Hadith no 3305 Of Sunan At Tirmidhi Chapter Tafseer E Quran Kareem (Interpretation of Quran)

Read Sunan At Tirmidhi Hadith No 3305 - Hadith No 3305 is from Interpretation Of Quran , Tafseer E Quran Kareem Chapter in the Sunan At Tirmidhi Hadees Book, which is written by Imam Tirmidhi. Hadith # 3305 of Imam Tirmidhi covers the topic of Interpretation Of Quran briefly in Sunan At Tirmidhi. You can read Hadith No 3305 from Interpretation Of Quran in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.

سنن ترمذی - حدیث نمبر 3305

Hadith No 3305
Book Name Sunan At Tirmidhi
Book Writer Imam Tirmidhi
Writer Death 256 ھ
Chapter Name Interpretation Of Quran
Roman Name Tafseer E Quran Kareem
Arabic Name تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Urdu Name تفسیر قرآن کریم

Urdu Translation

´عبیداللہ بن ابورافع کہتے ہیں کہ` میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا، فرمایا: جاؤ، روضہ خاخ ۱؎ پر پہنچو وہاں ایک ھودج سوار عورت ہے، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ خط جا کر اس سے لے لو، اور میرے پاس لے آؤ، چنانچہ ہم نکل پڑے، ہمارے گھوڑے ہمیں لیے لیے دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کر رہے تھے، ہم روضہ پہنچے، ہمیں ہودج سوار عورت مل گئی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال، اس نے کہا: ہمارے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکالتی ہے یا پھر اپنے کپڑے اتارتی ہے؟ (یہ سن کر) اپنی چوٹی (جوڑے) سے اس نے خط نکالا، ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، وہ خط حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کی جانب سے تھا، مکہ کے کچھ مشرکین کے پاس بھیجا گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقدامات کی انہیں خبر دی گئی تھی، آپ نے فرمایا: ”حاطب! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے خلاف حکم فرمانے میں جلدی نہ کریں، میں ایک ایسا شخص تھا جو قریش کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا، لیکن (خاندانی طور پر) قریشی نہ تھا، باقی جو مہاجرین آپ کے ساتھ تھے ان کی وہاں رشتہ داریاں تھیں جس کی وجہ سے وہ رشتہ دار مکہ میں ان کے گھر والوں اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کرتے تھے، میں نے مناسب سمجھا کہ جب ہمارا ان سے کوئی خاندانی و نسبی تعلق نہیں ہے تو میں ان پر احسان کر کے کسی کا ہاتھ پکڑ لوں جس کی وجہ سے یہ اہل مکہ ہمارے گھر اور رشتہ داروں کی حفاظت و حمایت کریں، میں نے ایسا کفر اختیار کر لینے یا اپنے دین سے مرتد ہو جانے یا کفر کو پسند کر لینے کی وجہ سے نہیں کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حاطب نے سچ اور (صحیح) بات کہی ہے“، عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جنگ بدر میں موجود رہے ہیں، تمہیں معلوم نہیں، یقیناً اللہ نے بدر والوں کی حالت (یعنی ان کے جذبہ جاں فروشی) کو دیکھ کر کہہ دیا ہے: جو چاہو کرو ہم نے تمہارے گناہ بخش دیئے ہیں“، اسی سلسلے میں یہ پوری سورۃ «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء» ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم انہیں دوستی کا پیغام بھیجتے ہو“ (الممتحنۃ: ۱)، آخر تک نازل ہوئی۔ عمرو (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے عبیداللہ بن ابی رافع کو دیکھا ہے، وہ علی رضی الله عنہ کے کاتب (محرر) تھے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسی طرح کئی ایک نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے روایت کی ہے، اور ان سبھوں نے بھی یہی لفظ ذکر کیا ہے کہ علی اور زبیر رضی الله عنہما وغیرہ نے کہا: تمہیں خط نکال کر دینا ہو گا، ورنہ پھر تمہیں کپڑے اتارنے پڑیں گے،
۳- ابوعبدالرحمٰن السلمی سے بھی یہ حدیث مروی ہوئی ہے، انہوں نے علی رضی الله عنہ سے اسی حدیث کے مانند روایت کیا ہے،
۴- اس باب میں عمر اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور بعضوں نے ذکر کیا کہ انہوں نے کہا کہ تو خط نکال دے ورنہ ہم تجھے ننگا کر دیں گے۔

