجِعْ بِهِنَّ حَتَّى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ ، وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ ، فَرَجَعَ بِهِنَّ " .
English Translation
Narrated Amir ar-Ram: We were in our country when flags and banners were raised. I said: What is this? The (the people) said: This is the banner of the Messenger of Allah ﷺ. So I came to him. He was (sitting) under a tree. A sheet of cloth was spread for him and he was sitting on it. His Companions were gathered around him. I sat with them. The Messenger of Allah ﷺ mentioned illness and said: When a believer is afflicted by illness and Allah cures him of it, it serves as an atonement for his previous sins and a warning to him for the future. But when a hypocrite becomes ill and is then cured, he is like a camel which has been tethered and then let loose by its owners, but does not know why they tethered it and why they let it loose. A man from among those around him asked: Messenger of Allah, what are illnesses? I swear by Allah, I never fell ill. The Messenger of Allah ﷺ said: Get up and leave us. You do not belong to our number. When we were with him, a man came to him. He had a sheet of cloth and something in his hand. He turned his attention to him and said: Messenger of Allah, when I saw you, I turned towards you. I saw a group of trees and heard the sound of fledglings. I took them and put them in my garment. Their mother then came and began to hover round my head. I showed them to her, and she fell on them. I wrapped them with my garment. They are now with me. He said: Put them away from you. So I put them away, but their mother stayed with them. The Messenger of Allah ﷺ said to his companions: Are you surprised at the affection of the mother for her young? They said: Yes, Messenger of Allah. He said: I swear by Him Who has sent me with the Truth, Allah is more affectionate to His servants than a mother to her young ones. Take them back put them and where you took them from when their mother should have been with them. So he took them back.
- Previous Hadith
- Hadith No. 3089 of 5274
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
جنازے کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 3225
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے ۱؎، اسے پختہ بنانے، اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرماتے سنا ہے ۲؎۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3173
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے نہ بیٹھو“ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری نے اس حدیث کو سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3218
´ابوہیاج حیان بن حصین اسدی کہتے ہیں` مجھے علی رضی اللہ عنہ نے بھیجا اور کہا کہ میں تمہیں اس کام پر بھیجتا ہوں جس پر مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا، وہ یہ کہ میں کسی اونچی قبر کو برابر کئے بغیر نہ چھوڑوں، اور کسی مجسمے کو ڈھائے بغیر نہ رہوں ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3193
´حارث بن نوفل کے غلام عمار کا بیان ہے کہ` وہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے کے جنازے میں شریک ہوئے تو لڑکا امام کے قریب رکھا گیا تو میں نے اسے ناپسند کیا اس وقت لوگوں میں ابن عباس، ابو سعید خدری، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم موجود تھے اس پر ان لوگوں نے کہا: سنت یہی ہے (یعنی پہلے لڑکے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3176
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، اور جب تک جنازہ قبر میں اتار نہ دیا جاتا، بیٹھتے نہ تھے، پھر آپ کے پاس سے ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا: ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں (اس کے بعد سے) رسول اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3135
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ` شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا وہ اپنے خون سمیت دفن کئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3100
´ابوجعفر عبداللہ بن نافع سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں` اور نافع حسن بن علی کے غلام تھے وہ کہتے ہیں: ابوموسیٰ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے آئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث بواسطہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3158
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے خوشبوؤوں میں مشک عمدہ خوشبو ہے“ (لہٰذا مردے کو یا کفن میں بھی اسے لگانا بہتر ہے)۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3232
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میرے والد کے ساتھ ایک اور شخص کو دفن کیا گیا تھا تو میری یہ دلی تمنا تھی کہ میں ان کو الگ دفن کروں گا تو میں نے چھ مہینے بعد ان کو نکالا تو ان کی داڑھی کے چند بالوں کے سوا جو زمین سے لگے ہوئے تھے میں نے ان میں کوئی تبدیلی نہیں پائی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3120
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (وفات کے بعد) یمنی کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3204
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` (حبشہ کا بادشاہ) نجاشی ۱؎ جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موت کی اطلاع مسلمانوں کو دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو لے کر عید گاہ کی طرف نکلے، ان کی صفیں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3093
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ!“، انہوں نے کہا: اللہ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3187
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا اس وقت وہ اٹھارہ مہینے کے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3234
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو (بھی) رلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3240
´اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سلیمان کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے` اس میں «في ثوبين» ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3228
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کا آگ کے شعلہ پر بیٹھنا، اور اس سے کپڑے کو جلا کر آگ کا اس کے جسم کی کھال تک پہنچ جانا اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3116
´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا آخری کلام «لا إله إلا الله» ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۱؎“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3190
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3127
´ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3211
´ابواسحاق کہتے ہیں کہ` حارث نے وصیت کی کہ ان کی نماز (نماز جنازہ) عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ پڑھائیں، تو انہوں نے ان کی نماز پڑھائی اور انہیں قبر میں پاؤں کی طرف سے داخل کیا اور کہا: یہ مسنون طریقہ ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے