کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگا

کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگا

کچھ خموشی کا بھی سبب ہوگا

میں بھی ہوں بزم میں رقیب بھی ہے

آخری فیصلہ تو اب ہوگا

آئیں مے خانہ میں کبھی واعظ

حور بھی ہوگی اور سب ہوگا

بول اے میرے دل کی تاریکی

تیرا سورج طلوع کب ہوگا

سنتا ہوگا صدائیں اس دل کی

شام تنہائی میں وہ جب ہوگا

کب چھٹیں گی یہ بدلیاں غم کی

صاف مطلع یہ جوشؔ کب ہوگا

(1487) ووٹ وصول ہوئے

Your Thoughts and Comments

Koi Shikwa To Zer-e-lab Hoga In Urdu By Famous Poet A G Josh. Koi Shikwa To Zer-e-lab Hoga is written by A G Josh. Enjoy reading Koi Shikwa To Zer-e-lab Hoga Poem on Inspiration for Students, Youth, Girls and Boys by A G Josh. Free Dowlonad Koi Shikwa To Zer-e-lab Hoga by A G Josh in PDF.