Hadith no 885 Of Sunan At Tirmidhi Chapter Hajj Ke Ehkaam O Manasik (Rituals and Commands About Pilgrimage)
Read Sunan At Tirmidhi Hadith No 885 - Hadith No 885 is from Rituals And Commands About Pilgrimage , Hajj Ke Ehkaam O Manasik Chapter in the Sunan At Tirmidhi Hadees Book, which is written by Imam Tirmidhi. Hadith # 885 of Imam Tirmidhi covers the topic of Rituals And Commands About Pilgrimage briefly in Sunan At Tirmidhi. You can read Hadith No 885 from Rituals And Commands About Pilgrimage in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ترمذی - حدیث نمبر 885
| Hadith No | 885 |
|---|---|
| Book Name | Sunan At Tirmidhi |
| Book Writer | Imam Tirmidhi |
| Writer Death | 256 ھ |
| Chapter Name | Rituals And Commands About Pilgrimage |
| Roman Name | Hajj Ke Ehkaam O Manasik |
| Arabic Name | الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم |
| Urdu Name | حج کے احکام و مناسک |
Urdu Translation
´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں قیام کیا اور فرمایا: ”یہ عرفہ ہے، یہی وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے، عرفہ (عرفات) کا پورا ٹھہرنے کی جگہ ہے، پھر آپ جس وقت سورج ڈوب گیا تو وہاں سے لوٹے۔ اسامہ بن زید کو پیچھے بٹھایا، اور آپ اپنی عام رفتار سے چلتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، اور لوگ دائیں بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے، آپ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہتے جاتے تھے: ”لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو“، پھر آپ مزدلفہ آئے اور لوگوں کو دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء قصر کر کے) ایک ساتھ پڑھائیں، جب صبح ہوئی تو آپ قزح ۱؎ آ کر ٹھہرے، اور فرمایا: ”یہ قزح ہے اور یہ بھی موقف ہے اور مزدلفہ پورا کا پورا موقف ہے“، پھر آپ لوٹے یہاں تک کہ آپ وادی محسر ۲؎ پہنچے اور آپ نے اپنی اونٹنی کو مارا تو وہ دوڑی یہاں تک کہ اس نے وادی پار کر لی، پھر آپ نے وقوف کیا۔ اور فضل بن عباس رضی الله عنہما کو (اونٹنی پر) پیچھے بٹھایا، پھر آپ جمرہ آئے اور رمی کی، پھر منحر (قربانی کی جگہ) آئے اور فرمایا: ”یہ منحر ہے، اور منیٰ پورا کا پورا منحر (قربانی کرنے کی جگہ) ہے“، قبیلہ خثعم کی ایک نوجوان عورت نے آپ سے مسئلہ پوچھا، اس نے عرض کیا: میرے والد بوڑھے ہو چکے ہیں اور ان پر اللہ کا فریضہ حج واجب ہو چکا ہے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اپنے باپ کی طرف سے حج کر لے“۔ علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کی گردن موڑ دی، اس پر آپ سے، عباس رضی الله عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کی گردن کیوں پلٹ دی؟ تو آپ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں جوان ہیں تو میں ان دونوں کے سلسلہ میں شیطان سے مامون نہیں رہا“ ۳؎، پھر ایک شخص نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے سر منڈانے سے پہلے طواف افاضہ کر لیا۔ آپ نے فرمایا: ”سر منڈوا لو یا بال کتروا لو کوئی حرج نہیں ہے“۔ پھر ایک دوسرے شخص نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی، آپ نے فرمایا: ”رمی کر لو کوئی حرج نہیں“ ۴؎ پھر آپ بیت اللہ آئے اور اس کا طواف کیا، پھر زمزم پر آئے، اور فرمایا: ”بنی عبدالمطلب! اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمہیں مغلوب کر دیں گے تو میں بھی (تمہارے ساتھ) پانی کھینچتا“۔ (اور لوگوں کو پلاتے)
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے علی کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔ یعنی عبدالرحمٰن بن حارث بن عیاش کی سند سے، اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ثوری سے اسی کے مثل روایت کی ہے،
۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا خیال ہے کہ عرفہ میں ظہر کے وقت ظہر اور عصر کو ملا کر ایک ساتھ پڑھے،
۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: جب آدمی اپنے ڈیرے (خیمے) میں نماز پڑھے اور امام کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہو تو چاہے دونوں نمازوں کو ایک ساتھ جمع اور قصر کر کے پڑھ لے، جیسا کہ امام نے کیا ہے۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ : " هَذِهِ عَرَفَةُ وَهَذَا هُوَ الْمَوْقِفُ ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " ، ثُمَّ أَفَاضَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَجَعَلَ يُشِيرُ بِيَدِهِ عَلَى هِينَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ ، وَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ . ثُمَّ أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهِمُ الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى قُزَحَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " هَذَا قُزَحُ ، وَهُوَ الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " ، ثُمَّ أَفَاضَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى وَادِي مُحَسِّرٍ ، فَقَرَعَ نَاقَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى جَاوَزَ الْوَادِيَ ، فَوَقَفَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ " ، وَاسْتَفْتَتْهُ جَارِيَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمٍ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ ، أَفَيُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ : حُجِّي عَنْ أَبِيكِ ، قَالَ : وَلَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَلَمْ آمَنِ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا " ، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ ، قَالَ : " احْلِقْ أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : وَجَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَنْهُ لَنَزَعْتُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ الثَّوْرِيِّ مِثْلَ هَذَا ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِعَرَفَةَ فِي وَقْتِ الظُّهْرِ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ فِي رَحْلِهِ وَلَمْ يَشْهَدِ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ إِنْ شَاءَ جَمَعَ هُوَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِثْلَ مَا صَنَعَ الْإِمَامُ ، قَالَ : وَزَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَام .
- Previous Hadith
- Hadith No. 885 of 3954
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
حج کے احکام و مناسک سے مزید احادیث
حدیث نمبر 871
´زید بن اثیع کہتے ہیں کہ` میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کو کن باتوں کا حکم دے کر بھیجا گیا ہے؟ ۱؎ انہوں نے کہا: چار باتوں کا: جنت میں صرف وہی جان داخل ہو گی جو مسلمان ہو، بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے۔ مسلمان اور مشرک اس سال کے بعد جمع نہ ہوں، جس کسی کا نبی اکرم مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 916
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”اب ذبح کر لو کوئی حرج نہیں“ ایک دوسرے نے پوچھا: میں نے رمی سے پہلے نحر (ذبح) ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 892
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں:` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ سے رات ہی میں اسباب (کمزور عورتوں اور ان کے اسباب) کے ساتھ روانہ کر دیا۔
اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا، ام حبیبہ، اسماء بنت ابی بکر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 863
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں۔
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 854
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے ۱؎۔
یہ حدیث حسن ہے۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 957
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر (بڑے حج) کا دن کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «یوم النحر» ”قربانی کا دن“۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 958
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` حج اکبر (بڑے حج) کا دن دسویں ذی الحجہ کا دن ہے ۱؎۔
ابن ابی عمر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے اور ابن عیینہ کی موقوف روایت محمد بن اسحاق کی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 956
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` علی رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا: ”تم نے کیا تلبیہ پکارا، اور کون سا احرام باندھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے وہی تلبیہ پکارا، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 818
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں:` بیداء جس کے بارے میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہیں (کہ وہاں سے احرام باندھا) ۱؎ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد (ذی الحلیفہ) کے ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 887
´عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی الله عنہما نے مزدلفہ میں نماز پڑھی اور ایک اقامت سے مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھیں اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ پر ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 879
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ ۱؎ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر پڑھائی ۲؎ پھر آپ صبح ۳؎ ہی عرفات کے لیے روانہ ہو گئے۔
اسماعیل ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 891
´عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام الطائی رضی الله عنہ کہتے ہیں:` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ آیا، جس وقت آپ نماز کے لیے نکلے تو میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قبیلہ طی کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو اور خود اپنے کو خوب ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 866
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بیت اللہ کا طواف پچاس بار کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا جیسے اسی دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے“۔
..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 959
´عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی الله عنہما حجر اسود اور رکن یمانی پر ایسی بھیڑ لگاتے تھے جو میں نے صحابہ میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ تو میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ دونوں رکن پر ایسی بھیڑ لگاتے ہیں کہ میں نے صحابہ میں سے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا؟ تو انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کرتا ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 910
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرنے والے ناجیہ خزاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو اونٹ راستے میں مرنے لگیں انہیں میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں نحر (ذبح) کر دو، پھر ان کی جوتی انہیں کے خون ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 890
´۸۹۰- ابن ابی عمر نے بسند سفیان بن عیینہ عن سفیان الثوری عن بکیر بن عطاء عن عبدالرحمٰن بن یعمر عن النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: قال سفیان بن عیینہ، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جسے سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔
حدیث نمبر 952
´نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ` عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: ان میں ایلوے کا لیپ کر لو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 829
´سائب بن خلاد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل نے آ کر مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں“ ۱؎۔
حدیث نمبر 872
´ہم سے ابن ابی عمر اور نصر بن علی نے بیان کیا، یہ دونوں کہتے ہیں کہ` ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا اور سفیان نے ابواسحاق سبیعی سے اسی طرح کی حدیث روایت کی، البتہ ابن ابی عمر اور نصر بن علی نے (زید بن اثیع کے بجائے) زید بن یثیع کہا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدیث نمبر 827
´ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس میں کثرت سے تلبیہ پکارا گیا ہو اور خوب خون بہایا گیا ہو“ ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے