Hadith no 3036 Of Sunan At Tirmidhi Chapter Tafseer E Quran Kareem (Interpretation of Quran)

Read Sunan At Tirmidhi Hadith No 3036 - Hadith No 3036 is from Interpretation Of Quran , Tafseer E Quran Kareem Chapter in the Sunan At Tirmidhi Hadees Book, which is written by Imam Tirmidhi. Hadith # 3036 of Imam Tirmidhi covers the topic of Interpretation Of Quran briefly in Sunan At Tirmidhi. You can read Hadith No 3036 from Interpretation Of Quran in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

سنن ترمذی - حدیث نمبر 3036

Hadith No 3036
Book Name Sunan At Tirmidhi
Book Writer Imam Tirmidhi
Writer Death 256 ھ
Chapter Name Interpretation Of Quran
Roman Name Tafseer E Quran Kareem
Arabic Name تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Urdu Name تفسیر قرآن کریم

Urdu Translation

´قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` (انصار) میں سے ایک خاندان ایسا تھا، جنہیں بنو ابیرق کہا جاتا تھا۔ اور وہ تین بھائی تھے، بشر، بشیر اور مبشر، بشیر منافق تھا، شعر کہتا تھا اور صحابہ کی ہجو کرتا تھا، پھر ان کو بعض عرب کی طرف منسوب کر کے کہتا تھا: فلان نے ایسا ایسا کہا، اور فلاں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ صحابہ نے یہ شعر سنا تو کہا: اللہ کی قسم! یہ کسی اور کے نہیں بلکہ اسی خبیث کے کہے ہوئے ہیں - یا جیسا کہ راوی نے «خبیث» کی جگہ «الرجل» کہا - انہوں (یعنی صحابہ) نے کہا: یہ اشعار ابن ابیرق کے کہے ہوئے ہیں، وہ لوگ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں ہی میں محتاج اور فاقہ زدہ لوگ تھے، مدینہ میں لوگوں کا کھانا کھجور اور جو ہی تھا، جب کسی شخص کے یہاں مالداری و کشادگی ہو جاتی اور کوئی غلوں کا تاجر شام سے سفید آٹا (میدہ) لے کر آتا تو وہ مالدار شخص اس میں سے کچھ خرید لیتا اور اسے اپنے کھانے کے لیے مخصوص کر لیتا، اور بال بچے کھجور اور جو ہی کھاتے رہتے۔ (ایک بار ایسا ہوا) ایک مال بردار شتربان شام سے آیا تو میرے چچا رفاعہ بن زید نے میدے کی ایک بوری خرید لی اور اسے اپنے اسٹاک روم میں رکھ دی، اور اس اسٹور روم میں ہتھیار، زرہ اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی۔ ان پر ظلم و زیادتی یہ ہوئی کہ گھر کے نیچے سے اس اسٹاک روم میں نقب لگائی گئی اور راشن اور ہتھیار سب کا سب چرا لیا گیا، صبح کے وقت میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہا: میرے بھتیجے آج کی رات تو مجھ پر بڑی زیادتی کی گئی۔ میرے اسٹور روم میں نقب لگائی گئی ہے اور ہمارا راشن اور ہمارا ہتھیار سب کچھ چرا لیا گیا ہے۔ ہم نے محلے میں پتہ لگانے کی کوشش کی اور لوگوں سے پوچھ تاچھ کی تو ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنی ابیرق کو آج رات دیکھا ہے، انہوں نے آگ جلا رکھی تھی، اور ہمارا خیال ہے کہ تمہارے ہی کھانے پر (جشن) منا رہے ہوں گے۔ (یعنی چوری کا مال پکا رہے ہوں گے) جب ہم محلے میں پوچھ تاچھ کر رہے تھے تو ابوابیرق نے کہا: قسم اللہ کی! ہمیں تو تمہارا چور لبید بن سہل ہی لگتا ہے، لبید ہم میں ایک صالح مرد اور مسلمان شخص تھے، جب لبید نے سنا کہ بنو ابیرق اس پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی، اور کہا میں چور ہوں؟ قسم اللہ کی! میری یہ تلوار تمہارے بیچ رہے گی یا پھر تم اس چوری کا پتہ لگا کر دو۔ لوگوں نے کہا: جناب! آپ اپنی تلوار ہم سے دور ہی رکھیں، آپ چور نہیں ہو سکتے، ہم نے محلے میں مزید پوچھ تاچھ کی، تو ہمیں اس میں شک نہیں رہ گیا کہ بنو ابیرق ہی چور ہیں۔ میرے چچا نے کہا: بھتیجے! اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے اور آپ سے اس (حادثے) کا ذکر کرتے (تو ہو سکتا ہے میرا مال مجھے مل جاتا) قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: ہمارے ہی لوگوں میں سے ایک گھر والے نے ظلم و زیادتی کی ہے۔ انہوں نے ہمارے چچا رفاعہ بن زید (کے گھر) کا رخ کیا ہے اور ان کے اسٹور روم میں نقب لگا کر ان کا ہتھیار اور ان کا راشن (کھانا) چرا لے گئے ہیں، تو ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ہتھیار ہمیں واپس دے دیں۔ راشن (غلے) کی واپسی کا ہم مطالبہ نہیں کرتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بارے میں مشورہ (اور پوچھ تاچھ) کے بعد ہی کوئی فیصلہ دوں گا“۔ جب یہ بات بنو ابیرق نے سنی تو وہ اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس آئے، اس شخص کو اسیر بن عروہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس معاملے میں بات چیت کی اور محلے کے کچھ لوگ بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ ایک رائے ہو گئے۔ اور ان سب نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر) کہا: اللہ کے رسول! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا دونوں ہم ہی لوگوں میں سے ایک گھر والوں پر جو مسلمان ہیں اور بھلے لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی ثبوت کے چوری کا الزام لگاتے ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «ومن يكسب إثما فإنما يكسبه على نفسه» إلی قولہ «إثما مبينا» ۳؎ اس سے اشارہ نبی ابیرق کی اس بات کی طرف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ چوری لبید بن سہل نے کی ہے۔ اور آگے اللہ نے فرمایا: «ولولا فضل الله عليك ورحمته» سے «فسوف نؤتيه أجرا عظيما» ۴؎ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو وہ (بنی ابیرق) ہتھیار رسول اللہ کے پاس لے آئے۔ اور آپ نے رفاعہ کو لوٹا دیئے، قتادہ کہتے ہیں: میرے چچا بوڑھے تھے اور اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت ہی میں ان کی نگاہیں کمزور ہو چکی تھیں، اور میں سمجھتا تھا کہ ان کے ایمان میں کچھ خلل ہے لیکن جب میں ہتھیار لے کر اپنے چچا کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ میں دیتا ہوں، اس وقت میں نے جان لیا (اور یقین کر لیا) کہ چچا کا اسلام پختہ اور درست تھا (اور ہے) جب قرآن کی آیتیں نازل ہوئی تو بشیر مشرکوں میں جا شامل ہوا۔ اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے پاس جا ٹھہرا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء ومن يشرك بالله فقد ضل ضلالا بعيدا» نازل فرمائی ۵؎ جب وہ سلافہ کے پاس جا کر ٹھہرا تو حسان بن ثابت رضی الله عنہ نے اپنے چند اشعار کے ذریعہ اس کی ہجو کی، (یہ سن کر) اس نے سدافہ بنت سعد کا سامان اپنے سر پر رکھ کر گھر سے نکلی اور میدان میں پھینک آئی۔ پھر (اس سے) کہا: تم نے ہمیں حسان کے شعر کا تحفہ دیا ہے؟ تم سے مجھے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم محمد بن سلمہ حرانی کے سوا کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو،
۲- یونس بن بکیر اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو محمد بن اسحاق سے اور محمد بن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے،
۳- قتادہ بن نعمان، ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے اخیافی بھائی ہیں،
۴- ابو سعید خدری سعد بن مالک بن سنان ہیں۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ أَبُو مُسْلِمٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ : " كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَّا يُقَالُ لَهُمْ بَنُو أُبَيْرِقٍ بِشْرٌ ، وَبُشَيْرٌ ، وَمُبَشِّرٌ ، وَكَانَ بُشَيْرٌ رَجُلًا مُنَافِقًا يَقُولُ : الشِّعْرَ يَهْجُو بِهِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَنْحَلُهُ بَعْضَ الْعَرَبِ ، ثُمَّ يَقُولُ : قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا ، فَإِذَا سَمِعَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الشِّعْرَ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا يَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ إِلَّا هَذَا الْخَبِيثُ أَوْ كَمَا قَالَ الرَّجُلُ ، وَقَالُوا : ابْنُ الْأُبَيْرِقِ قَالَهَا ، قَالَ : وَكَانُوا أَهْلَ بَيْتِ حَاجَةٍ وَفَاقَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ ، وَكَانَ النَّاسُ إِنَّمَا طَعَامُهُمْ بِالْمَدِينَةِ التَّمْرُ وَالشَّعِيرُ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ لَهُ يَسَارٌ فَقَدِمَتْ ضَافِطَةٌ مِنَ الشَّامِ ، مِنَ الدَّرْمَكِ ، ابْتَاعَ الرَّجُلُ مِنْهَا فَخَصَّ بِهَا نَفْسَهُ ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِنَّمَا طَعَامُهُمُ التَّمْرُ وَالشَّعِيرُ ، فَقَدِمَتْ ضَافِطَةٌ مِنَ الشَّامِ فَابْتَاعَ عَمِّي رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ حِمْلًا مِنَ الدَّرْمَكِ ، فَجَعَلَهُ فِي مَشْرَبَةٍ لَهُ ، وَفِي الْمَشْرَبَةِ سِلَاحٌ وَدِرْعٌ وَسَيْفٌ ، فَعُدِيَ عَلَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْبَيْتِ فَنُقِبَتِ الْمَشْرَبَةُ وَأُخِذَ الطَّعَامُ وَالسِّلَاحُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَانِي عَمِّي رِفَاعَةُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنَّهُ قَدْ عُدِيَ عَلَيْنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ فَنُقِبَتْ مَشْرَبَتُنَا فَذُهِبَ بِطَعَامِنَا وَسِلَاحِنَا ، قَالَ : فَتَحَسَّسْنَا فِي الدَّارِ وَسَأَلْنَا ، فَقِيلَ لَنَا : قَدْ رَأَيْنَا بَنِي أُبَيْرِقٍ اسْتَوْقَدُوا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ ، وَلَا نَرَى فِيمَا نَرَى إِلَّا عَلَى بَعْضِ طَعَامِكُمْ ، قَالَ : وَكَانَ بَنُو أُبَيْرِقٍ ، قَالُوا : وَنَحْنُ نَسْأَلُ فِي الدَّارِ وَاللَّهِ مَا نُرَى صَاحِبَكُمْ إِلَّا لَبِيدَ بْنَ سَهْلٍ رَجُلٌ مِنَّا لَهُ صَلَاحٌ وَإِسْلَامٌ ، فَلَمَّا سَمِعَ لَبِيدٌ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ ، وَقَالَ : أَنَا أَسْرِقُ ! فَوَاللَّهِ لَيُخَالِطَنَّكُمْ هَذَا السَّيْفُ أَوْ لَتُبَيِّنُنَّ هَذِهِ السَّرِقَةَ ، قَالُوا : إِلَيْكَ عَنْهَا أَيُّهَا الرَّجُلُ فَمَا أَنْتَ بِصَاحِبِهَا ، فَسَأَلْنَا فِي الدَّارِ حَتَّى لَمْ نَشُكَّ أَنَّهُمْ أَصْحَابُهَا ، فَقَالَ لِي عَمِّي : يَا ابْنَ أَخِي ، لَوْ أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتَ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ قَتَادَةُ : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلَ جَفَاءٍ عَمَدُوا إِلَى عَمِّي رِفَاعَةَ بْنِ زَيْدٍ فَنَقَبُوا مَشْرَبَةً لَهُ وَأَخَذُوا سِلَاحَهُ وَطَعَامَهُ فَلْيَرُدُّوا عَلَيْنَا سِلَاحَنَا فَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَآمُرُ فِي ذَلِكَ ، فَلَمَّا سَمِعَ بَنُو أُبَيْرِقٍ أَتَوْا رَجُلًا مِنْهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : أَسَيْرُ بْنُ عُرْوَةَ فَكَلَّمُوهُ فِي ذَلِكَ ، فَاجْتَمَعَ فِي ذَلِكَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ وَعَمَّهُ عَمَدَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلِ إِسْلَامٍ وَصَلَاحٍ يَرْمُونَهُمْ بِالسَّرِقَةِ مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ وَلَا ثَبَتٍ ، قَالَ قَتَادَةُ : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ : عَمَدْتَ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ ذُكِرَ مِنْهُمْ إِسْلَامٌ وَصَلَاحٌ تَرْمِهِمْ بِالسَّرِقَةِ عَلَى غَيْرِ ثَبَتٍ وَلَا بَيِّنَةٍ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ وَلَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ بَعْضِ مَالِي وَلَمْ أُكَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَأَتَانِي عَمِّي رِفَاعَةُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَا صَنَعْتَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ نَزَلَ الْقُرْآنُ إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا سورة النساء آية 105 بَنِي أُبَيْرِقٍ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ سورة النساء آية 106 أَيْ مِمَّا قُلْتَ لِقَتَادَةَ : إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا { 106 } وَلا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا { 107 } يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورًا رَحِيمًا سورة النساء آية 106 ـ 110 أَيْ لَوِ اسْتَغْفَرُوا اللَّهَ لَغَفَرَ لَهُمْ وَمَنْ يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ إِلَى قَوْلِهِ وَإِثْمًا مُبِينًا سورة النساء آية 111 قَوْلَهُ لِلَبِيدٍ وَلَوْلا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ إِلَى قَوْلِهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 113 ـ 114 ، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّلَاحِ فَرَدَّهُ إِلَى رِفَاعَةَ ، فَقَالَ قَتَادَةُ : لَمَّا أَتَيْتُ عَمِّي بِالسِّلَاحِ وَكَانَ شَيْخًا قَدْ عَشَا أَوْ عَسَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكُنْتُ أُرَى إِسْلَامُهُ مَدْخُولًا ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ بِالسِّلَاحِ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، هُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَعَرَفْتُ أَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ صَحِيحًا ، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ لَحِقَ بُشَيْرٌ بِالْمُشْرِكِينَ فَنَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ بِنْتِ سَعْدِ ابْنِ سُمَيَّةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا { 115 } إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا بَعِيدًا { 116 } سورة النساء آية 115-116 فَلَمَّا نَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ رَمَاهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ بِأَبْيَاتٍ مِنْ شِعْرِهِ ، فَأَخَذَتْ رَحْلَهُ فَوَضَعَتْهُ عَلَى رَأْسِهَا ، ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ فَرَمَتْ بِهِ فِي الْأَبْطَحِ ثُمَّ قَالَتْ : أَهْدَيْتَ لِي شِعْرَ حَسَّانَ مَا كُنْتَ تَأْتِينِي بِخَيْرٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيِّ ، وَرَوَى يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مُرْسَلٌ ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، وَقَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ هُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لِأُمِّهِ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ .

Your Comments/Thoughts ?

تفسیر قرآن کریم سے مزید احادیث

حدیث نمبر 3058

´ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ` میں نے ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کے پاس آ کر پوچھا: اس آیت کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: آیت یہ ہے: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» انہوں نے کہا: آگاہ رہو! قسم اللہ کی تم نے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3232

‏‏‏‏ اس سند سے سفیان ثوری نے اعمش سے اسی طرح روایت کی ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3083

´عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر آیت: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ”تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو“ (الانفال: ۶۰) پڑھی، اور فرمایا: ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3243

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اپنا رخ اسی کی طرف کئے ہوئے ہے، اسی کی طرف کان لگائے ہوئے ہے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3125

´عبدالعزیز بن محمد نے` علاء بن عبدالرحمٰن اور علاء نے اپنے باپ عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابوہریرہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابی کے پاس گئے، اس وقت وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (آگے) انہوں نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔

امام ترمذی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2959

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کاش ہم مقام (مقام ابراہیم) کے پیچھے نماز پڑھتے، تو آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”تم مقام ابراہیم کو جائے صلاۃ مقرر کر لو“ (البقرہ: ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2973

´کعب بن عجرہ سے اس سند سے بھی` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے بھی عبداللہ بن معقل سے اسی طرح روایت کیا ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3088

´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نحر (قربانی) کا دن ہے“ ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3312

´زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو اپنے ساتھیوں سے کہتے ہوئے سنا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، یہاں تک کہ وہ تتربتر ہو جائیں، اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت والا وہاں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3182

´اس سند سے بھی` ابووائل نے عمرو بن شرحبیل سے اور عمرو بن شرحبیل نے عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3120

´براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت (محکم بات) کے ذریعہ دنیا و آخرت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3023

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` اللہ کے رسول! میں عورتوں کی ہجرت کا ذکر کلام پاک میں نہیں سنتی، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أني لا أضيع عمل عامل منكم من ذكر أو أنثى بعضكم من بعض» ۱؎ نازل فرمائی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3193

‏‏‏‏ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3246

´ابوسعید اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکارنے والا پکار کر کہے گا: (جنت میں) تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں، تم صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہ ہو گے، کبھی محتاج و حاجت مند نہ ہو گے، اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3247

´نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» (غافر: 60) ۱؎۔

مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2988

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی پر شیطان کا اثر (وسوسہ) ہوتا ہے اور فرشتے کا بھی اثر (الہام) ہوتا ہے۔ شیطان کا اثر یہ ہے کہ انسان سے برائی کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کو جھٹلاتا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3263

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر» ”(اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے“ مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3099

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` دو آدمی اس مسجد کے بارے میں اختلاف کر بیٹھے جس کی تاسیس و تعمیر پہلے دن سے تقویٰ پر ہوئی ہے ۱؎ (کہ وہ کون سی ہے؟) ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے اور دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3235

´معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے (حجرہ سے) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3353

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ الزلزال کی) آیت «يومئذ تحدث أخبارها» ”اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی“ (الزلزال: ۴)، پڑھی، پھر آپ نے پوچھا: کیا ..مکمل حدیث پڑھیئے