Hadith in Arabic

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَال : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ ، وَالْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ ، فَقَالَ :" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ، فَإِنَّ فِيهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَأْتُونِي بِهِ " ، فَخَرَجْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ ، فَقُلْنَا : أَخْرِجِي الْكِتَابَ ، فَقَالَتْ : مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ ، فَقُلْنَا : لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ ، قَالَ : فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا ، قَالَ : فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا حَاطِبُ ؟ " قَالَ : لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا ، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِمَكَّةَ ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنْ نَسَبٍ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي ، وَمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ كُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، فَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ " ، فَقَالَ : " اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " ، قَالَ : وَفِيهِ أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ السُّورَةَ " ، قَالَ عَمْرٌو : وَقَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي رَافِعٍ ، وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَفِيهِ عَنْ عُمَرَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، نَحْوَ هَذَا ، وَذَكَرُوا هَذَا الْحَرْفَ ، وَقَالُوا : لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ ، وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ ، ذَكَرَ بَعْضُهُمْ فِيهِ ، فَقَالَ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُجَرِّدَنَّكِ .

Your Comments/Thoughts ?

تفسیر قرآن کریم سے مزید احادیث

حدیث نمبر 3024

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء میں سے تلاوت کی، جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3289

´جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر، ان لوگوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2952

´مجاہد کہتے ہیں کہ` اگر میں نے ابن مسعود کی قرأت پڑھی ہوتی تو مجھے قرآن سے متعلق ابن عباس رضی الله عنہما سے وہ بہت سی باتیں پوچھنے کی ضرورت پیش نہ آئی ہوتی جو میں نے ان سے پوچھیں۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3126

´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون» ”ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے“ (الحجر: ۹۲)، کے متعلق فرمایا: مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3251

´طاؤس کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اس آیت «قل لا أسألكم عليه أجرا إلا المودة في القربى» ”اے نبی! کہہ دو میں تم سے (اپنی دعوت و تبلیغ کا) کوئی اجر نہیں مانگتا، ہاں چاہتا ہوں کہ قرابت داروں میں الفت و محبت پیدا ہو“ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3113

´معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسے شخص کے بارے میں مجھے بتائیے جو ایک ایسی عورت سے ملا جن دونوں کا آپس میں جان پہچان، رشتہ و ناطہٰ (نکاح) نہیں ہے اور اس نے اس عورت کے ساتھ سوائے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3277

´شیبانی کہتے ہیں کہ` میں نے زر بن حبیش سے آیت: «فكان قاب قوسين أو أدنى» ”دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا“ (النجم: ۹)، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن مسعود رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2976

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو“ ۱؎۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2961

´اس سند سے بھی` اسی طرح روایت کی۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2991

´امیہ کہتی ہیں کہ` انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قول «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله» ۱؎ اور (دوسرے) قول «من يعمل سوءا يجز به» ۲؎ کا مطلب پوچھا، تو انہوں نے کہا: جب سے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 2956

´اور اسی سند کے ساتھ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (آیت) «فبدل الذين ظلموا قولا غير الذي قيل لهم» ”پھر ان ظالموں نے اس بات کو جوان سے کہی گئی تھی بدل ڈالی“۔ (البقرہ: ۵۹) کے بارے میں یہ بھی مروی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3153

´ابورافع، ابوہریرہ رضی الله عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث میں سے «سد» (سکندری) سے متعلق حصہ بیان کرتے ہیں کہ` آپ نے فرمایا: ”(یاجوج و ماجوج اور ان کی ذریت) اسے ہر دن کھودتے ہیں، جب وہ اس میں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3018

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبیرہ گناہ: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، (ناحق) کسی کو قتل کرنا، جھوٹ کہنا یا جھوٹ بولنا ہے“ ۱؎۔

..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3138

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں کچوکے لگانے لگے (عبداللہ نے کبھی ایسا کہا) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3059

´تمیم داری رضی الله عنہ سے روایت ہے،` وہ اس آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» ۱؎ کے سلسلے میں کہتے ہیں: میرے اور عدی بن بداء کے سواء سبھی لوگ اس آیت کی زد میں آنے سے محفوظ ہیں، ہم دونوں نصرانی تھے، اسلام سے پہلے شام آتے جاتے تھے تو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3125

´عبدالعزیز بن محمد نے` علاء بن عبدالرحمٰن اور علاء نے اپنے باپ عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابوہریرہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابی کے پاس گئے، اس وقت وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (آگے) انہوں نے اسی کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔

امام ترمذی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3042

´براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» کی تفسیر کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے سلسلہ میں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3266

´عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` اقرع بن حابس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں ان کی اپنی قوم پر عامل بنا دیجئیے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ انہیں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3189

´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا: کیا اللہ نے احسان کا حکم نہیں دیا ہے؟ ۱؎ قسم اللہ کی! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم (اپنے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3208

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» کو چھپاتے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے