Hadith no 3316 Of Sunan Abi Dawud Chapter Qasam Khaane Aur Nazar Ke Ehkaam O Masail (Oaths And Vows-Kitab Al-aiman Wa Al-nudhur)

Read Sunan Abi Dawud Hadith No 3316 - Hadith No 3316 is from Oaths And Vows-Kitab Al-aiman Wa Al-nudhur , Qasam Khaane Aur Nazar Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sunan Abi Dawud Hadees Book, which is written by Imam Abu Dawood. Hadith # 3316 of Imam Abu Dawood covers the topic of Oaths And Vows-Kitab Al-aiman Wa Al-nudhur briefly in Sunan Abi Dawud. You can read Hadith No 3316 from Oaths And Vows-Kitab Al-aiman Wa Al-nudhur in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

سنن ابی داود - حدیث نمبر 3316

Hadith No 3316
Book Name Sunan Abi Dawud
Book Writer Imam Abu Dawood
Writer Death 275 ھ
Chapter Name Oaths And Vows-Kitab Al-aiman Wa Al-nudhur
Roman Name Qasam Khaane Aur Nazar Ke Ehkaam O Masail
Arabic Name الأيمان والنذور
Urdu Name قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل

Urdu Translation

´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عضباء ۱؎ بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی، حاجیوں کی سواریوں میں آگے چلنے والی تھی، وہ شخص گرفتار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھا ہوا لایا گیا، اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے، اس نے کہا: محمد! آپ نے مجھے اور حاجیوں کی سواریوں میں آگے جانے والی میری اونٹنی (عضباء) کو کس بنا پر پکڑ رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تمہارے حلیف ثقیف کے گناہ کے جرم میں پکڑ رکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں: ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا۔ اس نے جو بات کہی اس میں یہ بات بھی کہی کہ میں مسلمان ہوں، یا یہ کہا کہ میں اسلام لے آیا ہوں، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے (آپ نے کوئی جواب نہیں دیا) تو اس نے پکارا: اے محمد! اے محمد! عمران کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور نرم مزاج تھے، اس کے پاس لوٹ آئے، اور پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ پہلے کہتے جب تم اپنے معاملے کے مختار تھے تو تم بالکل بچ جاتے اس نے کہا: اے محمد! میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: یہی تمہارا مقصد ہے یا: یہی اس کا مقصد ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ دو آدمیوں کے بدلے فدیہ میں دے دیا گیا ۲؎ اور عضباء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لیے روک لیا (یعنی واپس نہیں کیا)۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور عضباء کو پکڑ لے گئے، تو جب اسے لے گئے اور ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ لے گئے، جب رات ہوتی تو وہ لوگ اپنے اونٹوں کو اپنے کھلے میدانوں میں سستانے کے لیے چھوڑ دیتے، ایک رات وہ سب سو گئے، تو عورت (نکل بھاگنے کے ارادہ) سے اٹھی تو وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا یہاں تک کہ وہ عضباء کے پاس آئی، وہ ایک سیدھی سادی سواری میں مشاق اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہو گئی اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے اسے بچا دیا تو وہ اسے ضرور قربان کر دے گی۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی حیثیت سے پہچان لی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی، آپ نے اسے بلوایا، چنانچہ اسے بلا کر لایا گیا، اس نے اپنی نذر کے متعلق بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا برا ہے جو تم نے اسے بدلہ دینا چاہا، اللہ نے اسے اس کی وجہ سے نجات دی ہے تو وہ اسے نحر کر دے، اللہ کی معصیت میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور نہ ہی نذر اس مال میں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عورت ابوذر کی بیوی تھیں۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ ، وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ ، قَالَ : فَأُسِرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَثَاقٍ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، عَلَامَ تَأْخُذُنِي وَتَأْخُذُ سَابِقَةَ الْحَاجِّ ؟ ، قَالَ : نَأْخُذُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفَ ، قَالَ : وَكَانَ ثَقِيفُ قَدْ أَسَرُوا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَقَدْ قَالَ فِيمَا قَالَ : وَأَنَا مُسْلِمٌ ، أَوْ قَالَ : وَقَدْ أَسْلَمْتُ ، فَلَمَّا مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : فَهِمْتُ هَذَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى ، نَادَاهُ : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا ، رَفِيقًا ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، قَالَ : لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ ، أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي ، إِنِّي ظَمْآنٌ فَاسْقِنِي ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ حَاجَتُكَ ، أَوْ قَالَ : هَذِهِ حَاجَتُهُ ، قَالَ : فَفُودِيَ الرَّجُلُ بَعْدُ بِالرَّجُلَيْنِ ، قَالَ : وَحَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءَ لِرَحْلِهِ ، قَالَ : فَأَغَارَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ ، فَذَهَبُوا بِالْعَضْبَاءِ ، قَالَ : فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهَا ، وَأَسَرُوا امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : فَكَانُوا إِذَا كَانَ اللَّيْلُ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ فِي أَفْنِيَتِهِمْ ، قَالَ : فَنُوِّمُوا لَيْلَةً ، وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ ، فَجَعَلَتْ لَا تَضَعُ يَدَهَا عَلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا ، حَتَّى أَتَتْ عَلَى الْعَضْبَاءِ ، قَالَ : فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ ، قَالَ : فَرَكِبَتْهَا ، ثُمَّ جَعَلَتْ لِلَّهِ عَلَيْهَا إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ لَتَنْحَرَنَّهَا ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ عُرِفَتِ النَّاقَةُ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَجِيءَ بِهَا ، وَأُخْبِرَ بِنَذْرِهَا ، فَقَالَ : بِئْسَ مَا جَزَيْتِيهَا أَوْ جَزَتْهَا ، إِنِ اللَّهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا ، لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَالْمَرْأَةُ هَذِهِ امْرَأَةُ أَبِي ذَرٍّ .

English Translation

Imran bin Husain said: Adba belonged to a man of Banu Aqil. It used to go ahead of pligrims. The man was then captivated. He was brought in chains to the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ was riding on a donkey with a blanket on him. He said: Muhammad, why do you arrest me and capture the one (i. e. the she-camel) which goes ahead of the pilgrims. He replied: We are arresting you on account of the crime committed by your allies Thaqid. Thaqif captivated two persons from among the Companions of the Prophet ﷺ. He said (whatever he said) I am a Muslim, or he said: I have embraced Islam. When the Prophet ﷺ went ahead, he called him: O Muhammed, O Muhammed. Abu Dawud said: I learnt it from the version of the narrator Muhammad bin 'Isa. The Prophet ﷺ was compassionate and kind hearted. So he returned to him, and asked: What is the matter with you ? He replied: I am a Muslim. He said: Had you said it when the matter was in your hand, you would have succeeded completely. Abu Dawud said: I then returned to the version of the narrator Sulaiman (b. Harb). He said: Muhammad, I am hungry, so feed me. I am thirsty, so give me water. The Prophet ﷺ said: This is your need, or he said: This is his need (the narrator is doubtful). Later on the man was taken back (by Thaqif) as a ransom for the two men (of the Companions of the Prophet). The Prophet ﷺ retained Adba for his journey. The narrator said: The polytheists raided the pasturing animals of Madina and they took away Adba. When they took away Adba, they also captivated a Muslim woman. They used to leave their camels in the fields for rest at night. One night they slept and the (Muslim) woman stood up. Any camel on which she put her hand brayed until she came to Adba. She came to a she-camel which was docile and experienced. She then rode on her and vowed to Allah that if He saved her, she would sacrifice it. When she came to Madina, the people recognized the she-camel of the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ was then informed about it and he sent for her. She was brought to him and she informed him about her vow. He said: It is a bad return that you have given it. Allah has not saved you, on its (back) that you now sacrifice it. A vow to do an act of disobedience must not be fulfilled, or to do something over which one has no control. Abu Dawud said: This woman was the wife of Abu Dharr.

Your Comments/Thoughts ?

قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل سے مزید احادیث

حدیث نمبر 3317

´کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہو کر اسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3316

´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عضباء ۱؎ بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی، حاجیوں کی سواریوں میں آگے چلنے والی تھی، وہ شخص گرفتار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھا ہوا لایا گیا، اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3315

´میمونہ اپنے والد کردم بن سفیان سے` اسی جیسی لیکن اس سے قدرے اختصار کے ساتھ روایت کرتی ہیں آپ نے پوچھا: کیا وہاں کوئی بت ہے یا جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: یہ میری والدہ ہیں ان کے ذمہ نذر ہے، اور پیدل حج کرنا ہے، کیا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3270

´عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہمارے یہاں ہمارے کچھ مہمان آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بات چیت کیا کرتے تھے (جاتے وقت) کہہ گئے کہ میں واپس نہیں آ سکوں گا یہاں تک کہ تم اپنے مہمانوں کو کھلا پلا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3269

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے` لیکن اس میں انہوں نے قسم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (تعبیر کی غلطی) نہیں بتائی ۱؎مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3314

´میمونہ بنت کردم کہتی ہیں کہ` میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے آپ پر اپنی نظریں گاڑ دیں، میرے والد آپ صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3259

´یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے روٹی کے ٹکڑے پر کھجور رکھا اور کہا یہ اس کا سالن ہے ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3268

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3271

´اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اور اس میں مزید یہ ہے کہ` سالم نے اپنی حدیث میں کہا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس قسم کا کفارہ دیا ہو (کیونکہ یہ قسم لغو ہے)۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3275

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے مدعی سے گواہ طلب کیا، اس کے پاس گواہ نہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کھانے کے لیے کہا، اس نے اس اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3254

´عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں (تکیہ کلام کے طور پر) «كلا والله وبلى والله» مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3298

´عکرمہ سے روایت ہے کہ` عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن، آگے وہی باتیں ہیں جو ہشام کی حدیث میں ہے لیکن اس میں ہدی کا ذکر نہیں ہے نیز اس میں ہے: «مر أختك فلتركب» اپنی بہن کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد نے عکرمہ سے ہشام ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3287

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نذر سے منع فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ نذر تقدیر کے فیصلے کو کچھ بھی نہیں ٹالتی سوائے اس کے کہ اس سے بخیل (کی جیب) سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ مسدد کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3299

´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ کر آؤں (کہ میں کیا کروں) تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3267

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دلائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم مت دلاؤ۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3250

´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے) سنا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث: «بآبائكم» تک بیان کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3282

´معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تھپڑ کو عظیم جانا، تو میں نے عرض کیا: میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3245

´وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: واہ یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3252

´مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ` طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سنا (یعنی اعرابی کے واقعہ میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس کے باپ کی، وہ کامیاب ہو گیا اگر وہ سچا ہے، قسم ہے اس کے باپ کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اگر وہ سچا ہےمکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3266

´عاصم بن لقیط کہتے ہیں کہ` لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد لے کر گئے، لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ..مکمل حدیث پڑھیئے