Hadith no 3194 Of Sunan Abi Dawud Chapter Janaze Ke Ehkaam O Masail (Funerals-kitab Al-janaiz)
Read Sunan Abi Dawud Hadith No 3194 - Hadith No 3194 is from Funerals-kitab Al-janaiz , Janaze Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 3194 of Imam Abu Dawood covers the topic of Funerals-kitab Al-janaiz briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 3194 from Funerals-kitab Al-janaiz in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ابی داود - حدیث نمبر 3194
| Hadith No | 3194 |
|---|---|
| Book Name | Sunan Abi Dawud |
| Book Writer | Imam Abu Dawood |
| Writer Death | 275 ھ |
| Chapter Name | Funerals-kitab Al-janaiz |
| Roman Name | Janaze Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | الجنائز |
| Urdu Name | جنازے کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
´نافع ابوغالب کہتے ہیں کہ` میں سکۃ المربد (ایک جگہ کا نام ہے) میں تھا اتنے میں ایک جنازہ گزرا، اس کے ساتھ بہت سارے لوگ تھے، لوگوں نے بتایا کہ یہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ہے، یہ سن کر میں بھی جنازہ کے ساتھ ہو لیا، تو میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ باریک شال اوڑھے ہوئے چھوٹی گھوڑی پر سوار ہے، دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ایک کپڑے کا ٹکڑا ڈالے ہوئے ہے، میں نے لوگوں سے پوچھا: یہ چودھری صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ انس بن مالک ۱؎ رضی اللہ عنہ ہیں، پھر جب جنازہ رکھا گیا تو انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی، میں ان کے پیچھے تھا، میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی تو وہ اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، چار تکبیریں کہیں (اور تکبیریں کہنے میں) نہ بہت دیر لگائی اور نہ بہت جلدی کی، پھر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے کہا: ابوحمزہ! (انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) یہ انصاری عورت کا بھی جنازہ ہے (اس کی بھی نماز پڑھا دیجئیے) یہ کہہ کر اسے قریب لائے، وہ ایک سبز تابوت میں تھی، وہ اس کے کولہے کے سامنے کھڑے ہوئے، اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی نماز مرد کی پڑھی تھی، پھر اس کے بعد بیٹھے، تو علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح جنازے کی نماز پڑھا کرتے تھے جس طرح آپ نے پڑھی ہے؟ چار تکبیریں کہتے تھے، مرد کے سر کے سامنے اور عورت کے کولھے کے سامنے کھڑے ہوتے تھے، انہوں نے کہا: ہاں۔ علاء بن زیاد نے (پھر) کہا: ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں جنگ حنین ۲؎ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، مشرکین نکلے انہوں نے ہم پر حملہ کیا یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے دیکھا ۳؎ اور قوم (کافروں) میں ایک حملہ آور شخص تھا جو ہمیں مار کاٹ رہا تھا (پھر جنگ کا رخ پلٹا) اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دی اور انہیں (اسلام کی چوکھٹ پر) لانا شروع کر دیا، وہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے نذر مانی ہے اگر اللہ اس شخص کو لایا جو اس دن ہمیں مار کاٹ رہا تھا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے، پھر وہ (قیدی) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، اس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے توبہ کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کرنے میں توقف کیا تاکہ دوسرا بندہ (یعنی نذر ماننے والا صحابی) اپنی نذر پوری کر لے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیعت لینے سے پہلے ہی اس کی گردن اڑا دے) لیکن وہ شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا کہ آپ اسے اس کے قتل کا حکم فرمائیں اور ڈر رہا تھا کہ ایسا نہ ہو میں اسے قتل کر ڈالوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفا ہوں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کچھ نہیں کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کر لی، تب اس صحابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نذر تو رہ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جو اب تک رکا رہا اور اس سے بیعت نہیں کی تھی تو اسی وجہ سے کہ اس دوران تم اپنی نذر پوری کر لو“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں اس کا اشارہ کیوں نہ فرما دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ رمز سے اشارہ کرے“۔ ابوغالب کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ کے عورت کے کولہے کے سامنے کھڑے ہونے کے بارے میں پوچھا کہ (وہ وہاں کیوں کھڑے ہوئے) تو لوگوں نے بتایا کہ پہلے تابوت نہ ہوتا تھا تو امام عورت کے کولہے کے پاس کھڑا ہوتا تھا تاکہ مقتدیوں سے اس کی نعش چھپی رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: «أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله» سے اس کے قتل کی نذر پوری کرنے کو منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس نے آ کر یہ کہا تھا کہ میں نے توبہ کر لی ہے، اور اسلام لے آیا ہوں۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي سِكَّةِ الْمِرْبَدِ ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ مَعَهَا نَاسٌ كَثِيرٌ ، قَالُوا : جَنَازَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، فَتَبِعْتُهَا ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ عَلَيْهِ كِسَاءٌ رَقِيقٌ عَلَى بُرَيْذِينَتِهِ ، وَعَلَى رَأْسِهِ خِرْقَةٌ تَقِيهِ مِنَ الشَّمْسِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا الدِّهْقَانُ ؟ قَالُوا : هَذَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ ، قَامَ أَنَسٌ فَصَلَّى عَلَيْهَا ، وَأَنَا خَلْفَهُ ، لَا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ ، لَمْ يُطِلْ ، وَلَمْ يُسْرِعْ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقْعُدُ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، الْمَرْأَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ ، فَقَرَّبُوهَا وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ ، فَقَامَ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا ، فَصَلَّى عَلَيْهَا نَحْوَ صَلَاتِهِ عَلَى الرَّجُلِ ، ثُمَّ جَلَسَ ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ كَصَلَاتِكَ : يُكَبِّرُ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ، وَيَقُومُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ ، وَعَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، غَزَوْتُ مَعَهُ حُنَيْنًا ، فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ ، فَحَمَلُوا عَلَيْنَا حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا ، فَيَدُقُّنَا ، وَيَحْطِمُنَا ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ ، وَجَعَلَ يُجَاءُ بِهِمْ ، فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا ، إِنْ جَاءَ اللَّهُ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمَ يَحْطِمُنَا ، لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجِيءَ بِالرَّجُلِ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُبْتُ إِلَى اللَّهِ ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَايِعُهُ ، لِيَفِيَ الْآخَرُ بِنَذْرِهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَتَصَدَّى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ ، وَجَعَلَ يَهَابُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتُلَهُ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا ، بَايَعَهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَذْرِي ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمَ ، إِلَّا لِتُوفِيَ بِنَذْرِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ ، قَالَ أَبُو غَالِبٍ : فَسَأَلْتُ عَنْ صَنِيعِ أَنَسٍ فِي قِيَامِهِ عَلَى الْمَرْأَةِ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا ، فَحَدَّثُونِي أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ لِأَنَّهُ لَمْ تَكُنِ النُّعُوشُ ، فَكَانَ الْإِمَامُ يَقُومُ حِيَالَ عَجِيزَتِهَا يَسْتُرُهَا مِنَ الْقَوْمِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، نَسَخَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ : الْوَفَاءَ بِالنَّذْرِ فِي قَتْلِهِ ، بِقَوْلِهِ : إِنِّي قَدْ تُبْتُ .
English Translation
Nafi Abu Ghalib said: I was in the Sikkat al-Mirbad. A bier passed and a large number of people were accompanying it. They said: Bier of Abdullah ibn Umayr. So I followed it. Suddenly I saw a man, who had a thin garment on riding his small mule. He had a piece of cloth on his head to protect himself from the sun. I asked: Who is this important man? People said: This is Anas ibn Malik. When the bier was placed, Anas stood and led the funeral prayer over him while I was just behind him, and there was no obstruction between me and him. He stood near his head, and uttered four takbirs (Allah is Most Great). He neither lengthened the prayer nor hurried it. He then went to sit down. They said: Abu Hamzah, (here is the bier of) an Ansari woman. They brought her near him and there was a green cupola-shaped structure over her bier. He stood opposite her hips and led the funeral prayer over her as he had led it over the man. He then sat down. Al-Ala ibn Ziyad asked: Abu Hamzah, did the Messenger of Allah ﷺ say the funeral prayer over the dead as you have done, uttering four takbirs (Allah is Most Great) over her, and standing opposite the head of a man and the hips of a woman? He replied: Yes. He asked: Abu Hamzah, did you fight with the Messenger of Allah? He replied: Yes. I fought with him in the battle of Hunayn. The polytheists came out and invaded us so severely that we saw our horses behind our backs. Among the people (i. e. the unbelievers) there was a man who was attacking us, and striking and wounding us (with his sword). Allah then defeated them. They were then brought and began to take the oath of allegiance to him for Islam. A man from among the companions of the Prophet ﷺ said: I make a vow to myself that if Allah brings the man who was striking us (with his sword) that day, I shall behead him. The Messenger of Allah ﷺ kept silent and the man was brought (as a captive). When he saw the Messenger of Allah ﷺ, he said: Messenger of Allah, I have repented to Allah. The Messenger of Allah ﷺ stopped (for a while) receiving his oath of allegiance, so that the other man might fulfil his vow. But the man began to wait for the order of the Messenger of Allah ﷺ for his murder. He was afraid of the Messenger of Allah ﷺ to kill him. When the Messenger of Allah ﷺ saw that he did not do anything, he received his oath of allegiance. The man said: Messenger of Allah, what about my vow? He said: I stopped (receiving his oath of allegiance) today so that you might fulfil your vow. He said: Messenger of Allah, why did you not give any signal to me? The Prophet ﷺ said: It is not worthy of a Prophet to give a signal. Abu Ghalib said: I asked (the people) about Anas standing opposite the hips of a woman. They told me that this practice was due to the fact that (in the days of the Prophet) there were no cupola-shaped structures over the biers of women. So the imam used to stand opposite the hips of a woman to hide her from the people. Abu Dawud said: The saying of the Prophet ﷺ "I have been commanded to fight against the people until they say: There is no god bu Allah" abrogated this tradition of fulfilling the vow by his remark: "I have repented".
- Previous Hadith
- Hadith No. 3194 of 5274
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
جنازے کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 3117
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مرنے والے لوگوں کو کلمہ «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو ۱؎“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3101
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` جب جنگ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ان کے بازو میں ایک شخص نے تیر مارا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ نصب کر دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3180
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا جنازے کے پیچھے، آگے دائیں بائیں کسی بھی جانب جنازے کے قریب ہو کر چل سکتا ہے، اور کچے بچوں ۱؎ کی نماز جنازہ پڑھی جائے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3189
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` قسم اللہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3132
´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایک ایسا امر (حادثہ و سانحہ) پیش آ گیا ہے جس نے انہیں اس کا موقع نہیں دیا ہے ۱؎“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3157
´بنی عروہ بن مسعود کے ایک فرد سے روایت ہے (جنہیں داود کہا جاتا تھا، اور جن کی پرورش ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے کی تھی) کہ` لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3192
´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے روکتے تھے: ایک تو جب سورج چمکتا ہوا نکلے یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، دوسرے جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے اور تیسرے جب سورج ڈوبنے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3164
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` کچھ لوگوں نے قبرستان میں (رات میں) روشنی دیکھی تو وہاں گئے، دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: ”تم اپنے ساتھی کو (یعنی نعش کو) مجھے تھماؤمکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3144
´ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین لٹیں گوندھ دیں اور انہیں سر کے پیچھے ڈال دیں، ایک لٹ آگے کے بالوں کی اور دو لٹیں ادھر ادھر کے بالوں کی۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3136
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` (غزوہ احد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ (حمزہ بن عبدالمطلب) رضی اللہ عنہ کی لاش کے قریب سے گزرے، ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: ”اگر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3225
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے ۱؎، اسے پختہ بنانے، اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرماتے سنا ہے ۲؎۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3167
´ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` ”ہمیں جنازہ کے پیچھے پیچھے جانے سے روکا گیا ہے لیکن (روکنے میں) ہم پر سختی نہیں برتی گئی“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3228
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کا آگ کے شعلہ پر بیٹھنا، اور اس سے کپڑے کو جلا کر آگ کا اس کے جسم کی کھال تک پہنچ جانا اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3226
´اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے،` ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی زیادتی کرنے سے (بھی منع فرماتے تھے)۔ سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ہے: ”یا اس پر کچھ لکھنے سے ۱؎“ مسدد نے اپنی روایت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3112
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو خریدا ۱؎ اور خبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا، تو خبیب ان کے پاس قید رہے (جب حرمت کے مہینے ختم ہو گئے) تو وہ سب ان کے قتل کے لیے جمع ہوئے، خبیب بن ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3195
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک ایسی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں مر گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3141
´عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں، یا اسے آپ کے بدن ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3095
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک یہودی لڑکا بیمار پڑا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا: ”تم مسلمان ہو جاؤ“، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3191
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۱؎“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 3198
´طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی اور کہا: یہ سنت میں سے ہے ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے