Hadith no 3254 Of Sunan At Tirmidhi Chapter Tafseer E Quran Kareem (Interpretation of Quran)

Read Sunan At Tirmidhi Hadith No 3254 - Hadith No 3254 is from Interpretation Of Quran , Tafseer E Quran Kareem Chapter in the Sunan At Tirmidhi Hadees Book, which is written by Imam Tirmidhi. Hadith # 3254 of Imam Tirmidhi covers the topic of Interpretation Of Quran briefly in Sunan At Tirmidhi. You can read Hadith No 3254 from Interpretation Of Quran in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

سنن ترمذی - حدیث نمبر 3254

Hadith No 3254
Book Name Sunan At Tirmidhi
Book Writer Imam Tirmidhi
Writer Death 256 ھ
Chapter Name Interpretation Of Quran
Roman Name Tafseer E Quran Kareem
Arabic Name تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Urdu Name تفسیر قرآن کریم

Urdu Translation

´مسروق کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا: ایک قصہ گو (واعظ) قصہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا (قیامت کے قریب) زمین سے دھواں نکلے گا، جس سے کافروں کے کان بند ہو جائیں گے، اور مسلمانوں کو زکام ہو جائے گا۔ مسروق کہتے ہیں: یہ سن کر عبداللہ غصہ ہو گئے (پہلے) ٹیک لگائے ہوئے تھے، (سنبھل کر) بیٹھ گئے۔ پھر کہا: تم میں سے جب کسی سے کوئی چیز پوچھی جائے اور وہ اس کے بارے میں جانتا ہو تو اسے بتانی چاہیئے اور جب کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو اسے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر جانتا ہے“ کہنا چاہیئے، کیونکہ یہ آدمی کے علم و جانکاری ہی کی بات ہے کہ جب اس سے کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو وہ کہہ دے «اللہ اعلم» ”اللہ بہتر جانتا ہے“، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا: «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين» ”کہہ دو میں تم سے اس کام پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، اور میں خود سے باتیں بنانے والا بھی نہیں ہوں“ (ص: ۸۶)، (بات اس دخان کی یہ ہے کہ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو دیکھا کہ وہ نافرمانی ہی کیے جا رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! یوسف علیہ السلام کے سات سالہ قحط کی طرح ان پر سات سالہ قحط بھیج کر ہماری مدد کر“ (آپ کی دعا قبول ہو گئی)، ان پر قحط پڑ گیا، ہر چیز اس سے متاثر ہو گئی، لوگ چمڑے اور مردار کھانے لگے (اس حدیث کے دونوں راویوں اعمش و منصور میں سے ایک نے کہا ہڈیاں بھی کھانے لگے)، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: دھواں جیسی چیز زمین سے نکلنے لگی، تو ابوسفیان نے آپ کے پاس آ کر کہا: آپ کی قوم ہلاک و برباد ہو گئی، آپ ان کی خاطر اللہ سے دعا فرما دیجئیے عبداللہ نے کہا: یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «يوم تأتي السماء بدخان مبين يغشى الناس هذا عذاب أليم» ”جس دن آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا یہ (دھواں) لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ بڑا تکلیف دہ عذاب ہے“ (الدخان: ۱۰)، کا، منصور کہتے ہیں: یہی مفہوم ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «ربنا اكشف عنا العذاب إنا مؤمنون» ”اے ہمارے رب! ہم سے عذاب کو ٹال دے ہم ایمان لانے والے ہیں“ (الدخان: ۱۲)، کا، تو کیا آخرت کا عذاب ٹالا جا سکے گا؟۔ عبداللہ کہتے ہیں: «بطشہ»، «لزام» (بدر) اور دخان کا ذکرو زمانہ گزر گیا اعمش اور منصور دونوں راویوں میں سے، ایک نے کہا: «قمر» (چاند) کا شق ہونا گزر گیا، اور دوسرے نے کہا: روم کے مغلوب ہونے کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- «لزام» سے مراد یوم بدر ہے۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، سَمِعَا أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ : إِنَّ قَاصًّا يَقُصُّ ، يَقُولُ : إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ الدُّخَانُ فَيَأْخُذُ بِمَسَامِعِ الْكُفَّارِ ، وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنَ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ ، قَالَ : فَغَضِبَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ عَمَّا يَعْلَمُ فَلْيَقُلْ بِهِ ، قَالَ مَنْصُورٌ : فَلْيُخْبِرْ بِهِ ، وَإِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَإِنَّ مِنْ عِلْمِ الرَّجُلِ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ أَنْ يَقُولَ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ : قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86 ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى قُرَيْشًا اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ " ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ ، فَأَحْصَتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَقَالَ أَحَدُهُمَا : الْعِظَامَ ، قَالَ : وَجَعَلَ يَخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ ، قَالَ : فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ ، قَالَ : إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ ، قَالَ : فَهَذَا لِقَوْلِهِ : يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ { 10 } يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ { 11 } سورة الدخان آية 10-11 ، قَالَ مَنْصُورٌ : هَذَا لِقَوْلِهِ :رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ سورة الدخان آية 12 ، فَهَلْ يُكْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ ، قًالَ : مَضَى الْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَالدُّخَانُ ، وَقَالَ أَحَدُهُمَا : الْقَمَرُ ، وَقَالَ الْآخَرُ : الروم " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَاللِّزَامُ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ ، قَالَ : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .

Your Comments/Thoughts ?

تفسیر قرآن کریم سے مزید احادیث

حدیث نمبر 3038

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب آیت «من يعمل سوءا يجز به» ”جو کوئی برائی کرے گا ضرور اس کا بدلہ پائے گا“ (النساء: ۱۲۳)، نازل ہوئی تو یہ بات مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، اس کی شکایت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3258

´علقمہ کہتے ہیں کہ` میں نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے کہا: کیا جنوں والی رات میں آپ لوگوں میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، آپ مکہ میں تھے اس وقت کی بات ہے، ایک رات ہم نے آپ کو نائب پایا، ہم نے کہا: آپ کا اغوا کر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3220

´ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ سے بشیر بن سعد نے کہا: اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ تو ہم کیسے آپ پر صلاۃ (درود) بھیجیں، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3024

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء میں سے تلاوت کی، جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3070

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ صحیفہ دیکھے جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ہے تو اسے یہ آیات «قل تعالوا أتل ما حرم ربكم عليكم» سے «لعلكم تتقون» ۱؎ تک پڑھنی چاہیئے۔

..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3090

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ برأۃ ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ بھیجی ۱؎ پھر آپ نے انہیں بلا لیا، فرمایا: ”میرے خاندان کے کسی فرد کے سوا کسی اور کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جا کر یہ پیغام وہاں پہنچائے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3365

´ابولعالیہ (رفیع بن مہران) سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے (یعنی مشرکین کے) معبودوں کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ ہم سے اپنے رب کا نسب بیان کیجئے، آپ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس یہ سورۃ «قل هو الله ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3273

´ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ` قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس (دوران گفتگو) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3053

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب آیت «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم انہی میں سے ہو“ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3321

´عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد رازی سے روایت ہے کہ` ان کے باب عبداللہ نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو بخارا میں خچر پر سوار سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے دیکھا وہ کہتا تھا: یہ وہ عمامہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہنایا ہے ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3175

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ”جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں، جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں (کہ قبول ہو گا یا نہیں)مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3118

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ونفضل بعضها على بعض في الأكل» ”ہم بعض پھلوں کو بعض پر (لذت اور خوش ذائقگی میں) فضیلت دیتے ہیں“ (الرعد: ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3352

´مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «يا خير البرية» ! اے تمام مخلوق میں بہتر! آپ نے فرمایا: ”یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں“ ۱؎۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3193

‏‏‏‏ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3277

´شیبانی کہتے ہیں کہ` میں نے زر بن حبیش سے آیت: «فكان قاب قوسين أو أدنى» ”دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا“ (النجم: ۹)، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن مسعود رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3116

´فضل بن موسیٰ کی حدیث کی طرح ہی حدیث روایت ہے،` مگر (ان کی حدیث میں ذرا سا فرق یہ ہے کہ) انہوں نے کہا: «ما بعث الله بعده نبيا إلا في ثروة من قومه» (اس حدیث میں «ذر وہ» کی جگہ «ثروه» ہے، اور «ثروة» ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3181

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` جب میری صفائی و پاکدامنی کی آیت نازل ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا ذکر کیا، قرآن کی تلاوت کی، اور منبر سے اترنے کے بعد دو مردوں اور ایک عورت پر حد (قذف) جاری کرنے کا حکم فرمایا۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3026

´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کر دیں، اور اسی دوران نماز کا وقت آ گیا، تو لوگوں نے مجھے (امامت کے لیے) آگے بڑھا دیا، میں نے پڑھا مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3003

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون بہایا گیا، آپ کے دانت توڑ دیئے گئے، آپ کے کندھے پر پتھر مارا گیا، جس سے آپ کے چہرے پر خون بہنے لگا، آپ اسے پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے: ”وہ امت کیسے فلاح یاب ہو گی جس کا نبی انہیں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3360

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک نہر پیش کی گئی جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے تھے، میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے جو اللہ نے ..مکمل حدیث پڑھیئے