Hadith no 1548 Of Sunan At Tirmidhi Chapter Jihad Ke Ehkaam O Masail (Commands and Problems related to Jihad)
Read Sunan At Tirmidhi Hadith No 1548 - Hadith No 1548 is from Commands And Problems Related To Jihad , Jihad Ke Ehkaam O Masail Chapter in the Sunan At Tirmidhi Hadees Book, which is written by Imam Tirmidhi. Hadith # 1548 of Imam Tirmidhi covers the topic of Commands And Problems Related To Jihad briefly in Sunan At Tirmidhi. You can read Hadith No 1548 from Commands And Problems Related To Jihad in Urdu, Arabic and English Text with pdf download.
سنن ترمذی - حدیث نمبر 1548
| Hadith No | 1548 |
|---|---|
| Book Name | Sunan At Tirmidhi |
| Book Writer | Imam Tirmidhi |
| Writer Death | 256 ھ |
| Chapter Name | Commands And Problems Related To Jihad |
| Roman Name | Jihad Ke Ehkaam O Masail |
| Arabic Name | السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم |
| Urdu Name | جہاد کے احکام و مسائل |
Urdu Translation
´ابوالبختری سعید بن فیروز سے روایت ہے کہ` مسلمانوں کے ایک لشکر نے جس کے امیر سلمان فارسی تھے، فارس کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا، لوگوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں؟، انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں ان کافروں کو اسلام کی دعوت اسی طرح دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں دعوت دیتے ہوئے سنا ہے ۱؎، چنانچہ سلمان فارسی رضی الله عنہ ان کے پاس گئے، اور کافروں سے کہا: میں تمہاری ہی قوم فارس کا رہنے والا ایک آدمی ہوں، تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں، اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمہارے لیے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے لیے ہیں، اور تمہارے اوپر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہمارے اوپر ہیں، اور اگر تم اپنے دین ہی پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ہم اسی پر تم کو چھوڑ دیں گے، اور تم ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرو ۲؎، سلمان فارسی رضی الله عنہ نے اس بات کو فارسی زبان میں بھی بیان کیا، اور یہ بھی کہا: تم قابل تعریف لوگ نہیں ہو، اور اگر تم نے انکار کیا تو ہم تم سے (حق پر) جنگ کریں گے، ان لوگوں نے جواب دیا: ہم وہ نہیں ہیں کہ جزیہ دیں، بلکہ تم سے جنگ کریں گے، مسلمانوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے تین دن تک اسی طرح ان کو اسلام کی دعوت دی، پھر مسلمانوں سے کہا: ان پر حملہ کرو، ہم لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کر لیا۔
۱- سلمان فارسی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ہم اس کو صرف عطاء بن سائب ہی کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری) کو کہتے ہوئے سنا: ابوالبختری نے سلمان کو نہیں پایا ہے، اس لیے کہ انہوں نے علی کو نہیں پایا ہے، اور سلمان کی وفات علی سے پہلے ہوئی ہے،
۲- اس باب میں بریدہ، نعمان بن مقرن، ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کی یہی رائے ہے کہ قتال سے پہلے کافروں کو دعوت دی جائے گی، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے کہ اگر ان کو پہلے اسلام کی دعوت دے دی جائے تو بہتر ہے، یہ ان کے لیے خوف کا باعث ہو گا،
۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس دور میں دعوت کی ضرورت نہیں ہے، امام احمد کہتے ہیں: میں اس زمانے میں کسی کو دعوت دئیے جانے کے لائق نہیں سمجھتا،
۵- امام شافعی کہتے ہیں: دعوت سے پہلے دشمنوں سے جنگ نہ شروع کی جائے، ہاں اگر کفار خود جنگ میں پہل کر بیٹھیں تو اس صورت میں اگر دعوت نہ دی گئی تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہے۔
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ " أَنَّ جَيْشًا مِنْ جُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ كَانَ أَمِيرَهُمْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَاصَرُوا قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ ؟ قَالَ : دَعُونِي أَدْعُهُمْ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ ، فَأَتَاهُمْ سَلْمَانُ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ فَارِسِيٌّ ، تَرَوْنَ الْعَرَبَ يُطِيعُونَنِي ، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ ، فَلَكُمْ مِثْلُ الَّذِي لَنَا وَعَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْنَا ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا دِينَكُمْ ، تَرَكْنَاكُمْ عَلَيْهِ ، وَأَعْطُونَا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ ، قَالَ : وَرَطَنَ إِلَيْهِمْ بِالْفَارِسِيَّةِ : وَأَنْتُمْ غَيْرُ مَحْمُودِينَ ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ ، نَابَذْنَاكُمْ عَلَى سَوَاءٍ ، قَالُوا : مَا نَحْنُ بِالَّذِي نُعْطِي الْجِزْيَةَ ، وَلَكِنَّا نُقَاتِلُكُمْ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ ؟ قَالَ : لَا ، فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَى مِثْلِ هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : انْهَدُوا إِلَيْهِمْ ، قَالَ : فَنَهَدْنَا إِلَيْهِمْ ، فَفَتَحْنَا ذَلِكَ الْقَصْرَ ، قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَحَدِيثُ سَلْمَانَ ، حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : أَبُو الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ ، لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا ، وَسَلْمَانُ مَاتَ قَبْلَ عَلِيٍّ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا ، وَرَأَوْا أَنْ يُدْعَوْا قَبْلَ الْقِتَالِ ، وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : إِنْ تُقُدِّمَ إِلَيْهِمْ فِي الدَّعْوَةِ فَحَسَنٌ ، يَكُونُ ذَلِكَ أَهْيَبَ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : لَا دَعْوَةَ الْيَوْمَ ، وقَالَ أَحْمَدُ : لَا أَعْرِفُ الْيَوْمَ أَحَدًا يُدْعَى ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ : لَا يُقَاتَلُ الْعَدُوُّ حَتَّى يُدْعَوْا ، إِلَّا أَنْ يَعْجَلُوا عَنْ ذَلِكَ ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ، فَقَدْ بَلَغَتْهُمُ الدَّعْوَةُ .
- Previous Hadith
- Hadith No. 1548 of 3954
- Next Hadith
Your Comments/Thoughts ?
جہاد کے احکام و مسائل سے مزید احادیث
حدیث نمبر 1709
´مجاہد سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔
۱- اس سند میں راوی نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے،
۲- کہا جاتا ہے، قطبہ کی (اگلی) حدیث سے یہ ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1680
´یونس بن عبید مولیٰ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ` مجھ کو محمد بن قاسم نے براء بن عازب رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، براء نے کہا: ”آپ کا جھنڈا دھاری دار چوکور اور کالا تھا ۱؎۔
حدیث نمبر 1559
´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر آیا، جن لوگوں نے خیبر فتح کیا تھا آپ نے ان کے ساتھ ہمارے لیے بھی حصہ مقرر کیا ۱؎۔
۱- ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1581
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”بیشک بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا“۔
۱- یہ حدیث حسن صحیح ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1593
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت (یعنی آپ کے حکم سننے اور آپ کی اطاعت کرنے) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ ہم سے فرماتے: ”جتنا تم سے ہو سکے“۔
حدیث نمبر 1577
´عیاض بن حمار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے (اسلام لانے سے قبل) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تحفہ دیا یا اونٹنی ہدیہ کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اسلام لا چکے ہو؟“ انہوں نے کہا: ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1554
´اس سند سے بھی` ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں مجمع بن جاریہ، ابن عباس اور ابی عمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1611
´حارث بن مالک بن برصاء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مکہ میں آج کے بعد قیامت تک (کافروں سے) جہاد نہیں کیا جائے گا“ ۱؎۔
حدیث نمبر 1550
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر روانہ ہوئے تو وہاں رات کو پہنچے، اور آپ جب بھی کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی اس پر حملہ نہیں کرتے ۱؎، پھر جب صبح ہو گئی تو یہود اپنے پھاوڑے اور ٹوکریوں کے ساتھ نکلے، جب ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1584
´عطیہ قرظی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں قریظہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو جس کے (زیر ناف کے) بال نکلے ہوئے تھے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے نہیں نکلے ہوتے اسے چھوڑ دیا جاتا، چنانچہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں نکلے تھے، ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1606
´عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا“ ۱؎۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1610
´مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ` میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس گیا، اسی دوران ان کے پاس عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہم بھی پہنچے، پھر علی اور عباس رضی الله عنہما جھگڑتے ہوئے آئے، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: میں تم لوگوں کو اس اللہ کی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1605
عبدہ نے یہ حدیث بطریق: «إسمعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي عن النبي صلى الله عليه وسلم» (مرسلاً) ابومعاویہ کے مثل حدیث روایت کی ہے، اس میں انہوں (عبدہ) نے جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا۔
۱- ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1695
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرخ رنگ کے گھوڑوں میں برکت ہے“۔
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف شیبان کی روایت سے جانتے ہیں۔مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1586
´بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں کہ` میں مقام مناذر میں جزء بن معاویہ کا منشی تھا، ہمارے پاس عمر رضی الله عنہ کا خط آیا کہ تمہاری طرف جو مجوس ہوں ان کو دیکھو اور ان سے جزیہ لو کیونکہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1562
´اس سند سے بھی` ابوقتادہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عوف بن مالک، خالد بن ولید، انس اور سمرہ بن جندب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے بعض اہل علم ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1609
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` فاطمہ رضی الله عنہا ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے آئیں، ان دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میرا کوئی ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1707
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنامکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1673
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ تنہائی کا وہ نقصان جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں تنہا نہ چلے“ ۱؎۔
ابن عمر ..مکمل حدیث پڑھیئے
حدیث نمبر 1556
´یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ` نجدہ بن عامر حروری نے ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس یہ سوال لکھ کر بھیجا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے؟ اور کیا آپ ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ بھی مقرر فرماتے تھے؟ ابن عباس رضی الله عنہما نے ان کو جواب میں لکھا: ..مکمل حدیث پڑھیئے