Hadith no 2382 Of Sunan At Tirmidhi Chapter Zehed, Wara, Taqwa Aur Perhaiz Gaari (Abstinence)
Read Sunan At Tirmidhi Hadith No 2382 - Hadith No 2382 is from Abstinence , Zehed, Wara, Taqwa Aur Perhaiz Gaari Chapter in the Sunan At Tirmidhi Hadees Book, which is written by Imam Tirmidhi. Hadith # 2382 of Imam Tirmidhi covers the topic of Abstinence briefly in Sunan At Tirmidhi. You can read Hadith No 2382 from Abstinence in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ترمذی - حدیث نمبر 2382
| Hadith No | 2382 |
|---|---|
| Book Name | Sunan At Tirmidhi |
| Book Writer | Imam Tirmidhi |
| Writer Death | 256 ھ |
| Chapter Name | Abstinence |
| Roman Name | Zehed, Wara, Taqwa Aur Perhaiz Gaari |
| Arabic Name | الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم |
| Urdu Name | زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری |
Urdu Translation
´عقبہ بن مسلم سے شفیا اصبحی نے بیان کیا کہ` ایک مرتبہ وہ مدینہ میں داخل ہوئے، اچانک ایک آدمی کو دیکھا جس کے پاس کچھ لوگ جمع تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے جواباً عرض کیا: یہ ابوہریرہ رضی الله عنہ ہیں، شفیا اصبحی کا بیان ہے کہ میں ان کے قریب ہوا یہاں تک کہ ان کے سامنے بیٹھ گیا اور وہ لوگوں سے حدیث بیان کر رہے تھے، جب وہ حدیث بیان کر چکے اور تنہا رہ گئے تو میں نے ان سے کہا: میں آپ سے اللہ کا باربار واسطہ دے کر پوچھ رہا ہوں کہ آپ مجھ سے ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو اور اسے اچھی طرح جانا اور سمجھا ہو۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے، یقیناً میں تم سے ایسی حدیث بیان کروں گا جسے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے اور میں نے اسے اچھی طرح جانا اور سمجھا ہے۔ پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے، تھوڑی دیر بعد جب افاقہ ہوا تو فرمایا: یقیناً میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اسی گھر میں بیان کیا تھا جہاں میرے سوا کوئی نہیں تھا، پھر دوبارہ ابوہریرہ نے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے، پھر جب افاقہ ہوا تو اپنے چہرے کو پونچھا اور فرمایا: ضرور میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا ہے اور اس گھر میں میرے اور آپ کے سوا کوئی نہیں تھا، پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے، اپنے چہرے کو پونچھا اور پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا: ضرور میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا ہے اور اس گھر میں میرے اور آپ کے سوا کوئی نہیں تھا، پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہو کر منہ کے بل زمین پر گر پڑے، میں نے بڑی دیر تک انہیں اپنا سہارا دیئے رکھا پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے: ”قیامت کے دن جب ہر امت گھٹنوں کے بل پڑی ہو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کے لیے نزول فرمائے گا، پھر اس وقت فیصلہ کے لیے سب سے پہلے ایسے شخص کو بلایا جائے گا جو قرآن کا حافظ ہو گا، دوسرا شہید ہو گا اور تیسرا مالدار ہو گا، اللہ تعالیٰ حافظ قرآن سے کہے گا: کیا میں نے تجھے اپنے رسول پر نازل کردہ کتاب کی تعلیم نہیں دی تھی؟ وہ کہے گا: یقیناً اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو علم تجھے سکھایا گیا اس کے مطابق تو نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں اس قرآن کے ذریعے راتوں دن تیری عبادت کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے بھی اس سے کہیں گے کہ تو نے جھوٹ کہا، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: (قرآن سیکھنے سے) تیرا مقصد یہ تھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں، سو تجھے کہا گیا، پھر صاحب مال کو پیش کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: کیا میں نے تجھے ہر چیز کی وسعت نہ دے رکھی تھی، یہاں تک کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں رکھا؟ وہ عرض کرے گا: یقیناً میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھے جو چیزیں دی تھیں اس میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ و خیرات کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے بھی اسے جھٹلائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں سخی کہا جائے، سو تمہیں سخی کہا گیا، اس کے بعد شہید کو پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تجھے کس لیے قتل کیا گیا؟ وہ عرض کرے گا: مجھے تیری راہ میں جہاد کا حکم دیا گیا چنانچہ میں نے جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: تو نے جھوٹ کہا، فرشتے بھی اسے جھٹلائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرا مقصد یہ تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے سو تجھے کہا گیا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے زانو پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا: ابوہریرہ! یہی وہ پہلے تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی“۔
ولید ابوعثمان کہتے ہیں: عقبہ بن مسلم نے مجھے خبر دی کہ شفیا اصبحی ہی نے معاویہ رضی الله عنہ کے پاس جا کر انہیں اس حدیث سے باخبر کیا تھا۔ ابوعثمان کہتے ہیں: علاء بن ابی حکیم نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ معاویہ رضی الله عنہ کے جلاد تھے، پھر معاویہ کے پاس ایک آدمی پہنچا اور ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے اس حدیث سے انہیں باخبر کیا تو معاویہ نے کہا: ان تینوں کے ساتھ ایسا معاملہ ہوا تو باقی لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا، یہ کہہ کر معاویہ زار و قطار رونے لگے یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ وہ زندہ نہیں بچیں گے، اور ہم لوگوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ یہ شخص شر لے کر آیا ہے، پھر جب معاویہ رضی الله عنہ کو افاقہ ہوا تو انہوں نے اپنے چہرے کو صاف کیا اور فرمایا: ”یقیناً اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے اور اس آیت کریمہ کی تلاوت کی «من كان يريد الحياة الدنيا وزينتها نوف إليهم أعمالهم فيها وهم فيها لا يبخسون أولئك الذين ليس لهم في الآخرة إلا النار وحبط ما صنعوا فيها وباطل ما كانوا يعملون» ”جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت کو چاہے گا تو ہم دنیا ہی میں اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دیں گے اور کوئی کمی نہیں کریں گے، یہ وہی لوگ ہیں جن کا آخرت میں جہنم کے علاوہ اور کوئی حصہ نہیں ہے اور دنیا کے اندر ہی ان کے سارے اعمال ضائع اور باطل ہو گئے“ (سورۃ ہود: ۱۶)۔
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ أَبُو عُثْمَانَ الْمَدَائِنِيُّ , أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ شُفَيًّا الْأَصْبَحِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ ، فَلَمَّا سَكَتَ وَخَلَا قُلْتُ لَهُ : أَنْشُدُكَ بِحَقٍّ وَبِحَقٍّ لَمَا حَدَّثْتَنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتَهُ وَعَلِمْتَهُ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَفْعَلُ لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتُهُ وَعَلِمْتُهُ ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً فَمَكَثَ قَلِيلًا ، ثُمَّ أَفَاقَ , فَقَالَ : لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى ، ثُمَّ أَفَاقَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ , فَقَالَ : لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى ، ثُمَّ أَفَاقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ , فَقَالَ : أَفْعَلُ لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً شَدِيدَةً ، ثُمَّ مَالَ خَارًّا عَلَى وَجْهِهِ فَأَسْنَدْتُهُ عَلَيَّ طَوِيلًا ، ثُمَّ أَفَاقَ , فَقَالَ : " حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَنْزِلُ إِلَى الْعِبَادِ لِيَقْضِيَ بَيْنَهُمْ وَكُلُّ أُمَّةٍ جَاثِيَةٌ فَأَوَّلُ مَنْ يَدْعُو بِهِ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ ، وَرَجُلٌ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِلْقَارِئِ : أَلَمْ أُعَلِّمْكَ مَا أَنْزَلْتُ عَلَى رَسُولِي ؟ قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، قَالَ : فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عُلِّمْتَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : كَذَبْتَ ، وَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ : كَذَبْتَ ، وَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ : إِنَّ فُلَانًا قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْمَالِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ حَتَّى لَمْ أَدَعْكَ تَحْتَاجُ إِلَى أَحَدٍ ؟ قَالَ : بَلَى يَا رَبِّ ، قَالَ : فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَصِلُ الرَّحِمَ وَأَتَصَدَّقُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : كَذَبْتَ ، وَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ : كَذَبْتَ ، وَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ : فُلَانٌ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ ، وَيُؤْتَى بِالَّذِي قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ : فِي مَاذَا قُتِلْتَ ؟ فَيَقُولُ : أُمِرْتُ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِكَ فَقَاتَلْتُ حَتَّى قُتِلْتُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ : كَذَبْتَ ، وَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ : كَذَبْتَ ، وَيَقُولُ اللَّهُ : بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ : فُلَانٌ جَرِيءٌ ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ ، ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتِي ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أُولَئِكَ الثَّلَاثَةُ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تُسَعَّرُ بِهِمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , وَقَالَ الْوَلِيدُ أَبُو عُثْمَانَ : فَأَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّ شُفَيًّا هُوَ الَّذِي دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَخْبَرَهُ بِهَذَا ، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ ، وَحَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّهُ كَانَ سَيَّافًا لِمُعَاوِيَةَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ بِهَذَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : قَدْ فُعِلَ بِهَؤُلَاءِ هَذَا ، فَكَيْفَ بِمَنْ بَقِيَ مِنَ النَّاسِ ثُمَّ بَكَى مُعَاوِيَةُ بُكَاءً شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ هَالِكٌ ، وَقُلْنَا : قَدْ جَاءَنَا هَذَا الرَّجُلُ بِشَرٍّ ، ثُمَّ أَفَاقَ مُعَاوِيَةُ وَمَسَحَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لا يُبْخَسُونَ { 15 } أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ { 16 } سورة هود آية 15-16 , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
- Previous Hadith
- Hadith No. 2382 of 3954
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری سے مزید احادیث
حدیث نمبر 2333
´اس سند سے بھی` ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2413
´ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابو الدرداء کے مابین بھائی چارہ کروایا تو ایک دن سلمان نے ابوالدرداء رضی الله عنہ کی زیارت کی، دیکھا کہ ان کی بیوی ام الدرداء معمولی کپڑے میں ملبوس ہیں، چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ تمہاری اس حالت کی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2332
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت نہیں قائم ہو گی یہاں تک کہ زمانہ قریب ہو جائے گا ۱؎ سال ایک مہینہ کے برابر ہو جائے گا جب کہ ایک مہینہ ایک ہفتہ کے برابر اور ایک ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2398
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”انبیاء و رسل پر، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2355
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے“۔
یہ حدیث حسن ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2331
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اکثر لوگوں کی عمر ساٹھ سے ستر سال تک کے درمیان ہو گی“۔
۱- ابوصالح کی یہ حدیث جسے وہ ابوہریرہ رضی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2342
´عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ «ألهاكم التكاثر» کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے جو تم نے صدقہ کر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2341
´عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی چیزوں میں سے ابن آدم کا حق سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کے لیے ایک گھر ہو جس میں وہ زندگی بسر کر سکے اور اتنا کپڑا ہو جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپ سکے، اور روٹی اور پانی کے لیے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2366
´سعد بن مالک (ابی وقاص) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں عرب کا پہلا شخص ہوں جس نے راہ خدا میں تیر پھینکا، اور ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے وقت دیکھا ہے کہ ہمارے پاس خاردار درختوں کے پھل اور کیکر کے درخت کے علاوہ کھانے کے لیے کچھ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2323
´مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی مثال آخرت کے سامنے ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی سمندر کا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے“ مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2318
´علی بن حسین (زین العابدین) کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو چھوڑ دے جو اس سے غیر متعلق ہوں“۔
۱- زہری ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2330
´ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو“، اس آدمی نے پھر پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بدتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2345
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے، ان میں ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا تھا اور دوسرا محنت و مزدوری کرتا تھا، محنت و مزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2354
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے آدھا دن پہلے داخل ہوں گے اور یہ آدھا دن پانچ سو برس کے برابر ہے“۔
یہ حدیث حسن صحیح ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2340
´ابوذر غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے اور مال کو برباد کر دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2406
´عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو“ ۱؎۔
یہ حدیث حسن ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2401
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے جس کی پیاری آنکھیں چھین لیں اور اس نے اس پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو میں اسے جنت کے سوا اور کوئی بدلہ نہیں دوں گا“۔
حدیث نمبر 2368
´فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو صف میں کھڑے بہت سے لوگ بھوک کی شدت کی وجہ سے گر پڑتے تھے، یہ لوگ اصحاب صفہ تھے، یہاں تک کہ اعراب (دیہاتی لوگ) کہتے کہ یہ سب پاگل اور مجنون ہیں، پھر رسول اللہ مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2338
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان رہتا ہے: لمبی زندگی کی محبت، دوسرے مال کی محبت“ ۱؎۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 2327
´ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ` معاویہ رضی الله عنہ ابوہاشم بن عتبہ بن ربیعہ القرشی کی بیماری کے وقت ان کی عیادت کے لیے آئے اور کہا: اے ماموں جان! کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے؟ کسی درد سے آپ بے چین ہیں یا دنیا کی حرص ستا رہی ہے، ابوہاشم نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، البتہ رسول اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے